دوستی کی آڑ میں آزادی کا سودا نہیں ہونا چاہیئے

(Aslam Lodhi, Lahore)

 سی پیک منصوبہ پاکستان کی تقدیر بدل سکتا ہے ۔یہ منصوبہ پاکستان کو ایشیا ٗ یورپ اور مشرق وسطی کا اہم مرکز بنا سکتا ہے ۔جہاں یہ منصوبہ پاکستان کی تنہائی کو ختم کرکے معیشت کی بحالی ٗ بے روزگاری کے خاتمے ٗ غربت سے نجات اور ترقی و خوشحالی کا ضامن ہوگا ۔ وہاں حکومت پاکستان اور عوام کو اس اہم ترین منصوبے کی تکمیل کے لیے تمام تر اختلافات کو بھلاکر یکجان ہونا پڑے گا۔ یہ درست ہے کہ ایسے موقع بار بار نہیں آتے لیکن چند احتیاطیں پھر بھی ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہیں ۔ امریکی وزارت دفاع کی ایک رپورٹ کے مطابق چین مستقبل میں پاکستان میں فوجی اڈے بنا سکتا ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ چین پاکستان کا عظیم اورآزمودہ دوست ہے اور ہر مشکل وقت میں وہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوتا چلاآیاہے ۔ دوستی اپنی جگہ لیکن پاکستان کو اپنا وجود ٗ آزادی و خود مختاری کو کسی بھی صورت میں قربان نہیں کرنا چاہیئے ۔ جتنے بھی معاہدے ہوں دونوں ملکو ں کی عوام کے بہترین مفادات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے قومی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت تحریر میں لائے جائیں ۔دوستی اپنی جگہ لیکن چین کو پاکستان کے اندر سی پیک پراجیکٹ کی حفاظت کے لیے فوجی چھاؤنیاں بنانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے ۔ اونٹ جب خیمے کے اندر آجاتا ہے تو پھر وہ آسانی سے نہیں نکلتا۔چین ہو یا روس ٗ امریکہ ہو یا کوئی اور ملک ۔یہ سب اپنے مفادات کی خاطر دوسروں کی آزادی اور خودمختاری سے کھیلتے ہیں۔شام میں روس اورامریکہ کی موجودگی نے کیا گل کھلائے ۔ سب کے سامنے ہیں۔اگر چین کو اجازت دی گئی تو روس بھی اپنے تجارتی قافلوں کی حفاظت کے لیے روسی فوج تعینات کرنے کی جستجو کرے ۔ جبکہ افغانستان میں پہلے سے بیٹھا امریکہ کہاں باز آنے والا ہے ۔دودھ کا جلا ہوا لسی کو بھی پھونکیں مار مار کر پیتا ہے ۔ یہ آزادی جو ہمیں 9 لاکھ مسلمانوں کی شہادتوں کے بعد حاصل ہوئی اس کا ہر سطح پر تحفظ بہت ضروری ہے ۔ برصغیر پاک وہندکے رہنے والوں کو اس سے پہلے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھ لگ چکے ہیں جو تاجروں کے روپ میں برصغیر پاک و ہند میں آئے۔ یہاں اپنا نٹ ورک قائم کیا ہندؤوں کا ضمیر خریدا۔ پھر تجارتی سامان کی آڑمیں اسلحے کے بھرے ہوئے جہاز ساحل پر اترنے لگے ۔ آہستہ آہستہ برصغیر پاک وہندپر قبضہ کرکے یہاں مسلم حکمرانوں کو چلتا کیا ۔ ان سے آزادی حاصل کرنے کے لیے لاکھوں مسلمانوں کوجانی و مالی قربانی کے ساتھ ڈیڑھ سو سال غلامی میں زندگی گزارنی پڑی۔ اس دوران مسلمانوں پر کس قدر اورکتنی قیامتیں گزریں ٗ اس کا کوئی شمار نہیں ہے ۔ آزادی بہت بڑی نعمت ہے اگر آزادی کی قیمت پوچھنی ہو تو مقبوضہ کشمیر کے رہنے والوں سے پوچھ لیں جہاں بھارتی فوج تشدد کے نت نئے حربے آزماتی ہے ۔ لاکھوں کشمیر ی مسلمان آزادی کی جنگ لڑتے لڑتے قبرستانوں میں جاسوئے ۔آزادی کی قیمت فلسطینی ٗ چیچنائی ٗ برمائی اور بھارتی مسلمانوں سے بھی پوچھی جاسکتی ہے جن پر مختلف حیلے بہانوں سے زندگی تنگ کی جارہی ہے ۔ چین نے وزیراعظم کے حالیہ دورہ چین کے موقع پر سیکورٹی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے یہ بات منوانے کی کوشش کی تھی کہ اقتصادی راہداری کو سیکورٹی مسائل درپیش ہیں ٗا سے محفوظ رکھنے کی ذمہ داری خود چینی فوج انجام دے گی ۔ میں سمجھتا ہوں یہی وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں ۔پاک فوج دنیا کی بہترین فوج ہے اس وقت بھی فوج اقتصادی راہداری اور چینی انجینئروں کی حفاظتی ڈیوٹی انجام دے رہی ہے ۔ مستقبل میں پاک فوج کے مزید ایسے کئی ڈویژن بھی قائم کیے جاسکتے ہیں جن کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ کرکے سی پیک کی حفاظت کا کام لیاجاسکتا ہے لیکن مسلح چینی فوج کا پاک سرزمین پر آنا اور یہاں اپنی چھاؤنیاں قائم کرناشکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے ۔ ہمارے دل میں چینی بھائیوں کی بہت قدر و منزلت ہے لیکن ہمیں اپنا وجود ہر حال میں برقرار رکھنا ہے اگر وجود برقرار رہے گا تب ہی پاکستانی قوم کو سی پیک منصوبے کے فوائد حاصل ہوں گے ٗتب ہی بے روزگاری اور غربت کا خاتمہ ہوگا ۔ اگر ہمارا وجود ہی برقرار نہ رہا تو( منہ میں خاک) ہم چین کے غلام بن جائیں گے پھر جو مزاج یار میں آئے وہ ہمارے ساتھ سلوک کرے ۔روس پہلے ہی بحرہ عرب کے گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے مختلف حیلے بہانوں سے کوششیں کرچکاہے ۔فوجی طاقت سے رسائی حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد اب وہ دوستی کے روپ میں پا ک سرزمین پر قدم رکھ رہا ہے ۔ ہمیں یہ بات چین اور روس سمیت تمام بڑی طاقتوں پر واضح کرنا ہوگی کہ ہم بین الاقوامی دنیا تک رسائی کے لیے راہداری تو دے رہے ہیں لیکن یہاں فوج اتارنے اور فوجی چھاؤنیاں بنانے کی اجازت کسی کو بھی نہیں دی جاسکتی ۔ مزید برآں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں اور ممالک کے ساتھ معاہدہ کرتے وقت پاکستانی مزدوروں ٗ ہنر مندوں اور کسانوں کے بارے میں عالمی معیار کے مطابق بہتر شرائط شامل کرنا از حد ضروری ہے ۔ صنعتی زون کے ساتھ بہترین سہولتوں سے آراستہ رہائشی کالونی ٗ جس میں ہسپتال ٗ سکول اور ٹرانسپورٹ کا انتظام بھی ہو ٗ تنخواہوں کا ڈھانچہ اس قدر معقول ہو کہ پاکستانی مزدور اور کاریگر کو معقول تنخواہیں بھی مل سکیں ۔گویا حکومت پاکستان کی ہرممکن کوشش ہونی چاہیئے کہ مقامی لوگوں کا کسی بھی طرح معاشی استحصال نہ ہو ۔پاکستان کی حدود سے چین گزرے یا روس یا کسی اور ملک ۔سب سے بین الاقوامی قوانین کے مطابق ٹول ٹیکس اور دیگر ڈیوٹیاں وصول کی جائیں۔چین ہمیں امداد نہیں قرض دے رہاہے تو اس قرض کواداکرنے کے لیے معقول ٹیکسوں کی وصولی کرنا ہمارا حق ہے ۔چین کی دوستی پر بلاشبہ ہمیں ناز ہے لیکن غلامی پر نہیں ۔ غلامی قبول کرنے سے پہلے چین میں بسنے والے مسلمانوں کی حالت زار ضرور دیکھ لینی چاہیئے۔ چین ہمارا احترام اس لیے کرتا ہے کہ ہم آزادہیں اس کے اور ہمارے مفادات ایک جیسے ہیں ۔ قدرت نے ہمیں ایک دوسرے کا روایتی حلیف بنایا ہے ۔سی پیک سے متعلقہ تمام معاہدے کرتے ہوئے اپنی خود مختاری اور قومی و عوامی مفادکو ہر صورت ملحوظ رکھاجائے ۔یہی وقت کی عین ضرورت ہے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 575 Articles with 292204 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Jun, 2017 Views: 496

Comments

آپ کی رائے