نامِ مُحمدؐ

(Shehla Khan, Multan)

الیکٹرونک میڈیا پر ایک عرصہ سے ایسے پیغامات تصاویر کے ساتھ یا وڈیوز کی شکل میں لوگ دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں کچھ سمجھے اور جانے بنا ایک دوسرے کو ایسے بھیج رہے ہیں جیسے اس سے بڑا ثواب کا کام اور کوئ نہیں۔ حالانکہ حقیقت میں ایسا کر کے گناہ کمایا جا رہا ہے۔ یہ پیغامات تو مختلف قسم کے ہیں مگر عنوان ان سب کا ایک ہی ہے۔ مثال کے طور پر کچھ عرصہ پہلے ایسا ہی ایک پیغام فیس بک، واٹس ایپ وغیرہ پر بھیجا جا رہا تھا اور دوسروں کو بھی مزید آگے بھیجنے کو کہا جا رہا تھا، ہوائ چپل کی تصویر کے نیچے ایک عبارت لکھی ہوئ تھی کہ یہ چپلیں ہر گز نہ خریدیں کیوں کہ ان کی پٹیوں پر (نعوذ و با للہ) محمدؐ لکھا ہوا ہے اور یہ چپلیں چائنا نے بنائ ہیں اور انڈیا انھیں دھڑا دھڑ خرید رہا ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال تھی۔ اس طرح کی بے شمار خبریں الیکٹرونک میڈیا پر گردش کرنے لگی ہیں کہ فلاں چیز پر پیغمبرؐ کا نام ہے اور ان کے نام کی بے حرمتی کی جا رہی ہے گویا ان کا بائیکاٹ کیا جاۓ وغیرہ۔
جو لوگ ایسی باتیں کرتے، پھیلاتے اور ان پر ایمان رکھتے ہیں، مجھے ان لوگوں سے صرف ایک سوال پوچھنا ہے۔ وہ یہ کہ کیا واقعی آپ سچے مسلمان ہیں اور آپ رسولؐ خدا سے سچی محبت کے دعویدار ہیں؟
مجھے امید ہے کہ جواب یہی آۓ گا کہ جی ہاں ہم ہی سچے مسلمان ہیں اور یہ رسولؐ خدا سے محبت کا ہی ثبوت تو ہے کہ ہم ایسے پیغامات کو آگے بھیجتے ہیں تا کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ایسی خبروں کا پتہ چلے اور وہ بیچنے اور بنانے والوں کا بائیکاٹ کریں۔

ٹھیک ہے جناب! میں نے آپ کا جواب سن تو لیا ہے مگر نہ میں آپ کی اس بات کو مانتی ہوں اور نہ ہی اس پر یقین کرتی ہوں۔ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ اگر آپ میری تحریر کو پڑھ رہے ہوں گے تو اس وقت آپ کو میری باتیں انتہائ ناگوار گزر رہی ہوں گی۔ مگر مجھے امید ہے کہ اس تحریر کو پڑھنے کے بعد آپ کی سوچ میں ضرور تبدیلی آۓ گی۔

اب مجھے آپ ایک اور بات کا جواب دیجیئے کہ آپ اپنے جن رشتوں سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں، مثال کے طور پر آپ اپنے والد صاحب سے بے حد محبت کرتے ہیں، اگر کوئ دشمن ان کا نام جوتے پر لکھ کر بیچنا شروع کردے تو آپ کا رد عمل کیا ہوگا؟ کیا اس جوتے اور اس پر لکھے نام کی تصاویر اور وڈیو بنا کر آپ اپنے حلقہ احباب میں اس کی تشہیر کریں گے اور ساتھ ساتھ یہ پیغام بھی دیں گے کہ اس جوتے بیچنے والے نے میرے باپ کا نام اس پر لکھا ہے تو پلیز آپ سب اس جوتے بیچنے والے کا بائیکاٹ کریں؟ یعنی آپ کا دشمن تو صرف جوتے پر نام لکھ کر بیچ رہا ہے اور آپ نہ صرف اس کے جوتے کی مفت مشہوری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں بلکہ اپنے والد صاحب کی عزت کو بھی خراب کر رہے ہیں۔ سوچیں کہ اگر خدانخواستہ واقعی ایسا واقعہ آپ کے ساتھ رونما ہوجاۓ تو آپ ایسی بات پر پردہ ڈالیں گے یا اس کی تشہیر کرنے لگ جائیں گے۔ ظاہر ہے ایسی باتوں کی تشہیر کوئ بھی نہیں کرے گا۔ تو پھر یہ کیسے مسلمان ہیں ہم اور کیسی محبت کا دعویٰ رسولؐ سے کرتے ہیں کہ جن باتوں پر پردہ ڈالنا چاہیئے ان کی تشہیر کرنے لگ جاتے ہیں۔ دشمن ہم سے یہی تو چاہتا ہے۔ اسلام دشمن عناصر ایک چھوٹی سی بات میڈیا پر چھوڑ کر خود آرام سے بیٹھ جاتے ہیں کیوں کہ انھیں معلوم ہے کہ مسلمان اسے ہاتھوں ہاتھ لیں گے اور باقی کا کام بھی وہی کریں گے۔ ہمارے پیغمبرؐ اور ہمارے دین نے برائ پر پردہ ڈالنے کا درس دیا ہے نہ کہ اس کی تشہیر لگانے کا۔ حضورؐ پر تو کوڑا بھی پھینکا جاتا تھا تو آپؐ صبر کا وہ مظاہرہ کرتے تھے جو کسی کے بھی بس کی بات نہیں۔ کیا وہ لوگوں میں جا کر اس بات کی تشہیر کرتے تھے کہ دیکھو میرے ساتھ کفار نے کیا سلوک کیا ہے۔ آپؐ کے اسی صبر و برداشت نے بڑے بڑے کفار کا دل موم کر دیا تھا اور کتنے لوگ صبر و برداشت کے اس پیکر سے متاثر ہو کر ایمان لے آۓ تھے۔ یہ تمام باتیں کہنے کا مقصد صرف ایک ہی ہے کہ مسلمان دشمن عناصر کو ان کی بے ہودہ سیاست میں کامیاب نہ کریں۔ ہم ان کے ہاتھوں کا ریموٹ نہ بنیں جسے وہ جب چاہیں کوئ سا بٹن دبا کر، بظاہر ان کے خلاف لیکن حقیقت میں ان کے حق میں استمعال کریں۔ دشمنوں کے اس پروپگینڈہ کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

جس طرح ہم اپنے پیاروں کی عزت کی رکھوالی کرتے ہیں اسی طرح، بلکہ اس سے بڑھ کر ہمیں اپنے پیغمبر کے نام کی عزت و ناموس کا پاس ہونا چاہیئے۔ حضورؐ جن سے ہم بے پناہ محبت کے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں اور ان کے نام پر ہر وقت جاں نثار کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں، ان کے نام کی ہمارے ہاتھوں اس طرح تشہیر انتہائ نازیبا حرکت ہے۔

مسلمان اندھے نہیں ہیں کہ انھیں کسی بے ہودہ چیز پر حضورؐ کا نام نظر آۓ تو اسے استمعال کرنا تو دور کی بات، کبھی خریدیں بھی سہی۔ بعض تو ایسی مضحکہ خیز تصاویر اپ لوڈ کرکے اس کے نیچے اس طرح کی کوئ عبارت لکھ دی جاتی ہے کہ اس جوتے کی ایڑی پر حضورؐ کا نام ہے، اس کا بائیکاٹ کریں وغیرہ۔ آپ ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے کہ نام ہے کہاں۔ آڑے ترچھے ڈیزائنوں کو اگر آپ مائیکروسکوپ لگا کر دیکھنے لگ جائیں گے تو ایک کیا سینکڑوں نام بنا سکتے ہیں۔

مسلمان ہونے کے ناطے اپنے پیغمبرؐ سے محبت کا صرف دعویٰ ہی نہ کریں بلکہ عملی طور پر ان سے محبت کا مظاہرہ کریں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shehla Khan

Read More Articles by Shehla Khan: 28 Articles with 19209 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Jun, 2017 Views: 366

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ