پردہ اور اہل یورپ

(ubaidullah latif, Faisalabad)
پردے کی اسلام میں اہمیت بیان کرتے ہوئے تائیدی طور پر یورپین فلاسفرز اور سکالرز کے اقوال بھی پیش کئے گئے ہیں

چند دن ہوئے ایک دوست سے ملاقات ہوئی اس نے بتایا کہ ہمارے علاقے میں ایک بزرگ رہتے تھے جن کی عادت شریفہ یہ ہے کہ جب کبھی کسی عورت کو بے پردہ دیکھتے ہیں تو اس کو پردہ کرنے کی تلقین کرتے ، ایک دن اس طرح ہوا کہ ایک عورت اور اس کا خاوند دونوں بازار میں جا رہے تھے جبکہ عورت بے پردہ تھی تو اس بزرگ نے اپنی عادت کے مطابق اس عورت کو پردہ کرنے کی تلقین کی تو اس کے خاوند نے اس بزرگ کو جھاڑ پلادی اور طرح طرح کے القابات سے نوازا ۔ میں نے جب یہ واقعہ سنا تو اہل یورپ کی اس طرح نقالی دیکھ کر نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان یاد آیا جس کا مفہوم یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا
’’ایک وقت آئیگا یہود و نصاریٰ اگر اپنی والدہ کے ساتھ زنا کریں گے تو میری امت میں بھی ایسے لوگ پیدا ہو جائیں جو یہودو نصاریٰ کی پیروی کرتے ہوئے اپنی والدہ کے ساتھ زنا کریں گے ۔‘‘

مشہور فلاسفر آگسٹ کونٹ کہتا ہے کہ مردوں کے مشاغل میں عورتوں کی شرکت سے جو خوفناک نتائج اور فساد پیدا ہو رہے ہیں ان کا علاج یہی ہے کہ مرد اور عورت کے جو مساوی فرائض ہیں ان کی حد بندی اور تعین کر دیاجائے ۔ مرد پر واجب ہے کہ عورت کی خضوراک کاس انتظام کرے یہی وہ قانون طبعی ہے جو مرد کی اصل زندگی کی منز لایک دائرہ میں محدود کرتا ہے ۔ اور یہی وہ قانون ہے جو عورت کو اپنے طبعی جذبات سے ترقی ترقی نوع انسانی جیسے شریف فرض کی بجاآوری پر آمادہ کرتا ہے یہی وہ مادی ترقی اور علمی کمال جو عورت کی موجودہ حالت ہم سے طلب کر رہا ہے ناممکن ہے کیونکہ اس ناموس الہی اور قانون طبعی سے منطبق نہیں ہو سکتی اور چونکہ یہ خواہش ناموس الہی کی مخالف ہے اور اس کے حکم کو رد کرنا چاہتی ہے اس لیے اس طبعی جرم کے اثر سے سوسائیٹی کا کوئی علاقہ اور حصہ محفوظ نہیں ہے ۔مشہور فلاسفر مسٹر پروڈن اپنی کتاب ’’ ابتکارالنظام ‘‘ میں لکھتا ہے کہ چونکہ عورت کو صرف معنوی خوبیاں عطا کی گئی ہیں اس لئے اس حیثیت سے وہ ایک بیش بہا جوہر ہے اور اس صفت میں مردوں سے سبقت لے جانے والی ہے عورتوں کی ان خوبیوں کا ظہور مرد کی ماتحتی میں رہنے سے ہے کیونکہ عورت کافرض صرف اتنا ہے کہ وہ اس بے بہا عطیہ قدرت کو اپنے لئے محفوظ رکھے جو دراصل اس کی مشعل خاصیت نہیں ہے بلکہ ایک صفت، شکل اور حالت ہے جو اس پر شوہر کی حکومت ماننے کے لئے لازم ہوتی ہے لیکن اس سے انکار اس کو نہایت مردہ اور بد نما بنادینے والی بات ہے جس کی وجہ سے وہ تعلقات زوجیت کو توڑنے والی ،محبت کو مٹانے والی اور نوع انسانی کو ہلاک کرنے والی بن جاتی ہے ۔ نامور عالم پروفیسر ژول سبحان لکھتے ہیں کہ عورت کو عورت رہناچاہئے کیونکہ وہ اسی صفت کے ذریعے سے اپنی سعادت پا سکتی ہے اور اسے اپنے سوا دوسرے شخص کو بھی بخش سکتی ہے اس لئے عورتوں کی حالت سنوارنی چاہئے نہ کہ اسے بالکل ہی بدل دیں اور مناسب ہے کہ عورتوں کو مرد بنا دینے سے پرہیز کرنا چاہئے کیونکہ اس کی وجہ سے وہ بہت بڑی خوبی اور بہتری کو ہاتھ سے کھو بیٹھیں گی اور ہم بھی تمام باتوں کو گَنوادیں گے ۔ بلاشبہ فطرت نے اپنی تمام مصنوعات کو کامل اور اکمل بنایا ہے ہمیں ان کی حالت پر غائر نظر ڈالنے اور صرف ان کے عمدہ بنانے کی ضرورت ہے جس کے ساتھ ہی جو امور ہم کو قوانین قدرت نے سے دور کرنے والے ہوں یا اس کے مثل ہوں ان سے اجتناب کرنا چاہئے ۔ اقتصادیات کا مشہور ماہر ژول سبحان تو سرزمین یورپ میں چیخ چیخ کر پکار رہاہے کہ کارخانوں اور فیکٹریوں نے عورت کو اس کے گھرانے سے نکال دیا ہے اور منزلی زندگی کے اصول توڑ کر پارہ پارہ کر ڈالاہے مگر ہم پھر بھی یہ کہتے ہیں کہ عورت کے کاروباری و خارجی زندگی میں شریک ہونے سے ان کی منزل زندگی پر کوئی برااثر نہیں پڑا ہم دیکھتے ہیں کہ اکیلا ژول سبحان ہی اس حقیقت کا ادراک کرنے والانہیں پایا جاتا بلکہ بلا شبہ تمام علمائے عمران اور تمدن اسی کے ہمسفر اور ہم خیال ہیں۔چنانچہ مزید استدلال اور مخالفین کو قائل کرنے کے لئے ہم ذیل میں شامل ویل سحائل کا وہ قول بھی نقل کرتے ہیں جو اس نے اپنی کتاب اطلاق میں نقل کیا ہے چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ ’’ جو دستور عورتوں کو دکان، کارخانوں، میں کام کرنے کی اجازت دیتا ہے اس سے خواہ ملک کتنا ہی ترقی کر جائے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نظام کا نتیجہ حیات منزلی کی بنیادیں متزلزل کر دینے والا ثابت ہوا ہے وہ کارخانہ داروں کے طرززندگی پر حملہ ور ہوا ہے اور اس نے گھرانے اور کنبے کی شاندار عمارت کو منہدم کر کے معاشرے کی بندشیں توڑ پھینکی ہیں ۔‘‘

محترم قارئین! یہ تو علمائے یورپ کے چند اقوال جوثابت کرتے ہیں کہ اہل یورپ اس مخلوط اور آزاد نظام سے نہ صرف بیزار ہو چکے ہیں بلکہ چھٹکارا بھی پانا چاہتے ہیں جس کا بیّن ثبوت یورپین نومسلم عورتوں کے وہ بیانات بھی ہیں جن میں انہوں نے اپنے اسلام قبول کرنے کا بنیادی سبب پردے کی پابندی اور اسلامی معاشرتی نظام میں عورت کے حقوق اور تحفظ بیان کیا ہے ۔ناظرین ! اب ہمیں بھی غور کرنا چاہئے کہ جس یورپ کی نقالی کرتے ہوئے ہم عورت کو اسکے اصل فریضے بچوں کی تربیت اور گھرداری سے نکال کر ٹریفک پولیس ،کارخانوں ،فیکٹریوں رہے ہیں وہ یورپ تو اس مصیبت سے جان چھڑاناچاہتا ہے لیکن ہم یورپ کی نقالی کر کے کیوں اپنے معاشرے کو تباہ کر رہے ہیں ؟ اب آخر میں میں آپ کو ایک واقعہ بیان کرتا ہو ں جواہل شعور اور سمجھ کے لئے یقیناً اہمیت کا حامل ہو گا ۔ وہ یہ ہے کہ ایک نوجوان اور اس کی مکمل فیملی آزاد خیال تھی لیکن اﷲ تعالی کو اس خاندان کی بہتری منظور تھی کہ وہ نوجوان قرآن کریم اور احادیث نبویہ ﷺ کا مطالعہ بمع ترجمہ کرنے لگا آہستہ آہستہ اسپر آشکارا ہونے لگا کہ اسلام اس سے کیا مطالبہ کرتا ہے اور بحثیت مسلمان اس کی کیا ذمہ داریاں ہیں یہاں تک کہ وہ پکا راسخ العقیدہ مسلمان بن گیا اس کے لئے اس پر بڑے طعن وتشنیع کے نشتر چلائے گئے لیکن وہ اپنے دین پر پختہ رہا ایک دن اس نے اپنی بہن کو سمجھانے کے لئے اس سے اس کی کوئی خوبصورت سی تصویر مانگی تو اس کی بہن اس تصویر کے حصول کا سبب پوچھا تو جواب دیاکہ میں نے اپنے ایک دوست کو دکھانی ہے جس پر اس کی بہن بھڑک اٹھی کہ تم میری تصویر اپنے دوست کو دکھانا چاہتے ہو تب اس نوجوان نے اپنی بہن کو سمجھایا کہ میری بہن ! تو یہ تو پسند نہیں کرتی کہ اپنی تصویر دے تاکہ میں اپنے دوست کو دکھاسکوں لیکن ذرا غور کرو کہ جب تم بے پردگی میں باہر مارکیٹوں اور بازاروں میں جاتی ہو تو وہاں کتنے لوگ تمہیں بنفس نفیس دیکھتے ہوں گے اب خود فیصلہ کرو کہ میرا اپنے دوست کے لئے تصویر مانگنا برا عمل ہے یا تمہارا اس بازاروں میں بے پردہ جانا زیادہ برا عمل ہے ؟ اس پر اس نوجوان کی ہمشیرہ کو بات کی سمجھ آگئی تو اس نے بھی باقاعدگی سے پردہ کرنا شروع کر دیا اﷲ تعالی ہم سب کو بھی صحیح سمجھ عطا فرمائے آمین۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عبیداللہ لطیف Ubaidullah Latif

Read More Articles by عبیداللہ لطیف Ubaidullah Latif: 106 Articles with 117386 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Jun, 2017 Views: 570

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ