جنگ بدر-دعاوں کی قبولیت اور بشارتوں کی روشنی میں-قسط-2

(Irfan raza misbahi, Malegaon Maharastara India)

*فضائے بدر پیداکر فرشتے تیری نصرت کو اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطاراب بھی*(اقبال)

کسی بھی میدان میں کامیابی اگر حاصل کرنا ہو تو واحد ذریعہ خدا کی مدد ہی ہے ورنہ مادی وسائل اور دست وبازو کی قوت وطاقت سے ہی سب کچھ حاصل ہوجاتا تو غزوۂ بدر میں فتح کافروں کی ہونی چاہیے تھی لیکن اس رب لم یزل نے بظاہر بے سروساماں مسلمانوں کی مدد کرکے قیامت تک کے آنے والے مسلمانوں کو یہ بات تسلیم کرنےکی عملی دعوت دے دی ہیکہ خدا ہی کی مدد سے سے کامیابی وکامرانی نصیب ہوتی ہے ضرورت صرف اس بات کی ہیکہ خود کو اس قابل بنالیا جائے ،
قران کریم میں ارشاد ہے،
وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ( ال عمران،ۃ139)
ترجمہ: اور نہ ہمت ہارو اور نہ غم کرو تم ہی بلند رہوگے اگر تم سچے مومن ہو
ان ہی سچے مومنوں کی مدد میدان بدر میں رسول کریم رؤف الرحیم کی دعاوں صحابۂ کرام کے عزم محکم کے صدقے رب تعالی یوں فرما رہا تھا‫
وَإِذْ يُرِيكُمُوهُمْ إِذِ الْتَقَيْتُمْ فِي أَعْيُنِكُمْ قَلِيلًا وَيُقَلِّلُكُمْ فِي أَعْيُنِهِمْ لِيَقْضِيَ اللَّهُ أَمْرًا كَانَ مَفْعُولًا ۗ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ ( الانفال،ۃ،44) اور جب تمہارا مقابلہ ہوا تو اللہ نے کافروں کا لشکر تمہاری نظروں میں کم کردیا اور تمہیں کم کردیا کافروں کی نظروں میں تاکہ اللہ تعالیٰ اس کام کو انجام تک پہنچا دے جو کرنا ہی تھا اور سب کام اللہ ہی کی طرف پھیرے جاتے ہیں
یہ اس لیے کہ کافر کثیر تعداد گمان کر بھاگ نا جائیں اور مسلمان تعداد کی کم سوچ کر بد دل نا ہوجائیں کیونکہ حق وباطل کا فرق ظاہر کرنے کے لیے اس جنگ کا ہونا ہی ضروری تھا
*جنگ سے قبل کی دعا اور اس کی قبولیت:*

َعِنْد اِبْن إِسْحَاق أَنَّهُ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ( اللَّهُمَّ هَذِهِ قُرَيْش قَدْ أَتَتْ بِخُيَلَائِهَا وَفَخْرهَا ، تُجَادِل وَتُكَذِّب رَسُولك , اللَّهُمَّ فَنَصْرك الَّذِي وَعَدَّتْنِي ) . وَعِنْد الطَّبَرَانِيِّ بِإِسْنَادٍ حَسَن عَنْ اِبْن مَسْعُود قَالَ : " مَا سَمِعْنَا مُنَاشِدًا يَنْشُد ضَالَّة ، أَشَدّ مُنَاشَدَة مِنْ مُحَمَّد لِرَبِّهِ يَوْم بَدْر : ( اللَّهُمَّ إِنِّي أَنْشُدك مَا وعدتنی‫‫‫،،،،،،

ورواه مسلم (1763) ولفظه : عن ابن عَبَّاسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ نَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَهُمْ أَلْف ، وَأَصْحَابُهُ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَتِسْعَةَ عَشَرَ رَجُلًا ، فَاسْتَقْبَلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ ، فَجَعَلَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ : ( اللهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي ، اللهُمَّ آتِ مَا وَعَدْتَنِي ، اللهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ ، لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ ) ، فَمَا زَالَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ ، مَادًّا يَدَيْهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ، حَتَّى سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ مَنْكِبَيْه ِ، فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ ، فَأَلْقَاهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ ، ثُمَّ الْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ ، وَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللهِ ، كَفَاكَ مُنَاشَدَتُكَ رَبَّكَ ، فَإِنَّهُ سَيُنْجِزُ لَكَ مَا وَعَدَكَ ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلّ َ: ( إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ ) الأنفال/ 9 ، فَأَمَدَّهُ اللهُ بِالْمَلَائِكَةِ .

آپ کے لئے میدان بدر میں جو ایک خیمہ(العریش) بنا یا گیا تھا اس میں پوری رات روتے ہوئے گذاردیا اور پوری رات الحاح و زاری کے ساتھ پروردگار عالم سے عرض کرتے رہےکہ اے اللہ آج قریش تکبر اور گھمنڈ کے ساتھ آئے ہیں ،وہ تجھ کو چیلنج کرتے ہیں اور تیرے نبی کو جھٹلاتے ہیں پھر دعا کرتےکہ: اللہم ان تھلک ھذہ العصابہ لا تعبد بعدھا فی الارض۔یعنی اے اللہ ! اگر آج یہ مٹھی بھر جماعت فناہوگئی تو پھر روئے زمین پر تیری کوئی عبادت کرنے والا نہ ہوگا۔اور باربار یہی فرماتے رہتے :اللہم انجزنی ماوعدتنی ،اللہم نصرک۔اے اللہ تونے مجھ سے جس چیز کا وعدہ کیا ہے وہ پورا فرما،اے اللہ ! تری مدد کی ضرورت ہے یہی کہتے رہے حتی کہ آپ کے کاندھوں سے چادر ڈھلک کر نیچے گر گئی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئےاور اسے اٹھاکر آپ کے کاندھوں پر ڈالا اور (یقین کے ساتھ)عرض کیا، کہا کہ اے اللہ کے نبی !بس کیجئے ضرور اللہ آپ سے کئے ہوئے وعدے کو پورا کرے گا۔( زاد المعاد:3/157. ،مسلم ،ابن اسحاق ،) طبرانی کی روایت میں ہیکہ آپ نے ایسی استدعا فرمائی کہ ہم نے آج تک نا سنی تھی
امام نووی لکھتے ہیں کہ علماء نے فرمایا کہ حضور علیہ السلام نے ان دعاوں میں تضرع و گریہ وزاری اختیار فرمائے اس لیے کہ صحابۂ کرام کوآپ کی دعا کی مقبولیت پہ جو یقین تھا اس کے سبب ان کے دل مضبوط و مطمئن ہو جائیں،
قرانی وعدے::::: یہ ہیں " قال تعالى: {وَإِذْ يَعِدُكُمُ اللَّهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْن} [الأنفال: 7] {وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِين} [الروم: 47] الآية، {وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ، إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُورُونَ، وَإِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ} [الصافات: 171، 172، 173] ، "يقول" مع سؤال ذلك: "اللهم إن تهلك هذه العصابة".(زرقانی علی الموھب ج، 2ص، 278)
حضور اپنے رب سے اس کے وعدوں جو قران کی ان آیتوں میں مذکور ہیں ان کا سوال کرتے رہے
رواه أحمد (1161) والنسائي في "السنن الكبرى" (825) عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : ( لَقَدْ رَأَيْتُنَا لَيْلَةَ بَدْرٍ وَمَا فِينَا إِنْسَانٌ إِلَّا نَائِمٌ ، إِلَّا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ فَإِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي إِلَى شَجَرَةٍ، وَيَدْعُو حَتَّى أَصْبَحَ ) .
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے امام نسائی روایت کرتے ہیں ،فرمایا میں نے جنگ بدر سے قبل کی رات دیکھا کہ ہم میں کا ہر فرد سو گیا تھا لیکن اللہ کے رسول جاگ کر نماز پڑھتے رہے حتی کہ صبح ہو گئی،،، پوری رات آپ نے اسی طرح گزار دی جب صبح کا وقت ہوا آپ نے صحابۂ کرام کو نماز کےلیے جگایا، رب قدیر نے اپنے حبیب کی یہ دعا قبول فرمائی اور آيت نازل ہوئی
إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ(الانفال، ۃ9)
اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کررہے تھے، پھراس نے نے تمہاری فریاد قبول کی اور فرمایامیں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا جو لگاتار چلے آئیں گے
امت کے مونس وغمخوار آقا کی دعا قبول ہوئی آپ نے رب کی اجازت سے غلاموں کو خوشخبری سناتے ہوئے فرمایا گھبراؤ نہیں آگے بڑھو خدا کے ایک ہزار فرشتے تمہاری مدد کےلیے آرہیں ہیں
وفي الصحيح: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لماكان يوم بدر في العريش مع الصديق رضي الله عنه، أخذت رسول الله صلى الله عليه وسلم سنة من النوم.ثم استيقظ متبسما، فقال: "أبشر يا أبا بكر، (زاد ابن إسحاق: أتاك نصر الله، )وهذا جبريل على ثناياه النقع" ثم خرج من باب العريش وهو يتلو {سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُر} .
بخاری شریف میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، بدر کے دن جب حضور علیہ السلام عریش میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے تو آپ پر ایک اونگھ طاری ہوئی(جس میں آپ کو بشارت عطا ہوئی) پھر آپ اس سے مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے اور فرمایا اے ابوبکر: (اللہ کی مدد تمھارے پاس آگئی)بشارت ہو مبارک ہو یہ دیکھو جبرئیل علیہ السلام ان کےدونوں رخ پر غبارہے پھر آپ عریش سے نکلے یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے{سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُر} امام زرقانی شرح مواھب اللدنیہ میں اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں
في هذا علم من أعلام النبوة؛ لأن هذه الآية نزلت بمكة وأخبرهم بأنهم سيهزمون في الحرب، فكان كما قال. وأخرج الطبري وابن مردويه عن ابن عباس: لما نزلت {سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ} [القمر: 45] الآية، قال عمر: أن جمع يهزم فلما كان يوم بدر رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ثبت في الدرع، وهو يقول: "سيهزم الجمع"، ولابن أبي حاتم: فعرفت تأويلها يوم بدر.
فرمایا''اعلام نبوت میں سے اس آیت کا نزول بھی ہے کیونکہ یہ مکہ میں نازل ہوئی تھی اور انھیں خبر دی گئی تھی کہ وہ(کفار مکہ)جنگ میں عنقریب شکست کھائیں گے تو ایسا ہی ہوا طبری اور ابن مردویہ، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب آیت{سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ} [القمر: 45] الآية، نازل ہوئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہا کون سی جماعت شکست کھائے گی؟؟ تو جب جنگ بدر کے دن میں نے رسول اللہ کو دیکھا کہ وہ زرہ پہنے تیار ہیں اور آیت {سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ} [القمر: 45] الآية تلاوت فرما رہےہیں تو میں اس کی تعبیر کو یوم بدر میں سمجھ گیا

وفي البخاري عن ابن عباس: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال يوم بدر: "هذا جبريل آخذ برأس فرسه عليه أداة الحرب". قال الحافظ: وأخرج سعيد بن منصور تتمة لهذا الحديث مفيدة من مرسل عطية بن قيس: أن جبريل أتى النبي صلى الله عليه وسلم بعدما فرغ من بدر على فرس حمراء معقودة الناصية قد عصب الغبار ثنيته عليه درعه، وقال: "يا محمد إن الله بعثني إليك وأمرني أن لا أفارقك حتى ترضى، أفرضيت؟ قال: "نعم".
اور بخاری شریف میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے دن فرمایا " یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں جو اپنے گھوڑے کا سر ( یعنی باگ ) پکڑے ہوئے ( لڑنے کے لئے مستعد کھڑے ) ہیں ، اور جنگ کا سامان لئے ہوئے ہیں ۔ " امام حافظ نے عطیہ بن قیس کی مرسل سے اس حدیث کا تتمہ بیان فرمایا :کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام جنگ بدر سے فراغت کے بعد ایک مربوط پیشانی والےسرخ گھوڑے پر آئے اس حال میں کہ آپ کی زرہ پر غبار دونوں جانب جما ہوا تھااور عرض کیا:یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی نے مجھے آپ کے پاس بھیجا اور حکم فرمایا تھا کہ جب تک آپ کی رضا نا ہو آپ سے جدا نہ ہوں، کیا آپ راضی ہوگئے ہیں ؟؟؟حضور علیہ السلام نے فرمایا :ہاں، ،،،
وروى البيهقي عن علي، قال: هبت ريح شديدة لم أر مثلها، ثم هبت شديدة، وأظنه ذكر ثالثة، فكانت الأولى جبرائيل، والثانية ميكائيل، والثالثة إسرافيل، فكان ميكائيل عن يمين النبي صلى الله عليه وسلم وفيها أبو بكر، وإسرافيل عن يساره، وأنا فيها، انتهى.
امام بیہقی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا آپ فرماتے ہیں بہت شدید ہوا چلی(جنگ بدر کے دن) میں نے اس کے مثل نہ دیکھا تھا، پھرشدید ہواچلی، میرا گمان ہے(راوی کا) تیسری مرتبہ ذکر کیا،
تو پہلی مرتبہ حضرت جبرئیل، دوسری مرتبہ میکائل اور تیسری مرتبہ اسرافیل علیھم السلام آئے تھے،
.آپ دوران جنگ بھی دعاوں میں مشغول تھے ،روی النسائي والحاكم من حديث علي قال : قاتلت يوم بدر شيئا من قتال ، ثم جئت فإذا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول في سجوده : يا حي يا قيوم ، فرجعت فقاتلت ، ثم جئت فوجدته كذلك . حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں میں یوم بدر کچھ قتال کرنے کے بعد آپ کے پاس آیا آپ عریش میں اپنے سجدہ میں پکار رہے تھے " یا حیُ یاقیّومُ" تو میں پلٹ آیا اور پھر قتال میں مشغول ہوگیا پھر آیا تو آپ اسی طرح دعا میں مشغول تھے، اور غالبا چوتھی مرتبہ فرما حتی کہ اللہ تعالی نے فتح عطا فرمادی
(جاری)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Irfan raza misbahi

Read More Articles by Irfan raza misbahi: 15 Articles with 15567 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Jun, 2017 Views: 945

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ