کھیل کو کھیل سمجھیں

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: زہرا تنویر (لاہور)
آج اتوار کا دن تھا۔ گھر میں کافی گہما گہمی تھی۔ چھوٹے بڑے سبھی گھر میں موجود تھے۔ سب دادا ابو کے پاس بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ وسیم گھر میں سب سے چھوٹا بچہ تھا۔ سب کا پیارا تھا۔ وسیم بھی ناشتے سے فارغ ہو کر باہر گلی میں بچوں کے ساتھ کھیلنے کے لیے چل دیا۔ سب بچے اتوار کے روز کرکٹ کھیلتے تھے۔ کبھی کوئی کرکٹ کا دیوانہ منچلہ بھی بچوں کے ساتھ کھیل میں شامل ہو جاتا۔ آج بھی کھیل کا آغاز ہوا تو اسد بھائی آگئے۔ اور بچوں کھ ساتھ کرکٹ کھیلنے لگے۔ جب سب کھیل سے فارغ ہو کر گھروں کی جانب جانے لگے۔ تو اسد بھائی نے سب بچوں کو روک لیا۔ اور کہنے لگے اگلی دفعہ جب ہم میچ کھیلیں گے تو جیتنے والی ٹیم کو انعام میں ٹرافی دی جائے گی۔ لہذا سب بچے اگلے اتوار کو سو سو روپیہ لے کر آئیں۔ سب بچے بات سن اسد کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے گھروں کو چل دیے۔

وسیم کے لیے پیسوں والی بات بہت مشکل تھی۔ کیونکہ اس کی امی ہمیشہ اس کو لنچ گھر سے دے کر اسکول بھیجتی تھیں۔ اور جس چیز کی وسیم کو ضرورت ہوتی خود خرید کر دیتیں۔ آج سے پہلے وسیم کو یوں پیسے نہ ملنے پر پریشانی ہوئی تھی۔ لیکن اب اگر وہ پیسے لے کر نہ جاتا تو سب اس کا مذاق اڑاتے۔ اسی کشمکش میں کافی دن گز گئے۔ آخر ہفتے کی رات وسیم نے دادا ابو سے اس مسئلے میں مدد لینے کا سوچا۔ جیسے ہی دادا ابو عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر اپنے کمرے کی جانب گئے۔ تو وسیم بھی ان کے پیچھے ہو لیا۔ وسیم بیٹا آپ ابھی تک سوئے نہیں؟ دادا ابو نے پوچھا۔ نہیں دادا ابو نیند نہیں آرہی۔ کیوں بیٹا نیند کیوں نہیں آ رہی دادا ابو پیار سے ساتھ لگاتے ہوئے پوچھا۔ وہ دادا ابو ایک مسئلہ ہو گیا ہے مجھے صبح سو روپے کی ضرورت ہے۔ اور آپ جانتے ہیں امی مجھے پیسے نہیں دیتیں۔ وسیم نے اپنی پریشانی بتائی۔ بیٹا آپ نے سو روپے کا کیا کرنا ہے؟ دادا ابو نے وجہ پوچھی۔ وہ دادا ابو کل اتوار کو ہمارا کرکٹ میچ ہے۔ اسد بھائی نے کہا تھا جیتنے والی ٹیم کو انعام دیا جائے گا۔ میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ میں کیا کروں۔ صبح اگر میں پیسے لے کر نہ گیا تو سب میرا مذاق اڑائیں گے۔ آپ ہی بتائیں میں کیا کروں۔ وسیم نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔

اچھا تو یہ بات ہے۔ دادا ابو پر سوچ انداز میں بولے۔ دیکھو بیٹا میں پیسے تو آپ کو دے دوں۔ لیکن یہ کھیل کود میں پیسے جمع کر کے اور لگا کر کھیلنا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ آج آپ سو روپے کا حصہ ڈالتے ہو۔ آئندہ یہ حصہ اور بڑھتا چلا جائے گا۔ پھر آپ کیا کرو گے۔ اس طرح سے آپ کو بری باتوں کی عادت پڑ جائے گی۔ کیا آپ سب بچے یہی پیسے جمع کر کے کسی ضرورت مند کی مدد نہیں کر سکتے۔ کھیل کو ہمیشہ کھیل سمجھ کر کھیلو اور وقت گزاری کا مصرف سمجھو۔ اچھے بچے اس طرح کے کاموں میں حصہ نہیں لیتے۔ دادا ابو نے شفقت بھرے انداز میں سمجھایا۔

جی دادا ابو آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ کھیل میں پیسے لگا کر نہیں کھیلنا چاہیے۔ میں اپنے دوستوں کو بھی یہ بات سمجھاؤں گا۔ وسیم سمجھداری سے بولا۔ شاباش میرے بچے اچھے بچے بڑوں کی بات کو ضرور سمجھتے ہیں۔ دادا ابو بولے اور ہاں میرے بچے ایک بات اور یاد رکھنا۔ دوستی ہمیشہ اپنے ہم عمر لوگوں سے کرو۔ اسد آپ سے عمر میں بڑا ہے۔ وہ آپ کے بچہ ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھتا ہے۔ اس لیے ایسے لوگوں سے دور رہنا چاہیے۔ بڑوں کا عزت و احترام ضرور کرو۔ لیکن دوستی اپنی عمر کے لوگوں سے اچھی لگتی ہے۔ دادا ابو نے وسیم کو اور سمجھایا۔ جی دادا ابو میں سمجھ گیا۔ آئندہ ان باتوں کا خیال رکھوں گا اور پھر دادا ابو کو شب بخیر کہہ کر سو گیا۔

ماں باپ اور گھر کے بڑوں کو چاہیے کہ بچوں کی ہر سرگرمی پر نظر رکھیں۔ تاکہ بعد میں کھیل کھیل میں ایک چھوٹی سی عادت پختہ نہ ہو جائے۔ بچے نادان ہوتے ہیں اچھائی اور برائی کا فرق اگر پیار سے سمجھایا جائے تو جلدی سمجھ جاتے ہیں جیسے وسیم اپنے دادا ابو کی بات سمجھ گیا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1232 Articles with 502778 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Jul, 2017 Views: 788

Comments

آپ کی رائے