بابا فریب لطفی جی کے اقوال زریں

(Izza Moin, )
ترجمہ عزہ معین .
ہندی تحریر سے ماخوذ
مصنف .شیلیس ترپاٹھی

 ہم جس زمانے میں رہ رہے ہیں اس میں کب کوئی کون سا راگ الاپنے لگے اس کا کوئی ٹھکانا نہیں .ایسا کیوں ہے,یہ جاننے کے لئے ہم بابا فریب لطفی جی سے ملنے گئے تو ہمارے سوال کرنے سے پہلے ہی وہ بولے ,بچا .یہ دنیا تو ہمارے جیسے لوگوں سے ہی چل رہی ہے .آج ہر طرف فریب لطفیوں کا ہی بول بالا ہے .حیران نہ ہوں ,وہ سب لوگ فریب لطفی ہی ہیں جنھیں فریب کرنے میں لطف ملتا ہے .انھوں نے اخبار اٹھا کر یہ خبر سنائی کہ امریکہ نے پیرس موسمی معاہدہ سے باہر ہونے کا فیصلہ کیا ہے .ہم نے اس پر حیرانی جتائی تو وہ بنا حیران ہوئے بولے ,یاد ہے تمھیں جب یہ معاہدہ ہوا تھا تو امریکہ نے سب کو یہ سمجھایا تھا کہ یہ بڑے فائدہ کا سمجھوتہ ہے اور سب کو اسے ماننا چاہئے .آج وہی امریکہ یہ سمجھانے میں لگا ہوا ہے کہ یہ معاہدہ بہت خراب ہے .جو حضرات یہ سمجھانے میں لگے ہوئے ہیں وہ وہی ہیں جو کل تک سب کو یہ سمجھا رہے تھے کہ آتنک واد کو فلاں ملک پھیلا رہا ہے ,لیکن انھوں نے اپنے پہلے بیرونی سفر کے لئے اسی ملک کو منتخب کیا . ہم نے کہا کہ کیا آپ ڈونالڈ ٹرمپ کی بات کر رہے ہیں انھوں نے کہا کہ ہاں ,لیکن اس کا اصلی نام ٹرمپ لطفی ہے .ہم نے پوچھا کہ لوگ کہ رہے ہیں کہ پیرس معاہدہ سے امریکہ کے الگ ہونے کے بعد چین کی چاندی ہو گئی ہے اور موسمی بدلاؤ پر دنیا کی قیادت کرنے کا موقع بیٹھے ٹھالے مل گیا ہے .چینی قائد یہ بیان بھی دے رہے ہیں کہ بین الاقوامی معاہدہ پر ایمانداری سے عمل کرنا چاہئے . فریب لطفی مہاراج جی بولے ,ان سے کوئی یہ تو پوچھے کہ آخر اسی طرح بین الاقوامی عدالت کے فیصلوں کی عزت کہوں نہیں کرنا چاہئے فریب لطفی بابا نے شکایتی لہجہ میں کہا کہ ہمیں فریب لطفوں کی صحیح پہچان نہیں .دیکھو وہ ہمارے معاشرہ میں بھی رہتے ہیں .وہ ہر دن یہ کہتے ہیں کہ ہم آتنک واد کا شکار ہیں لیکن ان کا اصلی کام آتنک واد پھیلانا ہے. لوگوں کو پریشان کرنا ہے اب چاہے وہ ان کےخرچوں پر بندش لگا کر ان کے سرمائے کو ضبط کر کے ہی کیوں نہ ہو .کبھی کبھی وہ انسان دوستی کے نام پر نئے نئے پروپگنڈہ استعمال کرتے ہیں مثلا ً جانوروں کی خاطر تواضع میں لگ جاتے ہیں .اور اس حد تک منمہک ہو جاتے ہیں کہ پھر چاہے ان کے آسپاس کے لوگ موت کے گھاٹ اتار دئے جائیں ان کے کام میں کوئی خلل نہیں پڑے گا یا ایسا کہ لیجئے کہ ان کے کان پہ جوں نہیں رینگے گی .بابا کچھ اور بولنے کے پہلے ,پوٹلی سے گٹکھا نکال کر کھانے لگے .ہم نے حیرت سے پوچھا ,بابا جی یہ کیا وہ بولے ,یہ بہت فائدہ مند شئے ہے , لیکن عوام اس کے فوائد سے انجان ہے .ہم حیران تھے , لیکن فریب لطفی جی گٹکھا تمباکو پر ترتیب وار روشنی ڈالنے کے موڈ میں تھے وہ شروع ہو گئے .دیکھو بچا ,بیڑی سگریٹ یا دیگر کسی بھی شکل میں تمباکو کے زیادہ استعمال سے وہ کینسر ,ٹی بی وغیرہ جیسی جان لیوا بیماریوں سے گھر کر جوانی میں ہی دنیا چھوڑ کر نکل لیتا ہے جس سے اسے بڑھا پے کی پریشانیاں جھیلنی نہیں پڑتی ہیں . تمام لوگوں کا بے وقت موت کے گال میں سما جانے کی وجہ سے ملک کی آبادی بھی قابو میں رہے گی . تمباکو کے زیادہ استعمال سے گھر میں خوشحالی آتی ہے .بندہ جب کم عمری میں ہی نکل لیتا ہے تو بیما کمپنیاں خوب پیسا دیتی ہیں جس سے گھر میں پیسوں کی افرات ہو جاتی ہے .زیادہ مقدار میں تمباکو کا استعمال کرنے والے شخص کے گھر اور پاس پڑوس کے ہمسائیوں کے گھر بھی کبھی چوریاں نہیں ہوتی ہیں .کیوں کہ تمباکو کا استعمال کرنے والا بندہ ٹی بی وغیرہ جیسی بیماریوں سے گھر کر رات رات بھر جاگ کر اتنی زور زور سے کھانستا ہے کہ چور ٹائپ کے انتشاری ادھر پھٹکنے سے گریز کرتے ہیں اور پورہ محلہ حفاظت میں رہتا ہے .

فریب لطفی نے روانی سے بولتے ہوئے کہا ,تمباکو کے استعمال سے گھر میں بھی سکون رہتا ہے .شام کو تھکا ہارا شوہر جب گھر لوٹتا ہے اور کرکش بیوی اگر کوئی بات بولتی بھی ہے تو منھ میں گٹکا بھرا ہوا بندہ گٹکہ کی وجہ سے چپ چاپ سن لیتا ہے جس سے جھگڑا اور نہیں بڑھنے پاتا .اس کے علاوہ تحقیق بتاتی ہے کہ منھ میں گٹکا بھرا بندہ بچو کو بھی بہت کم ہڑکاتا ہے جس سے بچے بھی خوش رہتے ہیں .اور پھر بعد میں تو بندہ دنیا ہی چھوڑ نکل ہی لیتا ہے تو گھر میں پوری طرح سے اوم شانتی اوم ٹائپ کی شانتی چھا جاتی ہے .

ہم نے فریب لطفی سے ہوچھا , بابا آج کل تین طلاقکا بہت ذکر ہو رہا ہے اس کا کیا حل نکل سکتا ہے وہ ایک دم بولے ,گٹکہ سے تین طلاق جیسے بڑے معاملوں کو بھی نبٹایا جا سکتا ہے .ہم نے حیرانی سے پوچھا کیسے وہ بولے ایسے , مان لو منھ میں گٹکا بھرا بندہ اگر تین بار طلاق بول بھی دے تو وہ سننے سمجھنے لائق نہیں ہوگا ,طلاق مانا ہی نہیں جائیگا .تمباکو سے معاشرتی ہم آہنگی بھی خوب بڑھتی ہے .بڑا آدمی بھی بنا ذات برادری کا امتیاز کئے آنکھوں سے ہی اشارہ کرتا ہے اور ہاتھ پھیلا کر کھینی مانگ لیتا ہے اس سے معاشرتی امتیاز مٹ جاتا ہے .آنکھو ہی آنکھوں میں اشارہ ٹائپ گانا بھی شاید کسی کے ذریعہ کھینی مانگنے کے منظر کو دیکھ کر ہی بنا ہوگا .گٹکا ,سگریٹ ,کھینی سے سیاست میں بھی کافی کلِئر نیس آتی ہے منھ میں گٹکا بھر کے بندہ اگر کوئی الٹا سیدھا بیان بھی دے گا تو لوگوں کی سمجھ میں نہیں آنے والا اور اتفاقاً کوئی سمجھ بھی گیا اور جھگڑا بھی کھڑا ہو گیا تو مکرنے کی گنجائش باقی رہتی ہے کہ میں نے تو یہ نہیں کہا تھا بلکہ یہ کہا تھا .بابا نے یہ بھی بتایا کہ دیکھو کیسے تمباکو کا استعمال کرنے والوں کا خرچ بہت کم ہوتا ہے .زیادہ چونا لگے زردہ پان کے استعمال سے منھ اندر ہی اندر کافی کٹ جاتا ہے جس سے اگلا تیکھا مسالہ دار کھانا نہیں کھا پاتا اور اس سے بھی خرچ میں کمی آتی ہے .اگلا جتنے دن حیات ہے موٹاپے عغیرہ سے بھی دور رہتا پے .ہم فریب لطفی جی کے اقوال زریں سننے کا حوصلہ کھو رہے تھے ,لیکن بابا ابھی بھی لے میں تھے .ہم نے کہا کہ بابا جی آپ چاہتے کیا ہیں وہ بولے , ہم چاہتے ہیں کہ ہر کوئی گٹکا تمباکو روک سے سخت اختلاف کرے ......

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Izza Moin

Read More Articles by Izza Moin: 10 Articles with 7603 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Jun, 2017 Views: 542

Comments

آپ کی رائے