ڈر

(Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi)
جب دل میں ڈر پیدا ہو جاتا ہے تو انسان بزدلی کی جانب مائل ہو جاتا ہے اورمنفی سوچ انسان کو شرمسار کر دیتی ہے،یہی میری اس کہانی کا مرکزی خیال ہے۔
فرہاددل کا مریض تھا اور جب اُس کی صبح آنکھ کھولی تو کمرے میں کوئی نہ تھا۔اُس پر خوف طاری ہو گیا تھا کہ شاید آج پھر مہرین اُس سے رات کی لڑائی کے بعد سویرے سویرے ہی میکے چلی گئی ہے۔فرہاد پر گھبراہٹ طاری ہو گئی۔اس نے محسوس کیا ہے کہ وہ انجانے خوف کی وجہ سے بستر سے اُٹھ بھی نہیں پا رہا ہے۔اس نے اپنی تمام طاقت صرف کر دی اوربالآخر بستر سے اُٹھ ہی گیا۔اُس کا سربہت سے اندیشوں کی وجہ سے پہلے ہی چکرا سا رہا تھا۔جب اُس نے دروازے کو کھولنے کی کوشش کی تو وہ کھل ہی نہیں پا رہا تھا۔فرہاد ایک دم سے ہی زمین پر بیٹھ گیا اور مہرین کو پکارنے لگا۔فرہادکے جسم سے جان جیسی نکل رہی ہو،وہ لرزناشروع ہوگیا کہ مہرین اُس کو کمرے میں بند کر کے چلی گئی ہے اور وہ بھوک پیاس سے مر جائے گا،کسی کو دنوں تک خبر نہیں ہوگی۔فرہاد کو اپنے بچپن سے آج تک کی سب باتیں یاد آ رہی تھیں۔فرہاد سوچ رہا تھا کہ آج اُسکی موت واقع ہو جائے گی اورکبھی مہرین سے بے وفائی کا بدلہ نہیں لے پائے گا۔یہی نہیں اُس کو اپنے اُن افسران پر بھی غصہ آرہا تھا جس کی وجہ سے کئی بار اس کوملازمت سے نکالنے کی دھمکی دی ہوئی تھی۔وہ اپنی ملازمت بچانے کے خوف سے سچ نہیں بول پایا تھا۔فرہاد نے دل ہی دل میں مہرین کو کوسنے دیے تھے کہ وہ اذیت ناک موت کے لئے ذرا سی بات پر چھوڑ گئی ہے،حالانکہ وہ تو اس سے بہت محبت رکھتا تھا،مگر وہ اپنی ضدی فطرت کی بدولت اس سے لاپروائی برتنے کا مظاہرہ کرتی تھی۔فرہاد نے ہمت سے کام لیتے ہوئے دروازے کو اس بار باہر کی جانب کھولنے کی بجائے جب اندر کی طرف کھینچا تو وہ کھل گیا۔اس کے ساتھ ہی اسکا سارا ڈر ختم ہوگیا،اُس نے پریشانی میں یہ بات یاد نہ رکھی تھی کہ دروازہ اندر کی جانب کھلتا ہے۔اس نے جب سامنے کیچن کی طرف نظر ڈالی تو مہرین اس کے لئے ناشتہ بنا رہی تھی۔اس کی طرف دیکھ کر وہ مسکرائی تھی مگر فرہاد نظریں جھکا کر غسل خانے کی جانب چل پڑا،اس کی اب اتنی سکت نہ رہی تھی کہ وہ مہرین کی نظروں کی تاب لا سکتا،وہ ٹھنڈے پانی کو چہر ے پر ڈال کر اپنے خوف کو دھونے لگ گیا۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari

Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 322 Articles with 271183 views »
I'm an original, creative Thinker, Teacher, Writer, Motivator and Human Rights Activist.

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do N
.. View More
11 Jun, 2017 Views: 1023

Comments

آپ کی رائے
very nice bht ache topic par aap ni likha hain welldone,,,,,,,,,
By: umama khan, kohat on Jun, 14 2017
Reply Reply
0 Like
Thanks lot for appreciation.
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on Jun, 14 2017
0 Like
good work brother... theak kaha ap ny zyada ter rishto mein doori ki waja he shoher ka shak or manfi soch hai jis sy ghar ujerr k reh jaty hain... byshak mard ki musbat soch biwi ko hosla or wafa ki trf mayel krti hai... acha lesson hai kahani ka... stay blessed!!!
By: Faiza Umair, Lahore on Jun, 13 2017
Reply Reply
0 Like
فائزہ عمیر صاحبہ۔۔۔۔آپ کی رائے سے متفق ہوں،بہرحال تبصرے کے لئے شکریہ قبول کیجئے ۔
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on Jun, 13 2017
0 Like
v nice article bhai well done :)
By: Zeena, Lahore on Jun, 12 2017
Reply Reply
0 Like
Thanks lot for appreciation.
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on Jun, 12 2017
0 Like
ان سطور کو بھی اس کہانی کا حصہ تصور کیا جائے جوکہ شائع ہونے سے رہ گئی ہیں۔

فرہاد کو احساس ہو گیا تھا کہ وہ بے پناہ محبت کی وجہ سے مہرین کو کھو دینے کے ڈر سے اتنا ذہنی انتشار کا شکارتھا کہ وہ مسلسل مہرین کو سوچتے ہوئے دروازہ باہر کی جانب کھولنے کی ناکام کوشش کرتا رہا،حالانکہ وہ اندر کی جانب سے کھلنا تھا،فرہاد کو آج سمجھ آگئی تھی کہ منفی سوچ سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ہے یہی انسان کو بے شمار وجوہات سے ڈر میں مبتلا رکھتی ہیں۔فرہاد نے حتمی فیصلہ کرلیا تھا کہ اب وہ مہرین کی محبت پر شک نہیں کرے گا،وہ دوری نہیں چانا چاہتی تھی،یہ فرہاد کی ہی سوچ تھی جو دونوں کے بیچ دوری پیدا کر رہی تھی۔فرہاد نے زندگی میں مثبت سوچ اپنانے کا فیصلہ کرلیا تھا کہ ہر ڈر کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on Jun, 11 2017
Reply Reply
0 Like