صحافی جینے کا حق مانگ رہے ہیں

(Hafeez Usmani, )

ہری پور لورہ چوک میں خون سے لت پت پڑی صحافی بخشیش الہی کی لاش صرف ایک صحافی کی لاش نہیں بلکہ امن و امان کے بلند و بالا دعوؤں ، صحافیوں کو تحفظ دینے کی حکومتی یقین دہانیوں اور کئی حصوں میں بٹی مفادات کے کیچڑ میں لتھڑی صحافتی تنظیموں کی لاش ہے ۔

لمحوں میں گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے بے جان ہوجانے والے بخشیش الہی کے چہرے پر ان گنت سوال زندہ ہیں ۔ کیا بااثر طبقات کی نت نئی دھمکیاں ، مالکان کی جھڑکیاں دن رات اپنے فرض کوترجیح دینے پر اہل خانہ اور عزیز و اقارب کی ناراضگیاں ہی اہل صحافت کا مقدر ہیں ؟

وطن عزیز کی نظریاتی سرحدوں کے ان محافظوں کی اپنی زندگی کس قدر تلخ اور کربناک ہوتی ہے اس کا اندازہ شاید ہی کوئی کرپائے ۔ صحافتی عقوبت خانوں میں کولہو کے بیل بنے یہ مجاہد زندگی گزارتے نہیں جھیلتے ہیں ۔ موسموں کے ردوبدل سے بے پرواہ دن رات تازہ ترین اور مصدقہ اطلاعات عوام تک پہنچانے والے بہ ظاہر ہنستے مسکراتے یہ چہرے روز جیتے اور روز مرتے ہیں ۔ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کیلئے کروڑوں روپے کے انعامات بانٹنے والے اداروں کے اپنے ملازمین کی حالت کس قدر خستہ ہوتی ہے اور اکثریتی اداروں میں تو وہ کئی کئی ماہ تنخواہوں تک سے بھی محروم رہتے ہیں ۔

راست گوئی کا راستہ اپنانے والے اہل قلم کی زندگی کا ہر سانس ایک نئے عذاب کو دعوت دیتا ہے ۔خفیہ اداروں کی من مانیوں سیاسی دھونس دھاندلیوں اور ارباب اختیار کی دھمکیوں کو ہم روز بھگتتے ہیں اور صرف ہم ہی کیا ہم سے جڑے سبھی لوگ انتقام کی اس آگ کا ایندھن بنتے ہیں ۔ قلم کی حرمت کیلئے اپنا سب کچھ قربان کرنے والے ان قابل فخر لوگوں کو چند جی حضورئیے ، لفظی مالشیئے اور ابن الوقت قسم کے صحافی نما لوگ اس مہارت سے بیچ آتے ہیں کہ اُنہیں خبر تک نہیں ہوتی ۔

بخشیش الہی کی لاش مجھے ڈاکٹر عامر وکیل کی یاد دلارہی ہے جس کے قلم میں آگ مگر جیب میں خاک ہوتی تھی ۔ فاقوں کی زندگی گزارنے والا یہ صحافی بھی اہل ثروت کی آنکھوں میں چبھتا تھا ۔ ویسے بھی اس زمین پر اپنے آپ کو خدا سمجھنے والے یہ با اختیار لوگ پسینے سے شرابور بکھرے بالوں والے مفلو ک الحال صحافی کی اس اُنگلی پر بہت کڑھتے ہیں جو ان کے گریبانوں کی طرف اُٹھتی ہے عامر وکیل کے سوال بھی نشتر کی طرح بڑے لوگوں کو کاٹتے تھے آخر کار ایک اندھی گولی اس کڑواہٹ بھری دبنگ آواز کو چاٹ گئی ۔

آج مجھے ہنگو کا وہ مصری خان بھی پھر یاد آیا جو میرے اخبار کا رپورٹر تھا ۔ زندگی سے بھرپور ہروقت ہنستا مسکراتا یہ چہرہ بھی قلم سے خوف زدہ دہشت گردوں کی گولیوں نے بھون ڈالا آہوں اورسسکیوں میں جب ہم مصری خان کو سپرد خاک کرچکے تو اس کے نوجوان بیٹے عمر فاروق کے کندھے پر ہاتھ رکھے وہ الفاظ ڈھونڈھ رہاتھا جو غم سے چور بیٹے کیلئے دلاسہ بن سکیں۔مگر اس روز تو لفظ ہچکی بن گئے تھے ایسے میں کسی سیاست دان نے اسے کہا کہ کوئی بھی ضرورت ہو ہم حاضر ہیں ۔ لفظ کی حرمت پر قربان ہونے والے مصری خان کے بیٹے نے جو جواباًکہا اس کی بازگشت آج بھی میرا پیچھا کرتی ہے ہمیں کچھ نہیں چاہیے صرف زندہ رہنے کا حق چاہیے ۔

آنکھوں کی سکرین پر کئی مسکراتے چہرے متحرک ہیں جن کیلئے لفظ تھے، استعمال کرتے ہوئے بھی کلیجہ حلق کو آتا ہے ۔ہم اس ملک میں جی رہے ہیں ، سوال کررہے ہیں جو دنیا میں آزادی صحافت کے لحاظ سے بدترین ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے جس دیس میں ایک سوپندرہ سے زائد صحافیوں کے خون سے ہولی کھیلی جاچکی ہے ۔ جہاں ہرروز کسی نہ کسی صحافی کو بری طرح زدوکوب کیا جاتا ہے جہاں پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے والے ہر صحافی کے سر پر خوف کے سائے منڈلاتے رہتے ہیں ۔ جہاں قانون کسی بھی صحافی کی دادرسی کیلئے تیار نہیں ہے جہاں حکومتیں اس بھیانک صورت حال اور بدترین حالات کے باوجود صحافیوں کے حقوق اور تحفظ کے بجائے آئے روز ان پر نت نئی قدغنیں لگانے کی قانون سازی میں جتی رہتی ہیں ۔ ابھی چندر وز قبل ہی ہمارے صحافی دوست اعزاز سید کو چک شہزاد سے اغواء کرنے کی کوشش کی گئی بہ مشکل مقدمہ کا انداراج ہوا ………… کون لوگ تھے ؟ سبھی جانتے ہیں مگر قانون خاموش ہے ۔ جہاں عمر چیمہ پر لائیو پروگرام میں تحریک انصاف کا ترجمان گولہ باری کرتا ہے اور وزیر اعظم کی بیٹی اسے ملک کیخلاف سازش کا مرتکب قراردیتی ہے ……وہاں کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں ۔

محترمہ مریم اورنگزیب صاحبہ
ہری پور جی ٹی روڈ پر پنیاں چوک کے قریب صحافی بخشیش الہی کی لاش سٹرک پر رکھے احتجاج کرتے ہوئے ۔ان صحافیوں کو آپ کی خدمت میں آداب بجالانے اور نوازشات سمیٹنے والے بے ضمیروں سے کوئی سروکار نہیں ان کو تو یہ اعتراض بھی نہیں کہ آپ نے وزارت کا قلمدان سنبھالتے ہی فنڈز کا کس بے دردی سے استعمال کیا ہے یہ تو آپ سے سات سات لاکھ روپے میں خریدے گئے صوفوں کا بھی نہیں پوچھ رہے …………یہ تو صرف جینے کا حق مانگ رہے ہیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hafeez Usmani

Read More Articles by Hafeez Usmani: 56 Articles with 23121 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Jun, 2017 Views: 518

Comments

آپ کی رائے