باپ کے بغیر دنیا میں اندھیرا چھاجاتا ہے

(Aslam Lodhi, Lahore)

ضلع چکوال کے تما م سکولوں میں ٹاپ کرنے والے انتہائی ذہین طالب علم ظاہر محمود کی ایک تصویر فادر ڈے کے حوالے سے فیس بک پر نظرآئی ۔ جس میں وہ اپنے والد کی آغوش میں سر رکھ کر بیٹھاہوا تھا ۔اس تصویر کو دیکھ کرمیری آنکھوں میں بے ساختہ آنسو بھر آئے ۔ یہ آنسو اس محبت کا اظہار تھے جو میں ٗ اپنے مرحوم والد کو کرتا ہوں ۔ حسن اتفاق سے آج مورخہ 18 جون 2017ء کادن ہے۔ جب پوری دنیا میں فادر ڈے پورے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے ۔ بے شک اسلامی معاشرے میں اس دن کی کوئی اہمیت نہیں لیکن زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضوں نے والد جیسے مقدس رشتے کو اس قدر بے وقعت اور بے توقیر کردیا ہے کہ اگرسال میں ایک ہی دن عزت اور احترام مل جائے ٗتواسے بھی غنیمت سمجھنا چاہیئے ۔ بیٹا چاہے دنیا کا عظم ترین انسان بن جائے وہ باپ کے پاؤں کے نیچے دبی ہوئی مٹی کے برابر بھی نہیں ہوسکتا ۔ وہ اس لیے باپ ہی وہ عظیم ہستی ہے جو بیٹے کو دنیا میں اعتماد سے زندہ رہنے اور زمین پر پاؤں رکھ کر چلنا سیکھاتا ہے ۔بچپن میں باپ کے ہاتھ کی انگلی بچے کے لیے مضبوط سہارا بنتی ہے ۔اگر باپ کی انگلی سہارا نہ دے تو بچے کا ڈگمگاتا ہوا بدن کسی بھی وقت زمین بوس ہوسکتا ہے ۔

والد سے میری محبت کو دنیا کے کسی بھی پیمانے پر نہیں ماپا جاسکتا ۔ میں جس سکول میں پڑھتا تھا۔ وہاں ہمیں درخت کے نیچے ٹاٹ پر بیٹھ کر پڑھنا پڑتا ۔ جیسے جیسے سورج اپنا رخ بدلتا اسی طرح زمین پر بچھے ہوئے ٹاٹ بھی حرکت کرتے ۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ میں وہ منفرد بچہ ہوں جسے والد کے سامنے پڑھا ہوا سبق یاد رہتا لیکن جیسے ہی والدنظروں سے اوجھل ہوئے تو سب کچھ بھول جاتا ۔امتحان کاجب مرحلہ آتا تو والد صاحب اپنی مصروفیات بالائے طاق رکھ کر سکول کی کچی دیوار کے اس پار کھڑے ہوجاتے ۔ ماسٹر صاحب مجھ سے زبانی سکول پوچھتے ٗ میں پہلے والد کا چہرہ دیکھتا پھر سوال کا جواب دے دیتا ۔ اس طرح میں کچی پکی پہلی اور دوسری جماعت کاامتحان پاس کرتا چلا گیا ۔جب تیسری جماعت کے امتحان کا دن آیا تو والد مصروفیت کی وجہ سے سکول کی دیوار کے اس پار کھڑے نہ ہوسکے ۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ نتیجے کے دن میں فیل ہوگیا ۔ جب یہ خبر لے کر میں گھر پہنچاتو والد صاحب نے پہلے مجھے ایک تھپڑ رسیدکیا پھر کہا میرا بیٹا کبھی فیل نہیں ہوسکتا ۔ میرا ہاتھ پکڑا اور ہیڈماسٹر صاحب کے پاس لے آئے اور ان سے مخاطب ہوکر کہا ۔ماسٹر عبدالعزیز نے میرے بیٹے کو کیسے فیل کردیا ہے اسے سب کچھ تو آتا ہے ۔ہیڈ ماسٹر صاحب نے ماسٹر عبدالعزیز صاحب کو بلوایا اور میرے بارے میں سوال کیا ۔ ماسٹر عبدالعزیز صاحب بولے جناب میں نے سالانہ امتحان کے دن جتنے بھی اس بچے سے سوال کیے اس نے کسی ایک کا بھی جواب نہیں دیا ۔ میں اسے کیسے پاس کرسکتا ہوں ۔یہ سن کر والد صاحب بولے آپ میرے سامنے سوال کریں اگر اسے کچھ نہ آیا تو میں معذرت کرکے واپس چلا جاؤں گا ۔ ہیڈماسٹرکے حکم پر ماسٹر عبدالعزیز نے مجھ سے سوال کرنے شروع کردیئے ۔ میں سوال سن کر والد کے چہرے کو دیکھتا اور ٹھیک ٹھیک جواب دے دیتا ۔ تمام کے تمام سوال میرے ٹھیک نکلے ۔ ہیڈ ماسٹر ابراہیم اورماسٹر عبدالعزیزنے اپنے دونوں سے سر پکڑلیا اور کہا یہ بچہ اپنے والدکو اتنا پیار کرتا ہے کہ والد کو دیکھ کر اسے بھولا ہوا سبق بھی یاد آجاتاہے یہ بچہ والد کے بغیر کیسے زندگی گزارے گا ۔

مجھے وہ دن کبھی نہیں بھولتے جب میں اپنے والد کی انگلی تھام کر ان کے ساتھ بازار جایا کرتا تھا ۔ وہ اپنی محبت اور شفقت کا اظہار کرنے کے لیے مجھے چار آنے کی برفی لے کر دیا کرتے ۔اس کے باوجود کہ آج میں جتنی چاہوں برفی خرید کر کھا لوں لیکن والدکی دی ہوئی برفی کا ذائقہ بہت منفرد تھا۔ میں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل ہوں جنہوں نے اپنی زندگی کاایک ایک لمحہ اپنے والد سے والہانہ پیار میں گزارا ہے ۔ اوائل عمری میں زندگی کی شاید ہی کوئی ایسی رات گزری ہوگی جب میں والد کے بغیر تنہا چارپائی پر سویا ہوں گا ۔ مجھے نیند ہی اس وقت آتی تھی جب میں والد پر اپنی ٹانگ رکھ کر لیٹتا تھا ۔ والد بھی میری جذباتی وابستگی کو محسوس کرتے تھے۔ اس لیے وہ جہاں بھی جاتے مجھے اپنے ساتھ ہی رکھتے ۔ اس کے باوجود کہ وہ ریلوے میں کلاس چہارم کے ملازم تھے اور تنخواہ بھی ان کو صرف 80 روپے ملتی۔ لیکن بیٹے کی حیثیت سے میرے لیے وہ ساری دنیا سے امیر ترین اور طاقتور انسان تھے ۔ میری دنیا انہی سے شروع ہوکر انہی پر ختم ہوتی۔ میرے لیے وہ دنیا کا آخر ی کنارہ تھے۔ وہ ایک بار میڈیکل چیک اپ کے لیے لاہور چلے آئے اور ہم واں رادھا رام میں ہی قیام پذیر تھے ۔ میں نے دو دن والدہ کے بار بار اصرارکے باوجود نہ کچھ کھایا اورنہ ہی پیا ۔ دو راتیں نہ خودسویا اور نہ ہی کسی اور کو سونے دیا۔ میری اس جذباتی کیفیت سے والدہ بخوبی آگاہ تھیں ۔مجھے پرسکون کرنے کے لیے ان کی تمام تر کوششیں دم توڑ گئیں ۔جب بھی لاہور سے ساہی وال جانے والی کوئی ٹرین پلیٹ فارم پر رکتی تو میں بھاگ کے اسٹیشن پر اس خیال سے پہنچ جاتا کہ شاید والد اس ٹرین سے واپس آئے ہوں ۔ کتنی ہی ٹرینیں گزر گئیں لیکن والد نہ آئے ۔ یاد رہے کہ ریلوے کے ملازمین کو سال میں ایک مرتبہ میڈیکل چیک اپ اور آنکھوں کی ڈاکٹر ی کے لیے لاہور آنا پڑتا ہے ۔ ڈاکٹر دور اور نزدیک کی نظر کا معائنے کرنے کے بعد ہی ملازمین کو فٹ قرار دیتاہے ۔ اس وقت ڈاکٹر جسے میں دنیا کا ظالم ترین ڈاکٹر کہتا تھا اور میرے دل سے نہ جانے کتنی بددعائیں اس کے لیے نکلی ہوں گی ۔ جس نے والد کو دو دن لاہور روکے رکھا۔ مجھے اس وقت قرار آیا جب میں نے ٹرین سے اپنے والد کو اترتے ہوئے دیکھ لیا۔ ان کے ہاتھ میں رسوں کا بڑا سا لفافہ تھا جو وہ اپنی کم ترین تنخواہ میں سے کچھ پیسے بچا کر میرے لیے لائے تھے ۔وہ رس بھی مجھے آج تک نہیں بھولتے ۔

اپنے پسندکی پتلون خریدنے کے لیے میں والد سے روزانہ فرمائش کیا کرتا تھا ۔کئی مہینوں کی بچت کے بعد ان کے پاس پانچ روپے جمع ہوئے تو وہ مجھے اپنے ساتھ لے کر لاہور آگئے ۔ جونہی ہماری ٹرین والٹن ٹریننگ سکول پہنچی تو زندگی میں پہلی بار والٹن فلائنگ کلب کے جہاز کو ہوا میں اڑتا ہوا دیکھا۔ تو دل ہچکولے کھانے لگا ۔ اے اﷲ یہ جہاز اڑتا کیسے ہے اور کس طرح یہ ہوا میں الٹ بازیاں لگا رہا ہے۔ کیا اس میں بیٹھے ہوئے پائلٹ کو ڈر نہیں لگتا ۔ چلتی ہوئی ٹرین کے اوپر سے گزرتے ہوئے جہاز کو حسرت بھری نگاہ سے دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا ۔ مضافات لاہورسے میرا پہلا تعارف تھا۔ جونہی گاڑی لاہور اسٹیشن پر رکی تو مسافروں کا ایک ہجوم ہر طرف سرگرداں نظر آیا کوئی ٹرین پر سوار ہونے کے لیے بھاگ رہا تھا توکوئی اترنے کی جستجو میں مصروف تھا ۔ میں اپنے والد کی انگلی تھامے زندگی میں پہلی بار پہلا سرزمین لاہور پر قدم رکھا رہا تھا ۔ یہ غالبا 1962ء کا زمانہ تھا ۔ اپنے سکول کے ساتھیوں سے لاہور کا ذکر بہت سن رکھا تھا ۔ جب بھی بچے آپس میں لاہورکی باتیں کرتے تو میں بہت توجہ سے سنتا اور تصورات کی دنیا میں کھو جاتاکہ کبھی میں بھی لاہور جاؤں گا اور اپنی آنکھوں سے لاہور کو دیکھوں گا ۔ان دنوں یہ مصرعہ بہت مشہور تھا "جنے لاہور نیئں ویکھا او ہ جما ای نیئں"۔ لاہور جانے کے لیے تو بڑے بڑوں کا پتہ ٗپانی ہوجاتاہے میرے جیسا غریب بچہ جس کی جیب ہمیشہ پیسوں سے خالی ہوتی کیسے لاہور جاسکے گا۔ انہی دنوں ایک گورکن کا بیٹا باغ علی پڑھنے کے لیے لاہور آیا ہوا تھا وہ جب کبھی واپس واں رادھا رام پہنچتا تو ہم جیسے بے شمار بچے اور بڑے اس کے گرد جمع ہوجاتے اورلاہور کی باتیں سن کر محظوظ ہوتے ۔باغ علی بھی بہت چسکے لے لے کر لاہور کے قصیدے پڑھاتا ۔ اتنی بڑی بڑی سڑکیں ہیں وہاں ۔ جس پر ڈبل ڈیکر بسیں بھی چلتی ہیں ۔ لاہور کی ٹھنڈی سڑک ( مال روڈ ) کا ذکر تو خوداسے بھی بہت پسند تھا ۔ جب وہ یہ باتیں کررہا ہوتا تو دل اپنی جگہ سے اچھل کود کررہا ہوتا ۔لاہور جانے کی خواہش مزید پروان چڑھنے لگتی ۔

بہرکیف والد صاحب کے ساتھ میں ریلوے اسٹیشن کی بہت بڑی عمارت سے جب باہر نکلا تو والد مجھے اپنے ساتھ لے کر نولکھا بازار جا پہنچے ۔ میں باپ کی انگلی تھامے کبھی بائیں دیکھتا تو کبھی دائیں ہر طرف رنگ برنگے کوٹ اور پتلونیں لٹکی دکھائی دیتیں ۔ جبکہ پرانے جوتوں کو مرمت اور پالش کرکے فٹ پاتھ جگہ جگہ رکھے دکھائی دیئے ۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ ہر کوٹ اور پتلون ہی مجھے اچھی لگتی ۔ دل چاہتا تھاکہ دکانوں پر لٹکی ہوئی ساری پتلونیں خرید لوں۔ لیکن کیا کروں مشکل یہ تھی کہ ابا جان کی جیب میں صرف پانچ روپے تھے ۔ گاڑی پربھی ہم نے فری پاس کے ذریعے سفر کیا تھا ۔ ابا جان جس دکان میں جائیں ٗ میں خوش ہوجاتا کہ ضرور اسی دکان سے میرے لیے پتلون خرید لیں گے لیکن مجھے اس وقت دکھ ہوتا جب اباجی یہ کہہ کر وہاں سے نکل پڑتے کہ نہیں بھئی آپ کا ریٹ بہت زیادہ ہے۔ ہم اس پتلون کے تین روپے دیں گے ۔ دکاندار سات آٹھ روپے کا تقاضا کرتے ۔والد کے ساتھ پیدل ہی چلتے ہوئے میں تھک گیا۔بیٹھنے کی کوئی جگہ نہیں تھی ۔نولکھا ختم ہواتو لنڈا بازار شروع ہوگیا۔یہاں بھی وہی کہانی دہرائی جارہی تھی ۔ میں پتلون پسند کرلیتا لیکن اباجی کو ریٹ زیادہ لگتا اور وہ میرا ہاتھ پکڑ کر دکان سے باہر آجاتے۔ کوئی بھی تین روپے میں پتلون دینے کو تیار نہ ہوا ۔ جب والد صاحب ناکام واپس لوٹنے لگے تو میں زار و قطار رونے لگا ٗ میرے رونے کا اثر والد پر کچھ اس طرح ہوا کہ انہوں نے فروزی رنگ کی ایک پتلون پانچ روپے میں ہی خرید لی اور مجھے کہنے لگے اب تو تم خوش ہو جاؤ ۔ میری جیب خالی ہوگئی ہے۔ میں تو خوشی سے اچھلنے لگا۔ جیسے پتلون نہیں دنیا کی دولت مجھے مل گئی ہے ۔ لاہور دیکھنے کا یہ میرا پہلا اتفاق تھا ۔جو نولکھا سے شروع ہوکر لنڈا بازار تک ختم ہوگیا۔

گلہ خشک ہوا جارہا تھا ۔ ڈرتے ڈرتے ابا جان سے کہا مجھے پیاس لگی ہے تو ابا جان نے ڈانٹ کے انداز میں کہا جتنے پیسے جیب میں تھے اس کی تمہیں پتلون لے دی ہے۔ اب میں تم کو شربت کہاں سے پلاؤں ۔ چلتے چلتے ہمیں کمیٹی کا ایک نلکا دکھائی دیاجس خود بخود پانی نکل رہا تھا ۔ ابا جان نے کہا یہاں سے پانی پی لو اور اپنی پیاس بجھا لو ۔ اب تو ہمارے پاس روٹی کھانے کے بھی پیسے نہیں تھے ۔ گھر واپس جائیں گے تو روٹی بھی گھر ہی جاکر کھائیں گے ۔ پانی پی کر رب کا شکر ادا کیااور میں نے محسوس کیا کہ لاہور کا پانی واں رادھا رام کے پانی سے بہت میٹھا اور خوش ذائقہ تھا۔

واں رادھا رام میں پینے اورنہانے کا پانی ٗ کنووں سے حاصل کیا جاتا تھا ٗجس پر اکثر سبز رنگ کی کائی جمی رہتی تھی۔ اس لیے کنویں کے پانی کا ذائقہ لاہور کے پانی سے بہت مختلف تھا۔ دو کنویں ہمارے گھر سے کچھ فاصلے پر موجود تھے ۔ جب والد صاحب کو ہفتہ وار چھٹی ہوتی تو وہ ایک بار ہی ( گرمیوں میں ) ہم سب بھائیوں کو کنویں پر لے جاتے۔ کنویں سے پانی نکال نکال کرہمیں نہلاکر گھر بھیجتے رہتے ۔ کسی نے نکر پہنی ہوتی تو کوئی نکر کے بغیر ہی کنویں سے نہا کر گھرتک پہنچتا ۔جہاں ماں تکیے کے نیچے رکھے ہوئے استری شدہ کپڑے نکل کر ہمیں پہناتی۔ اس زمانے میں لکیروں والے پاجامے اور سفیدکرتے بہت معروف تھے ۔ یہ لباس بھی ہمیں عید اور تہوار پر ہی نصیب ہوتا اور سارا سال انہی کپڑوں کو دھو کر پہن لیا جاتا ۔ ویسے میں نکر کے ساتھ ہی سارا دن گزار لیا کرتا تھا ۔ کون دیکھتا ہے مجھ کو اور کس سے حیا کرنی ہے ۔ اس زمانے میں سب ایک ہی جیسے لباس میں پھرا کرتے تھے ۔

جب دونوں بڑے بھائی چھٹی اور ساتویں جماعت میں پہنچ گئے تو انہیں حصول تعلیم کے لیے ٹرین پر سوار ہوکر پتوکی اور رینالہ خورد جانا پڑتا ۔ سارا سارا دن اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر ٹرین کے انتظار میں ہی گزر جاتا۔ بسیں اس زمانے چلتی ضرور تھیں لیکن بہت کم ۔جی ٹی روڈ بھی نہ ہونے کے برابر تھی جس کی چوڑائی بمشکل دس فٹ ہوا کرتی تھی ۔ کراس کرنے کے لیے دونوں میں سے ایک بس کو سڑک سے نیچے اترنا پڑتا ۔ بھائیوں کے سکول جانے سے واپس آنے تک والدہ اور والد کو فکر لاحق رہتی ۔ چنانچہ والد صاحب نے اپنی ٹرانسفر لاہور کروانے کا ارادہ کرلیا ۔ اس ارادے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے وہ ڈی ایس آفس لاہور پہنچے اور ایک کلرک بادشاہ کو سو روپے رشوت دے کر اپنا تبادلہ واں رادھارام سے لاہور کینٹ کروالیا ۔ یہ کارنامہ انجام دے کر جب والد صاحب گھر پہنچے تو گھر میں ایک جشن کا سماں تھا ۔ہم سب بہن بھائی بہت خوش تھے کہ اب لاہور دیکھنے کا خوب مزا آئے گا۔ ارد گرد کے رہنے والے بھی مبارکیں دینے لگے ۔ کچھ لوگ نصیحتیں بھی کررہے تھے ۔ لاہور بہت بڑا شہر ہے وہاں جاکر لوگ گم ہوجاتے ہیں ۔ گھر سے دور نہیں جانا اور سڑک بہت دھیان سے عبور کرنا کیونکہ وہاں بہت تیز گاڑیاں چلتی ہیں ۔ میں جب گورنمنٹ پرائمری سکول سے آخری نکلنے لگا تو سب بچے میرے جانے پر اداس تھے۔ کئی کی سنا ہے جو لاہور جاتا ہے وہ وہیں کا ہوکر رہ جاتا ہے ۔ وہاں سے کوئی واپس نہیں آتا ۔ وہ بہت خوبصورت اور بڑا شہر ہے وہاں زندگی یہاں سے بہت مختلف ہے ۔ اپنا بہت خیال رکھنا ۔ وہاں کے سکول بھی بہت اچھے ہوں گے جہاں کلاسوں میں بیٹھنے کے لیے کلاسوں میں لکڑی کے بینچ بھی ہوں گے ۔پڑھ لکھ کر بہت بڑا افسر بننا ہے تم نہیں ۔ جب تم پڑھ لکھ کر بڑا افسر بن کے کبھی واں رادھا رام آؤگے تو ہم تمہارا والہانہ استقبال کریں گے ۔ یہ جذبات اور احساسات اس وقت میری سکول فیلوز کے تھے ۔ 1964ء میں لاہور آنے سے پہلے میں چوتھی جماعت پاس کرچکا تھا ۔ سکول کے ہیڈ ماسٹر ابراہیم صاحب اور میرے کلاس ماسٹر عبدالعزیز صاحب نے میرے بارے میں والد صاحب کو کئی نصیحتیں کیںٗ یہ بچہ آپ سے بہت محبت کرتا ہے اسکا خاص خیال رکھنا ۔ یہ بچہ عام بچوں کی نسبت بہت مختلف ہے ۔

والد جب لاہورکینٹ ڈیوٹی جائن کرنے کے لیے روانہ ہونے لگے تو پورا شہر ٗ اسٹیشن پر آمڈآیا ۔والد کو شہر کے لوگ استاد جی کے نام سے پکارتے تھے ۔والد صاحب چونکہ کرکٹ کے بہت اچھے کھلاڑی بھی تھے ٗ اس لیے پورے شہر کے لوگ انہیں والہانہ محبت کرتے تھے ۔نارتھ کیبن کے ساتھ ایک کھلا رڑا میدان تھا جہاں اکثر و بیشتر شہر کے لڑکے کرکٹ کھیلا کرتے تھے ۔ کیبن پر ڈیوٹی کے دوران والد صاحب بھی ان میں بھرپور شرکت کرتے ۔ یہی وجہ تھی کہ والد صاحب کے جانے پر پورا شہر اداس تھا۔ اسٹیشن پر ایک شایان شان پارٹی کااہتمام کیاگیا جس میں اسٹیشن ماسٹر سمیت واں رادھا رام کے سب سے بڑے زمیندار ملک عاشق کے علاوہ شہر کے لوگ شریک ہوئے ۔ سب کوخداحافظ کہہ کر جب والد ٹرین پر سوار ہوئے تو صرف میں ہی ( لاڈلا بیٹا ) ان کے ہمراہ تھا ۔ ٹرین نے جب رینگنا شروع کیا تو ٹریک پر پہلے سے بندھے ہوئے پٹاخے ایک دھماکے سے پھٹنے لگے ۔ تو ہر شخص کی زبان پر یہی الفاظ تھے کہ ایک شخص سارے شہر کو ویران کرگیا ۔ دلشاد خان لودھی آ ج واں رادھا رام چھوڑ کر لاہور جارہا ہے ۔ جب ہم لاہورکینٹ اسٹیشن پہنچے تو ریلوے ملازمین نے ہمارا والہانہ استقبال کیا ۔ پرانے وقتوں میں ریلوے میں یہ روایات بہت مستحکم تھیں ۔ چائے اور بسکٹ سے ہماری تواضع کی گئی۔

لاہور میں میری یہ دوسری آمد تھی ۔ یہاں والد صاحب کو بطور شنٹنگ پورٹر کام کرنا پڑا ۔ شنٹنگ پورٹر کا کام اس قدر خطرناک تھاکہ معمولی سے غلطی پر انسانی جسم کے دو ٹکڑے بھی ہوسکتے ۔ درحقیقت ریل ڈبوں کوایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا اور دوسری جگہ پہلے سے کھڑ ے ہوئے ڈبوں کے ساتھ جوڑنا ہی شنٹنگ پورٹر کے فرائض میں شامل تھا ۔ ریلوے انجن چلتا ہوا پہلے سے کھڑے ڈبوں سے ٹکراتا۔ شنٹنگ پورٹردومن وزنی کپلین اٹھا کر انجن کے ساتھ لگے ہوئے ہک میں ڈال دیتا ۔ تب ٹریک پر پہلے سے کھڑے ہوئے ڈبے انجن کے ساتھ منسلک ہوجاتے ۔جب والد صاحب شنٹ کررہے ہوتے تومیں کئی مرتبہ سکول سے واپسی پر پلیٹ فارم پر کھڑا ہوکر شنٹنگ کے اس خطرناک مرحلے کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا تو کانپ کے رہ جاتا ۔کہ میرے ہم سب کے لیے کس قدر جان لیوا ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں ۔ یہ اسی احساس کا کمال تھا کہ میں اپنے ہاتھوں سے اپنے والد کا ہر وہ کام کرتا جس سے انہیں سکون یا آسانی میسرآتی ۔

لاہور تو ہم کسی نہ کسی طرح پہنچ ہی گئے لیکن یہاں کے اخراجات والد کی تنخواہ میں پورے نہ ہوتے ۔ پھر یہ فیصلہ ہوا کہ یہاں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے محنت مزدوری بھی ساتھ ساتھ کی جائے ۔ لاہور کینٹ کے یارڈ میں چھانگامانگا اور چیچہ وطنی کے جنگل سے جولکڑیا ں کٹ کر لاہور کے ہوٹلوں اور گھر وں میں جلانے کے لیے ریل ڈبوں میں بھر کر لائی جاتی تھیں ٗکیوں نہ ان کو اتارنے کا کام کیاجائے ۔ ہم تینوں بھائی والد کے ساتھ مل کر صبح سے رات تک بمشکل لکڑیوں سے بھرا ہوا ایک ڈبہ ہی خالی کرپاتے ۔ تب کہیں جاکر ہمیں 3 روپے مزدوری ملتی ۔ یہ مزدوری ہی ہمارے تعلیمی اخراجات پوری کرنے میں مددگار بنتی ۔ آٹھ دس سال تک یہ سلسلہ جاری رہا پھر گوبر میں کوئلہ کی کیری ملاکر گولے بنانے کا رواج ہوا۔ تو ہماری ڈیوٹی جانور کا گوبر اور کوئلہ کے نیچے بچھی ہوئی کیری اٹھا کر لانے کی لگ گئی ۔ لوگ صبح سویرے نماز فجر کے لیے مسجدوں کی طرف جارہے ہوتے توہم سر پر تسلے رکھ کر اس مقام کی جانب دوڑ رہے ہوتے جہاں بیل گاڑی کھینچنے والے جانور بندھے ہوتے ۔ گوبر اور کیری کو باہم ملاکر گولے بنا نے کا کام والدہ کرتیں ۔یہ گولے بارہ آنے ٹین ہم قربان لائن اور ریلوے اسٹیشن کی کینٹین میں فروخت کر آتے ۔ جو وہاں لکڑیوں کی جگہ آگ جلانے کے کام آتے ۔ پیشاب میں رکاوٹ کا مرض تو بہت پہلے سے ہی والد صاحب کو لاحق تھا جس سے افاقے کے لیے والدہ رات کو اوس میں رکھی ہوئی مولیاں کوٹ کر ان کا پانی پینے کے لیے دیتی ۔ مولیوں کا یہ پانی اس قدر کڑوا اورکسیلا ہوتاکہ دیکھ کرہی الٹی آنے لگتی لیکن والد صاحب کو پیشاب میں آسانی پیداکرنے کے لیے یہ کڑوا پانی بھی پینا ہی پڑتا۔ پھر اچانک آنکھوں میں سفید موتیا بھی اتر آیا ۔گھٹنوں کے درد نے بھی پریشان کردیا۔

یہ آج سے تیس سال پہلے کی بات ہے جب آنکھوں کا آپریشن بھی انتہائی مشکل تصورکیا جاتا تھا ۔ سروسزہسپتال کے ڈاکٹر واصف محی الدین سے والد صاحب کا آپریشن کروایا اور تین چار راتیں ہسپتال کے ٹھنڈے فرش میں لیٹ کر میں نے گزاریں۔بچپن میں والد صاحب نے جس محبت اور ایثار کا مظاہرہ میرے ساتھ کیا تھا ۔یہ اسی احساس کا نتیجہ تھا کہ میں والد صاحب کے سکھ اور چین کے لیے اپنی جان بھی اور دولت سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ رکھتا تھا۔1988ء میں والد صاحب ریلوے سے یارڈ فورمین کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے اور 19 جنوری 1994ء کی صبح اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ آج جب انہیں ہم سے جسمانی طور پر جدا ہوئے 23 سال ہوچکے ہیں میں جب بھی سونے کے لیے آنکھیں بند کرتا ہوں تووہ میری زندگی میں واپس آ جاتے ہیں اور جب آنکھیں کھولتا ہوں تو میں اس دنیا میں پہنچ جاتاہوں۔والدہ اور والد بے شک اس دنیا میں تونہیں لیکن میری دنیا میں اب بھی پہلے کی طرح موجود ہیں۔ خواب میں کتنی مرتبہ ان کی انگلی تھام کر میں پھر زمین پر چلنے کی کوشش کرتا ہوں وہ اس لیے کہ وہ میرے عظیم والد تھے اور میں ان کا ایک حقیر سا بیٹا ہوں ۔ بیٹا جتنا بھی بڑا ہوجائے ماں اورباپ کے پاؤں کی خاک ہوتا ہے ۔ یہ انمول رشتے کبھی تبدیل نہیں ہوتے مجھے خوشی ہے کہ میرا شمار ہمیشہ فرماں بردار بیٹوں میں ہی رہا ہے اور زندگی کی آخری شام تک میرے والدین مجھ سے خوش رہے ۔ یہ اسی خوشی کااظہار ہے کہ وہ اب بھی روزنہیں تو ہر دوسرے تیسرے دن میرے خواب میں موجود ہوتے ہیں۔

بے شک گھر میں باپ کی موجودگی سورج کی مانند ہوتی ہے ۔ سورج گرم تو ضرور ہوتاہے مگر سورج گھر میں نہ ہو تو اندھیرا چھا جاتاہے ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ انسان اپنے باپ کے پسینے کا بھی قرض نہیں اتار سکتا ۔یادر ہے کہ باپ کی بددعا انتہائی سخت اور اتنی ہی جلد اﷲ کے ہاں مقبول بھی ہوتی ہے ۔ ماں کے پاؤں تلے اگر جنت ہے تو باپ اس جنت کا دروازہ ہے جہاں سے گزر کر ہی جنت میں داخل ہواجاسکتا ہے ۔ کاش یہ سبق ہماری نوجوان اورموجودہ نسل بھی پڑھ سکے۔ ریاض ملک( جوپرخلوص نوجوان ہے اور آجکل فرشتے کی شکل میں مدد کے لیے میرے ساتھ رہتا ہے) مجھے صبح سے ہی پیغامات کے ذریعے یہ احساس دلا رہا تھا کہ آج فادر ڈے ہے ۔ لیکن میرے جذبات میں طلاطم پیدا کرنے کا فریضہ بہت ہی ذہین اور انمول نوجوان ظاہر محمودنے انجام دیا ۔جسے میں آج تک بالمشافہ ملا تونہیں ہوں لیکن وہ جس قدر پاکیزہ خیالات کا ایک ذہین نوجوان ہے اسے ملنے اور اس باتیں کرنے کو دل بہت کرتا ہے لیکن ابھی ملاقات کا کوئی ڈھنگ سے اہتمام نہیں ہوسکا۔ لیکن اس کی کامیابیوں کی کہانی فیس بک کے ذریعے جان کر بے حد خوشی ہوتی ہے ۔ علامہ اقبال کی مشہور تعلیمی درسگاہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں پڑھنے والا انہی خوبیوں کا حامل یہ نوجوان کسی بھی معیار پر پورا اترنے کے لیے ہر دم تیار نظر آتاہے ۔ وہ کونسا اعزاز ہوگا جواس نے ابھی تک حاصل نہیں کیا۔زندگی کی ہر مشکل اور رکاوٹ کو وہ پاؤں کے ٹھوکر سے ہٹا کر کامیابیوں کے زینے چڑھتا چلا جارہا ہے ۔ والد کوتو یقینا اس پر فخر ہوگا ہی ۔ میں بھی باپ کی طرح اس سے بیٹوں جیسا پیار کرتاہوں اور دعاگو ہوں کہ اﷲ تعالی اسے زندگی کے ہر میدان میں کامیاب وکامران فرمائے ۔ وہ ایسا روشن چراغ ہے جس کی روشنی صرف چکوال تک ہی محدود نہیں رہے گی بلکہ پاکستان کاگوشہ گوشہ روشن ہوگا ۔ ان شا ء اﷲ

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 559 Articles with 279995 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Jun, 2017 Views: 1041

Comments

آپ کی رائے