لازوال قسط نمبر 8

(Muhammad Shoaib, Faisalabad)

اب تم ہی بتاؤ کہ میں کیا کروں۔۔۔؟‘‘ وہ صوفے کے ساتھ ٹیک لگا کر آنکھیں موند نے لگا
’’ریلکس بے بی۔۔۔ ڈانٹ وری۔۔ یہ سب تو ماؤں کے ہتھکنڈے ہوتے ہیں ، اپنے بچوں کو ایموشنل بلیک میلنگ کرنے کے۔۔ انہیں اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ ایسا کریں گی تو بچے مان جائیں گے مگر تمہیں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔ تم بس چِل کرو۔۔۔‘‘کولڈ ڈرنک کا ایک گلاس اس کو تھماتے ہوئے کہا تھا۔ اس نے ایک جھلک اس کو دیکھا
’’ڈارلنگ۔۔ تم میری امی کو نہیں جانتی۔۔۔ وہ صرف مجھے بلیک میل ہی نہیں کر رہی۔۔ وہ سچ مچ سار ی پراپرٹی ٹرسٹ کو ڈونیٹ کر دیں گی۔۔اور اگر ایسا ہوگیا تو میں تو کنگال ہوجاؤں گا۔۔جو میں ہونا نہیں چاہتا۔۔۔‘‘اس نے کولڈ ڈرنک کوسامنے رکھے ٹیبل پر رکھا اور اٹھ کھڑا ہوا
’’میں کسی بھی قیمت پر اپنی پراپرٹی کھونا نہیں چاہتا۔۔‘‘وہ سامنے کھڑکی کی طرف بڑھنے لگا۔ اس کا چہرہ مایوسی کے اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ شکست اس کے چہرے سے واضح ہو رہی تھی۔وہ پہلی بار اپنے آپ کو اتنا بے بس و مجبور محسوس کر رہا تھا۔ زندگی میں پہلی بار وہ کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے اتنا سوچ و بچار کر رہا تھا
’’ایسا کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ یہ سب تمہارا وہم ہے۔۔‘‘اس نے پیچھے سے ضرغام کے شانوں کو چھوا۔ وہ اپنی طرف سے اسے تسلی دے رہی تھی مگر اس کی باتوں میں کوئی وزن نہیں تھا۔ دیکھاواکرنے والوں کے الفاظ بھی بس دیکھاوے کے لئے ہی ہوتے ہیں۔ اس کے الفاظ میں بھی ریاکاری تھی
’’کاش یہ وہم ہوتا۔۔۔ ‘‘ مایوسی نے چاروں اور سے اسے گھیرے میں لے لیا
’’ویسے میرے پاس ایک پلان ہے۔۔‘‘ عنایہ نے شاطرانہ لہجے میں دیکھتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا تھا
’’ پلان ۔۔ کون سا؟‘‘ اس نے جھٹ سے اس کی طرف دیکھا
’’تم یہ شادی کر لو۔۔۔‘‘ ہاتھ میں تھامے وائن گلاس کے کنارے پر اپنی درمیانی انگلی سے کچھ کھرچتے ہوئے اس نے کہا تھا
’’ تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے ۔۔۔ میں اور شادی۔۔‘‘ اس نے استہزائیہ انداز میں کہا
’’ میں ٹھیک کہہ رہی ہوں۔۔ تم یہ شادی کر لو۔۔‘‘ایک بار پھر اس نے یہ الفاظ کہہ کر جیسے ضرغام کی دکھی رگ پر ہاتھ رکھا تھا
’’ عنایہ ۔۔ تم یہ سوچ بھی کیسے سکتی ہوکہ میں ابھی شادی کروں گا۔۔ شادی کر کے اپنے پاؤں میں بیڑیاں باندھوں گا۔ مجھے ابھی سے ان بیڑیوں میں نہیں جکڑنا۔۔ مجھے ابھی آگے بڑھنا ہے۔ ابھی میرا کرئیر سٹارٹ ہوئے صرف ایک ماہ گزرا ہے اور میری باتوں سے لوگوں کو انسپائریشن ملتی ہیں اور اگر میں ہی ان رشتوں کی بیڑیوں میں پھنس گیا تو میرا سارا فیوچر تو اندھیرے میں ڈوب جائے اور میں ایسا کبھی نہیں چاہتا۔۔‘‘اس نے انکار کی وجہ بتائی تھی
’’ضرغام ۔۔ میری جان۔۔۔ پہلے میری بات تو سنو۔۔‘‘ شاطرانہ چال چلتے ہوئے وہ اس کے قریب آئی تھی
’’ میرا پلان پہلے مکمل سنو بعد میں اپنی رائے دینا۔۔۔‘‘ اس نے مکاری کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے ضرغام کو اس شادی کے لئے آمادہ کر لیا۔ وہ بھی اس کی باتوں کے جال میں پھنس کر اپنی زندگی کی سب سے بڑی بھول کرنے کے لئے تیار ہوگیا
’’ واؤ۔۔۔ اتنا اچھا آئیڈیا۔۔۔ میرے ذہن میں بھلا پہلے کیوں نہیں آیا۔۔‘‘اس کے چہرے کا رنگ گرگٹ کی طرح بدل گیا۔ اپنی نرم گرم نگاہوں سے اس نے عنایہ کے وجود کی طرف دیکھا جو اس کا بے صبری سے انتظار کر رہی تھی
* * * *
زندگی کی خوشیاں رات کے بنا ادھوری ہوتی ہیں اکثر سچائیاں رات کے اندھیرے میں ہی انسان کے سامنے آتی ہیں۔ آج کی رات بھی شاید انہی میں سے ایک تھی۔اسے لان میں ٹہلتے ہوئے ایک گھنٹہ بیت چکا تھا۔سر سبز پتے رات کے اندھیرے میں سیاہی کی مانند لگ رہے تھے۔پھولوں کی رعنائی بھی رات کے سناٹے کا شکار ہو چکی تھی۔مگر اس کا وجود اب بھی ترو تازہ تھا۔ ہلکی ہلکی ہوا اس کی پیشانی کو آکر بوسہ دیتی اور پھر اس کے رخسار کو چھو کر آگے بڑھ جاتی۔وائیٹ شرٹ اور ٹراؤزر پہنے وہ رات کے اندھیر ے میں بھی وجیہہ لگ رہا تھا۔شگفتہ بی بی کچن میں پانی پینے کے لئے آئیں تو دروازے سے ضرغام کا عکس لان میں دیکھا تو پریشان ہوگئیں۔ وال کلاک پر نظر دوڑائی تو رات کے دو بج رہے تھے۔پانی کا گلاس واپس شیلف پر رکھا اور لان میںآگئیں
’’ ضرغام بیٹا۔۔تم یہاں آدھی رات کو کیا کر رہے ہو؟‘‘شگفتہ بی بی کی آواز پر اس نے چونک کر پیچھے دیکھا تھا
’’امی آپ یہاں۔۔ ‘‘ اُس نے حیرت سے پوچھا
’’ یہی تو میں تم سے پوچھ رہی ہوں کہ تم یہاں کیا کر رہے ہو؟‘‘
’’ کچھ نہیں بس۔۔نیند نہیں آرہی تھی سوچا ٹہل لوں۔۔‘‘ اس نے داہنے ہاتھ سے ماتھے کو بوسہ دیتے بالوں کو پیچھے کیا
’’ طبیعت تو ٹھیک ہے ناں۔۔!!‘‘ ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دیکھا تھا
’’ جی امی طبیعت تو ٹھیک ہے۔۔۔ ‘‘ ایک پل کے لئے اس نے توقف کیا
’’ ویسے اچھا ہوا آپ یہاں آگئیں۔مجھے آپ سے ایک بات کرنی تھی۔۔‘‘اس نے ایک ثانیے کے لئے اپنی آنکھیں بند کیں اور پھر گہرا سانس لیتے ہوئے کہا
’’ ہاں کہو۔۔‘‘ شگفتہ بی بی کو ایک کھٹکا سا ہوا
’’میں اُس لڑکی سے شادی کرنے کے لئے تیار ہوں مگر میری ایک شرط ہے۔۔‘‘ لفظ شرط پر اس کے چہرے پر ایک عجیب سا تاثر تھا۔ پہلے جملے سے جو بہارشگفتہ بی بی کے چہرے پر آئی تھی اگلے جملے سے خزاں میں تبدیل ہوگئی
’’ شرط۔۔۔؟؟ کون سی شرط؟‘‘ ان کا لہجہ استفہامیہ تھا
’’آپ کو نکاح سے پہلے سار ی پراپرٹی میرے نام کرنا ہوگی۔۔‘‘اس کے چہرے پر شاطرانہ ہنسی واضح ہوئی
’’ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔۔‘‘اس کی بات پر انہیں ایک شاک لگا تھا۔ جو لڑکا بھلا اپنی زندگی سنبھال نہیں سکتا ۔پیسوں کو پانی کی طرح بہاتا ہے بھلاوہ اتنی بڑی جائیداد کو کیسے سنبھالے گا؟ کہیں وہ یہ سب کچھ اپنی عیاشیوں میں اجاڑ نہ دے ۔ بس یہی سوچتے ہوئے انہوں نے منفی میں سر ہلا دیا
’’تو پھر میں بھی یہ شادی نہیں کر سکتا۔۔۔‘‘اس نے صاف صا ف کہہ دیا
’’ لیکن۔۔۔‘‘ شگفتہ بی بی نے کچھ کہنے کی کوشش کی تو اس نے نفی میں سر ہلا دیا
’’ کہاناں۔۔ بس اسی شرط پر میں اُس لڑکی سے شادی کروں گا۔۔‘‘
’’ اگر تمہاری بس یہی شرط ہے تو میں اس شرط کو ماننے کے لئے تیار ہوں‘‘ کچھ سوچتے ہوئے انہوں نے ہامی بھر لی
* * * *
’’ لیجئے۔۔ تو صحیح ۔۔۔آپ نے تو کچھ لیا ہی نہیں۔۔‘‘ بسکٹ کی پلیٹ آگے بڑھاتے ہوئے رضیہ بیگم نے کہا تھا
’’آپ کو اتنا تکلف کرنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘شگفتہ بی بی نے ایک بسکٹ اٹھاتے ہوئے شفیق لہجے میں جواب دیا
’’اس میں تکلف کی کیا بات ہے؟ آپ کا اپنا گھر ہی تو ہے۔۔۔‘‘ علی عظمت نے ہنستے ہوئے کہا تھا
’’کھائیے کھائیے۔۔۔ مفت کا تو مال ہے۔۔‘‘سیڑھیاں اتر تے ہوئے اس نے طنز کا تیر چلایا۔ اس کی بات سن کر شگفتہ بی بی کو کافی حیرانی ہوئی۔علی عظمت نے آنکھوں کے اشارے سے رضیہ بیگم کو اس کے پاس جانے کو کہا۔
’’ تم جانتے بھی ہو یہ کون ہیں؟‘‘ اس کے بازو کو آہستہ سے پکڑ کر دانت بھینچتے ہوئے کہا
’’آیا ہوگا کوئی نیا رشتہ۔۔۔‘‘ بے رخی سے جواب دیا
’’ آپ کو اتنا خرچ کرنے کی ضرورت بھی کیا تھی۔ آ پ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اس کا چہرہ دیکھنے کے بعد منع کر دیں گے۔۔ مگر نہیں آپ کو تو ہر کسی پر مال لٹانے کا شوق ہے۔۔ کتنی بار کہہ چکا ہوں ساجد سے اس کا رشتہ طے کردیں مگر آپ۔۔‘‘ وہ اپنی ہی ہانکتا جا رہا تھا
’’ اپنی قیاس آرائیاں بند کرو۔۔‘‘اس کو خاموش کراتے ہوئے کہا
’’ میں قیاس اڑائیاں نہیں کر رہا۔۔ یہ بات آپ بھی اچھی طرح جانتی ہیں‘‘ ایک بار پھر اس نے گردن جھٹک کر کہا
’’ یہ وہی رشتہ ہے جو وجیہہ نے بتایا تھا۔۔ انہوں نے خود وجیہہ کو پسند کیا ہے۔۔‘‘
’’ کیا؟ آپ سچ کہہ رہی ہیں۔۔‘‘گرگٹ کی طرح اس کا انداز بدل گیا
’’ ہاں لیکن کہیں تمہاری وجہ سے دال گلتے گلتے نہ رہ جائے۔۔‘‘مصنوعی غصے میں سرگوشی کی
’’تو پہلے بتانا چاہئے تھا ناں۔۔‘‘ اس کی خوشی کی انتہا نہیں رہتی ۔ اس کے لہجے میں تیزی آگئی ۔ وہ فوراً ان کے پاس گیا
’’ السلام علیکم! آنٹی۔۔ کیسی ہیں آپ؟ اپنے رویے کے لئے آپ سے معافی چاہتا ہوں۔دراصل میرے سر میں شدید درد ہو رہا تھا۔ بس اس لئے پتا نہیں کیا کیا بڑبڑاتا گیا۔۔اگر آپ کو ٹھیس پہنچی تو میں معافی چاہتا ہوں۔‘‘وہ مہذب بننے کی ہرممکن کوشش کر رہا تھا مگر مکاری چہرے سے عیاں تھی
’’ وعلیکم السلام۔۔ کوئی بات نہیں بیٹا۔۔۔‘‘ ہنستے ہوئے بات کو ٹال دیا
’’ اور یہ کیا دولہا بھائی نہیں آئے۔۔‘‘ حیرت سے پوچھا تھا
’’ جنہوں نے ہماری نحوست کو اپنے سر لینا ہے۔۔‘‘ دل میں سوچا تھا
’’اُسے ایک ضروری کام تھا بس اس لئے نہیں آسکا۔۔۔‘‘
’’اچھی بات ہے۔۔۔‘‘ مصنوعی مسکراہٹ کو چہرے پرلاتے ہوئے کہا تھا
’’اگر آجاتا تو نہ ہی کہہ دیتا۔۔۔‘‘دل میں سوچ کر رہ گیا۔شگفتہ بی بی نے شکیہ انداز میں انمول کی طرف دیکھا
’’ میرا مطلب تھا کہ اچھی بات ہے وہ اپنے کام کو اہمیت دیتا ہے۔ انسان کو اپنے کام پر ہی فوکس رکھنا چاہئے۔۔اور مجھے تو یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ میرے دولہا بھائی انہی میں سے ایک ہیں جو اپنے کا م کو اہمیت دیتے ہیں۔۔‘‘شگفتہ بی بی کو اپنے باتوں کے تانوں بانوں میں الجھا کر رکھ دیا
’’پھر کب آئیں ہم منگنی کے لئے؟‘‘ علی عظمت نے سوال داغا
’’منگنی؟؟‘‘ شگفتہ بی بی نے استفہامیہ اندا زمیں کہا تھا
’’کیوں؟ آپ ابھی منگنی نہیں کرنا چاہتیں۔۔‘‘حیرت سے رضیہ بیگم نے پوچھا تھا
’’نہیں ۔۔ ایسی بات نہیں ہے ۔۔ میں تو یہ سوچ رہی تھی کہ اگلے ہفتے نکاح ہی ہو جائے۔۔‘‘انہوں نے اپنے خیال کا اظہار کیا۔یہ سن کر سب ہکا بکا رہ گئے۔علی عظمت کے چہرے کے رنگ متغیر ہوگئے۔سب کے چہروں کا رنگ دیکھتے ہوئے انہوں نے مزید کہا
’’مگر آپ چاہیں تو۔۔۔ یہ میرا خیال تھا لیکن اگر آپ۔۔۔‘‘
’’ نہیں ۔۔۔ نہیں۔۔۔ایسی کوئی بات نہیں۔کیوں علی عظمت ؟‘‘ ہنستے ہوئے رضیہ بیگم نے علی عظمت کی طرف اشارہ کیا تھا۔ ان کا انداز اور لہجہ سب مصنوعی تھا
’’مگر۔۔‘‘ وہ صرف یہی کہہ سکے ۔ ایک لمحے کے لئے دماغ نے کام کرنا چھوڑدیا تھا
’’ مگر وگر کچھ نہیں۔۔۔جیسے آپ کی مرضی۔۔ آپ جب چاہیں آکر نکاح کی تقریب کر لیں، ویسے بھی وجیہہ اب آپ کی ہی بیٹی ہے۔‘‘ریاکاری ان کے انداز سے چھلک رہا تھا۔چہرے پر دیکھاوے کا لبادہ تھا۔
’’ ایک ہفتہ۔۔ مزید۔۔‘‘انمول بس سوچ کر ہی رہ گیا مگر اس بات کی خوشی تھی کہاایک ہفتے بعد وہ اپنی چاہ پوری کر پائے گا
* * * *
رضیہ بیگم کام سے فارغ ہو کر کمرے کی طرف بڑھیں
’’گھر میں ایک مہمان بھی آجائے کام تو اتنا بڑھ جاتا ہے کہ کوئی حد ہی نہیں۔۔ ‘‘ اپنے بالوں کو سمیٹ کرکندھوں کے پیچھے دھکیلتے ہوئے بڑبڑاتی جا رہی تھیں۔ کمرے کا دروازہ کھولا تو ایک جھٹکا سا لگا
’’ یہ کیا کمرے میں اندھیر اہے۔۔‘‘ انہوں نے دروازے کے ساتھ لگے سوئچ کو آن کیا تو علی عظمت کو صوفے پر بیٹھے ہوئے پایا۔ انہوں نے اپنا سر صوفے کی بیک پر رکھا ہوا تھا اور چھت کوگھور رہے تھے
’’ علی عظمت۔۔ خیریت تو ہے ناں!‘‘ پریشانی میں ان کی طرف بڑھیں مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا وہ ابھی تک اپنی سوچوں کی دنیامیں کھوئے ہوئے تھے
’’ ٹھیک تو ہے ناں آپ؟‘‘اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بازو کو آہستہ سے جنبش دی
’’ہاں۔۔ ٹھیک ہوں۔۔‘‘ وہ ابھی تک چھت کو گھور رہے تھے۔
’’ ٹھیک۔۔۔ویسے آج کا دن کتنا اچھا گزر ا ناں۔۔۔ وجیہہ کے لئے نہ صرف رشتہ آیا بلکہ تاریخ بھی طے ہوگئی۔بس اب جلدی سے یہ ہفتہ گزر جائے۔۔۔اور ہماری بیٹی اپنے گھر کی ہو جائے۔۔‘‘ بات کرتے ہوئے ایک تبسم ان کے چہرے پر ابھری تھی
’’کیا تمہیں لگتا ہے کہ اتنی جلدی یہ سب کچھ کرنا ٹھیک ہے؟‘‘ ایک انجانہ سا ڈر ان کے د ل میں کھٹک رہا تھا ۔
’’ہاں ۔۔ سب کچھ ٹھیک ہی تو ہو رہا ہے۔‘‘ وہ علی عظمت کی بات کا مطلب نہ سمجھ سکی اور اٹھ کر بیڈ کی طرف بڑھیں اور چادر کو جھاڑتے ہوئے ؂؂مزید کہا
’’ہماری بیٹی اپنے سسرال جا رہی ہے۔ اپنے پیا کے گھر۔۔‘‘
’’لیکن ایک ہفتہ۔۔ یہ سب جلدی نہیں ہے اور ہم نے لڑکے کو دیکھا بھی نہیں ہے ،کہیں لڑکے میں کوئی نقص تو نہیں۔۔‘‘ صوفے سے اٹھ کر وہ بیڈ کی طرف بڑھے تھے
’’ نہیں۔۔ نہیں۔۔ جلدی کیاہے؟ اچھے رشتے ایسے ہی ملتے ہیں اور پھر جھٹ پٹ سب کچھ ہوجاتا ہے‘‘تکیہ کو سیدھا کرتے ہوئے کہا تھا
’’ لیکن اتنی بھی کیا جلدی؟‘‘بیٹھتے ہوئے کہا تھا
’’آپ بس رہنے دیں۔۔۔میں تو یہ سوچ رہی ہوں کہ کل کون کون سی تیاریاں کروں۔۔ اب کل سے شادی کی تیاریاں بھی تو شروع کرنی ہیں ناں۔۔‘‘ وہ اپنی ہی کہتی جا رہی تھیں
’’بیگم۔۔۔‘‘ ٹیک لگا کر ایک نظر رضیہ بیگم پر ڈالی
’’آپ صرف آرام سے باہر کا کام سنبھالیں اور ویسے بھی آپ نے کہا تھاکہ رشتے کروانا تو عورتوں کا کام ہے۔ اس لئے اب آپ بس آرام کیجئے۔۔‘‘رضیہ بیگم نے بات کرنے کا کوئی سرا ہی نہیں چھوڑا۔ علی عظمت نے ایک لمحے کے لئے رضیہ بیگم کو استفہامیہ انداز میں دیکھا مگر ان کے چہرے کی طمانیت کو دیکھ کر خاموش رہے اور کروٹ بدل کر لیٹ گئے۔
* * * *
کہنے کو تو ایک ہفتہ تھا مگر ایک ہفتے کیسے ایک دن میں تبدیل ہوگیا ، وقت نے کسی کو کانوں کان خبر تک ہیں ہونے دی۔پہلے دن ہی رضیہ بیگم نے پورے ہفتہ کی لسٹ بنا لی۔ کب ، کیا او ر کون سا کام کیسے کرنا ہے؟ سب کچھ درج کرلیا اور ہر ایک کو اس کے حصے کا کام سونپ دیا۔علی عظمت کو باہر سے خریداری کا کام سونپا تو انمول کو بھی ان کے ساتھ لگادیا اور چھوٹے موٹے کام اس کے ذمے لگے۔ گھر کی سجاوٹ ، آنے جانے والوں کے کھانے پینے کا خیال رکھنا صرف انمول کی ذمہ داری تھی۔انمول یوں تو وجیہہ سے دور بھاگتا تھا۔ اس کے نام سے بھی چڑتا تھا مگر اس کی شادی میں ایسے بھاگ بھاگ کر کام کر رہا تھا جیسے اس کے دل میں نہ جانے کتنی محبت پنہاں ہو۔شاید یہ محبت نہیں تھی اور نہ ہی خلوص تھا۔ اس میں بھی اس کا اپنا مفاد تھا۔ اپنی غرض پوشیدہ تھی۔وجیہہ کے بعد اپنی شادی کے سپنے اس کے دل میں امڈ رہے تھے۔رضیہ بیگم نے حجاب کو وجیہہ کے ساتھ رہنے کے لئے روک دیا۔ ایک لڑکی جس کی شادی ہو ، اس کی ضروریات کا خیال رکھنے کے لئے بھی تو کسی نہ کسی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ تمام فرائض حجاب کے ذمہ لگائے گئے۔ حجاب رضیہ بیگم کی بھتیجی تھی۔ اس لئے وہ بھی رہنے کو تیار ہوگئی۔گھر میں کوئی بھی حجاب کے رہنے پر نارواں نہیں تھی بس ایک انمول تھا جس کے دل میں اس کے لئے ایک زچ تھی مگر اسے کوئی پرواہ نہیں۔وہ تو بس وجیہہ کی خوشیوں میں شریک ہونے کے لئے رکی تھی۔سب کو کام سونپنے کے بعد بھی خود کوکوئی فراغت نصیب نہ ہوئی۔کپڑے ، زیورات، بناؤ سنگھاڑ کی ذمہ داریاں کم تھیں کیا؟ اور پھر کون کون سے رشتہ داروں کو شادی میں شرکت کے لئے بلانا ہے ، یہ کام بھی انہوں نے اپنے ذمہ رکھا۔
’’پھپو کس کس کے نام لکھوں کارڈز پر۔۔۔‘‘تمام کارڈز چھپ کر آچکے تھے۔سرخ کارڈ پر سنہری روشنائی سے حروف جگما رہے تھے اور ان سب میں وجیہہ اور ضرغام کا نام تو الگ ہی حیثیت رکھتا تھا۔ایسا لگ رہا تھا دونوں نام بنے ہی ایک دوجے کے لئے ہیں
’’بلانا تو سب کو ہی پڑے گا۔ آخر پہلی شادی تو ہے۔۔تم اس طرح کرو سب سے پہلے ندیم بھائی، شہباز بھائی، اصغر بھائی ، خاور بھائی کا تو سب سے پہلے نام لکھو۔۔اور ہاں اسلم بھائی کا بھی نام لکھنا مت بھولنا۔۔‘‘ علی عظمت ابھی ابھی باہر سے آئے تھے۔ ان کے ہاتھ میں شاپنگ بیگز تھے
’’ اچھا ہوا آپ آگئے علی عظمت۔۔ آپ نے تو کسی کو رقعہ نہیں بھیجنا۔۔ اگر بھیجنا ہے تو بتا دیں حجاب بیٹھی لکھ رہی ہے۔۔‘‘ رضیہ بیگم کے کہنے پر وہ پلٹے تھے
’’میں نے کہاں کس کو بھیجنا ہے۔۔‘‘سستانے کو ذرا بیٹھے تھے
’’ ہاں سچ۔۔۔ منیر کے لئے بھی ایک رقعہ لکھ دو۔۔بہت اچھا دوست ہے میرا۔۔۔ ہمیشہ سکھ دکھ میں ساتھ ساتھ رہا ہے۔۔‘‘
’’ٹھیک۔۔۔ لکھ دیا۔۔ اور کسی کا لکھنا ہے پھوپھا جی۔۔‘‘انہوں نے نفی میں گردن ہلا دی۔انمول سیٹی بجاتا ہوا سیڑھیاں اتر کر باہر کی طرف جا رہا تھا
’’ کہاں جا رہے ہو؟‘‘رضیہ بیگم نے پوچھا تو وہ پلٹا
’’دوست کے پاس جا رہا ہوں۔۔‘‘ کہنیوں تک آستینیں چڑھائے ہوئے تھا۔
’’ اچھا پھر۔۔ جاتے ہوئے یہ کارڈز تو بانٹ دینا۔۔۔‘‘
’’ لیکن امی مجھے تو جلدی ہے۔۔‘‘ اس کے ماتھے پر شکن آگئے
’’ کوئی بات نہیں واپسی پر بانٹ دینا۔۔‘‘ منہ بگاڑ کر اس نے ہامی بھر ہی لی۔حجاب کارڈز کو مجتمع کر کے اٹھی اور انمول کے ہاتھوں میں تھمادئیے
’’ ہنہ۔۔‘‘ کارڈز لیتے ہوئے حجاب کو دیکھ کر اس کا منہ مزید بگڑ گیا تھا
’’ یاد سے دے دینا۔۔‘‘ حجاب نے کہا تھا
’’ تمہاری اجازت کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔‘‘ منہ بگاڑ کر جواب دیا تھا
* * * * *
’’ تو پھر پانچ دن بعد ہے میرے اس ہیرو کی شادی۔۔‘‘لازوال کے سیٹ سے واپسی پر عنایہ بھی اس کے ساتھ کار میں تھی۔
’’ہاں بس۔۔۔‘‘ اس نے کندھے اچکاتے ہوئے بے نیازی سے کہا تھا
’’ ویسے لڑکی دیکھی ہے تم نے۔۔؟‘‘عنایہ نے شوخ لہجے میں پوچھا تھا
’’کہاں۔۔!!‘‘اس نے حسرت بھرے لہجے میں کہا
’’اوہ۔۔۔ یعنی بنا دیکھے شادی ہو رہی ہے۔ فرسٹ نائیٹ ہی دیکھو گے۔۔۔امیزنگ۔۔‘‘اس نے معنی خیز لہجے میں کہا تھا
’’ جسٹ شیٹ اپ یار۔۔۔فرسٹ نائیٹ کیا میں تو اس کے ساتھ کوئی نائیٹ بھی سپینڈ نہیں کرنے والا۔۔‘‘گردن کو ایک ادا سے جھٹکتے ہوئے کہا
’’لیکن اگر وہ خوبصورت ہوئی اور اپنی خوبصورتی کا جادو تمہارے اوپر چلانے میں کامیاب ہوگئی تو۔۔۔‘‘وہ لفظ تو پر زور دے رہی تھی
’’تو۔۔۔ سوچا جا سکتا ہے۔۔‘‘اس نے بھی معنی خیز لہجے میں جواب دیا
’’ ضرغام کے بچے۔۔۔ابھی بتاتی ہوں تمہیں۔۔۔‘‘ ایک ادا سے اپنا ہاتھ اس کے بازو پر تھپڑ مارا
’’اب اس میں جلنے کی کیا بات ہے۔ میری بیوی ہوگی تھوڑا بہت تو چلے گا ناں۔۔۔‘‘ اب وہ اسے جلانے کے چکر میں تھا
’’ضرغام۔۔۔‘‘ وہ دانت بھینچ کر اسے کوستی جا رہی تھی
’’ضرغام کیا۔۔۔ بس تھوڑا سا۔۔ رومینس۔۔ فرسٹ نائیٹ۔۔۔‘‘اپنی ہنسی کو بمشکل قابو کئے وہ ڈرائیونگ کر رہا تھا
’’ اب تم حد سے گزر رہے ہو۔۔۔‘‘ عنایہ کے لئے سب کچھ برداشت سے باہر ہوگیا
’’ یار میاں بیوی میں کوئی حد نہیں ہوتی۔۔ جتنا چاہیں رومینس کریں۔۔۔‘‘
’’ ضرغام۔۔۔ ‘‘ اس نے ایک زور دار گھونسہ اس کے پیٹ میں رسید کیا۔ تو وہ سٹئیر نگ پرکنٹرول کھو بیٹھا اور کار ہچکولے کھانے لگی
’’سنبھال کے۔۔۔‘‘برجستہ عنایہ کے منہ سے نکلا
’’ کوشش کر رہا ہوں۔۔‘‘ کار ۸۰ کی سپید سے جا رہی تھی مگر یک دم کنٹرول کھونے پر وہ ہڑبڑا گیاکار کبھی سڑ ک کے اس کنارے پر تو کبھی اس کنارے پر ہچکولے کھا رہی تھی۔تبھی بریک لگنے پرایک زور دار جھٹکا لگا اور ضرغام کا سر سٹئیرنگ پر جا لگا۔
* * * *
’’ تم نے اب گھر سے باہر قدم بھی رکھا ناں تو مجھ سے برا کچھ نہیں ہوگا۔۔‘‘شگفتہ بی بی نے ضرغام کو ٹیبلٹس دیتے ہوئے قدرے سخت لہجے میں کہا تھا
’’لیکن امی۔۔۔‘‘ ماتھے پر سفید پٹی بندھی ہوئی تھی۔ وہ سرہانے سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا
’’ بس۔۔ میں نے کہا ناں۔۔ اب میں تمہاری ایک نہیں سننے والی، یکے بعد دیگرے دو بار ایکسیڈنٹس کر وا چکے ہواپنے۔ چار دن بعد تمہاری شادی ہے ۔ کیا تم سہرے کی جگہ یہ پٹیاں لٹکائے جاؤ گے۔
’’ امی۔۔‘‘ اس نے بچوں کی طرح منہ بنا لیا۔ پچھلی بار جب وہ سیڑھیوں سے گرا تھا تو اس نے شگفتہ بی بی سے جھوٹ بولا کہ اس کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور اب تو واقعی اس کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا لیکن خدا کی رحمت سے زیادہ چوٹ تو نہیں آئی ، مگر پیشانی پر زخم کا نشان ضرور ابھر چکا تھا
’’اب جب تک تمہارا نکاح نہیں ہوجاتا تم نے اس گھر سے باہر قدم بھی نہیں رکھنا۔۔آئی بات سمجھ میں۔‘‘انہوں نے اپنا فیصلہ سنایا تھا۔ آخر ماں تھی۔کیسے اپنے بچے کو تکلیف میں دیکھ سکتی تھی۔اور پھر ضرغام تو ان کی انکلوتی اولاد تھی۔ اس پر کیسے کوئی آنچ آنے دے سکتی تھیں
’’چار د ن تک اس گھر میں ۔۔۔ ‘‘ اسے سوچ کر ہی چکر آنے لگے
’’ امی میرا تو دم نکل جائے گا۔۔۔‘‘
’’ اور باہر جو ایکسیڈنٹ کروا ئے جا رہے ہو ۔۔۔ اس سے دم نہیں نکلے گا۔‘‘وارڈ روب سے ایک لحاف نکالا اور اسے ضرغام کو اوڑھا دیا۔
’’ اب خاموشی سے آرام کرو۔۔‘‘ اس کے ماتھے پر محبت کی مٹھاس نقش کی تو تھوڑا بہت منہ بناتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کر لیں۔انہوں نے آیت الکرسی پڑھ کر اس پر دم کیا اور آہستہ سے دروازہ بند کر کے باہر آگئیں۔
’’ چار دن نکاح میں رہ گئے اوران کی کوئی خبر نہیں۔۔۔‘‘زیرلب کہا اور پھر ہاتھ میں موجود گلاس کو رکھنے کچن کی طرف چل دیں۔
’’ اب کون ہو سکتا ہے؟‘‘ جیسے ہی انہوں نے شیلف پر گلاس رکھا تو دروازے پر رنگ ہوئی۔چہرے پر ایک ثانیے کے لئے حیرانی کے تاثرات ابھرے تھے مگر اگلے ہی لمحے وہ تاثرات غائب ہوگئے
’’السلام علیکم!خالہ جان۔۔۔‘‘جیسے ہی شگفتہ بی بی نے دروازہ کھولا تو جویریاان کے گلے لگ گئی۔جویریا کے ساتھ ہی مثال اور فرمان بھی آگے بڑھے
’’ السلام علیکم! خالہ جان۔۔۔‘‘ مثال نے آگے بڑھ کر کہا تھا۔
’’ وعلیکم السلام ۔۔۔ کیسے ہوتم سب ۔۔۔؟ اور اتنی دیر کیوں ہو گئی؟‘‘ انہوں نے باری باری سب کے ماتھے کو بوسہ دیا
’’ بس کیا کریں یہ مثال ہے ناں۔۔ تیارہونے میں گھنٹہ لگا دیا تھا‘‘ جویریا نے صوفے کی طرف بڑھتے ہوئے کہا تھا
’’خالہ جان یہ جھوٹ بول رہی ہے۔۔گھنٹہ میں نے نہیں خود اس نے لگا یا تھا۔۔‘‘ مثال نے ترنت جواب دیا
’’اچھا اچھا۔۔۔ اب لڑنا نہ شروع کر دینا۔۔۔ یہ بتاؤ سفر تو آرام سے گزارا ناں۔۔‘‘تمام بچے اندر آچکے تھے ۔ شگفتہ بی بی نے دروازہ بند کرتے ہوئے پوچھا تھا
’’ خالہ جان۔۔۔ پوچھ تو آپ اس طرح رہی ہیں جیسے ہم گلبرگ کی بجائے لندن سے آرہے ہوں۔۔صرف آدھ گھنٹے کا تو سفر تھا۔۔‘‘ فرمان نے بھی اپنی زبان کھولی
’’اتنا معلوم ہے کہ آدھ گھنٹے کا سفر ہے مگر یہ نہیں معلوم کے ہم خالہ جان سے ہی ملنے آجائیں۔۔ آج بھی اگر میں نے فو ن نہ کیا ہوتا ناں تو تم نے تو آنا ہی نہیں تھا۔۔‘‘
’’ اب ایسی بھی بات نہیں ہے۔۔ہم توہمیشہ آپ کو یاد رکھتے ہیں اپنے دل میں۔۔‘‘ جویریا نے پاس آکر ان کو بانہوں کے جھولے میں جھلاتے ہوئے کہا تھا
’’ اب مسکا لگانا بند کرو ۔۔ سب سمجھتی ہوں میں۔۔‘‘اس کو پیار سے تھپتھپاتے ہوئے کہا تھا
’’ ویسے خالہ جان۔۔۔ بھابھی دیکھنے میں کیسی ہیں؟‘‘ مثال نے انہاک سے شگفتہ بی بی کے چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
’’بہت اچھی۔۔۔ اتنی اچھی کہ اگر تم دیکھو گی ناں۔۔ تم بھی ان جیسی بننے کی کوشش کرو گی۔۔‘‘ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا
’’ پھر تو ملنا پڑے گا بھابھی سے۔۔۔‘‘ فرمان نے ہلکی سی گردن کو جنبش دی
’’اچھا چلو۔۔ باتیں بعد میں، پہلے کچھ کھا پی لو۔۔ میں ابھی تمہارے لئے کولڈ ڈرنک لے کر آتی ہوں۔۔‘‘
’’ میر ے لئے سپرائیٹ۔۔۔‘‘ فرمان نے اپنی پسند بتائی
’’ اور میرے لئے کوک۔۔‘‘ مثال کہاں پیچھے رہتی
’’ظالما۔۔۔ کوکا کولا پلادے۔۔۔!!‘‘ فرمان بڑبڑایا تھا
’’خالہ جان۔۔!!‘‘منہ بسوڑتے ہوئے مثال نے کہا تھا
’’تم دونوں باز آنے والے نہیں ہو ۔۔جویریا تم بتاؤ ،تمہارے لئے کیا لاؤں۔۔۔‘‘ ہمیشہ کی طرح جویریا خاموش رہی ۔ اسی لئے شگفتہ بی بی نے خود ہی اس سے پوچھا
’’ میرے لئے۔۔۔ جو بچ جائے۔۔‘‘ اس کی بات پر شگفتہ بی بی ہنس دیں۔
’’ کوئی مستی نہیں چلے گی۔۔۔ یاد ہے ناں امی ابو نے کیا کہا ہے اگر کوئی مستی کی تو آخری شادی ہوگی ہماری۔۔‘‘ جویریا نے دونوں کو تنبیہہ کی
’’ کچھ نہیں ہوتا۔۔۔۔ ایسا تو وہ ہر با ر بولتے ہیں۔۔‘‘ کندھے اچکاتے ہوئے جویریا کی بات کو ہوا میں اڑا دیا
’’فرمان ۔۔۔‘‘ جویریا نے گھور کر اس کی طرف دیکھا
’’ ایسے مت دیکھو ۔۔۔ ورنہ میں ڈر جاؤں گا۔۔‘‘ جویریا کا مذاق اڑاتے ہوئے فرمان نے کہا تھا
’’ میرا مذاق اڑاتا ہے ۔۔ میرا۔۔ ابھی بتاتی ہوں۔۔‘‘ اٹھ کر اس کے پیچھے چل دوڑی جبکہ مثال ان دونوں کی حرکتوں سے محظوظ ہو رہی تھی
’’ فرمان۔۔۔ شاباش۔۔ یونہی دوڑتے رہو۔۔‘‘ ساتھ ساتھ مثال فرمان کو لقمہ دیتی جا رہی تھی
جویریا تینوں میں سب سے بڑی تھی اور بی ایس اکنامکس کر رہی تھی۔مثال دوسرے نمبر پر تھی اور ابھی میٹرک کے پیپرز سے فارغ ہوئی تھی۔ فرمان کہنے میں تو سب سے چھوٹا مگر بنا سب کا بڑا پھرتا ہے۔ دونوں بہنوں کو تو اپنے ہاتھ کی انگلیوں پر ایسے گھماتا جیسے کوئی فٹبال کو گھماتا ہے۔ پورے گھر میں اودھم مچا کر رکھتا تھا۔اسی لئے جویریا اور مثال اس کو یہاں لانے کے حق میں نہ تھے لیکن شگفتہ بی بی کے اصرار پر انہیں لانا پڑا اورپھر وہ خود بھی تو پانچویں کے پیپر دے کر فارغ ہوا تھا۔گھر میں رہ کر اس نے کون سا تیر مار لینا تھا۔
’’ ہم تمہیں اس شرط پر لے کر جائیں گے اگر وہاں جا کر تم ہمارا سارا کام کرو گے۔۔‘‘ جویریا اور مثال بھی اپنا مطلب نکالنابخوبی جانتی تھیں
’’او کے۔۔۔‘‘ مصیبت کے وقت تو گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے تو پھر یہ تو اس کی سگی بہنیں تھیں فوراً ہاں کر دی مگر آتے ہی اپنے پرانے رنگ میں واپس آگیا اور اُن کا کام کرنے کی بجائے اپنا کام کروانے لگا
’’جویریا آپی ۔۔۔ میرا سوٹ ، سوٹ کیس میں سے نکال کر دے دیں۔۔‘‘نہانے کے لئے واش روم میں گیا تو اپنا سوٹ بھی ساتھ لے کر نہیں گیا۔
’’ مثال آپی۔۔۔۔‘‘ جویریا نے بات نہ سنی تو مثال کی آوازیں لگنا شروع ہوگئیں
’’ مثال آپی۔۔۔جویریا آپی۔۔‘‘ وہ گلا پھاڑ پھاڑ کر پکار رہا تھا۔
’’ سپیکر لا دوں تاکہ اگلے دیش بھی چلی جائے تیری آواز۔۔کوکِیلا کی طرح گلا پھاڑ پھاڑ بولتا رہے گا‘‘ پاؤں پٹختے ہوئے مثال کمرے میں داخل ہوئی تو جویریا بھی فوراوارد ہوگئی
’’ ایک تو تم اور تمہارے انڈیا کے ڈراموں کی مثالیں۔۔ویسے تمہارا نام ٹھیک رکھا ہے امی ابو نے ۔۔۔ مثالیں دینے میں تو ماہر ہو تم۔۔۔کبھی کسی ایکٹر کی تو کبھی کسی ایکٹر کی۔۔‘‘ آتے ہی مثال کی کلاس لگا دی
’’اپنی باتیں بعد میں پہلے میرا سوٹ۔۔۔!!‘‘ ایک بار پھر واش روم سے آواز آئی
’’یہ لو۔۔۔ آیا تھا ہمارے کام کرنے ، اپنے کام کروا رہا ہے،۔‘‘ مثال نے طنزیہ کہا
’’ آخر بھائی بھی تو تمہارا ہی ہے۔۔۔‘‘مثال کو بھی ساتھ ہی رگڑ دیا
’’ سوٹ۔۔۔۔۔۔۔‘‘ایک بار پھر گلا پھاڑ کر کہا
’’اب چپ ہو جا کوکیلا۔۔۔دیتی ہوں سوٹ۔۔۔‘‘مثال نے بیڈ کے ساتھ رکھے سوٹ کیس کو اٹھا کر بیڈ پر رکھا
’’ توبہ۔۔۔ کتنے کپڑے اٹھا کر لے آیا ہے۔ ہم دونوں نے تو اپنا ایک سوٹ کیس پیک کیا اور اس نواب ذادے نے اپنا اکیلے کا ایک سوٹ کیس پیک کیا ہے۔۔ہنہ۔۔‘‘ کپڑوں کو الٹ پلٹ کرتے ہوئے مثال نے کہا تھا
’’اب دے بھی دو۔۔ سٹار پلس کی ہیروئن۔۔‘‘ فرمان نے تنگ آکر کہا تھا
’’اب تو بالکل نہیں دیتی۔۔ جاکیا کر لے گا۔۔ رہ اب وہیں پر بنا کپڑوں کے۔۔ہم جا رہے ہیں خود آکر نکال لیں۔۔‘‘ مثال نے جو پینٹ شرٹ اٹھائی تھی دوبارہ بیڈ پر اچھال دی
’’ معاف کر دو مجھے میری ماں۔۔۔‘‘ اس نے بچوں کی طرح ٹھن ٹھن شروع کر دی
’’ دے دو بچے کو۔۔‘‘ جویریا کو ہمیشہ کی طرح فرمان پر تر س آگیا، اس نے بیڈ سے پینٹ شرٹ اٹھائی اور واش روم کی طرف بڑھنے لگی
’’ آپی۔۔!! کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔ شیطان پر ترس کھانے کی۔۔‘‘مثال نے یہی جملہ کہا تھا کہ دروازے سے شگفتہ بی بی داخل ہوئیں
’’ بری بات۔۔ مثال۔۔ بھائی کو شیطان نہیں کہتے۔۔ شیطان کا مطلب بھی جانتی ہو تم؟شیطان کا مطلب ہے دھدکارا ہوا۔۔ اللہ کی رحمت سے دور۔۔۔ تمہیں تو اپنے بھائی کو دعا دینی چاہئے ۔۔۔اور تم اسے بددعا دے رہی ہو۔۔‘‘شگفتہ بی بی کی بات سن کر وہ خاموش ہوگئی اور آنکھیں جھکائے کھڑی رہی۔جویریا نے پینٹ شرٹ فرمان کو پکڑا دیں۔
’’تمہیں فوراً اللہ سے معافی مانگنی چاہئے ۔۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا
’’ او کے سوری خالہ جان۔۔۔ آگے ایسا نہیں کہوں گی۔۔‘‘ مثال کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا۔
’’ بہت اچھی بات ہے تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ۔۔ تم جانتی مثال۔۔ بہن بھائی تو ایک دوسرے کے باعث رحمت ہوتے ہیں اور اگر یہی ایک دوسرے کے لئے بددعائیں کر نے لگ جائیں تو پھر بھلا دوسروں سے توقع کیا رکھنی؟؟‘‘
’’ خالہ جان۔۔ یہ ہمیشہ ایسے ہی کرتی ہے۔۔‘‘شرٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے وہ واش روم سے باہر آیا تھا، اس کو دیکھ کر وہ ناک پھلا کر رہ گئی۔
ؔ ؔ ’’ زیادہ شکایتیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ تم بھی کسی سے کم نہیں ہو۔۔‘‘اب کی بار فرمان کی باری تھی
’’خالہ جان۔۔۔‘‘ اس نے بالوں کو جھٹکا تو پانی کے چھینٹے مثال پر اچھلے
’’ خالہ جان دیکھو اسے۔۔ جان بوجھ کر اس نے یہ چھینٹے میرے اوپر پھینکے ہیں۔۔‘‘ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا
’’جھوٹ کم بولو تم۔۔۔‘‘ چوہے بلی کا کھیل پھر سے شروع ہوگیا۔ دونوں ایک دوسرے پر جملوں کی بوچھاڑ کرنے لگے۔ دو منٹ شگفتہ بی بی وہاں کھڑی رہی مگر ان کے سر میں درد ہونے لگ گیا
’’ توبہ۔۔۔ کتنا جھگڑتے ہو تم دونوں۔۔‘‘ کانوں پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا
’’ چلیں خالہ جان آپ یہاں سے۔۔ لڑ لڑ کر جب تھک جائیں گے ، خود ہی باہر آجائیں گے یہ۔۔۔‘‘ جویریا انہیں باہر لے آئی

٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ناول ابھی جاری ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Shoaib

Read More Articles by Muhammad Shoaib: 64 Articles with 65050 views »
I'm a student of Software Engineering but i also like to write something new. You can give me your precious feedback at my fb page www.facebook.com/Mu.. View More
21 Jun, 2017 Views: 738

Comments

آپ کی رائے
Nice.....
By: Mini, Mandi bhauddin on Jun, 23 2017
Reply Reply
0 Like
thank you
By: Muhammad Shoaib, Faisalabad on Jun, 23 2017
0 Like