تلاوت قرآن دنیا و آخرت میں کامیابی کا ضامن

(Abdul Bari Shafique Salafi, Mumbai)

عن عُمَرُبن الخطاب ؓان النبی ﷺقال: اِنَّ اللہ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ‘‘(مسلم:۱۹۳۴)
ترجمہ : حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” بیشک اللہ تعالی اس کتاب (قرآن مجید ) کی وجہ سے بہت سے لوگوںکو سرفراز فرمائے گا اوراسی کی وجہ سے دوسروں کو ذلیل کردے گا ۔“

تشریح:بلاشبہ قرآن مجید اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا وہ آخری اور مقدس کلام ہے جس کواللہ نے تمام انبیاء کے سردار خاتم النبیین جناب محمد مصطفیٰ ﷺ پر رمضان المبارک کےاسی مقدس مہینہ کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں نازل فرمایااور اس کےاحکامات و تعلیمات پر عمل کرنا ہم بنی انسان کےلئے لازم وضروری قراردیاہے ،اور اپنے حبیب کے ذریعہ اس بات کا وعدہ فرمایا کہ ’’ خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ‘‘ (بخاری:۵۰۲۷) تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو قرآن سیکھیں اوردوسروں کو سکھائیں۔نیز آپ ﷺ نے اس کی عظمت وفضیلت کو واضح کرتے ہوئے فرمایاکہ یہی وہ مقدس کلام ہے جس کی تلاوت اور اس کے فرامین پر عمل کرنے کی وجہ سے اللہ تبارک وتعالیٰ قوموں(لوگوں) کودنیا وآخرت میں سرخروی اور کامیابی و کامرانی نصیب فرماتاہے اور اس کے احکامات کو بالائے طاق رکھنےاوراپنے نفسانی خواہشات کی اتباع کی وجہ سے انھیںتنزلی وبزدلی اور ضلالت وگمراہی کے عمیق غار میں ڈھکیل کر تہس نہس کردیتاہے،لیکن افسو س کہ اتنے واضح دلائل وبراہین کے باوجو د بھی آج ہمارا طریقہ کتاب وسنت اور صحابہ وسلف صالحین کے کردار واعمال سے بالکل مختلف ہے،وہ اللہ والے کتاب وسنت کے شیدائی اور اسےپڑھنےپڑھانےاور یاد کرنے کےبہت مشتاق تھے جس کی وجہ سے اللہ نےانھیںبہت ہی قلیل مدت میں عرب وعجم کا مالک بنادیا اور قیصروقصریٰ جیسی عظیم سلطنتوں کے تخت وتاج کو ان کے پیروں تلےروند دیا،اور اپنےہی ملک عزیزپرمسلمانوں نے اسی قرآن کی بدولت ساڑھے آٹھ سوسال تک حکومت کیں لیکن جب ہم نے اس مقد س کتاب کی تلاوت وفرامین کو پس پشت ڈال دیا تب سے ذلت ونکبت اور تباہی وبردبای ہمارا مقدر بن گئی ۔اس لئے مسلمانوں ابھی وقت ہے سنبھل جائو اور کتاب وسنت سے اپنا رشتہ مضبوط کرلو تاکہ تمہاری عظمت رفتہ بحال ہوسکے۔

اس لئے کہ یہ ایک ایسی الہامی کتاب ہے جسکے ایک ایک حرف پڑھنے سے دس دس نیکیاں ملتی ہیں اور اس کے پڑھنے اور سمجھنے سے ایمان ویقیں میں اضافہ ہوتاہے ذہن ودماغ کو سرورولذت ملتاہے اوردلوں کے زنگ پاک وصاف ہوتے ہیںاور ان کے پر ان کا اعتمادوبھروسہ مزید مضبوط ہوجاتاہے: ﴿ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ﴾نیزیہی قرآن کل قیامت کے دن جب انسان نفسی نفسی کے عالم میں ہوگا تو اس کے لئے سفارشی بن کر آئے گااور اپنے پروردگارسےبندے کے حق میں سفارش کرائے گا جیساکہ اللہ کے رسول نے فرمایا’’ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِى يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لأَصْحَابِهِ‘‘(مسلم:۱۹۱۰)اور دوسری حدیث میں ہے کہ اللہ قرآن کی سفارش کو قبول فرمائے گا ۔ اس لئے آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے بھولے ہوئے سبق کو یاد کریں ،اورنیکیوں کےاس موسم بہارمیں کثرت سے قرآن کی تلاوت اور اعمال صالحہ کرکے اپنے لئے زیادہ سے زیادہ توشہ اکٹھا کرلیں جو قیامت کے دن ہمارے کام آنے والی ہیں ۔ کیونکہ اسی قرآن کی ایک ایک حرف کی تلاوت پر اللہ تعالیٰ بندے کو دس دس نیکیاں دیتاہے اور نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ میں یہ نہیں کہتا کہ ’’الم ‘‘ ایک حر ف ہے بلکہ ’’ الف ‘‘ایک حرف ،لام دوسرا حرف اور میم تیسرا حرف ہے ‘‘ اس طرح صرف ’’الم‘‘ کی تلاوت کرنے سے بندہ کو تیس نیکیاں مل جاتی ہیں۔

یہ ہےاس مقدس کلام کی تلاوت کا اجروثواب اور راس ماہ مبارک کی عظمت جس میں اللہ اگر چاہیئے تو ایک نیکی کاثواب سا ت سو گنا تک دے سکتاہے۔ اس لئے مسلمانو! اس کتاب سے قلبی لو لگائو اس کی اہمیت وفضیلت اور عظمت کو سمجھتے ہوئے کثرت سے تلاوت کرو اسکے معانی ومفاہیم کو سمجھو اور اس کی تعلیمات وفرامین کو پر عمل کرو نیز پوری دنیا میں عام کرو ،تاکہ ہمیں دوبارہ ہمارا کھویا ہوا وقار مل سکے اور ہماری عظمت رفتہ بحال ہو سکے ۔

دعاہے کہ مولیٰ ہمیں صحابہ ا ورسلف صالحین کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطافرما اور اقوام باطلہ پر فتح وغلبہ نصیب فرما۔ آمین !

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Bari Shafique Salafi

Read More Articles by Abdul Bari Shafique Salafi: 114 Articles with 67934 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Jun, 2017 Views: 1597

Comments

آپ کی رائے
کیا یہ حدیث نمبر ٹھیک ھے چونکہ مسلم شریف کی حدیث نمبر1934 تو کوئی اور ھے.
By: Zia , Rawalpindi on Jul, 21 2017
Reply Reply
0 Like
وحدثني زهير بن حرب ، حدثنا يعقوب بن إبراهيم ، حدثني ابي ، عن ابن شهاب ، عن عامر بن واثلة ، ان نافع بن عبد الحارث، ‏‏‏‏‏‏لقي عمر بعسفان وكان عمر يستعمله على مكة، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ من استعملت على اهل الوادي؟ فقال:‏‏‏‏ ابن ابزى، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ ومن ابن ابزى؟ قال:‏‏‏‏ مولى من موالينا، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ فاستخلفت عليهم مولى، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ إنه قارئ لكتاب الله عز وجل، ‏‏‏‏‏‏وإنه عالم بالفرائض، ‏‏‏‏‏‏قال عمر : اما إن نبيكم صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏قد قال:‏‏‏‏

"إن الله يرفع بهذا الكتاب اقواما، ‏‏‏‏‏‏ويضع به آخرين".

عامر بن واثلہ سے روایت ہے کہ نافع بن عبدالحارث نے ملاقات کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے عسفان میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو مکہ پر تحصیل دار بنا دیا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تم نے جنگل والوں پر کس کو تحصیل دار بنایا؟ انہوں نے کہا: ابن ابزی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابن ابزی کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے آزاد کردہ غلاموں میں سے ایک آزاد کردہ غلام ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے غلام کو ان پر تحصیل دار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کتاب اللہ کے قاری ہیں اور ترکہ کو خوب بانٹنا جانتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سنو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

”اللہ تعالٰی اس کتاب کے سبب سے کچھ لوگوں کو بلند کرے گا اور کچھ لوگوں کو گرا دے گا۔“

(صحیح مسلم، رقم الحدیث: 1897، ترقيم فواد عبدالباقي: 817)
By: manhaj-as-salaf, Peshawar on Aug, 03 2017
0 Like

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ