پاکستان کی جیت کشمیریوں کی عید

(Tahir Farooqi, muzaffarabad)
پاکستان کی جیت کشمیریوں کی عید

اللہ کی انسانی کائنات میں سب حیران ہو کر رہے جاتے ہیں ۔جب ایسے لمحات کا وہم گمان بھی نہ ہو جو خوش یا غم بن کر سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیں ۔زلزلے کے دن کے چند لمحات نے ساری قوم کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔اسلام آباد مری ،ہزارہ ،مظفرآباد،پونچھ ڈویژن بربادی کے منظر بنے ۔زندگی سے یہاں کے عوام کو نامید کر چکے تھے تو ساری قوم مسیحا بن کر نئی زندگی کا مضبوط سہارا بن گئی جو قدرت کے کمالات کا معجزہ تھا اور انسانیت کی بلندی کا عظیم الشان اظہار بھی تھا ۔جب پاکستان کے عوام صرف پاکستانی ہی تھے اور ایک بڑے سے بڑے چیلنجز سے نبردآزماء ہونے والی قوم ثابت ہوئی اس زلزلے کے اثرات مقبوضہ کشمیر میں بھی ہوئے تھے مگر وہاں زلزلے سے سیلاب تک کوئی مدد کرنے والا نہیں آیا ۔کشمیری عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت ہی خود کو سنبھالا تھا یہ صبر و استقامت بھی عطائے خداوندی تھا اور ہے ۔مقبوضہ کشمیر کے عوام زلزلے سیلاب سے بڑے سلسل جبر و قہر کا سامنا کر رہے ہیں ۔سات لاکھ افواج کے جبر و قہر کے سامنے نہتے گولیوں سے اپنی آنکھوں کی روشنی گنواتے چہرے سمیت جسم کو چھلنی کی طرح داغ دار کراتے ،سینوں پر گولیاں کھا کر سبز ہلالی پرچم لہراتے ہوئے اپنی جان جان آفرین کے سپرد کرکے قربان ہونے جانے والوں کے چہروں پر سفر آخرت پر رخصت ہوئے ۔مسکراہٹ راحت فتح کے جذبوں کا تسلسل بن جاتی ہے یہ ہے وہ طاقت جو قوموں کو منزل سے ہمکنار کرتی ہے ۔مملکت پاکستان کے قیام کیلئے عظیم الشان جدوجہد میں اسی طرح بھارت اور بنگلا دیش کے عوام نے قربانیاں دیں اور موجودہ پاکستان کے عوام جو بطور مسلم اکثریت میں تھے سمیت سب نے منزل کے حصول پر جشن منائے اور آزادی سے سرفراز ہو گئے ۔کرکٹ کے میچ سب ہی ممالک کی ٹیمیں ایکدوسرے کے ساتھ کھیلتی ہیں مگر جب جب پاک بھارت ٹیمیں سامنے آتیں ہیں تو صورتحال ہی ایک جذباتی جنگ بن کر چھا جاتی ہے جس کا اظہار سارے ٹورنامنٹ کے آغاز سے اختتام تک بلکہ اسک کے بعد بھی زیادہ قوت کے ساتھ ساری دنیا دیکھتی ہے ۔جیسا کہ آئی سی سی چیمپےئن شپ کے فائنل والے دن اور پاکستان کی جیت کے بعد سے اب تک جاری ہے اور مزید آئندہ چیمپےئن شپ تک اس کے اثرات موجود رہیں گے اس دن اور پھر رات سے اگلی صبح تک سارے دن ملک اور بیرون ملک جہاں جہاں پاکستانی آباد ہیں سب ہی صرف اور صرف پاکستانی تھے پاکستان کے نعرے لگا رہے تھے پاکستان کے پرچم سربلند کرتے ہوئے وطن سے محبت کے دیوانے بنے ہوئے تھے ۔ہر مسلمان ہندو ،سکھ ،بت مت ،عیسائی ،پنجابی ،بلوچی پٹھان سندھی مہاجر تھے نہ امیر غریب سنی ،شیعہ ،وہانی تھے بلکہ صرف اور صرف پاکستانی تھے ۔انکا یہ حال تھا تو پھر کشمیریوں کا حال تو وہی جانتے ہیں ۔جنہوں نے آزادی کی تحریکوں میں اپنا سارا خاندان ،جائیدادیں ،اثاثے حتیٰ کہ جانیں اور ان سے بھی مقدس عصمتیں تک قربان کر دیں ۔کشمیری گزشتہ ستر برس سے حریت کی تاریخ کا ایک عظیم الشان جدوجہد سے عبارت باب رقم کرتے چلے آرہے ہیں ۔سب کی فائنل پاکستانی ٹیم جیتے گی یا نہیں جیتے گی کہ حوالہ سے اظہار میں سوالیہ کیفیت تھی ۔مگر میرا دل کہتا تھا یہ ٹیم جیتی تو پھر مقبوضہ کشمیر کے عوام کی دعاؤں سے جیتے گی جو میچ سے پہلے ہی مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے ممبر انجینئر رشید سمیت بھارت کے میڈیا سے جنگ لڑ رہے تھے ہم پاکستان ٹیم کے ساتھ ہیں وہ ہی جیتے گی ۔ان کے اظہار میں یقین محکم تھا کہیں بھی لرزش نہ تھی اور پھر وہی ہوا بھارت کے مقابلے میں پاکستانی ٹیم جسے کمزور خیال کیا جا رہا تھا ۔وہی ٹیم آغاز سے اختتام تک ایسا کھیلی کہ بھارت کی ٹیم کی جیت کو وقت سے پہلے ہی سوالیہ نشان بناتے ہوئے کھیل کے سب بڑے بڑے تجزیہ نگاروں کے چھکے چھڑا دئیے ۔یقیناً اس زبردست کامیابی میں ساری ٹیم کی اپنی ساری قوت ،صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے قابل رشک محنت تھی ۔ملت پاکستان کے ہر فرد کی سچی دعائیں تھیں ۔مگر ان کی قبولیت کا اثر جنگ و جدل کے میدان میں کشمیری نوجوانوں کا لہو تھاجو اللہ کو بہت پسند ہے بہنوں ،بیٹیوں کی التجا تھی اللہ ہمیں پاکستانی ٹیم کی جیت دکھا دے ۔کیونکہ یہ عصمتیں اور جانیں قربان کرنے والے ہی جانتے ہیں ۔آزادی کی قدر و قیمت ،عظمت سارے جہان کی حکومتوں سے برتر ہے ۔جو جانتے تھے پاکستان کی جیت کے بدلے ہمیں بھارتی قابض افواج کی گولیاں کھا کر شکر الحمد للہ کہنا ہے اور دوسرے دن کشمیری نوجوان قابض افوان کی گولیوں سے شہید ہو کر رب کا شکر ادا کرنے اس کے پاس چلے گئے سجدہ وہ ہوتا ہے جو ایک لمحہ میں جگہ مقام سب کچھ دیکھے بغیر انسان کو سجدے میں لے جائے ۔جب پاکستانی ٹیم کامیابی کے بعد سجدے میں گئی تو کشمیر کی مائیں بہنیں ،بیٹیوں ،بزرگوں اور جوانوں حتیٰ کہ معصوم بچوں نے سجدوں سے سر اٹھا کر خوشی کے آنسوؤں کے ساتھ شکر ادا کیا ۔گھروں سے نکل کر آتش بازی کرتے ہوئے سبز ہلالی پرچم اٹھائے ہم پاکستانی ہیں ۔پاکستان ہمارا ہے نعرہ لگاتے کشمیری نوجوانوں نے ہر گلی ،محلہ کونے کونے میں جشن منایا ۔جس میں صرف مسلم ہی نہیں ہندو ،سکھ ،عیسائی ،بت مت سب ہی کشمیری شامل تھے ۔جنہوں نے کتنی ہی عیدیں غم و عالم خون کے آنسو بہاتے ہوئے منائیں مگر پاکستانی ٹیم کی جیت نے انکو عید سے پہلے ہی عید کی ایسی خوشیاں دیں وہ اپنے پہاڑوں جیسے دکھ درد بھول کر دیوانوں کی طرح جھوم اُٹھے ۔ان سے پوچھو آزادی اور لفظ پاکستان کی کی قدر ومنزلت دنیا کی سب نعمتوں خزانوں سے بڑھ کر ہے ۔پاکستانی کی قیادت اور ملت جس طرح کرکٹ کے میدان میں کھیل شروع ہونے سے لے کر اختتام کے بعد تک صرف اور صرف پاکستان ایک قوم نظر آئی ۔اسی طرح صرف پاکستان بن کر پاکستان کے مفاد میں سوچتے ہوئے آگے بڑھتی رہے تو یقیناً یہ نہ صرف ترکی طرح ساری دنیا میں معتبر کردار بن جائے بلکہ ترقی و خوشحالی کے میدان میں نہ صرف سارے عالم میں تسلیم ہو بلکہ اسلامی دنیا کی قیادت کا فریضہ بھی اس کا مقدر نصیب ہے مگر صرف کھیل کے میدان نہیں ہر میدان میں پاکستانی بن کر رہنا ہوگا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Farooqi

Read More Articles by Tahir Farooqi: 205 Articles with 70972 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Jun, 2017 Views: 324

Comments

آپ کی رائے