کوّا

(Rafi Abbasi, Karachi)

باوا آدم کے زمانے سے ہی کوّے کا رشتہ بنی آدم سے اس حد تک جُڑا ہوا ہے کہ بہت سے دنیاوی معاملات میں حضرت انسان نے شعوری یا لاشعوری طور پر اس کی پیروی کی ہے۔ دورِآدمیت کی تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوّے کو ابنِ آدم کی استادی کا شرف بھی حاصل ہے اب یہ نہیں معلوم کہ حضرت آدم اور حوا دنیا میں پہلے تشریف لائے یا کوّا پہلے وجود میں لایاگیا۔ مفکّرین تمام دنیاوی جھگڑوں کی جڑ ’’ٹرپل زِ‘‘ یعنی زَر، زَن، زَمین کو بتاتے ہیں لیکن تاریخ بعد از آدم سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس زمانے میں زمین کی خرید و فروخت کا تصور نہیں تھا اور بعد از مسیح تک زمین کی ملکیت کے دعویدار سرکاری محکمے وجود میں نہیں آئے تھے، کائنات کی ساری زمین انسان کی ذاتی ملکیت ہوتی تھی۔ وہ جہاں چاہتا تھا کھلے آسمان تلے بسیرا کرلیتا تھا۔کسی بھی غار پر قابض ہوکر نسل انسانی کی افزائش کے بنیادی فریضے کی انجام دہی میں مشغول ہوجاتا تھا۔ اس وقت تک خواہشات کی غلامی کا دور شروع نہیں ہوا تھا اس لئے زَر سے اسے کوئی دل چسپی نہیں تھی۔ صرف وجود زَن ہی پہلے ارضی فساد کا سبب بنا اور دنیا کا پہلا قتل بھی نسوانی تنازع کی وجہ سے ہوا۔ قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو بنتِ حوا کے عشق میں قتل کردیا لیکن شاید اس دور میں اولادِ آدم، سطح آدمیت سے گرنے کے باوجود باوا آدم سے احتراماً خوف زدہ رہتی تھی، اسی خوف سےقابیل کو ہابیل کی لاش چھپانے کی فکر دامن گیر ہوئی۔ اس موقع پر کوّے نے اپنی استادی کا فریضہ نبھایا اور اپنے ایک مُردہ ہم جنس کو گڑھے میں دفنا کر انسان کو قبر بنانے کا فن سکھادیا۔ کوّے کو اپنی آواز سے متعلق کافی خوش فہمی ہے اسی لئے وہ ہرگھر کی منڈیر، بجلی کے کھمبے اور گلی کوچے میں اپنی گائیکی کا مظاہرہ کائیں کائیں کی صورت میںکرتا پھرتا ہے ۔ اسٹریٹ اور باتھ روم سنگنگ کا شوق بھی حضرت انسان کو کوّے کی نقّالی کی وجہ سے ہی ہوا اور آج ہر گھر میں ایک باتھ روم و اسٹریٹ سنگر ملے گا لیکن کوّے کی بدقسمتی ہے کہ اسے نہ تو الّو کی طرح عقلمند قرار دے کر امریکا و مغرب کے اوتار کا درجہ حاصل ہوا اور نہ ہی مشرق میں نحوست کی علامت تصور کرکے اسے قابل نفرین گرداناگیا، اس کی تصویروں کو گدھے کی طرح امریکا میں انتخابی نشانوں کی حیثیت سے بھی الاٹ نہیں کیا گیا اور نہ فاختاؤں کی طرح امن کے جھنڈے پر اس کی شبیہہ آویزاں کی گئی۔ اسے نظر انداز کئے جانے کی ایک وجہ شاید اس پر یہ الزام ہے کہ بی فاختہ انڈے سینے کے دوران جو دکھ سہتی ہیں کوّا ان کے دکھوں کی پروا کیے بغیر وہ انڈے ہڑپ کرجاتا ہے۔ اس ظلم پر فاختہ تو اپنی امن پسند طبیعت کی وجہ سے خاموش رہتی ہے لیکن اس کی حمایت میں کئی شعرائے کرام نے کوّے کے ان مظالم کا اپنے اشعار میں مجاہدانہ انداز میں تذکرہ کیا جسے شاید کوّے نے اعلان بغاوت سمجھا اور اپنی بعض حرکتوں سے وہ انسان کا دشمن سمجھا جاتا ہے، جیسے
دکھ سہیں بی فاختہ اور کوّے انڈے کھائیں
ایسے ظالم کوّوں کو ہم کیوں نہ مار بھگائیں

عام طور سے کوّے کو جھگڑالو کہا جاتا ہے اس لئے لوگ اس سے اسی طرح سے دور رہتے ہیں جیسے دیہات کے شرفاء اپنی پگڑی اور شہری معززین خود پر کیچڑ اچھلنے کے ڈر سے منہ پھٹ لوگوں سے دور رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ کوّے کے گھونسلے سے گزوں دوری کے فاصلے سے اس لئے بھی گزرتے ہیں کہ نہ جانے اس کی چونچ کس وقت کس کی کھوپڑی کیلئے ٹھونگ بن جائے۔ لیکن شاید دنیا میں چند ممالک ایسے بھی ہیں جہاں اسے اس کی شریر طبیعت سے قطع نظر، عیاری اور مکاری کی وجہ سے پسند کیا جاتا ہے۔ آسٹریلیا میں بہت سے افراد اپنے نام کے آگے اس کا نام اپنی شناخت کے لیے لگانا قابل فخر سمجھتے ہیںجیسے آسٹریلیا کے مشہور کرکٹر نے اپنے نام کے آگے کرو لگایا ہوا تھا اور ساری دنیا میں وہ مارٹن کرو کے نام سے جانے پہچانے جاتے تھے۔ یہ ایک منفرد اعزاز ہے جو کسی بھی چرند، پرند یا درندے کو حاصل نہیں ہوا لیکن یہ کوّے کی منکسرالمزاجی ہے کہ اتنے بڑے اعزاز کا حامل ہونے کے باوجود بھی اس میں غرور و تکبّر نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔

اس فضائی مخلوق کا المیہ یہ ہے کہ اسے مرغ کی طرح کوّا بریانی یا کوّا فرائی بناکر سرعام فروخت بھی نہیں کیاجاسکتا ہے کیوںکہ سلطنت بنو عباس کے آخری خلیفہ مستعصم باللہ کے عہدکا تنازع آج بھی تصفیہ طلب ہے کہ کوّا حلال ہے یا حرام، بلکہ اُس دور میں علماء کی حرام، حلال کی بحث نے اتنا گمبھیر رخ اختیار کیا کہ اس قضیے کے تصفیے کے لئے بعض علماء کی طرف سے ثالثی کے لیے ہلاکو خان کو بلانا پڑا جس نے بغداد پر حملہ کرکے اس بحث کا ہی نہیں بلکہ اس قضیے کے تمام متحارب فریقوںکا بھی خاتمہ کردیا اور طویل عرصے تک بغداد میں صرف الّو بولتے رہے۔ اسی لئے کوّا فرائی یا کوّے سے تیار کی گئی ڈشیں چکن بریانی اور چکن فرائی کا خوشنما لیبل لگا کر تو کھلائی جا سکتی ہیں لیکن پَر، چونچ یا اس کے دیگر اسپئر پارٹس ملنے پر معاملہ قابل دست اندازی پولیس بن جاتا ہے اور پولیس، ہوٹل مالکان سے سارا کھایا پیا نکلوا لیتی ہے۔ کوّاصبح ہی صبح اپنی کائیںکائیں سے سوتوں کو جگادیتا ہے۔ نیند خراب ہونے کے باوجود اس کی حرکت کو درگزر کرنا پڑتا ہے، کیونکہ اس پر سنگ اٹھانے کا تصوراس لئے بھی نہیں کیاجاسکتا کہ اپنا سر یاد آتا ہے۔ اس لئے کہ کوّے کا کینہ مشہور ہے اور اس کی دھار دار چونچ بھی نظر میں رہتی ہے۔ انسانوں میں پائی جانے والی کینہ پروری کی صفت کوّے کی ہی مرہونِ منّت ہے۔
مشرقی خواتین اس کی کائیں کائیں کو مہمان کی آمد کی نوید سمجھتی ہیں اور اس کی کائیں کائیں کی تعریف و توصیف کرتے ہوئے خود بھی اسی کی طرح نغمہ سُرا ہوجاتی ہیں۔ ؎
آج میرے منڈیرے کاکا بولے
پوَن من ڈولے، آئے گا میرا پردیسی
یا
موری اٹریا پہ کاکا بولے
مورا جیا ڈولے
کوئی آرہا .......کوئی آرہا
شعرائے کرام نے اپنے اشعار میں بلبلوں کے گیت اور کوئل کی کوک کو تو پذیرائی بخشی ہے لیکن فاختہ پر اس کے مظالم پر تحفظ حقوق فاختہ کا سہارا لے کر اس کی کائیں کائیں کو اپنی ہجو کا نشانہ بنایا ہے۔ وہ تو کوّا انسانی زبانوں سے نابلد ہے اور صرف اپنی کائیں کائیں میں مگن رہتا ہے ۔ اگر مذکورہ شعرائے کرام کے اعلان جنگ پر مبنی اشعاراس کی سمجھ میں آجائیں تو وہ انہیں ان کے گھروں کی حد میں ہی محصور کردے گا اور اگر کبھی وہ گھر سے نکلنے کی جرأت بھی کریں گے تو لڑاکا طیاروں کے انداز میں ان پر قلابازی کھاتے ہوئے اپنی ٹھونگوں سے ان کی کھوپڑی پر ٹھونگ باری کرے گا۔

کوّے کی کہانیاں حکایات کا درجہ رکھتی ہیں۔ بچپن سے ہی ہم پیاسے کوّے کی کہانی سنتے آرہے ہیں جس میں کوے کا سیانا پن بتایا گیا ہے۔ کوّا اپنی مکاری اور سیانے پن کی گوناگوں خصوصیات کے باوجود انسان کے دل میں اپنا گھر نہیں بنا سکا یہی وجہ ہے کہ انسان نے اپنا آشیانہ بناتے ہوئے اسے مینا، بلبل اور چڑیا کی طرح خوشنما پنجروں میں بند کرکے دالان میں رکھنے سے گریز کیا ۔ اس کی وجہ شاید اس کی کریہہ صورت ، کرخت آواز، چھین جھپٹ کر کھانے کی فطرت اور چالاکی و مکاری ہے لیکن اس کی یہی متنازع صلاحیتیں اسے دیگر چرند پرند سے ممتاز بناتی ہیں۔ کوّا تو اپنی شکم سیری کیلئے کسی سے روٹی کا ٹکڑا یا اپنے سے چھوٹا پرندہ جھپٹ کر کھاتا ہے لیکن اگر ہم اپنے گردوپیش پر نظر ڈالیں تو کوّے کے ان جملہ فنون سے استفادہ کرتے ہوئے بے شمار لوگ چھین جھپٹ کر کھانے میں اتنی مہارت رکھتے ہیں کہ بینکوں کے قرضے، ملک و قوم کی دولت اور عوام کی جائیدادیں اور ووٹوں کی طاقت بھی جھپٹ لیتے ہیں لیکن پھر بھی ہم ان کے قوت و اختیارات کے خوف سے ان کی تعظیم و تکریم پر مجبور ہیں۔

کوّا لاکھ اپنے سیاہ رنگ روپ اور شری طبیعت کی وجہ سے انسان کی نگاہوں میں مقہور رہے لیکن اس میں سیانے پن کی موجودگی کے باوجود سیاہ کاری اور ریاکاری نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کوّا بنیادی طور سے سادہ مزاج اور شریف النفس پرندہ ہے ۔ اس کی سادگی اور ایثار پَروری کا یہ عالم ہے کہ کوئل بھی اس کی ان صفات سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ اقبال کا شاہین جو پہاڑوں کی چٹانوں میں بسیرا کرتا ہے اور شاعر مشرق کی ہدایات کے بموجب کبھی قصر سلطانی کے گنبد پر اپنا نشیمن بناکر نہیں رہتا۔ اس کی دیکھا دیکھی کوئل بھی اپنا گھونسلہ نہیں بناتی اور کوّے کی لاعلمی میں اپنے انڈے کوّے کے گھونسلے میں دے آتی ہے۔ کوّے کی مادہ اور خود کوّا مذکورہ انڈوں کو اپنے ہی انڈے سمجھ کر سہتے رہتے ہیں۔ یہ تو انڈے سہنے کے نتیجے کی برآمدگی کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ان کی مذکورہ تخلیق میں ان کی صورت کی جھلکیاں ہی نہیں ملتیں بلکہ ان میںکوئل کی شبیہہ نظر آتی ہے۔ اس انکشاف کے بعد وہ اپنی ممتا اور پدرانہ شفقت کا گلا گھونٹ کر اپنے گھونسلے سے ان چوزوں کو مار بھگاتے ہیں۔ ہمار ا ذاتی خیال یہی ہے کہ انسان کوّے کی برائیوں کو دیکھنے کی بجائے اس کے ان مثبت پہلوؤں پر بھی غور کرے کیونکہ اس کا اولاد آدم سے ازلی رشتہ ہے اور انسان نے اس سے بہت سے علوم و فنون بھی سیکھے ہیں اس لئے اسے اَبد تک نباہنے کیلئے کم از کم استاد کی حیثیت سے تسلیم کرتے ہوئے اس پر ہجو لکھنے کی بجائے اس کے متعلق کچھ طربیہ گیت لکھ کر اس کا حق شاگردی ہی ادا کردیا جائے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rafi Abbasi

Read More Articles by Rafi Abbasi: 109 Articles with 79493 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Jun, 2017 Views: 771

Comments

آپ کی رائے