برہان وانی سے سبزار بٹ ۔۔۔تحریک حریت کشمیر کے عظیم ستارے

(Tahir Ahmed Farooqi, Muzaffarabad)
برہان وانی سے سبزار بٹ ۔۔۔تحریک حریت کشمیر کے عظیم ستارے

دنیا کے سابقہ گزرے ہو ئے اور مو جو دات تما م دین مذہب آئین ضابطے تاریخ انسانیت بتاتی ہے اپنے حق کے لیے جدوجہد کر نا فرض اولین ہے اور فریضہ انسان کے بنیا دی حق آزادی کا ہو تو پھر دنیا کی سب نعمتیں حتیٰ کے جا ن مال اولا د کی بازی لگا کر قربا ن ہو جا نا ہی اصل زندگی ہے مقبوضہ کشمیر میں پٹھان ۔۔۔۔کو ظلم کے خلاف جرت اظہا ر کے جذبا ت کی آبیاری پر پھانسی چڑھا نے کے خلا ف اذان مکمل کر تے ہو ئے 22کشمیر یوں کی شہادت سے لے کر مقبو ل بٹ ،افضل گروکی پھانسیوں اور برہا ن وانی کی شہا دت سے حریت کے انقلا ب کی جہد کو لہو کا خراج پیش کر تے ہو ئے اس کا جانشین سب زار بٹ اور اس کے ساتھیوں کی قربا نی ان کی اگلی منزل پر رخصت کے سفر کے منا ظر بڑے ہی خوش نصیب اور مقدر والوں کے حصے میں آتے ہیں جو اپنا آج آنے والے کل اپنی نئی نسلوں پے قربا ن ہو کر امر ہو جا تے ہیں تاکہ یہ سر اٹھا کر فخر وناز کے ساتھ اقوام عالم میں رہ سکیں بر ہا ن کے چہر ے پر آخری سفر کی جانب بڑہتے ہو ئے مسکر اہٹ اور راحت و سکو ن کے تاثرات جدید ٹیکنا لو جی کے ثمرات سے سو شل میڈیا سمیت ٹی وی چینلز پر سب نے دیکھے یہ کفیت مقصد کے حصول کی جدوجہد میں سرخرو ہو نے والوں کو ہی عطا ہو تی ہے سبزار بٹ کا چہرہ ظلم و جبر سے لڑتے ہو ئے اپنی ہی مٹی اپنے ہی لہو سے رنگے ہو ئے کہہ رہا تھا وطن کی مٹی گواہ رہنا و ہ جو تیرا قر ض تھا آج ہم نے چکا دیا جس کے جسد خاکی کے آخری غسل کے بعد اس کے ما تھے پر فخر و عظمت کے اعتماد و نا ز کو لفظوں میں بیا ن کر نا ممکن نہیں جس کی جبین کو بو سہ دیتے بزرگ و جو ان پھو لوں کی پتیان نچھا ور کرتیں مائیں، بہنیں، بیٹیاں اور سمند ر جیسے انسانوں کے اجتماع میں ہم کیا چاہتے آزادی ہم چھین کے لیں گے آزادی گو بیک انڈیا گو بیک ہم پا کستانی ہیں پا کستان ہما را ہے یہ نعر ے لگواتا معصوم بچہ کشمیر یوں کے جزبہ حریت کی طاقت کا اظہار تھا اے سبزار بٹ تم قربا ن ہو گے تو ہم بھی تیا ر ہیں اب یہ سفر منزل پر جا کر ہی ختم ہو گا سبزار بٹ کی شہا دت ایسے حالات میں ہو ئی جب بھا رت کی قابض افواج نے ریا ست کے اند ر تما م زمینی سفری راستے اور زرائع پر اپنے پہرے اور پابندیوں کے حصار بنا ئے رکھے ہیں اور زرائع ابلا غ بھی ختم کیے ہو ئے ہیں جس کے بعد سے قابض افواج درندوں کی طرح آبادیوں میں گھس کر گھر گھر نو جو انوں کو پکڑنے اور خواتین بچوں کی بے حرمتی کے انسانیت سوز ظلم و جبر کے پہا ڑ توڑ رہی ہے نو جو انوں کو گھر وں سے گھسیٹے ہو ئے نکا لا جا تا ہے اور جنگلوں میں لے جا کر جعلی مقابلوں کا ڈرامہ رچاتے ہو ئے ما ر دیا جا تا ہے مقبو ضہ کشمیر کے ہر شہر اور دیہا ت میں یہ کا روائیاں بھا رتی قابض افواج کا مشغلہ بن چکی ہیں جو کشمیر کے نہتے نو جو انوں اور طلبہ کی زبردست مزاحمتی تحریک کے سامنے شکست سے دوچار ہو نے کے بعد رات کے اندھیرے بھڑتے ہی گھروں میں گھس کر نو جوانوں کو پکڑنے اور ساتھ لے جا کر مقابلوں کو نا م لے کر ما رتی جا رہی ہے اور اپنے بیٹے بھا ئیوں کو پکڑنے کے خلاف احتجاج کر نے پر خواتین کو بھی گولیوں سے چھلنی کر دیا جا تا ہے بیٹوں بہنوں کو درندگی کا نشانہ بنا یا جا تا ہے جس کے خلا ف برہا ن وانی سے لے کر سبزار بٹ تک نو جوانوں نے وحشی فورس سے انتقام کے جزبے کے تحت لڑتے ہو ئے جان قربا ن کر دی ۔بھارتی قابض افواج ظلم و جبر کی تمام حدود کو توڑتے ہوئے وہ انتہا کرچکی ہے جس پر انسان تو انسان جنگل کے درندے بھی حواس کھو جائیں ایسے میں دنیا کے ہر مذہب آئین قانون اور خود اقوام متحدہ کے اصول یہ اجازت دیتے ہیں کہ ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت ہر انسان کا حق ہے فطرت سے بڑھ کر کوئی قانون وضابطہ نہیں جس کا اظہار ساری دنیا میں اگر جانور کو بھی ڈرانے دھمکانے اور مار پیٹ کا انداز اختیار کیا جائے تو وہ بھی پلٹ کر حملہ کرتا ہے تو پھر ایک انسان دوسرے انسان پر ظلم ہوتے کیسا برداشت کرتا ہے ہر حالت ہر صورت میں چاہے کچھ بھی ہو جائے وہ مزاحمت ضرور کرتا ہے تو پھر آزادی جیسے حق کے لیے نہتے ہاتھوں اپنے بزرگوں ماں بہنوں بیٹیوں کو جبر وظلم کا نہ ختم ہونے والے درندگی کے عالم میں کیسے کوئی بھائی بیٹا ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہ سکتا ہے ۔سبزار بٹ کی ساتھیوں سمیت قابض افواج سے لڑتے ہوئے اپنی قوم کے لیے قربانی واشگاف اعلان ہے دنیا کے منصفو انسانیت کے دعویداروں کشمیری عوام نہتے اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر عدم تشدد کی تحریکوں کی تاریخ میں حریت کی نئی داستان رقم کرتے جا رہے ہیں اور جابر قابض افواج کے خلاف لڑنے کی قوت بھی رکھتے ہیں تم ہمیں ہمارا حق دلواو ورنہ ہم لڑاتے لڑتے جانوں کی بازی لگاتے رہیں گئے مگر وہ حق جو دنیا کے تمام مذاہب آئین قانون ضابطوں بلکہ فطرت نے ہمیں دیا ہے اس کے حصول تک جدوجہد کے چراغ اپنے لہو سے روشن رکھیں گئے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ahmed Farooqi

Read More Articles by Tahir Ahmed Farooqi: 205 Articles with 71153 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Jun, 2017 Views: 519

Comments

آپ کی رائے