سوال : ہم عام طور پر زمانے کو برا کہتے ہیں کہ زمانہ ہی ایسا برا آ گیا ہے، کیا یہ کہنا درست ہے کہ زمانہ بہت برا آ گیا ہے ؟

(manhaj-as-salaf, Peshawar)

تحریر: مولانا ابوالحسن مبشر احمد ربانی

جواب : زمانہ جاہلیت میں جب مشرکین عرب کو کوئی دکھ، غم، شدت و بلا پہنچتی تو وہ کہتے : يا خيبة الدهر یعنی ہائے زمانے کی بربادی ! وہ ان افعال کو زمانے کی طرف منسوب کرتے اور زمانے کو برا بھلا کہتے اور گالیاں دیتے حالانکہ ان افعال کا خالق اللہ جل جلالہ ہے تو گویا انہوں نے اللہ تعالی کو گالی دی۔

امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ نے سورہ جاثیہ کی تفسیر میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

كان اهل الجاهليه يقولون انما يهلكنا الليل والنهار وهو الذي يهلكنا يميتنا ويحيينا فقال الله في كتابه وقالوا ما هي الا حياتنا الدنيا نموت ونحيا وما يهلكنا الا الدهر
[تفسیر ابن کثیر : 4/ 109]

’’ اہل جاہلیت کہتے تھے کہ ہمیں رات اور دن ہلاک کرتا ہے، وہی ہمیں مارتا اور زندہ کرتا ہے۔ “ تو اللہ تعالی ٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا : ’’ انہوں نے کہا ہماری زندگی صرف اور صرف دنیا کی زندگی ہے، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں صرف زمانہ ہی ہلاک کر تا ہے۔ دراصل انہیں اس کی خبر نہیں یہ تو صرف اٹکل پچو سے کام لیتے ہیں۔ “

* اس آیت کی تفسیر سے معلوم ہوا کہ زمانے کو برا بھلا کہنا اور اپنی مشکلات اور دکھوں کو زمانے کی طرف منسوب کر کے اسے برا بھلا کہنا مشرکین عرب اور دھریہ کا کام ہے۔ دراصل زمانے کو برا بھلا کہنا اللہ تعالی کو برا بھلا کہنا ہے۔ صحیح بخاری میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

قال الله عز وجل:‏‏‏‏ يؤذيني ابن آدم يسب الدهر، ‏‏‏‏‏‏وانا الدهر بيدي الامر اقلب الليل والنهار

’’ اللہ تعالی نے فرمایا : ’’ ابن آدم مجھے اذیت دیتا ہے، وہ زمانے کو گالیاں دیتا ہے اور میں (صاحب) زمانہ ہوں۔ میرے ہاتھ میں معاملات ہیں۔ میں رات اور دن کو بدلتا ہوں۔ “

[بخاري، كتاب التفسير : باب تفسير سوره جاثيه : 4826، مسلم : 2246، حميدي : 2/ 468، مسند احمد : 2/ 238، ابوداؤد : 5274]

اسی طرح سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لا تسبوا الدهر فان الله هو الدهر

’’ زمانے کو برا نہ کہو یقیناً اللہ ہی زمانہ ہے (یعنی زمانے والا ہے )۔ “ [مسند ابي يعلي : 10/ 452]

ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں :
لا يقولن احدكم يا ضيعة الدهر! فان الله هو الدهر

’’ ہرگز کوئی یہ نہ کہے : ’’ ہائے زمانے کی بربادی ! “ بے شک اللہ ہی زمانے والا ہے۔ “
[ حلية الاولياء : 8/ 258]

امام خطابی رحمہ اللہ انا الدهر کا معنی بیان کرتے ہیں :
أنا صاحب الدهر، ومدبر الأمور التي ينسبونها إلى الدهر، فمن سب الدهر عن أجل أنه فاعل هذه الأمور؛ عاد سبه إلى ربه الذي هو فاعلها

’’ میں زمانے والا اور کاموں کی تدبیر کرنے والا ہوں، جن کاموں کو یہ زمانے کی طرف منسوب کرتے ہیں (یعنی دن رات کا نظام وغیرہ ابدی ہے خود بخود چل رہا ہے۔ یہ زمانہ ہی مارتا ہے اور زندہ کر تا ہے ) جس نے زمانے کو اس بنا پر برا بھلا کہا کہ وہ ان امور کا بنانے والا ہے تو اس کی گالی اس رب کی طرف لوٹنے والی ہے جو ان امور کا بنانے والا ہے۔ “
[فتح الباري : 575/16]

لہٰذا زمانے کو برا بھلا کہنا کہ عوام الناس میں رائج ہے کہ زمانہ برا آ گیا ہے، گیا گزرا زمانہ ہے، وقت کا ستیاناس وغیرہ، دراصل اللہ تعالی کو برا بھلا کہنا ہے، کیونکہ سارا نظام عالم اللہ وحدہ لا شریک لہ کے قبضہ قدرت میں ہے، وہی پیدا کرنے والا اور وہی مارنے والا ہے۔ وہی مدبر الامور ہے، منتظم اور سب کی بگڑی بنانے والا گنج بخش، غوث اعظم، داتا، فیض بخش اور دست گیر ہے۔ اس لیے ان امور اور زمانے کو برا کہنا اللہ تعالی کو برا کہنا ہے جو ان کا خالق ہے۔ لہٰذا ایسے کلمات سے اجتناب کر نا چاہیے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: manhaj-as-salaf

Read More Articles by manhaj-as-salaf: 287 Articles with 222658 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Jun, 2017 Views: 504

Comments

آپ کی رائے
ما هي صحة الحديث: لا تسبوا الدهر فإن الدهر هو الله، وأي فرقة تستعمل هذا الحديث إن كان حديثا.
جزاكم الله كل الخير عني وعن كل المسلمين.
الإجابــة

الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه، أما بعـد:

فالحديث المسؤول عنه قد أخرجه الإمام مسلم في صحيحه عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا تسبوا الدهر فإن الله هو الدهر.

ورواه البخاري بلفظ: يسب بنو آدم الدهر وأنا الدهر بيدي الليل والنهار.

ومن ذلك يتبين لك أن الحديث صحيح.

وأما سؤالك عن أي فرقة تستعمل هذا الحديث فإنه غير مفهوم؛ لأنه إذا تقرر أنه حديث صحيح –وهو كذلك كما علمت- فإن من واجب جميع الأمة أن يأخذوا به، لما ورد في قول الله تعالى: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا [الحشر:7].

وأما عن معنى هذا الحديث فقال النووي شارحا له: قال العلماء وهو مجاز وسببه أن العرب كان شأنها أن تسب الدهر عند النوازل والحوادث والمصائب النازلة بها من موت أو هرم أو تلف مال أو غير ذلك فيقولون يا خيبة الدهر ونحو هذا من ألفاظ سب الدهر، فقال النبي صلى الله عليه وسلم لا تسبوا الدهر فان الله هو الدهر أي لا تسبوا فاعل النوازل فإنكم إذا سببتم فاعلها وقع السب على الله تعالى؛ لأنه هو فاعلها ومنزلها. وأما الدهر الذي هو الزمان فلا فعل له بل هو مخلوق من جملة خلق الله تعالى. ومعنى فإن الله هو الدهر أي فاعل النوازل والحوادث وخالق الكائنات. اهـ

والله أعلم.
By: manhaj-as-salaf, Peshawar on Jun, 16 2017
Reply Reply
0 Like

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ