داتا اللہ ہے

(Muhammad Muddasir, Lahore )
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ایک محترم بھائی نے فرمایا داتا صرف اللہ ہے کسی اور کو داتا کہنا شرک ہے۔ تو مختصر سی بات کرتا ہوں

١۔ داتا اللہ کا نام ہے کوئی مجھے اسمائے حسنیٰ میں داتا کا اسم دکھائے کہاں پر ہے؟

٢۔ بیشک داتا اللہ جل جلالہ ہے لیکن کسی اور کو داتا کہنے سے شرک کیسے لازم آیا جبکہ ہم جانتے ہیں ہمارا ایمان ہے کہ اللہ کو کسی نے داتا نہیں بنایا۔ یہ اس کی اپنی صفت ہے۔ لیکن مخلوق میں سے کسی کو داتا کہا جائے تو ہمارا ایمان ہے کہ یہ انسان اللہ کا ولی، اگر داتا ہے تو اللہ کی عطا سے۔ یہ ذاتا داتا نہیں ہے۔ جب فرق واضح ہے تو برابری کہاں لازم آئی، شرکت کیسے پائی گئی۔ یا پھر آپ فرما دو کہ وہی داتا ہے اور وہ کسی کو داتا نہیں بناتا؛ وہی سخی ہے اور وہ کسی کو سخی نہیں بناتا۔ پھر یہ بھی کہنا پڑے گا اللہ کے پاس ہے تو سب کچھ لیکن وہ کسی کو کچھ دیتا نہیں۔ اور یہ جان لیں کہ یہ یہودیوں کا عقیدہ ہے۔ (نعوذ باللہ من ذلک)

٣۔ اللہ نے فرمایا: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔۔۔ تسمیہ میں لفظ رحیم کا ذکر ہے یہ یقیناً اللہ کا نام ہے اور اسمائے حسنیٰ میں سے ہے۔ تو آپ کے اعتبار سے اگر کسی کو رحیم کہا جائے تو شرک لازم آئے گا تو کیا یہ فتویٰ آپ اللہ پر لگائیں گے کہ اس نے خود اپنے محبوب کو اپنا شریک ٹھہرا لیا (نعوذ باللہ من ذلک)۔ آپ یہ فتویٰ نہیں لگا سکتے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لقد جآءکم رسول من انفسکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ بالمومنین رؤف رحیم (سورہ: توبہ، آیت نمبر: ١٢٨)
اللہ تعالٰی اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو رؤف رحیم فرما رہا ہے۔
اللہ بھی رؤف۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ کا محبوب بھی رؤف
اللہ بھی رحیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کا محبوب بھی رحیم

لگائیں فتویٰ!!!!!!!!
مسلمان عقل سلیم والا جانتا ہے کہ اللہ رحیم ہے یہ اس کی اپنی صفت ہے۔ اس کو کسی نے رحیم نہیں بنایا لیکن حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم رحیم ہیں تو اللہ کی عطا سے۔ اللہ نے آپ کو رؤف اور رحیم بنایا۔ اللہ رحیم ہے تو اپنی ذات کے اعتبار سے اللہ کے محبوب رحیم ہیں تو اللہ کی عطا سے۔ ادھر رحمت صفت ذاتی ہے ادھر رحمت صفت عطائی ہے۔ اسی طرح اللہ داتا ہے تو اپنی ذات کے اعتبار سے اور کوئی بندہ حق داتا ہے تو اللہ کی عطا سے۔ اللہ رحیم ہے اس کے محبوب کو رحیم کہنا جائز ہے بلکہ برحق ہے کہ اللہ نے خود آپ کو رحیم فرمایا تو اللہ داتا ہے تو اس کے محبوب مقرب بندے کو داتا کہنا بھی جائز ہے۔

٤۔ وھو العلی العظیم (آیت الکرسی)
اور وہ علی عظیم ہے یعنی بلند بالا عظمت والا
اللہ کا نام علی ہے اسمائے حسنیٰ میں بھی آیا ہے آیت الکرسی میں بھی ہے تو ذرا غور فرمائیں۔
اللہ بھی علی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کے محبوب کا داماد، حضرت زہرہ کا شوہر، حسنین کریمین کا بابا بھی علی۔۔۔
علی اللہ کا نام ہے۔ اللہ کے محبوب نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام کیوں نہ بدلا بلکہ اپنے داماد کو یاعلی کہہ کر پکارا ہے۔۔۔لگائو فتویٰ نبی پاک پر!!!!!!! (نعوذ باللہ من ذلک)

میرے بھائی بات یہ ہے کچھ نام اللہ کے ذاتی ہیں، اسم جلالت ہیں۔ باقی نام صفاتی ہیں۔ جو اسم جلالت ہیں وہ نام ہم کسی آدم کو نہیں دے سکتے۔ لیکن جو صفاتی ہیں وہ صفات مخلوق میں ہو سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی صفات کو انسان میں رکھ کر پیدا فرمایا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
ان اللہ خلق اٰدم علی صورتہ۔۔۔۔۔ او کما قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم
بیشک اللہ نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا۔

صورت شکل کو کہتے ہیں جس میں رنگت ہوتی ہے، نقش و نگار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالٰی تو ان چیزوں سے پاک ہے۔ تو محدثین فرماتے ہیں کہ یہاں صورت سے مراد صفات ہیں۔ کہ اللہ تعالٰی نے آدم علیہ السلام کو اپنی صفات پر پیدا فرمایا اور وہ صفات ٨ ہیں جن کو اللہ نے انسان میں رکھ کر تخلیق فرمایا۔
١۔ حیات
٢۔علم
٣۔سمع
٤۔بصر
٥۔ارادہ
٦۔قدرت
٧۔کلام
٨۔تکوین

انسان اللہ کے جتنا قریب ہوتا ہے اس میں ان صفات کی صلاحیت اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے اور انسان اللہ سے جتنا دور ہوتا ہے اتنی ہی یہ صلاحیتیں اس میں کم پائی جاتی ہیں۔

لیجئے اب غور فرمائیں یہ صفات اللہ کی ہیں اور مخلوق میں بھی پائی جا رہی ہیں۔ تو کیا شرک ہوا؟ نہیں ہوا کیونکہ یہ صفات اللہ کی ذاتی ہیں اور مخلوق کی عطائی، لہٰذا شرکت لازم نہیں آتی۔ فرق واضح ہے۔

اسم جلالت اللہ اور رحمٰن ہے باقی اللہ کی صفات ہیں۔ اللہ رحیم ہے مخلوق میں سے وہ جس کو چاہے رحیم بنا دے۔ اللہ رؤف ہے وہ جسے چاہے رؤف بنا دے۔ وہ کریم ہے جسے چاہے کریم بنا دے۔ وہ داتا ہے جسے چاہے داتا بنا دے۔ آپ کو یا مجھے اعتراض کی کیا مجال؟

اللہ داتا ہے ذات کے اعتبار سے، حضرت سیدنا علی بن عثمان الہجویری رحمہ اللہ علیہ داتا ہیں تو اللہ کی عطا سے۔ اللہ ان کو نوازتا ہے وہ لوگوں کو نوازتے ہیں۔ اللہ کو سخی بہت پسند ہے۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم ورسولہ بالصواب۔

جو یقین کی راہ پر چل پڑے انہیں منزلوں نے پناہ دی
جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا وہ قدم قدم پر بہک گئے
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 3077 Print Article Print
About the Author: Muhammad Muddasir

Read More Articles by Muhammad Muddasir: 4 Articles with 7913 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

بندے نے 6 نومبر کو ذیشان صاحب کے 31 اکتوبر والے کملٹس کا تفصیل سے جواب دیا تھا۔ لیکن میں کمنٹس ابھی تک ظاہر نہیں ہوۓ۔ بہرحال میں ان کا منتظر ہوں۔ میں نے ذیشان صاحب سے یہ دریافت کیا تھا کہ کی آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو مصیبت کہنے والے کو کیا کہیں گے۔ اس کی تفصیل کے لیے فیس بک پر میی مندرجہ ذیل پوسٹ دیکھ لیجیے۔
https://www.facebook.com/photo.php?fbid=359219327582752&set=a.359219454249406.1073741828.100004840629814&type=1&theater
By: Baber Tanweer, Karachi on Nov, 07 2014
Reply Reply
0 Like
آپ کے کمنٹس پر کہنے کو اور بہت کچھ ہے۔ وقت ملنے کا ساتھ ساتھ پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Nov, 06 2014
Reply Reply
0 Like
((((((((((((((دعا عرضِ حاجت ہے اور اجابت یہ ہے کہ پروردگار اپنے بندے کی دعا پر(((((((((((((((((('' لَبَیْکَ عَبْدِیْ '' فرماتا ہے))))))))))))))))))))
یہ جو آپ نے" لبیک عبدی" لکھا ہے، اگر میں آپ سے پوچھوں کہ یہ کہاں ہے تو مجھے یقین ہے کہ آپ نہیں بتا سکیں گے۔ لیجیے میں بتا دیتا ہوں۔
جہاں سے آپ نے یہ عبارت کوٹ کی ہے اس روایت کی رو سے جب بندہ اللہ تعالی کو پکارتا ہے تو فرشتے بار بار اللہ سے اس کا پکارنا چھپاتے ہیں اور پھر آخر میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ فرشتو! کب تک مجھ سے میرے بندے کا پکارنا چھپاؤ گے۔ ادہر یہ اثر اور ادھر سورہ بقرہ کی آیت نمبر 186 جو کہ پہلے پیش کی جاچکی ہے ۔ کتنی جسارت ہے اس بات میں کہ کہنے والا کہہ رہا ہے کہ فرشتے اللہ سے اس کے بندے کا پکارنا چھپا لیتے ہیں اور دوسری طرف اللہ تعالی کہہ رہا ہے کہ میں تو اپنے اپنے بندے کی شہہ رگ سے بھی قریب ہوں۔ بہر حال اس اثر کی تحقیق پیش خدمت ہے۔ عربی میں پیش کر رہا ہوں ترجمہ اپنی اسے سائٹ سے کروا لیجیے گا۔ جس کا آپ نے حوالہ دیا ہے۔
الحمد لله
لم يصح حديث في أن الملائكة تحجب صوت العبد عن الله عز وجل ، وكيف ذلك وهي تعلم أن الله يعلم السر وأخفى ، وأنه سبحانه لا يخفى عليه شيء في الأرض ولا في السماء ، فإذا لم يكن للحديث الذي يحمل هذا المعنى شاهدٌ صحيحٌ من حيث السند ، ولا له وجهٌ صحيح من حيث المعنى والنظر ؛ فهو حديث مردود سندا ومتنا .
وقد بحثنا عن نص هذا الحديث فلم نجده مرفوعا في كتب السنة ، وإنما يذكره الغزالي في "إحياء علوم الدين" (4/152) وأبو طالب المكي في "قوت القلوب" من كلام محمد بن صعب ، وهو رجل مجهول غير معروف ، إلا أن يكون المقصود محمد بن مصعب ( بالميم في أوله ) المتوفَّى سنة (227هـ) ، والغزالي وأبو طالب المكي يتساهلان في إيراد كل أثر ولو كان مردودا أو منكرا أو حتى كان موضوعا .
اور افسوس تو ہمیں ان علماء پر ہے جو کہ لوگوں کا من مانی تاویلات میں الجھا کر دین حق سے بھٹکا رہے ہیں۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Nov, 06 2014
Reply Reply
0 Like
aur ye ayat (وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌؕ اُجِیۡبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِۙ فَلْیَسْتَجِیۡبُوۡا لِیۡ وَلْیُؤْمِنُوۡا بِیۡ لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُوۡنَ﴿۱۸۶﴾
) pesh kar k iska mandarja zail SHAN-E-NUZOOL bhi awam ko bata dia jaey to behtar hota)))))))))

TAFSEER:
اس میں طالبان حق کی طلب مولیٰ کا بیان ہے جنہوں نے عشق الہٰی پر اپنے حوائج کو قربان کردیا وہ اسی کے طلبگار ہیں انہیں قرب ووصال کے مژدہ سے شاد کام فرمایا شان نزول :ایک جماعت صحابہ نے جذبہ عشق الٰہی میں سید عالم صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم سے دریافت کیا کہ ہمارا رب کہاں ہے اس پر نوید قرب سے سرفراز کرکے بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ مکان سے پاک ہے جو چیز کسی سے مکانی قرب رکھتی ہے وہ اس کے دور والے سے ضرور بعد رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ سب بندوں سے قریب ہے مکانی کی یہ شان نہیں منازل قرب میں رسائی بندہ کو اپنی غفلت دور کرنے سے میسر آتی ہے۔ دوست نزدیک تراز من بمن ست ۔ ویں عجب ترکہ من ازوے دورم
(ف334)))))))))))))))))))))))))
یہاں عرض کردوں کہ جو تفسیر آپ نے پیش کی وہ باطل تفسیر ہے۔ اس کا سبب بھی بتاتا ہوں لیکن پہلے لفظ "عشق" کے بارے میں ایک بات پوچھ لوں کہ لفظ عشق عربی کا لفظ ہے اور اس کا کیا سببب ہے کہ انبیاء اور صحابہ وغیرہ نے کبھی یہ لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ لفظ حب جو کہ محبت کے ہم معنی ہے استعمال کیا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟
اور دوسری بات یہ کہ اس آیت میں طلب مولی نہیں بلکہ اللہ تعالی کے حضور دعا مانگنے کی ترغیب کی بیان ہے۔ دوبارہ تفسیر ابن کثیر سے اس کی تفسیر پیش کردیتا ہوں_________دعا اور اللہ مجیب الدعوات
ایک اعرابی نے پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا ہمارا رب قریب ہے؟ اگر قریب ہو تو ہم اس سے سرگوشیاں کر لیں یا دور ہے؟ اگر دور ہو تو ہم اونچی اونچی آوازوں سے اسے پکاریں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے اس پر یہ آیت اتری (ابن ابی حاتم) ایک اور روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال پر کہ ہمارا رب کہاں ہے؟یہ آیت اتری (ابن جریر) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جب آیت (ادعونی استجب لکم) نازل ہوئی یعنی مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کرتا رہوں گا تو لوگوں نے پوچھا کہ دعا کس وقت کرنی چاہئے؟ اس پر یہ آیت اتری (ابن جریج) حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ کا بیان ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے ہر بلندی پر چڑھتے وقت اور ہر وادی میں اترتے وقت بلند آوازوں سے تکبیر کہتے جا رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس آکر فرمانے لگے لوگو! اپنی جانوں پر رحم کرو تم کسی کم سننے والے یا دور والے کو نہیں پکار رہے بلکہ جسے تم پکارتے ہو وہ تم سے تمہاری سواریوں کی گردن سے بھی زیادہ قریب ہے، اے عبداللہ بن قیس ! سن لو! جنت کا خزانہ لاحول ولاقوۃ الا باللہ ہے (مسند احمد) حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی فرماتا ہے میرا بندہ میرے ساتھ جیسا عقیدہ رکھتا ہے میں بھی اس کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرتا ہوں جب بھی وہ مجھ سے دعا مانگتا ہے میں اس کے قریب ہی ہوتا ہوں(مسند احمد) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ میرا بندہ جب مجھے یاد کرتا ہے اور اس کے ہونٹ میرے ذکر میں ہلتے ہیں میں اس کے قریب ہوتا ہوں اس کو امام احمد نے روایت کیا ہے۔ اس مضمون کی آیت کلام پاک میں بھی ہے فرمان ہے آیت (ان اللہ مع الذین اتقوا والذین ہم محسنون ) جو تقویٰ واحسان وخلوص والے لوگ ہوں ان کے ساتھ اللہ تعالٰی ہوتا ہے، حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام سے فرمایا جاتا ہے آیت (انی معکما اسمع واری) میں تم دونون کے ساتھ ہوں اور دیکھ رہا ہوں، مقصود یہ ہے کہ باری تعالٰی دعا کرنے والوں کی دعا کو ضائع نہیں کرتا نہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ اس دعا سے غافل رہے یا نہ سنے اس نے دعا کرنے کی دعوت دی ہے اور اس کے ضائع نہ ہونے کا وعدہ کیا ہے، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بندہ جب اللہ تعالٰی کے سامنے ہاتھ بلند کر کے دعا مانگتا ہے تو وہ ارحم الراحمین اس کے ہاتھوں کو خالی پھیرتے ہوئے شرماتا ہے (مسند احمد) حضرت ابو سعید خدر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو بندہ اللہ تعالٰی سے کوئی ایسی دعا کرتا ہے جس میں نہ گناہ ہو نہ رشتے ناتے ٹوٹتے ہوں تو اسے اللہ تین باتوں میں سے ایک ضرور عطا فرماتا ہے یا تو اس کی دعا اسی وقت قبول فرما کر اس کی منہ مانگی مراد پوری کرتا یا اسے ذخیرہ کر کے رکھ چھوڑتا ہے اور آخرت میں عطا فرماتا ہے یا اس کی وجہ سے کوئی آنے والی بلا اور مصیبت کو ٹال دیتا ہے، لوگوں نے یہ سن کر کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر تو ہم بکثرت دعا مانگا کریں گے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر اللہ کے ہاں کیا کمی ہے؟ (مسند احمد) عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ روئے زمین کا جو مسلمان اللہ عزوجل سے دعا مانگے اسے اللہ تعالٰی قبول فرماتا ہے یا تو اسے اس کی منہ مانگی مراد ملتی ہے یا ویسی ہی برائی ٹلتی ہے جب تک کہ گناہ کی اور رشتہ داری کے کٹنے کی دعا نہ ہو (مسند احمد) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تک کوئی شخص دعا میں جلدی نہ کرے اس کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے جلدی کرنا یہ کہ کہنے لگے میں تو ہر چند دعا مانگی لیکن اللہ قبول نہیں کرتا (موطا امام مالک) بخاری کی روایت میں یہ بھی ہے کہ اسے ثواب میں جنت عطا فرماتا ہے، صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ نامقبولیت کا خیال کر کے وہ نا امیدی کے ساتھ دعا مانگنا ترک کرے دے یہ جلدی کرنا ہے، ابو جعفر طبری کی تفسیر میں یہ قول حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان کیا گیا ہے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دل مثل برتنوں کے ہیں بعض بعض سے زیادہ نگرانی کرنے والے ہوتے ہیں، اے لوگوں تم جب اللہ تعالٰی سے دعا مانگا کرو تو قبولیت کا یقین رکھا کرو، سنو غفلت والے دل کی دعا اللہ تعالٰی ایک مرتبہ بھی قبول نہیں فرماتا (مسند احمد) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے دعا کی کہ الہ العالمین! عائشہ کے اس سوال کا کیا جواب ہے؟ جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا اللہ تعالٰی آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے مراد اس سے وہ شخص ہے جو نیک اعمال کرنے والا ہو اور سچی نیت اور نیک دلی کے ساتھ مجھے پکارے تو میں لبیک کہہ کر اس کی حاجت ضرور پوری کر دیتا ہوں(ابن مردویہ) یہ حدیث اسناد کی رو سے غریب ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا اے اللہ تو نے دعا کا حکم دیا ہے اور اجابت کا وعدہ فرمایا ہے میں حاضر ہوں الٰہی میں حاضر ہوں الٰہی میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں اے لاشریک اللہ میں حاضر ہوں حمد و نعمت اور ملک تیرے ہی لئے ہے تیرا کوئی شریک نہیں میری گواہی ہے کہ تو نرالا یکتا بےمثل اور ایک ہی ہے تو پاک ہے، بیوی بچوں سے دور ہے تیرا ہم پلہ کوئی نہیں تیری کفو کا کوئی نہیں تجھ جیسا کوئی نہیں میری گواہی کہ تیرا وعدہ سچا تیری ملاقات حق جنت ودوزخ قیامت اور دوبارہ جینا یہ سب برحق امر ہیں(ابن مردویہ) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے اے ابن آدم! ایک چیز تو تیری ہے ایک میری ہے اور ایک مجھ اور تجھ میں مشترک ہے خالص میرا حق تو یہ ہے کہ ایک میری ہی عبادت کرے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔ گویا میرے لیے مخصوص یہ ہے کہ تیرے ہر ہر عمل کا پورا پورا بدلہ میں تجھے ضرور دوں گا کسی نیکی کو ضائع نہ کروں گا مشترک چیز یہ ہے کہ تو دعا کر اور میں قبول کروں تیرا کام دعا کرنا اور میرا کام قبول کرنا (بزار) دعا کی اس آیت کو روزوں کے احکام کی آیتوں کے درمیان وارد کرنے کی حکمت یہ ہے کہ روزے ختم ہونے کے بعد لوگوں کو دعا کی ترغیب ہو بلکہ روزہ افطار کے وقت وہ بکثرت دعائیں کیا کریں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ روزے دار افطار کے وقت جو دعا کرتا ہے اللہ تعالٰی اسے قبول فرماتا ہے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ افطار کے وقت اپنے گھر والوں کو اور بچوں کو سب کو بلا لیتے اور دعائیں کیا کرتے تھے (ابوداود طیالسی) ابن ماجہ میں بھی یہ روایت ہے اور اس میں صحابی کی یہ دعا منقول ہے دعا اللہم انی اسألک برحمتک اللتی وسعت کل شئی ان تغفرلی یعنی اے اللہ میں تیری اس رحمت کو تجھے یاد دلا کر جس نے تمام چیزوں کو گھیر رکھا ہے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے گناہ معاف فرما دے اور حدیث میں تین شخصوں کی دعا رد نہیں ہوتی عادل بادشاہ، روازے دار اور مظلوم اسے قیامت والے دن اللہ تعالٰی بلند کرے گا مظلوم کی بددعا کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالٰی فرماتا ہے مجھے میری عزت کی قسم میں تیری مدد ضرور کروں گا گو دیر سے کروں(مسند، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ )
جو آپ نے پیش کیا اور جو میں نے پیش کیا دونوں کا موازنہ غیر جانبدار ہو کر کیجیے گا۔ ان شاء اللہ آپ حق بات کو پہچان لیں گے۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Nov, 06 2014
Reply Reply
0 Like
یہ بھی سورہ فاتحہ کی متعلقہ آیت کی تفسیر ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ آپ کی نظر سے کبھی نہیں گذری ہوگی۔ اور میری آپ سے درخواست ہے کہ کسی بھی موضوع پر بجاۓ یہ کہ اپنی من پسند تفسیر سے استفادہ کریں آپ مختلف مکاتب فکر کی کتب کا مطالعہ کریں تاکہ آپ پر حق واضح ہو جاۓ۔ میں نے بھی یہی کیا تھا اور مجھے اس تحقیق میں ایک عرصہ لگا۔ اور نتیجہ یہ نکلا کہ پھر میں نے تمام بدعتی عقائد سے توبہ کرتے ہوۓ منہج السلف کو اپنا لیا۔__________________________________ف۱ عبادت کے معنی ہیں کسی کی رضا کے لیے انتہائی عاجزی اور کمال خشوع کا اظہار اور بقول ابن کثیر شریعت میں کمال محبت خضوع اور خوف کے مجموعے کا نام ہے، یعنی جس ذات کے ساتھ محبت بھی ہو اس کی ما فوق الاسباب ذرائع سے اس کی گرفت کا خوف بھی ہو۔ سیدھی عبارت ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے مدد چاہتے ہیں۔ نہ عبادت اللہ کے سوا کسی اور کی جائز ہے اور نہ مدد مانگنا کسی اور سے جائز ہے۔ ان الفاظ سے شرک کا سدباب کر دیا گیا لیکن جن کے دلوں میں شرک کا روگ راہ پا گیا ہے وہ ما فوق الاسباب اور ما تحت الاسباب استعانت میں فرق کو نظر انداز کر کے عوام کو مغالطے میں ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو ہم بیمار ہو جاتے ہیں تو ڈاکٹر سے مدد حاصل کرتے ہیں بیوی سے مدد چاہتے ہیں ڈرائیور اور دیگر انسانوں سے مدد کے طالب ہوتے ہیں اس طرح وہ یہ باور کراتے ہیں کہ اللہ کے سوا اوروں سے مدد مانگنا بھی جائز ہے۔ حالانکہ اسباب کے ما تحت ایک دوسرے سے مدد چاہنا اور مدد کرنا یہ شرک نہیں ہے یہ تو اللہ تعالٰی کا بنایا ہوا نظام ہے۔ جس میں سارے کام ظاہر اسباب کے مطابق ہی ہوتے ہیں حتی کہ انبیاء بھی انسانوں کی مدد حاصل کرتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا (من انصاری الی اللہ) اللہ کے دین کیلئے کون میرا مددگار ہے؟ اللہ تعالٰی نے اہل ایمان کو فرمایا (وتعانوا علی البر والتقوی) نیکی اور تقوی کے کاموں پر ایک دوسرے کی مدد کرو ظاہر بات ہے کہ یہ تعاون ممنوع ہے نہ شرک بلکہ مطلوب و محمود ہے۔ اسکا اصطلاحی شرک سے کیا تعلق؟ شرک تو یہ ہے کہ ایسے شخص سے مدد طلب کی جائے جو ظاہری اسباب کے لحاظ سے مدد نہ کر سکتا ہو جیسے کسی فوت شدہ شحص کو مدد کے لیے پکارنا اس کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھنا اسکو نافع وضار باور کرنا اور دور نزدیک سے ہر ایک کی فریاد سننے کی صلاحیت سے بہرہ ور تسلیم کرنا۔ اسکا نام ہے ما فوق الاسباب طریقے سے مدد طلب کرنا اور اسے خدائی صفات سے متصف ماننا اسی کا نام شرک ہے جو بدقسمتی سے محبت اولیاء کے نام پر مسلمان ملکوں میں عام ہے۔ اعاذنا اللہ منہ۔ توحید کی تین قسمیں۔ اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ توحید کی تین اہم قسمیں بھی مختصرا بیان کر دی جائیں۔ یہ قسمیں ہیں۔ توحید ربوبیت۔ توحید الوہیت۔ اور توحید صفات ۔۱۔ توحید ربوبیت کا مطلب کہ اس کائنات کا مالک رازق اور مدبر صرف اللہ تعالٰی ہے اور اس توحید کو تمام لوگ مانتے ہیں، حتیٰ کہ مشرکین بھی اس کے قائل رہے ہیں اور ہیں، جیسا کہ قرآن کریم نے مشرکین مکہ کا اعتراف نقل کیا۔ مثلا فرمایا۔ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پوچھیں کہ آسمان و زمین میں رزق کون دیتا ہے، یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے اور بےجان سے جاندار اور جاندار سے بےجان کو کون پیدا کرتا ہے اور دنیا کے کاموں کا انتظام کون کرتا ہے؟ جھٹ کہہ دیں گے کہ (اللہ) (یعنی سب کام کرنے والا اللہ ہے) (سورہ یونس۳۱) دوسرے مقام پر فرمایا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پوچھیں کہ زمین اور زمین میں جو کچھ ہے یہ سب کس کا مال ہے؟ ساتواں آسمان اور عرش عظیم کا مالک کون ہے؟ ہرچیز کی بادشاہی کس کے ہاتھ میں ہے؟ اور وہ سب کو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابل کوئی پناہ دینے والا نہیں ان سب کے جواب میں یہ یہی کہیں گے کہ اللہ یعنی یہ سارے کام اللہ ہی کے ہیں۔ (المومنون ۸٤۔ ۸۹) وغیرھا من الآیات۔ ۲۔ توحید الوہیت کا مطلب ہے کہ عبادت کی تمام اقسام کا مستحق اللہ تعالٰی ہے اور عبادت ہر وہ کام ہے جو کسی مخصوص ہستی کی رضا کیلئے یا اس کی ناراضی کے خوف سے کیا جائے اس لئے نماز، روزہ، حج اور زکوۃ صرف یہی عبادات نہیں ہیں بلکہ کسی مخصوص ہستی سے دعا والتجاء کرنا، اسکے نام کی نذر نیاز دینا اس کے سامنے دست بستہ کھڑا ہونا اس کا طواف کرنا اس سے طمع اور خوف رکھنا وغیرہ بھی عبادات ہیں۔ توحید الوہیت یہ کہ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں اور مذکورہ عبادات کی بہت سی قسمیں وہ قبروں میں مدفون افراد اور فوت شدہ بزرگوں کے لئے بھی کرتے ہیں جو سراسر شرک ہے۔۳۔ توحید صفات کا مطلب ہے کہ اللہ تعالٰی کی جو صفات قرآن و حدیث میں بیان ہوئی ہیں انکو بغیر کسی تاویل اور تحریف کے تسلیم کریں اور وہ صفات اس انداز میں کسی اور کے اندر نہ مانیں۔ مثلا جس طرح اس کی صفت علم غیب ہے، یا دور اور نزدیک سے ہر ایک کی فریاد سننے پر وہ قادر ہے، کائنات میں ہر طرح کا تصرف کرنے کا اسے اختیار حاصل ہے، یا اس قسم کی اور صفات الہیہ ان میں سے کوئی صفت بھی اللہ کے سوا کسی نبی ولی یا کسی بھی شخص کے اندر تسلیم نہ کی جائیں۔ اگر تسلیم کی جائیں گی تو یہ شرک ہو گا۔ افسوس ہے کہ قبر پرستوں میں شرک کی یہ قسم بھی عام ہے اور انہوں نے اللہ کی مذکورہ صفات میں بہت سے بندوں کو بھی شریک کر رکھا ہے۔ اعاذنا اللہ منہ۔
توحید کی تین قسمیں۔
اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ توحید کی تین اہم قسمیں مختصرا بیان کردی جائیں ۔ یہ قسمیں ہیں ۔ توحید ربوبیت ،توحید الوہیت ، اور توحید صفات
۱۔ توحید ربوبیت کا مطلب ہے کہ اس کائنات کا خالق ، مالک ،رازق ،اور مدبر صرف اللہ تعالیٰ ہے ۔ اس توحید کو ملاحدہ و زنادقہ کے علاوہ تمام لوگ مانتے ہیں حتی کہ مشرکین بھی اس کے قائل رہے ہیں اور ہیں جیساکہ قرآن کریم نے مشرکیں مکہ اعتراف نقل کا ہے۔ مثلا فرمایا اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پوچھیں کہ تم آسمان و زمیں میں رزق کون دیتا ہے یا (تمہارے ) کانوں اور آنکھوں کامالک کون ہے اور بے جان سے جاندار اور جاندار سے بے جان کو کون پیدا کرتا ہے اور دنیا کے کاموں کا انتظام کون کرتا ہے ؟ جھٹ کہہ دیں گے کے اللہ (یعنی یہ سب کام کرنے والا اللہ ہے) سورۃ یونس ۳۱۔دوسرے مقام پر فرمایا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پوچھیں گے کہ آسمان و زمین کا خالق کون ہے ؟ تو یقینا یہی کہں گے کہ اللہ ( الزمر ۳۸۔ ایک اور مقام پر فرمایا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پوچھیں کہ زمین اور زمین میں جو کچھ ہے یہ سب کس کا مال ہے ؟ ساتوں آسمان اور عرش عظیم کا مالک کون ہے ؟ ہر چیز کی بادشاہی کس کے ہاتھ میں ہے ؟اور وہ سب کو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابل کوئی پناہ دینے والا نہیں ۔ ان سب کے جواب میں یہ یہی کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ یعنی یہ سارے کام اللہ ہی کے ہیں۔(المومنون ۸۹۔۸۴) وغیرھا من الایات۔
۲۔ توحید الوہیت کا مطلب ہے کہ عبادت کی تمام اقسام کی مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہے اور عبادت ہر وہ کام ہے جو کسی مخصوص ہستی کی رضا کے لئے ، یا اس کی ناراضی کے خوف سے کیا جائے ، اس لئے نماز ، روزہ ، حج اور زکوۃ صرف یہی عبادات نہیں بلکہ کسی مخصوص ہستی سے دعا و التجاء کرنا ۔ اس کے نام کی نذر ونیاز دینا اس کے سامنے دست بستہ کھڑا ہونا اس کا طواف کرنا اس سے طمع اور خوف رکھنا وغیرہ بھی عبادات ہیں ۔ توحید الوہیت میں شرک کا ارتکاب کرتے ہیں اور مذکورہ عبادات کی بہت سی قسمیں وہ قبروں میں مدفون افراد اور فوت شدہ بزرگوں کے لئے بھی کرتے ہیں جو سراسر شرک ہے ۔
۳۔ توحید صفات کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جو صفات قرآن وحدیث میں بیان ہوئی ہیں ان کو بغیر کسی تاویل اور تحریف کے تسلیم کریں اور وہ صفات اس انداز میں کسی اور کے اندر نہ مانیں ، مثلا جس طرح اس کی صفت علم غیب ہے یادور اور نزدیک سے ہر ایک کی فریاد سننے پر وہ قادر ہے کائنات میں ہرطرح کا تصرف کرنے کا اسے اختیار حاصل ہے یہ یا اس قسم کی اور صفات الٰہیہ ان میں سے کوئی صفت بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی نبی ، ولی یا کسی بھی شخص کے اندر تسلیم نہ کی جائیں ۔ اگر تسلیم کی جائیں گی تو یہ شرک ہوگا۔ افسوس ہے کہ قبر پرستوں میں شرک کی یہ قسم بھی عام ہے اور انہوں نے اللہ کی مذکورہ صفات میں بہت سے بندوں کو بھی شریک کررکھا ہے ۔ اعاذنااللہ منہ۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Nov, 06 2014
Reply Reply
0 Like
((((((((Ghairullah se madad ko najaiz qarar deny waly hazrat ye ayat "اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیۡنُؕ﴿۴﴾
"pesh karty waqt ye q bhool jaty hen aur awam ko nahi bataty k is me ZINDA MURDA QAREEB DUR ki koi bat he nahi...))))))))))))
ذیشان صاحب یہاں پھر آپ نے ایک بودا استدلال پیش کردیا۔ بھائ بھول تو آپ گۓ کہ یہاں بات اس ذات وحدہ لاشریک کی ہو رہی ہے جو کہ ہمیشہ سے زندہ تھا اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔ یہاں بات خالق کی ہو رہی ہے مخلوق کی نہیں۔ بات طویل ہوجاۓ گی لیکن اس امید پر کہ آپ آیت پر غور کریں گے میں تفسیر ابن کثیر سے اس آیت کی تفسیر پیش کردیتا ہوں۔
جب وہ آیت (ایاک نعبد و ایاک نستعین) کہتا ہے تو اللہ تعالٰی فرماتا ہے یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لئے وہ ہے جو وہ مانگے۔ پھر وہ آخر سورت تک پڑھتا ہے۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے یہ میرے بندے کے لئے ہے اور میرا بندہ جو مجھ سے مانگے اس کے لئے ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں (ایاک نعبد) کے معنی یہ ہیں کہ اے ہمارے رب ہم خاص تیری ہی توحید مانتے ہیں اور تجھ سے ڈرتے ہیں اور تیری اسی ذات سے امید رکھتے ہیں تیرے سوا کسی اور کی نہ ہم عبادت کریں، نہ ڈریں، نہ امید رکھیں۔ اور آیت (ایاک نستعین) سے یہ مراد ہے کہ ہم تیری تمام اطاعت اور اپنے تمام کاموں میں تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ قتادہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا حکم ہے کہ تم سب اسی کی خالص عبادت کرو اور اپنے تمام کاموں میں اسی سے مدد مانگو آیت (ایاک نعبد کو پہلے لانا اس لئے ہے کہ اصل مقصود اللہ تعالٰی کی عبادت ہی ہے اور مدد کرنا یہ عبادت کا وسیلہ اور اہتمام اور اس پر پختگی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ زیادہ اہمیت والی چیز کو مقدم کیا جاتا ہے اور اس سے کمتر کو اس کے بعد لایا جاتا ہے۔ واللہ اعلم۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہاں جمع کے صیغہ کو لانے کی یعنی ہم کہنے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر یہ جمع کے لئے ہے تو کہنے والا تو ایک ہے اور اگر تعظیم کے لئے ہے تو اس مقام پر نہایت نامناسب ہے کیونکہ یہاں تو مسکینی اور عاجزی ظاہر کرنا مقصود ہے اس کا جواب یہ ہے کہ گویا ایک بندہ تمام بندوں کی طرف سے خبر دے رہا ہے۔ بالخصوص جبکہ وہ جماعت میں کھڑا ہو یا امام بنا ہوا ہو۔ پس گویا وہ اپنی اور اور اپنے سب مومن بھائیوں کی طرف سے اقرار کر رہا ہے کہ وہ سب اس کے بندے ہیں اور اسی کی عبادت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور یہ ان کی طرف سے بھلائی کے لئے آگے بڑھا ہوا ہے بعض نے کہا ہے کہ یہ تعظیم کے لئے ہے گویا کہ بندہ جب عبادت میں داخل ہوتا ہے تو اسی کو کہا جاتا ہے کہ تو شریف ہے اور تیری عزت ہمارے دربار میں بہت زیادہ ہے تو اب آیت (ایاک نعبد و ایاک نستعین) کہا یعنی اپنے تئیں عزت سے یاد کر۔ ہاں اگر عبادت سے الگ ہو تو اس وقت ہم نہ کہے چاہے ہزاروں لاکھوں میں ہو کیونکہ سب کے سب اللہ تعالٰی کے محتاج اور اس کے دربار کے فقیر ہیں۔ بعض کا قول ہے کہ آیت (ایاک نعبد) میں جو تواضع اور عاجزی ہے وہ ایاک عبدنا میں نہیں اس لئے کہ اس میں اپنے نفس کی بڑائی اور اپنی عبادت کی اہلیت پائی جاتی ہے حالانکہ کوئی بندہ اللہ تعالٰی کی پوری عبادت اور جیسی چاہے ویسی ثنا و صفت بیان کرنے پر قدرت ہی نہیں رکھتا۔ کسی شاعر کا قول ہے (ترجمہ) کہ مجھے اس کا غلام کہہ کر ہی پکارو کیونکہ میرا سب سے اچھا نام یہی ہے اللہ تعالٰی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام عبد یعنی غلام ان ہی جگہوں پر لیا جہاں اپنی بڑی بڑی نعمتوں کا ذکر کیا جیسے قرآن نازل کرنا، نماز میں کھڑے ہونا، معراج کرانا وغیرہ۔ فرمایا آیت (الحمد للہ الذی انزل علی عبدہ) الخ فرمایا آیت (وانہ لما قام عبداللہ ) الخ فرمایا آیت (سبحان الذی اسری بعبدہ) ساتھ ہی قرآن پاک نے یہ تعلیم دی کہ اے نبی جس وقت تمہارا دل مخالفین کے جھٹلانے کی وجہ سے تنگ ہو تو تم میری عبادت میں مشغول ہو جاؤ۔ فرمان ہے آیت (ولقد نعلم یعنی ہم جانتے ہیں کہ مخالفین کی باتیں تیرا دل دکھاتی ہیں٠ تو ایسے وقت اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کر اور سجدہ کر اور موت کے وقت تک اپنے رب کی عبادت میں لگا
By: Baber Tanweer, Karachi on Nov, 06 2014
Reply Reply
0 Like
((((((((me aj tak ye nahi samjh paya k ye kis AYAT ya HADITH se sabit he k ZNIDON SE MADAD MANG LO LAKIN QABR ME ARAM KARNY WALY SE KALAM NA KARO... QAREEB WALA GHAIRULLAH TO MADAD KAR SAKTA HAI LAKIN DUR WALA NAHI... bahi agar GHAIRULLAH se madad, kalam, darkhast etc na jaiz hen to sub se hongy na, qabr waly aur dur waly ki bahas kaha se a gai??))))))))))))
جی ذیشان صاحب آپ اس وقت سمجھ بھی نہیں پائیں گے جب تک آپ اپنی آنکھوں سے مسلک کی عینک اتار نہیں پھینکیں گے اور اتباع قران و سنت کی عینک نہیں پہن لیں گے۔ محترم جوابا عرض ہے کہ نہ تو آپ نے قران کریم کی آیات پر غور کیا، نہ ہی سنت رسول پر اور نہ ہی میرے پیش کیے گۓ دلائل پر۔
آپ کو وہ حدیث تو معلوم ہوگی جس میں نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "دعا عبادت ہے" اور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ عبادت صرف اللہ کی کی جاتی ہے۔ کسی اور کی کی جاۓ تو یہ شرک ہوگا۔
اس لیے یہ بات یاد رکھیے کہ دعا کی صورت میں آپ اللہ کے سوا کسی سے کچھ بھی نہیں مانگ سکتے۔
آپ نے بات قران و حدیث کی کی لیکن آپ نے قران و حدیث پر غور نہیں کیا۔ قران کی کوئ ایک آیت پیش کردیجیے جس میں کسی مرنے والے سے مدد مانگنے کا ثبوت موجود ہو۔
نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ مبارکہ کو دیکھ لیں، انہوں نے اپنی تمام زندگی کسی بھی نبی کی قبر پر جاکر دعا نہیں مانگی۔ اور اگر صاحب قبر سے مانگنا جائز ہوتا تو اللہ تعالی انبیاء کی قبور کو محفوظ رکھتا کیونکہ ان سے زیادہ تو اللہ کے نزدیک کوئ نہیں تھا۔ ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں متعدد احادیث سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ صحابہ آپ کے پاس آکر اپنی حاجات کے لیے آپ سے دعا کرنے کا کہتے تھے۔ اور پھر آپ کی وفات کے بعد کبھی صحابہ نے نہ تو آپ کی قبر کے پاس آکر آپ سے کچھ مانگا اور نہ ہی آپ کے وسیلہ سے دعا مانگی۔ بلکہ بارش نہ ہونے کی صورت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ کے چچا کو آگے کرتے ہیں اور وہ دعا کرتے ہیں اور باقی صحابہ اس دعا پر آمین! کہتے ہیں۔ زندہ کو دعا کے لیے کہنے اور فوت شدہ سے اس کی درخواست نہ کرنے کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا؟ مجلس کے پرانے قاری یہ سب سوالات مجھ سے نہیں کرتے کیونکہ ماضی میں میں ان سب کے جوابات دے چکا ہوں۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Nov, 06 2014
Reply Reply
0 Like
جناب ذیشان صاحب شکریہ آپ کے جواب دینے کا۔ لیکن آپ ایک بات شائد بھول گۓ کہ یہاں گفتگو ہو رہی ہے ((((( اس مضمون کے بارے میں اور اسی مضمون کے تناظر میں داتا گنج بخش کو داتا کہنے کے بارے میں۔))))))) بہرحال آپ کے اعتراضات کا جواب حاضر ہے۔

))))))Nice! if English is that bad then ask Mr. Zakir naik not speak it.(((((
گفتگو میری اور آپ کی ہو رہی ہے ۔ ذاکر نائک حفظہ اللہ کا ذکر یہاں کیسے آگیا؟۔ جناب بندے نے آپ سے کہا تھا کہ چونکہ یہ مضمون اردو میں لکھا گیا ہے۔ اس لیے اسی لیے اردو میں ہی جواب دیجیے۔
secondly )))))))when you talk about Islam it's not the religion of Pakistanis only; rather, all around the world people believe in this then ؟((((((((what would you say about it
جناب یہ میں نے کہاں کہہ دیا کہ یہ صرف پاکستانیوں کا مذہب ہے؟ آپ کو اور کچھ نہیں سوجھا تو لا یعنی باتیں کرنا شروع ہو گۓ۔
thirdly, AGAR mery piarya DATA SAHIB ki kitab ap k nazdeek)))))))) HUJJAT he hi nahi to ap iska hawal pesh q kar rahy hen??? aur AGAR iska hawala peshe kia he APNI BAT KO SABIT KARNY K LIAY to meri asi daleel bhi ap k liay qabil e qubool honi chahiy jo BUKHARI O MUSLIM se na ho.))))))))))
یہاں بھی آپ کے کمنٹس سے آپ کی بوکھلاہٹ ظاہر ہو رہی ہے۔ بخاری اور مسلم کا ذکر یہاں پر کہاں آگیا۔ محترم یہاں موضوع ہے داتا گنج بخش کے حوالے سے۔ اور اسی حوالے سے میں نے ان کا قول پیش کیا۔ اور یہ بات یاد رکھیے گا کہ میرے نزدیک حجت کتاب و سنت ہے۔ اور اس کے مطابق جو بھی اپنی بات پیش کرے گا۔ مجھے اسے قبول کرنے پر کوئ اعتراض نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ داتا گنج بخش آپ کے نزدیک تو حجت ہیں یا نہیں؟ اور اگر ہیں تو پھر آپ کو میرا ان کا حوالہ دینے پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ اور پھر اس کے ساتھ ساتھ میں جو قرآنی آیات پیش کیں ہیں کیا وہ آپ کو نظر نہیں آئیں؟
fourthly, ap khud is lafz DATA ka tarjama pesh kr rahy hen ")))))))))) فقیر، درویش، سائیں۔" to jo hazrat AHTIRAM me logo ko SA'EN kehty hen wo mushrik ho gaey kia? aur gali me any wale faqrio ko FAQEER k bajey DATA kaha ja sakta he phir to q k ap k baqol DATA ka 1 matlab FAQEER he; kia kehngy??? is sawal ka HAN ya NA me jawab den phir me agay arz karta hun. aur SAKHI ka lafz to AAM he har us shakhs k liay jo logo ki madad karta ho to kia ye bhi shirk ho jaeyga? HAN ya NA ((((((((((me jawab dijiga phr agay chalty hen
جناب ذیشان صاحب اتنے دن کے بعد بھی آپ نے میرے کمنٹس کو غور سے نہیں پڑھا۔ دوبارہ دیکھیے۔ میں نے لفظ "داتا" کے لغت کے اعتبار سے دو معنی تحریر کیے ۔ ایک مرتبہ پھر پیش کردیتا ہوں۔
١ - وہ شخص جو بخشش کرنے والا ہو، دینے والا، سخی، مہربان؛ خُدا۔
٢ - فقیر، درویش، سائیں
آپ کو دوسرا مطلب تو نظر آگیا لیکن پہلے والے پر آپ کی نظر نہیں پڑی۔ یا یہ آپ کا تجاہل عالمانہ ہے؟
اپنی بات دوبارہ پیش کردیتا ہوں۔ وہ یہ کہ آپ علی ہجویری کو وہ داتا کہتے ہو جو کہ خزانے بخشتا ہے۔ اور آپ کے گنج بخش خود یہ فرما رہے ہیں کہ گنج بخش تو صرف اللہ کی ذات ہے۔ اب آپ کو ان کی بات ماننے پر کیا اعتراض ہے؟ دو لفظوں میں جواب دے دیجیے۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Nov, 01 2014
Reply Reply
1 Like
بارک اللہ فیک پاکستانی بھائ، باتیں تو آپ نے بالکل درست کیں ہیں۔ میرے خیال میں ہمیں اپنی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔ اور دلائل سے اپنی بات کو سب کے سامنے رکھنا چاہیے۔ اور لہجہ بھی نرم رکھنا چاہیے۔ کو سمجھ جاۓ تو اچھی بات اور کوئ نہ بھی سمجھے تب آپ کا اجر تو پکا ہوگیا۔ ان شاء اللہ
By: Baber Tanweer, Karachi on Oct, 28 2014
Reply Reply
0 Like
me aj tak ye nahi samjh paya k ye kis AYAT ya HADITH se sabit he k ZNIDON SE MADAD MANG LO LAKIN QABR ME ARAM KARNY WALY SE KALAM NA KARO... QAREEB WALA GHAIRULLAH TO MADAD KAR SAKTA HAI LAKIN DUR WALA NAHI... bahi agar GHAIRULLAH se madad, kalam, darkhast etc na jaiz hen to sub se hongy na, qabr waly aur dur waly ki bahas kaha se a gai???
Ghairullah se madad ko najaiz qarar deny waly hazrat ye ayat "اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیۡنُؕ﴿۴﴾
"pesh karty waqt ye q bhool jaty hen aur awam ko nahi bataty k is me ZINDA MURDA QAREEB DUR ki koi bat he nahi...
aur ye ayat (وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌؕ اُجِیۡبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِۙ فَلْیَسْتَجِیۡبُوۡا لِیۡ وَلْیُؤْمِنُوۡا بِیۡ لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُوۡنَ﴿۱۸۶﴾
) pesh kar k iska mandarja zail SHAN-E-NUZOOL bhi awam ko bata dia jaey to behtar hota:
TAFSEER:اس میں طالبان حق کی طلب مولیٰ کا بیان ہے جنہوں نے عشق الہٰی پر اپنے حوائج کو قربان کردیا وہ اسی کے طلبگار ہیں انہیں قرب ووصال کے مژدہ سے شاد کام فرمایا شان نزول :ایک جماعت صحابہ نے جذبہ عشق الٰہی میں سید عالم صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم سے دریافت کیا کہ ہمارا رب کہاں ہے اس پر نوید قرب سے سرفراز کرکے بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ مکان سے پاک ہے جو چیز کسی سے مکانی قرب رکھتی ہے وہ اس کے دور والے سے ضرور بعد رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ سب بندوں سے قریب ہے مکانی کی یہ شان نہیں منازل قرب میں رسائی بندہ کو اپنی غفلت دور کرنے سے میسر آتی ہے۔ دوست نزدیک تراز من بمن ست ۔ ویں عجب ترکہ من ازوے دورم
(ف334)
دعا عرضِ حاجت ہے اور اجابت یہ ہے کہ پروردگار اپنے بندے کی دعا پر '' لَبَیْکَ عَبْدِیْ '' فرماتا ہے مراد عطا فرمانا دوسری چیز ہے وہ بھی کبھی اس کے کرم سے فی الفور ہوتی ہے کبھی بمقتضائے حکمت کسی تاخیر سے کبھی بندے کی حاجت دنیا میں روا فرمائی جاتی ہے کبھی آخرت میں کبھی بندے کا نفع دوسری چیز میں ہوتاہے وہ عطا کی جاتی ہے کبھی بندہ محبوب ہوتا ہے اس کی حاجت روائی میں اس لئے دیر کی جاتی ہے کہ وہ عرصہ تک دعا میں مشغول رہے۔ کبھی دعا کرنے والے میں صدق و اخلاص وغیرہ شرائط قبول نہیں ہوتے اسی لئے اللہ کے نیک اور مقبول بندوں سے دعا کرائی جاتی ہے' مسئلہ : ناجائز امر کی دعا کرنا جائز نہیں دعا کے آداب میں سے ہے کہ حضور قلب کے ساتھ قبول کا یقین رکھتے ہوئے دعا کرے اور شکایت نہ کرے کہ میری دعا قبول نہ ہوئی ترمذی کی حدیث میں ہے کہ نماز کے بعد حمد و ثناء اور درود شریف پڑھے پھر دعا کرے۔
LAKIN AFSOS K apny point of view ko sabit karty waqt awam ko tafseer batany se gurez kia jata hay... aur ye atay (اَلَہُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوۡنَ بِہَاۤ ۫ اَمْ لَہُمْ اَیۡدٍ یَّبْطِشُوۡنَ بِہَاۤ ۫ اَمْ لَہُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوۡنَ بِہَاۤ ۫ اَمْ لَہُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوۡنَ بِہَا ؕ قُلِ ادْعُوۡا شُرَکَآءَکُمْ ثُمَّ کِیۡدُوۡنِ فَلَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴿۱۹۵) aur is tarah ki dusri ayaat pesh karty waqt agar ye bata dia jaey k MUSHRIKEEN AUR un k BUTON k bary me hen to behtr hoga ta k awam gumrahi se bach saken jesa k tafseer hey:
یہ کچھ بھی نہیں تو پھر اپنے سے کمتر کو پُوج کر کیوں ذلیل ہوتے ہو ۔
(ف381)
شانِ نُزول : سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بُت پرستی کی مَذمّت کی اور بُتوں کی عاجزی اور بے اختیاری کا بیان فرمایا تو مشرکین نے دھمکایا اور کہا کہ بُتوں کو بُرا کہنے والے تباہ ہو جاتے ہیں ، برباد ہوجاتے ہیں ، یہ بُت انہیں ہلاک کر دیتے ہیں ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی کہ اگر بُتوں میں کچھ قدرت سمجھتے ہو تو انہیں پُکارو اور میری نقصان رسانی میں ان سے مدد لو اور تم بھی جو مکر و فریب کر سکتے ہو وہ میرے مقابلہ میں کرو اور اس میں دیر نہ کرو ، مجھے تمہاری اور تمہارے معبودوں کی کچھ بھی پرواہ نہیں اور تم سب میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے ۔

aur aj ka koi bhi muslman WALI k baray me asay aqaid NAHI rakhta... aur agar ap ka jawab ye he k QURAN ki ayat HAMESHA k liay he sirf us wqat k logo k liay nahi to phir to ap ko manna parega k RASOOL E AKRAM صلی اللہ علیہ وسلمhamari jan se bhi ziada qarib hen qk QURAN me he (اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیۡنَ مِنْ اَنۡفُسِہِمْ) {Tafseer: دنیا و دین کے تمام امور میں اور نبی کا حکم ان پر نافذ اور نبی کی طاعت واجب اور نبی کے حکم کے مقابل نفس کی خواہش واجب الترک یا یہ معنٰی ہیں کہ نبی مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ رافت و رحمت اور لطف و کرم فرماتے ہیں اور نافع تر ہیں ۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ہر مومن کے لئے دنیا و آخرت میں سب سے زیادہ اولٰی ہوں اگر چاہو تو یہ آیت پڑھو '' اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ }
to agar tafseer k tahat is ka second point ko dekha jaey to DUNYA me mojud UMMAT ko NAFA pohchaty hen aur OOLAA k manay NAZDIK aur MALIK k hoty hen (and Allah knows the best) aur apka qaida he k NAZDIK walay se ARZ ki ja sakti hey aur agar ap kaehngay k MUKHATAB ko dekha jaeyag MUKHATAB to SAHABA علیھم االرضوانthay to bhai phir apki peshkarda ayat ka MUKHATAB ap aur me kesy ho gaey? kehny ko buhat kuch he lakin me ye bahas is bat par khtam karunga k me ITTIHAD BAYNUL MUSLIMEEN ka khahishmand hun... jab me ne FIRQO k name se tanqeed dekhi ap k column me to me ne comments ka aghaz kia qk waqt nazuk he mary dost... ittihad ki zarurat hey... agar ap waqai sikhnay sikhany k amal ko wo bhi khulus e niat k sath farogh dena chahty hen to 1 guzarish he k is link (http://www.alahazrat.net/book/search.php?langid=17) par ja kar JA'AL-HAQ nami kitab ka mukammal mutalia zarur karne jis me 2 to 3 months lagngay phir ap zarur apny khaylat ko share karen... meri kisi bat se kisi musalman bhai ko takleef pohchi ho to mazrat lakin meri tamam qarieen se guzarish he k wo is link par ja kar ye kitab LAZMI parhen...
Bukhari sharif me Hadith ye hai:
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا وَأَنَا أَوْلَى بِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ
{ النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ }

and Allah knows the best...
Meri kisi bat se kisi musalman ko taklif pohchi ho to mazrat.
regards
By: ZEESHAN, karachi on Oct, 31 2014
0 Like
Systematically, government, mullahs, medias tv, radio, films, magazines, newspapers and educational places have removed word Allah and placed it with word Khuda. Pakistanis have changed Allah's name to Khuda and feeling no fear or shame. Allah Subhana gave us His 99 names and Khuda is not one of His names, but bygarat Pakistanis without shame keep calling Allah as Khuda....Nauzubillah.
By: Pakistani, Pindi on Oct, 27 2014
Reply Reply
0 Like
I also believe that he who goes to a MAZAR and prostrate their is wrong but even becomes Kafir if does this with intention of worship but who does this? it's a question...
I also believe that dancing and other such bad things must NOT be done but you think you can make people understand with a stick in hand or through polite way...
brother understand the difference b/w qabrparasti and ziarat-e-qubur...
brother, don't get yourself misled. just study first and then decide what is right and what is wrong. go to:
http://www.alahazrat.net/book/search.php?langid=17
and download JA'AL-HAQ and read it deeply you'll get to know what is right and what is wrong.
By: ZEESHAN, karachi on Oct, 31 2014
0 Like
Systematicly Pakistan ma data-darbar jasi kabarparsti apny urooj per ha, and kabarpasti is being promoted by tv dramas and documentires on saints, faqeers derwashs and babas, and promoting hinduism on the name of culture, feshoin, weddings and parties. Pakistanis no longer look like Pakistanis, they look like indian hindoz in Pakistan.
By: Pakistani, Pindi on Oct, 27 2014
Reply Reply
0 Like
Is there any GRAVE or MAZAR of ALLAH??? of course NOT!!! Hence, when one goes to a MAZAR they know and believe, "I am going to a grave and ALLAH has NO grave coz He never dies nor will ever thus I'm going to such place where there is a man resting and that man is Creation, not the Creator..." hence proved that GOING TO A MAZAR prevents one from Shrik, it's NOT shrik at all coz Shirk can be only in the thing which can relates to ALLAH and GRAVE does NOT at all relate to ALLAH; a grave only relates to His creation His bondmen... got it???
Secondly, who worships DATA or any other WALI??? Do you know what people have in their mind? How do you know the intention of people??? Aren’t you a human? If yes, then how do you know the thing which is hidden in heart?
Go ask even a SIMPLE MUSLIM there and ask "DATA SAHIB KON HEN? ALLAH YA ALLAH K BANDAY" he will answer, "ALLAH K BANDAY" Then how is it Shirk or Qabrparasti???
you should think before you speak because if you impose accusation of SHIRK on someone who doesn't do this then the ruling will come back to you; you may ask any scholar, brother...
and, can you give me any reference which proves that by going to a grave with intention that this grave is of a BANDA one becomes Mushrik???
Or else I’ll give you prove that going to Quboor WITH good INTENTION is JAIZ…
By: ZEESHAN, karachi on Oct, 31 2014
0 Like
اب آخر میں ذرا لفظ " داتا" کا جائزہ لے لیں۔ مجھے ایک بات بتا دیجیے کہ کیا اسلامی تاریخ میں کسی اور ہستی کو داتا کا لقب دیا گیا ہے؟ مجھے تو جناب علی ہجویری کے علاوہ ایسی کوئ شخصیت نظر نہیں آتی۔ آپ کی نظر میں کوئ ہو تو بتا دیجیے گا۔
لفظ داتا کا مطلب میں نے آپ کو بتا چکا ہوں۔ تو جب آپ علی ہجویری کو داتا کہتے ہیں تو اس کا مطلب فقیر تو ہو نہیں سکتا ۔ کیونکہ آپ انہیں "داتا گنج بخش" کہہ کر پکارتے ہو۔ یعنی وہ داتا جو کہ گنج بخش ہے۔ خزانے بخشنے والا ہے اور جناب علی ہجویری کے فرمان کے مطابق وہ تو صرف اللہ کی ذات ہے۔ تو جب میں نے یہ کہا کہ داتا تو اللہ ہے تو میں نے کیا غلط کہا؟ ضرور بتایے گا۔
دوسری بات یہ کہ لوگ جب ان کے مزار پر جاتے ہیں تو کیا کرتے ہیں؟ اپنی زندگی میں وہ بہت اچھے بزرگ ہوں گے۔ اور اگر ان کی زندگی میں لوگ سے حسن ظن رکھتے ہوۓ انہیں اپنے لیے دعا کرنے کا کہتے ہوں گے تو یہ تو ایک جائز بات ہے۔ بلکہ سنت نبوی ہے۔ لیکن ان کی وفات کے بعد ایسا کرنا ایک ایسا امر ہے جو کہ قران و حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ سورہ بقرہ میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے۔

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ ﴿١٨٦﴾ جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وه مجھے پکارے، قبول کرتا ہوں اس لئے لوگوں کو بھی چاہئے کہ وه میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں، یہی ان کی بھلائی کا باعﺚ ہے (186)

یہ اللہ تعالی عزوجل کا اپنے بندوں کو حکم ہے کہ میری بات مانو اور مجھے ہی پکارو اور براہ راست پکارو کیونکہ میں ہر پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہوں۔ لیکن ان بزرگوں کے مزاروں پر ہم اللہ تعالی کے اس حکم کی صریحا خلاف ورزی کرتے ہوۓ صاحب قبر سے اولاد، نوکری، شادی اور وہ چیز ہمیں مانگتے ہیں جو کہ ہمیں صرف اللہ سے مانگنی چاہیں۔ اور ان معنوں میں ہمارا داتا صرف اللہ تعالی عزوجل ہی ہے۔ دوسری صورت میں ہم اس کے وسیلے سے یہ سب کچھ مانگتے ہیں اور یہ بھی اس آیت میں دیے گۓ اللہ کے حکم کے منافی ہے۔ کہ اللہ تعالی کہتا ہے کہ مجھے پکارو کیونکہ میں ہر پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں۔ اور جناب علی ہجویری کے اس پہلے پیش کیۓ گۓ فرمان کی بھی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Oct, 21 2014
Reply Reply
1 Like
اب آپ کے مندرجہ ذیل کمنٹس پر آتے ہیں۔
you don't become Mushrik coz only similarity in words doesn't matter rather it's the Belief which matters درست فرمایا بھائ ذیشان۔ یہ عقیدہ ہی ہے جو کہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ آپ علی ہجویری کا ایسا داتا کہتے ہو جو کہ خزانے بخشتا ہے۔ اور ایسا عقیدہ رکھنا شرک ہے۔
and if this is not so then what fatwa will you impose on the one who says to his pregnant wife "Yar begum is bar 1 beta de do" یہ بات بھی عقیدے پر منحصر ہے۔ اگر اس کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بیگم بیٹی یا بیٹا دینے پر قادر ہے تو یہ صریحا شرک ہے۔ کیونکہ ایسا کرنے پر صرف اللہ کی ذات قادر ہے۔ سورہ شوری کی آیت نمبر 49 اور 50 کا ترجمہ پیش کردیتا ہوں،(((((((((((((آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے، وه جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے(49) یا انہیں جمع کردیتا ہے بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی اور جسے چاہے بانجھ کر دیتا ہے، وه بڑے علم واﻻ اور کامل قدرت واﻻ ہے (50)))))))))))))۔ اور اگران الفاظ کے ساتھ وہ اپنی بیگم کے سامنے اپنی خواہش کا اظہار کر رہا ہے کہ اس ہمارے ہاں بیٹا ہونا چاہیے تو اس میں کوئ قباحت نہیں ہے۔
OR the one who says to his boss "SHUKRIA BOSS AP NE BURAY WAQT ME MERI MADAD KI" ۔ یہاں بھی بات عقیدہ کی ہے۔ باس نے اس کی صرف اتنی ہی مدد کی ہوگی جتنی مدد کرنے پر وہ قادر ہے۔ اور اس کی وہ قدرت محدود ہے۔۔ اور اگر آپ یہ عقیدہ رکھیں کہ باس۔ کی قدرت لامحدود تو یہ عقیدہ شرک کہلاۓ گا۔ کیونکہ یہ صرف اللہ تعالی کی ذات اقدس کا خاصہ ہے۔
or the one who says to a doctor "Drrrrr!!! meray bachay ko bacha lo!!!" kia ye MUSHRIK ho gaey??? LO!!!
نہیں جناب بالک مشرک نہیں ہوگیا۔ بھائ یہ بات کرنے سے اس کا کیا مقصد ہے؟ یہ تو نہیں کہ وہ بچے کو کہے گا کہ ٹھیک ہوجاؤ اور وہ ٹھیک ہو جاۓ گا؟ نہیں بھائ وہ وہی کچھ کرے گا جو کچھ اس کے بس میں ہے۔ یعنی وہ اس کا علاج کرے گا۔ اور اگر مسلمان ہوا تو یہ بھی کہہ دے گا کہ میرا کام علاج کرنا ہے۔ آپ اس کے ساتھ ساتھ اللہ سے دعا بھی کرو۔ کہ شفاء دینا تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
سورہ الشعراء کی آیت نمبر 78 اور 79 کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔
وہی ہے جو مجھے کھلاتا پلاتا ہے (79) اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو مجھے شفا عطا فرماتا ہے (80)

کیا خیال ہے بھائ ذیشان میری باتیں سمجھ میں آئیں؟ اگر آگئیں تو سچ اور حق کو تسلیم کرلیں۔ اور اگر نہیں آئیں تو مزید دریافت کرلیں۔ اور سب سے اچھی بات یہ کہ خود بھی مطالعہ کریں ۔ سچ آپ پر خود بخود واضح ہوجاے گا۔ ان شاء اللہ۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Oct, 21 2014
Reply Reply
1 Like
mera maqsad INTISHAR nahi me to khud sikhny k liay comments kiay thay but ap ne muJhay mushrik o bidati bana dia... herat hai!!!
اللہ اکبر! میں نے آپ کو کہاں بدعتی اور مشرک بنا دیا۔ بات یہاں آپ کی یا میری ذات کی تو نہیں ہو رہی۔ اور پھر آپ نے چند مفروضے پیش کیے اور میں نے ان کا جواب دیا۔ اور میں نے دلائل کے ساتھ ان کا جواب دے دیا۔ مفروضے پیش کرتے وقت آپ یہ بھی لکھ دیتے کہ مثلا ( بیگم اس بار بیٹا دے دو) سے بات سے شوہر کا کیا مطلب تھا؟ تاکہ اس پر کوئ حتمی بات کی جاسکتی اور یہ بھی بتا دیجیے کہ میں نے یہ بات کہاں تحریر کی ہے(((((((( ولی کی صرف اتنی ہی مدد کی ہوگی جتنی مدد کرنے پر وہ قادر ہے۔ اور اس کی وہ قدرت محدود ہے۔۔" )))))))))))) میرا جملہ تو یہ تھا (باس نے اس کی صرف اتنی ہی مدد کی ہوگی جتنی مدد کرنے پر وہ قادر ہے)
By: Baber Tanweer, Karachi on Nov, 03 2014
0 Like
ALLAH k wali hen me ne kab kaha k wo khazany ata karty hen???
نہیں جی یہ میں نے کہاں کہا کہ آپ نے ایسا کہا ہے۔ میں نے تو صرف یہ ثابت کیا ہے کہ جن معنوں میں جناب علی ہجویری کو داتا کہا جاتا ہے اس معنی میں داتا صرف اللہ کو کہا جا سکتا ہے
آپ کی مشکل یہ ہے کہ آپ بہت سے موضوعات کو ایک ساتھ لے کر چلنا چاہ رہے ہیں۔ دراصل یہاں موضوع لفظ داتا کے بارے میں تھا اور جس کی وضاحت میں نے کافی تفصیل کے ساتھ کردی کہ خزانے بخشنے والا داتا تو صرف اللہ ہے۔ اور جب آپ کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ نے بھی علی ہجویری اور اس سے مطابقت رکھتی ہوئ میری بات کو تسلیم کر لیا ۔ اگر میری بات درست ہے تو اس کا دو لفظوں میں جواب دے دیجیے۔
پھر اس کے بعد میرا آپ سے یہ سوال ہوگا کہ قران کریم میں ولی کی کیا صفات بیان کی گئیں ہیں؟ اور کیا نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو مصیبت کہنے والا اللہ کا ولی ہو سکتا ہے۔ اور انبیاء پر تہمت لگانے والے کو آپ کیا کہیں گے۔ اور پھر یہیں پر آپ نے بدعت کے حوالے سے بات کی۔ انٹرنیٹ کے بارے میں بات کی جس پرمیری آپ سے درخواست ہوگی کہ آپ اپنے تمام اشکالات کو ایک علیحدہ آرٹیکل کی شکل میں پیش کردیجیے۔ تاکہ اس پر بھی تبادلہ خیال ہوسکے۔ لیکن پہلے اس آرٹیکل کے موضوع پر حتمی بات کر دیجیے۔ اور ہاں میرے بھائ میں بھی دین کا ایک طالب علم ہوں۔ اور اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اور آپ کو اور ہر مسلمان کو صحیع دین پر چلنے کی توفیق عطا فرماۓ
By: Baber Tanweer, Karachi on Nov, 03 2014
0 Like
mery dost mera bhi yehi aqeeda hy meary piary ALI HAJWAIR رحمۃ اللہ علیہ ALLAH k wali hen me ne kab kaha k wo khazany ata karty hen???
secondly, me bhi niat ki bat kar raha hun k AQEEDA asal mamla he.
thirdly, ye jumla "Yar begum is bar 1 beta de do" b.v se khana HHahISH he? is ka faisla kon karyga? aur IS TARAH imperative (Amr) jumla me b.v se beta mangna jaiz kesy hoga? khahish he ya aqeeda-e-shrik faisla kesy hoga? yaqnina ap kahyngay k faisla kehny wali ki NIAT se hoga... to yahi to me keh raha hun k NIAT par depend karta he... aur mara bhi aqeeda yahi h ALLAH k Hukm aur ATA ka bagher kuch nai kia ja sakta to mary is aqeeday par atraz q?
aur jaha tak taluq is ayat ka he to me aur har musalman is par IMAN rakhta he lakin me puchna ye chahta hun k agar koi WALI se kahy k DUA KAR DEN K BeTA HO JAEY NOKRI LAG JAEY to shirk KESAY??? ME samajhna chahta hun...
jaha tak tauluq is bata ka he "۔ لیکن ان کی وفات کے بعد ایسا کرنا ایک ایسا امر ہے جو کہ قران و حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ " to kia ap ye nahi samjhty k HUM MUSALMON me raij buhat se asay mamlat hen jo QURAN O HADITH se BAZAHIR sabit nahi??? For example:
kia INTERNET se is tarah debate karna ap Quran o Hadith se JAIZ sabit kar sakty hen?
kia KHULASA-E-TARAWIH ap Quran o Hadith se sabit kar sakty hen?
aur ye ayat WALI k khilaf he ye kesy sabit hoga?
jab BOSS se kehny wala jumla shirk nahi to ye jumla DATA NE MERI MADAD KI kesy shirk hoga jab k KEHNY WALA janta he manta he k " ولی کی صرف اتنی ہی مدد کی ہوگی جتنی مدد کرنے پر وہ قادر ہے۔ اور اس کی وہ قدرت محدود ہے۔۔" AUR ye kaha likha he k QABR WALAY SE DARKHAST-E-DUA NA KARO ZINDA SE KAR LO hadith ya quran se sabit kijigy k lafz e QBAR bhi ho...
mera maqsad INTISHAR nahi me to khud sikhny k liay comments kiay thay but ap ne muJhay mushrik o bidati bana dia... herat hai!!!
By: ZEESHAN, karachi on Oct, 31 2014
0 Like
صاحب مضمون نے اللہ تعالی کی کچھ صفات اور پھر بتایا کہ یہی صفات انسانوں میں بھی پائ جاتی ہیں۔ اسے میں ان کی کم علمی ہی کہوں گا کہ وہ خالق اور مخلوق کا موازنہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سورہ الشوری کی آیت نمبر 11 پیش خدمت ہے۔
فَاطِرُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَمِنَ الْأَنْعَامِ أَزْوَاجًا ۖ يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ ۚ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ ﴿١١﴾
وه آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے واﻻ ہے اس نے تمہارے لیے تمہاری جنس کے جوڑے بنادیئے ہیں اور چوپایوں کے جوڑے بنائے ہیں تمہیں وه اس میں پھیلا رہا ہے اس جیسی کوئی چیز نہیں وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے (11) الشوری
اس کی مثل کوئ بھی نہیں۔ تو جب ہم اس بات پر ایمان لے آۓ تو پھر ہمیں کسی بھی معاملے میں اللہ تعالی اور مخلوق کا موازنہ کرکے اپنی عاقبت کو داؤ پر نہیں لگانا چاہیے۔
اس کی سماعت لا محدود مخلوق کی محدود، اس کی بصارت لا محدود مخلوق کی لامحدود، اس کی قدرت لا محدود مخلوق کی محدود، اس کی عطا لا محدود مخلوق کی محدود اس کے خزانے لامحدود مخلوق کے محدود، اس کی طاقت لامحدود مخلوق کی محدود۔ اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں اس سب کا خالق۔ اور مخلوق اگر تمام اکھٹی ہوجاۓ تو ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتی۔ بلکہ وہ تو اتنی طاقت بھی نہیں رکھتی کہ اگر کوئ مکھی اس کے کھانے کی کوئ چیز لے اڑے تو وہ اس مکھی سے واپس چھین سکے۔
امید ہے کہ ذیشان صاحب کو یہ بات بھی سمجھ میں آگئ ہوگی۔ اگر کوئ اعتراض ہو تو ضرور عرض کیجیے گا۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Oct, 21 2014
Reply Reply
1 Like
جناب ذیشان صاحب ہنسنا تو مجھے چاہیے۔ آپ کی بے خبری پر۔ پہلی بات یہ کہ موازنہ تو صاحب مضمون نے کیا میں نے تو نہیں۔ اور پھر ذرا ان کمنٹس کی ابتداء پر نظر دوڑا لیجیے میرے مخاطب صاحب مضمون تھے آپ تو نہیں۔ اور صاحب مضمون نے تو یہاں تک کہ دیا کہ اللہ تعالٰی نے انسان کو اپنی صفات پر پیدا فرمایا۔ اب آپ مجھے یہ بتا دیجیے کہ کیا اللہ تعالٰی کی کوئی صفت مخلوق میں بھی پیدا ہوسکتی ہے؟
By: Baber Tanweer, Karachi on Nov, 01 2014
0 Like
me is comment par sirf HANS sakta hun qk MAWAZNA waha kia jata h jahan DONO FAREEQ barabar taswwur kiy jaeyn jab k koi bhi Musalman ALLAH k barabar kisi ko bhi nahi samjhta. aur "س کی سماعت لا محدود مخلوق کی محدود، اس کی بصارت لا محدود مخلوق کی لامحدود، اس کی قدرت لا محدود مخلوق کی محدود، اس کی عطا لا محدود مخلوق کی محدود اس کے خزانے لامحدود مخلوق کے محدود، اس کی طاقت لامحدود مخلوق کی محدود۔ اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں اس سب کا خالق" YE TO MERA AQEEDA HAI to ap ko atraz q???
mera point SAME lafz k istimal se mutaliq he mery dost... me bus ye kena chahta hun k 1 asa lafz jo ALLAH k liay liay istimal kia jata hey agar Banday k liay istimal kia jaey to SHIRK nahi ho jaeyga... agar me ghalat hun to TASHEEH farma den...
aur ye point pesh kar k "اس کی مثل کوئ بھی نہیں۔ " jo k mera aqeeda he ap ne mera point hi sabit kar dia k ALLAH se kisi ka mawazna he hi nahi qk اس کی سماعت لا محدود مخلوق کی محدود، اس کی بصارت لا محدود مخلوق کی لامحدود، اس کی قدرت لا محدود مخلوق کی محدود، اس کی عطا لا محدود مخلوق کی محدود اس کے خزانے لامحدود مخلوق کے محدود، اس کی طاقت لامحدود مخلوق کی محدود۔ اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں اس سب کا خالق۔ TO JAB SABIT HUA K US RABB KI SIFAT LA MAHDOOD HEN TO YAHI TO WAZAHAT HE K agar banday ko HAYAT kaha jaey to wo MAHDOOD hoga aur yehi mera aqeeda he, herat he apko is me atraz kia he??
By: ZEESHAN, karachi on Oct, 31 2014
0 Like
پتہ نہیں ہم اپنی قومی زبان کے حوالے سے احساس کمتری کا شکار کیوں رہتے ہیں۔ اور فرنگی زبان کو قابلیت اور تعلیم کا معیار سمجھتے ہیں۔ بہر حال۔
بندے نے لفظ داتا کا ترجمہ پوچھا تھا لیکن زیشان صاحب کو شائد اس کا ترجمہ نہیں مل سکا یا پھر وہ اس کا جواب نہیں دینا چاہتے۔ چلیے میں خود ہی اس کا ترجمہ پیش کردیتا ہوں۔
دراصل یہ لفظ سنسکرت سے اردو زبان میں آیا ہے۔
١ - وہ شخص جو بخشش کرنے والا ہو، دینے والا، سخی، مہربان؛ خُدا۔
٢ - فقیر، درویش، سائیں۔
چلتے چلتے لفظ گنج بخش کا ترجمہ بھی پیش کردوں۔
خزانہ بخشنے والا، بہت بڑا فیاض اور سخی، لکھ داتا۔
اگر آپ کو ان الفاظ کی تعریف پر کوئ اعتراض ہو تو ضرور بتایے گا۔
بات مختصر کر رہا ہوں تاکہ آپ کو جواب دینے میں کوئ مشکل نہ ہو۔
صاحب مضمون نے مضمون کے شروع میں لکھا کہ داتا تو اللہ تعالی کا کوئ نام نہیں ہے۔ اس پر تو میں آگے بات کروں گا۔ لیکن یہاں لفظ گنج بخش کے بارے میں ایک بات عرض کردوں۔ یہ بھی تو اللہ تعالی کا نام نہیں ہے ۔ اور اس لفظ کے بارے میں خود علی ہجویری کیا کہتے ہیں۔ ان کی کتاب کشف الاسرار سے اقتباس پیش کرتا ہوں۔
(((((((( اے علی، خلقت تجھے گنج بخش کہتی ہے حاﻻنکہ تیرے پاس ایک دانہ تک نہیں۔ تو اس بات پر فخر نہ کر کیوں کہ یہ غرور ہے۔ گنج بخش اور رنج بخش صرف اللہ تعالٰی کی ذات ہے جو بے مثل ہے، جس کی مانند کوئی دوسرا نہیں۔ جو شبہ سے پاک ہے اور نمونے آزاد ہے۔ جب تک تو زندہ ہے شرک کے قریب نہ جا اور اللہ تعالٰی کو واحد ﻻ شریک خیال کر)))))))
اب صاحب مضمون کس پر فتوی لگائیں گے۔ علی ہجویری خود فرماتے ہیں کہ گنج بخش تو صرف اللہ کی ذات ہے۔ اور اگر کسی نے اللہ کے علاوہ کسی اور ہستی کو گنج بخش کہا تو اس نے شرک کیا۔
اب جنہیں آپ گنج بخش کہتے ہیں وہ خود کہہ رہے ہیں کہ گنج بخش تو اللہ تعالی کی ذات ہے۔ اب بتایے کہ انہیں گنج بخش کہنے والوں پر شرک کا فتوی لگا کہ نہیں؟
آپ کی باقی باتوں کا جواب بھی ضرور دوں گا ان شاء اللہ فی الحال میرے ان کمنٹس پر آپ کو کوئ اعتراض ہو تو عرض کردیں۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Oct, 18 2014
Reply Reply
1 Like
nice! if English is that bad then ask Mr. Zakir naik not speak it.
secondly, when you talk about Islam it's not the religion of Pakistanis only; rather, all around the world people believe in this then what would you say about it?
thirdly, AGAR mery piarya DATA SAHIB ki kitab ap k nazdeek HUJJAT he hi nahi to ap iska hawal pesh q kar rahy hen??? aur AGAR iska hawala peshe kia he APNI BAT KO SABIT KARNY K LIAY to meri asi daleel bhi ap k liay qabil e qubool honi chahiy jo BUKHARI O MUSLIM se na ho.
fourthly, ap khud is lafz DATA ka tarjama pesh kr rahy hen " فقیر، درویش، سائیں۔" to jo hazrat AHTIRAM me logo ko SA'EN kehty hen wo mushrik ho gaey kia? aur gali me any wale faqrio ko FAQEER k bajey DATA kaha ja sakta he phir to q k ap k baqol DATA ka 1 matlab FAQEER he; kia kehngy??? is sawal ka HAN ya NA me jawab den phir me agay arz karta hun. aur SAKHI ka lafz to AAM he har us shakhs k liay jo logo ki madad karta ho to kia ye bhi shirk ho jaeyga? HAN ya NA me jawab dijiga phr agay chalty hen
By: ZEESHAN, karachi on Oct, 31 2014
0 Like
Mr. Zaeeshan, This article is written in Urdu language. Better give your comments in the same language.
آپ کو لفظ " بھی" پر اعتراض ہے تو اسے نکال کر میرے جملے کو ایسے پڑھ لیں۔ کوئ فرق نہیں پڑے گا۔
((((((((((اسم معرفہ ۔ PROPER NOUN اس کی تعریف تو آپ سب کو معلوم ہوگی۔ یعنی کسی جگہ، چیز یا شخص کا نام۔))))))))

بہرحال یہاں صرف آپ سے ایک درخواست ہے کہ لفظ " داتا" کی تشریح کردیجیے کہ اس کا کیا مطلب ہے۔۔ امید ہے کہ جواب سے جلد نوازیں گے تاکہ آپ سے مزید بات کی جاسکے۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Oct, 14 2014
Reply Reply
0 Like
Let me correct Mr. Baber by telling the following:
please read what a PROPER NOUN is: a word that is the name of a person, a place, an institution, etc.
Note that there is 'a' in this NOT "any" thus I'd advise you to correct yourself by removing "بھی " from the definition of PROPER NOUN (i.e. کسی بھی جگہ، چیز یا شخص کا نام۔) mentioned by you.
Secondly, the PROPER NOUN in Eng isn't the same as that is in Arabic hence you'd better not mix two languages.
Thirdly, your answer has proved the column writer to be RIGHT because this is what he is saying that there is a difference b/w being DATA by Himself and by making any human.
Interesting to know, you yourself say "علی کسی کا بھی نام ہو سکتا ہے مگر جب قرآن میں العلی کہا گیا تو اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے۔" this is what Ahlussunah believe that by calling any human "داتا " you don't become Mushrik coz only similarity in words doesn't matter rather it's the Belief which matters and if this is not so then what fatwa will you impose on the one who says to his pregnant wife "Yar begum is bar 1 beta de do" OR the one who says to his boss "SHUKRIA BOSS AP NE BURAY WAQT ME MERI MADAD KI" or the one who says to a doctor "Drrrrr!!! meray bachay ko bacha lo!!!" kia ye MUSHRIK ho gaey??? LO!!!
By: Muhammad Zeeshan Siddique, Karachi on Oct, 12 2014
Reply Reply
0 Like
ماشا اللہ۔ بہت خوب مد ثر بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کرے زورِقلم اور زیادہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
By: Ata Ul Mustafa, Jhang on Oct, 04 2014
Reply Reply
0 Like
babar sahb jb ap ko ism-e marfa aur nakra ka pata chal gya to peechay smjhny wali bat kya reh gyi...
By: muddassir, lahore on Nov, 26 2010
Reply Reply
0 Like
سب سے پہلے تو عرض کردوں کہ میرا یہ دعویٰ ہر گز نہیں کہ سب کچھ جانتا ہوں۔ میں تو اس دین کا ایک ادنیٰ سا طالب علم ہوں اور اپنے علم میں اضافے کی تگ و دو میں ہمیشہ مصروف رہتا ہوں۔ میرے ایک مہربان نے اس کالم میں ایک بحث چھیڑی کہ اللہ بھی علی اور بندہ بھی علی اور پھر اس خاکسار کو چیلنج کہ لگاؤ کوئی فتویٰ۔ بہر حال میں اس بات کی عربی کے قواعد کے مطابق وضاحت کر دیتا ہوں اور یہاں یہ بھی عرض کر دوں کہ اگر میں نے کچھ غلط لکھا ہو تو اس کی تصیح فرما دیجیے گا۔
اسم معرفہ ۔ PROPER NOUN اس کی تعریف تو آپ سب کو معلوم ہوگی۔ یعنی کسی بھی جگہ، چیز یا شخص کا نام۔
اسم نکرہ- عام چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جیسے کتاب ، مدینہ وغیرہ۔
اگر کسی اسم نکرہ کے شروع میں ال لگا دیا جائے تو وہ اسم معرفہ بن جاتا ہے۔ جیسے :-
کتاب تو کوئی بھی کتاب ہو سکتی ہے مگر جب ہم الکتاب کہیں گے تو اس سے مراد قرآن ہوگی۔
مدینہ سے مراد کوئی بھی شہر مگر جب ہم المدینہ کہیں گے تو اس سے مراد مدینہ النبی ہو گی۔
علی کسی کا بھی نام ہو سکتا ہے مگر جب قرآن میں العلی کہا گیا تو اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے۔
جہاں قرآن میں اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں کے ساتھ ( ال) کا اضافہ نہیں ہے انہیں جملہ اسمیہ کہا جاتا ہے اس کے دو جز ہیں۔ پہلا مبتداء یا معرفہ اور دوسرا خبر یا نکرہ۔ جب جملے میں معرفہ آجائے تو نکرہ کو معرفہ میں نہیں بدلا جاتا مثلاً ‏ اللّٰهَ اِنَّ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ یہاں اللہ اسم معرفہ ہے اور رحیم و غفور نکرہ۔ چونکہ یہاں معرفہ پہلے آگیا اس لیے نکرہ میں ال کا اضافہ نہیں کیا گیا۔ یہی عربی کا قاعدہ ہے۔
امید ہے کے میرے بھائی حسنین اور دوسرے دوستوں کے لیے یہ معلومات مفید ثابت ہوں گی۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Nov, 20 2010
Reply Reply
1 Like
Baber Tanweer Bhai, main ma'zarat chahta hon, pechle dino kuch masroof tha is liye comments par zyaada nahi deekh sakha, bahar hal.. ma sha Allaah, Allaah azza wa jalla aap ki ibadaat ko qubool farmae aur aap k ilm main aur izaafa farmae ta k ham jaise log aap aur aap jaise ahbaab se seekh sakhein, aur barakAllaahu feek k aap ne is khaksaar ko bhi apni duaon main yaad rakhein, Allaah aap ki duaon ko qubool farmae, aur aap k ilm aur amal aur ahl-o-ayaal main barkatein naazil farme, aameen.
By: manhaj-as-salaf, Peshawar on Oct, 26 2014
0 Like
ایک بات کا اور تذکرہ کردوں۔ تقریبا 4 دن مدینۃ المنورہ میں گذار کر 6 اکتوبر کو ریاض واپس پہنچا ہوں۔ 9 ذی الحجہ کا روزہ بھی وہیں رکھا اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اقطار کیا۔ آپ کے لیے بھی وہاں خصوصی دعا کی۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Oct, 08 2014
0 Like
بارک اللہ فیک یا اخی منہج السلف
By: Baber Tanweer, Karachi on Oct, 08 2014
0 Like
Baber Tanwer bhai, ma sha Allaah buhut umda ma'loomaat hai, Allaah azza wa jalla aap ko jaza-e-khayr de, aameen.
By: manhaj-as-salaf, Peshawar on Oct, 06 2014
0 Like
السلام علیکم بھائیوں آپ سب کا شکریہ مجھ ناچیز کی تحریر کو پسند کیا دوسرے لوگوں کا حال تو یہ ہے کہ
۔۔۔۔۔۔ لٹیروں نے جنگل میں شمع جلا دی
مسافر یہ سمجھا کہ منزل یہی ہے۔
بھائیو ھم نے مسافروں کو ضرور منزل مقصود تک پہنچانا ہے بھیڑیوں کے ہاتھوں میں نہیں چھوڑنا اللہ تعالیٰ ھمارا حامی و ناصر ھو۔۔۔ صلوا علیہ وآلہ
By: Muhammad Muddasir, lahore on Nov, 08 2010
Reply Reply
0 Like
مدثر بھائ۔ اللہ کریم جل جلالہ آپ پر رحمتیں نازل فرمائے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ آپ ھماری ویب پر MY PAGE پر اپنا پیج بھی بنائیں۔ اور عقائد پر لکھتے رھیں۔ ھم سب آپ کے منتظر ھیں۔
LOVE YOU............
By: PAKISTANI, PAKISTAN on Nov, 06 2010
Reply Reply
0 Like
Masha Allah ........

Allah pak aap k ilm-o-amal main mazeed barktain ata farma ay.... Aameen
By: Kamran Azeemi, Karachi on Nov, 05 2010
Reply Reply
0 Like
ماشااللہ آپ کا کالم اچھا ہے پڑھ کر خوشی ہوئی اللہ قبول فرمائے
By: Muhammad Saqib Qadri, Lahore on Nov, 05 2010
Reply Reply
0 Like
mudassir bhai very good, bohat acchi tehrir hai.
MASHALLAH
By: HASSAN, karachi on Nov, 04 2010
Reply Reply
0 Like
very good Allah Jaza dai kabi koi din ka kaam hu tu zaror yaad rakhe ga
By: Ali Rafey, islamabad on Nov, 01 2010
Reply Reply
0 Like
Muddassir bhai.......... well done. keep it up!!!
By: Hafiz Jamil, Lahore on Nov, 01 2010
Reply Reply
0 Like
ماشاءاللہ مدثر بھائی دل خوش کر دیا
بہت اچھا کالم لکھا ہے آپ نے
اللہ آپ کو مزید ہمت عطا فرمائے
آمین بجاہ النبی الامین
By: MUHAMMAD SAQIB RAZA QADRI, Lahore on Nov, 01 2010
Reply Reply
0 Like
واہ واہ کیا خوبصورت تحریر ھے۔ کتنے پیارے اور آسان انداز سے آپ نے اتنا اھم مسلہ بیان کیا ھے۔ مدثر بھائی مائی پیچ پر اپنا پیچ بنائیں۔ آپ کو لکھنے کی صلاحیت ملی ھے، اس کا استعمال کریں۔ اللہ کریم جلا جلالہ آپ پر رحمتیں نازل فرمائے اور آپ اسی طرح لکھتے رھیں۔
By: Mujahid, PAKISTAN on Nov, 01 2010
Reply Reply
0 Like
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ