شیخ یوسف القرضاوی کے افکار و نظریات

(عبدالصبور شاکر, Toba Tek Singh)
گزشتہ دنوں سعودی حکومت سمیت چار ممالک نے مصری نژاد قطری عالم دین ’’شیخ ڈاکٹر یوسف القرضاوی‘‘ کو دہشت گرد قرار دے کر ان کی تمام کتب پر پابندی بھی عائد کر دی ہے۔ زیر نظر مضمون میں شیخ کے ان افکار و نطریات کا جائزہ لیا گیا ہے جن کی بناپر ان پر پابندی لگائی گئی ہے۔

9جون 2017کو سعودی عرب سمیت چار ممالک نے بزرگ مصری عالم جناب شیخ یوسف القرضاوی سمیت 59افراد اور 12اداروں کو دہشت گردی کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔نیز شیخ القرضاوی کی تمام کتب پر بھی پابندی لگا دی ہے۔

شیخ یوسف القرضاوی ایک معروف اسلامی سکالر، عالم دین ، فقیہ اور مفکر ہیں۔ آپ 9ستمبر1926ء کومصر میں پیدا ہوئے۔ جامعہ ازہر قاہرہ سے علوم اسلامی میں مہارت حاصل کی اور مصر کی وزارت مذہبی امور سے منسلک ہو گئے۔ بعد ازاں قطر اور الجزائر کی یونیورسٹیوں میں تدریس کے فرائض بھی سرانجام دیے۔ شیخ القرضاوی ، کئی اداروں سے منسلک ہیں۔ مثلا یورپین کونسل برائے فتاوی اینڈ ریسرچ کے سربراہ، انٹرنیشنل علماء یونین کونسل کے چیرمین، مجمع الفقہ الاسلامی، رابطہ عالمی اسلامی، جامعہ ازہراور اسلام آن لائن کے رکن ہیں۔ نیز آپ الجزیرہ ٹی وی سے بھی منسلک ہیں جہاں آپ کا پروگرام ’’الشریعۃ والحیاۃ‘‘ بہت مقبول ہے جسے تقریبا 60ملین سے زائد لوگ دیکھتے ہیں۔ اسلامی خدمات کی وجہ سے آپ کو کئی ایوارڈ ز سے نوازا جا چکا ہے۔ جن میں سعودی عرب کا ’’شاہ فیصل ایوارڈ‘‘، ’’دبئی انٹرنیشنل ہولی قرآن ایوارڈ‘‘اور ’’سلطان حسن البلقیا ایوارڈ شامل ہیں۔

شیخ القرضاوی فکری طور پر اخوان المسلمین کے بانی ،حسن البناء سے متاثر ہیں۔ جن کا اظہار آپ کی 50سے زائد کتب سے ہوتا ہے۔ ان میں مشہورِ عالم ’’اسلام میں حلت و حرمت‘‘، ’’اسلام، مستقبل کی تہذیب‘‘، ’’اسلامی تحریکوں کی ترجیحات‘‘ اور ’’اسلام میں عورت کا مقام ومرتبہ‘‘ ہیں۔ اپنے افکار و نظریات کی وجہ سے کئی مرتبہ آپ کا جیل جانا ہوا۔ آخر 1961ء میں آپ نے قطر کو اپنا مسکن بنا لیا۔ اسلامی دنیا میں آپ کی پہچان ایک معتدل مگر قدامت پسند کی ہے۔ لیکن مغربی ممالک ، اسرائیل اور امریکیوں کے ہاں آپ سخت گیر اسلام پسند ، عالمی انسانی حقوق اور جمہوریت کے مخالف ہیں۔ اس کی وجہ وہ فتوی ہے جس میں آپ نے اسرائیلی فوج پر خود کش حملوں کو جائز قرار دیا ہے۔ آپ نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ’’ اسرائیلی قابض اور غاصب ہیں۔‘‘ لیکن اس کی مزید تشریح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’یہ خود کش حملے اس وقت جائز ہوں گے جب اپنے دفاع کا کوئی راستہ نہ بچے۔ نیز ان حملوں کا جواز صرف اسرائیلی اہداف کے خلاف ہے، دیگر مقامات پر نہیں ہے۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ جب 2000ء میں قطر میں ایک برطانوی شہری جان ایڈمز مارا گیا تو آپ نے اس کی شدید مخالفت کی۔

اسرائیل کے بارے آپ کا موقف اتنا سخت ہے کہ آپ نے 2004ء کو اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فتوی جاری کیا۔ آپ نے اس بائیکاٹ کی دلیل یہ دی کہ اسرائیل ان مصنوعات کے زرمبادلہ سے معصوم فلسطینی بچوں کے جسم چھلنی کرنے کے لیے گولیاں اور دیگر اسلحہ خریدتا ہے۔ اسرائیلیوں کی مصنوعات خریدنا، دشمن کی وحشت و جارحیت میں ان کی مدد کرنا ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم دشمن کو کمزور کریں۔ اگر ان مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے سے وہ کمزور ہوتے ہیں تو ہمیں ایسا کرنا چاہیے۔‘‘ 2006ء میں حزب اللہ، اسرائیل جنگ میں آپ نے حزب اللہ کی حمایت کرنے پر زور دیا۔ کیونکہ وہ ’’شیعہ مسلک‘‘ سے وابستہ ہونے کے باوجود چونکہ یہود کے خلاف برسرپیکار ہیں لہذا ان کی مدد کرنا ضروری ہے۔ نیز امریکہ کے بارے میں کہا کہ ’’وہ دوسرا اسرائیل بن چکا ہے۔ امریکہ اسرائیل کو، فلسطینیوں سے نمٹنے کے لیے رقم اور اسلحہ سمیت سب کچھ فراہم کرتا ہے۔‘‘نیز عراق پر امریکی حملوں کے بارے میں کہا کہ ’’عراق میں جانے والے سارے امریکی ،حملہ آور تصور ہوں گے۔ ان کے درمیان فوجی یا سویلین کی کوئی قید نہیں ہے۔ اس لیے ان کے خلاف جہاد فرض ہے۔ تاکہ وہ عراق سے انخلاء پر مجبور ہو جائیں۔‘‘تاہم نائن الیون والے واقعہ کے بعد آپ نے تمام مسلمانوں سے زخمیوں کی مدد کرنے اور انہیں ہر طرح کی اخلاقی و جانی مدد کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھاکہ ’’اسلام صبر و تحمل والا دین ہے۔ وہ انسانی جانوں کی حفاظت پر زور دیتا ہے۔ معصوم انسانوں پر حملے گناہ عظیم ہیں۔‘‘

2006ء میں جب ڈنمارک کے کچھ لوگوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرتے ہوئے ’’خاکے‘‘ بنانے کا اعلان کیا تو آپ نے شدید غم وغصہ کا اظہار کیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ کا کہنا تھا کہ ’’ان خاکوں کے جواب میں تشدد کرنا جائز نہیں ہے۔‘‘آپ شام پر روسی حملوں کے بھی شدید مخالف ہیں۔ اور روس کے اس اقدام کو دہشت گردی سمجھتے ہیں۔

شیخ القرضاوی کا یہ بھی کہنا ہے کہ تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ گرین وچ کے وقت کو معیاری ماننے کے بجائے مکہ مکرمہ کے وقت کو مدنظررکھیں۔‘‘ آپ کے ہاں تصویر کشی جائز ہے اوراسلامی جمہوریت بھی درست ہے۔ جبکہ آپ مشرق وسطی میں سیاسی اصلاحات کے قائل ہیں۔

اپنے اوپر دہشت گردی کا لیبل چسپاں ہو جانے کے بعد شیخ القرضاوی نے درج ذیل بیان جاری کیا۔ ’’بحمداللہ میں قطر میں ہوں اور پہلے سی بلند ہمتی ، عزم و استقلال اور سازشوں سے ماورا، جی رہا ہوں۔ کوئی شخص مجھ پر منافقت کا داغ نہیں لگا سکا۔ اگر میں منافقت کرتا ، سلاطین کا دم چھلا بنتا اور کاسہ لیسی میرا وتیرہ ہوتا تو عیش و عشرت کے ساتھ طبعی موت تک جیتا۔ اور تھوڑی بہت کوشش کے بعد وہ بڑے بڑے مناصب پاتا جن کی مجھے بارہا پیش کش کی جا چکی ہے۔ لیکن میں نے فیصلہ کیا ہے کہ مجھے اپنے دین اور اصل بنیاد کی پیروی کرنی ہے اور اپنے ٹھوس موقف پر جینا ہے۔ اگر ممکن ہے تو میرے ہاتھ میں ہتھکڑیاں ڈال دو اور میری آواز روکنے کے سارے حربے آزما لو۔ میری گردن پر چھری رکھ دو۔ میرے ایمان و استقلال میں ذرا فرق نہ دیکھو گے۔ سچائی کی روشنی میرے دل میں ہے۔ اور میرا دل میرے رب کے قبضہ میں ہے۔ اور میرا رب ہی مجھے استقلال بخشنے والا ہے۔ ‘‘

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عبدالصبور شاکر

Read More Articles by عبدالصبور شاکر: 52 Articles with 40591 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Jun, 2017 Views: 576

Comments

آپ کی رائے