پشکر : اونٹ بانی میں الجھی زندگیاں !

(Salman Abdus Samad, India)

ملک کے خطوں سے مختلف تہذیبی ، مذہبی اور ثقافتی تاریخیں جڑی ہیں۔ ان تاریخی پہلوؤں کو کھنگالتے ہوئے اگر ہم حال تک پہنچتے ہیں تو نت مسائل سے سابقہ پڑتاہے اوریہ کہنا پڑتا ہے کہ تہذب وثقافت کے وارث ملک کی نیک نامی کا سبب بنتے ہیں ، تاہم دور تک ان کی خیر خواہی اور خبر گیری کرنے والے نظر نہیں آتے۔ نہ حکومتی سطح پر ان کا خیال رکھا جاتا ہے اور نہ ہی اخلاقی تناظر میں ہمارا معاشرہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ مہابلی پورم کے سنگ تراش ہوں کہ الہ آبادکے ملاح یاپھر پشکر (اجمیر)کے اونٹ بان ہوں کہ بنارس کے بنکر ۔ سب کے حالات دگرگوں ہیں لیکن ہمارا المیہ ہے کہ غیر ضرور ی اور غیر انسانی روایتوں کو فروغ دینے کے لیے حکومت پر دباؤ تو بناتے ہیں تاہم اِن تہذیب کے پاسداروں کو نظر انداز کردیتے ہیں۔پچھلے دنوں تمل ناڈو کے غیر ضروری’ تہذیبی ‘ کھیل ’جلی کٹو‘کی حمایت میں ستارے بھی زمین پر اتر آئے، مگروہیں کے تہذیبی پاسدار سنگ تراشوں پر کسی نے توجہ نہیں دی ۔ راقم نے وہاں کے سنگ تراشوں کی حالت زار پر چند ماہ قبل ایک تجزیاتی رپورٹ لکھی تھی،جو خرچہ فیچرس کے ذریعہ ہندی، اردو اور انگریزی میں ملک کے مختلف اخباروں میں شائع ہوا، اب پشکر کے اونٹ بان کے متعلق چند باتیں کی جارہی ہیں ۔

بلا تفریق مذہب وملت راجستھان کا ضلع اجمیر باشندگانِ وطن کی ایک بڑی تعداد کے لیے مرجع کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس کی وجہ سے سیاحت میں بھی یہ ضلع قابل ذکر بن گیا ۔ کیوں کہ نہ صرف عرس کے زمانہ میں درگارہِ اجمیر ی پر ایک جم غفیر موجود ہوتا ہے ، بلکہ پورے سال سیاحوں اور زائرین کی آمدو رفت کثرت سے ہوتی رہتی ہے، اسی طرح پشکر میں خاص میلے کے علاوہ بھی پورے سال کسی حدتک سیاح اور عقیدت مند آتے جاتے رہتے ہیں۔اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ اجمیرسے شمالی مشرق میں کوئی 12 کلو میٹر کے فاصلہ پرواقع پشکر میں تین مقامات باعث کشش ہیں۔ (1)سروور جھیل ۔(2)برہما مندر (3)ریگستانی علاقہ۔ اول الذکر دونوں تو کسی حد تک مذہبی معاملات سے جڑے ہیں ۔ خاص کر برہما مندر، برادرانِ وطن کے لیے تاریخی حیثیت رکھتا ہے ، کیوں کہ برہما سے منسوب پورے ہندوستان میں فقط ایک یہی مندر ہے۔ تاہم تیسرا مکمل طور پر سیاحت سے تعلق رکھتا ہے ۔ لیکن گہرائی سے دیکھیں تو اب یہ تینوں مکمل طور پر سیاحتی مقامات کے زمرے میں پہنچ گئے۔ عقیدتمند زائرین ہوں کہ سیاح، ان تینوں میں مقامات پر جانا ضروری سمجھتے ہیں ۔ بیشتر یہاں آنے والے ریگستانی علاقوں کی سیر اونٹ کی بگھی یا پھر اونٹ پر کرناپسند کرتے ہیں ، لیکن گردش ایام نے ریگستانی علاقوں کے اونٹ بانوں کے لیے مسئلہ پیدا کردیا ہے اور روزگار کے قابل توجہ مسائل سامنے آرہے ہیں ۔ پشکر کے دورانِ سفر ایک مرتبہ وہاں کے اونٹ بانوں سے جو گفتگو ہوئی وہ نذرِ قارئین ہے ۔

پندرہ سالہ راکیش کا کہنا ہے ’’میں تقریباً تین برسوں سے اونٹ کی بگھی چلاتاہوں ۔ مجھے میرے مالک ماہانہ تین ہزار روپے دیتے ہیں۔ میر اگاؤں پشکر سے تقریباً 40کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے ۔اس لیے رہائش کی ذمہ داری میرے مالک پر ہے ۔کھانا مشترکہ طو رپر بنتا ہے اور مالک کے یہاں کام کرنے والے دیگر افراد مل کر کھاتے ہیں۔ مجھے ملنے والی تنخواہ براہ راست میرے گھر والوں کے ہاتھ میں جاتی ہے ، اگر مہینہ کے درمیان مجھے جیب خرچ کی ضرورت ہوتی ہے تو میں مالک سے لے لیتا ہوں ، جو وہ میری تنخواہ سے کاٹ لیتے ہیں۔ ‘‘ اس سوال کے جواب پر کہ آخر یہ کام کیوں کررہے ہو ، اس کے علاوہ بہت سے کام ہوسکتے ہیں ، میرے ساتھ دہلی چلو، تعلیم حاصل کرنا یا پھر کوئی اور کام ، راکیش نے جواب دیا ’’نہیں ، مجھے اسی کام میں دل لگتا ہے ۔ میں دہلی نہیں جاسکتا۔ میرے جیسے بہت سے بچے اس کام میں لگے ہیں۔ مجھے ان کے ساتھ ہی رہنااچھا لگتا ہے۔ میں نے ساتویں درجے تک تعلیم حاصل کی اور آگے پڑھنے کو من نہیں کرتا اور نہ ہی پڑھنے کی کوئی صورت نکل سکتی ہے‘‘۔

بگھی چلانے والا ایک 22سالہ لڑکا سونو کا کہنا ہے ’’تقریبا ً 8برسوں سے میں یہ کام کررہاہوں ۔ مجھے مہینہ بھر میں مالک کی طرف سے پانچ ہزار روپے ملتے ہیں ۔ پڑھائی اس لیے نہیں کی کہ بہت سے لوگ پڑھائی کے بعد بھی پریشان رہتے ہیں ۔ ‘‘ سونو سے جب یہ سوال کیا گیا کہ سال کے کس مہینہ میں سب سے زیادہ کمائی ہوتی ہے تو اس نے کہا ’’کمائی سے بہت زیادہ ہمیں سروکار نہیں ہے۔ کیوں کہ سیاح آئے یا نہ آئے ہمیں تنخواہ ہر ماہ ملتی ہے ۔البتہ نومبر میں یہاں لگنے والے میلے میں سیاح اور زائرین بہت زیادہ آتے ہیں ۔ وہ ہمیں تحفہ کے نام پرکچھ پیسے دیتے، گویا اس طرح اس مہینہ میں ہماری کچھ الگ سے کمائی ہوجاتی ہے۔ ‘‘

جب شیو جی نامی ا س فرد سے گفتگو کی گئی ، جو کئی مالکوں کی طرف سے وہاں نگہبانی پر مامور ہیں ، تو کہا ’’پورے سال کمائی تو بہت زیادہ ہوتی نہیں ۔ اس لیے ہم کام کرنے والوں کو تنخواہ کم دیتے ہیں۔ روز بروز یہاں بگھیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ ظاہر ہے ایسے میں کام کرنا بہت مشکل ہے ۔ ایک اونٹ پر روزانہ تقریبا 400 سو روپے کا خرچہ آتا ہے ۔ ایک طرف لڑکوں کی سیلری دینا اور دوسری طرف اونٹ کا خرچہ نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے ۔ ‘‘

غورطلب ہے کہ پشکر ریگستان میں آنے والوں میں غیر ملکی سیاح اور ملکی عقیدتمند زائرین کی تعدا د تقریباً برابر ہوتی ہے ، مگرپشکر میلے کے زمانے میں ہندوستانی زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ میلا 05نومبر سے 30نومبر تک لگتا ہے۔میلہ میں آنے والے ریگستانی علاقوں میں گھومنا ضروری سمجھتے ہیں۔ کیوں کہ یہاں واقع پہاڑوں کے آس پاس کی خوبصورتی دیدنی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کئی مشہور فلموں کے گانوں کی شوٹنگ یہاں ہوئی ہے۔ گویا اس طرح نومبر کے مہینہ میں یہاں کے اونٹ بانوں کی جان میں جان آتی ہے۔ تقریباً چار سو اونٹ کی بگھیاں چلتی ہیں۔ جنہیں کچھ مالکان خود چلاتے ہیں اور کچھ بگھیوں کو چلانے کے لیے وہ لڑکے رکھتے ہیں۔ اونٹ کے ساتھ مکمل طور پر بگھی تیار کرنے میں تقریبا ًایک لاکھ روپے کا صرفہ آتا ہے اور روزانہ کا خرچ الگ ۔ گرمی کے مہینوں یعنی جون اور جولائی میں اونٹ کی طبیعت زیادہ خراب ہوتی ہے ، حالانکہ ان مہینوں میں زائرین اور سیاح کی تعداد کم ہوجاتی ہے ۔سرکاری سطح پر اونٹوں کے علاج کا انتظام تو ہے ، تاہم یہاں کے مالکان سرکاری علاج سے بہت زیادہ مطمئن نہیں ۔ان تمام صورتحال میں سوال یہ ہے کہ زائرین اور سیاحوں کی تعداد میں اضافہ تو نہیں ہورہا ہے ، مگر بگھیاں بڑھتی جارہی ہیں تو اِن اونٹ بانوں کے روزگار کیا ہوگا ؟ ساتھ ہی ان کے بچوں کی تعلیم کا معاملہ بھی نازک بنتا جارہا ہے ۔ سب سے زیادہ قابل التفات مسئلہ تو ہے کہ اس عمر کے بچے بھی بگھیاں چلا رہے ہیں ، جن کے ہاتھوں میں قلم ہونا چاہیے تھا۔ انھیں اپنی تعلیم سے سرورکار ہونا چاہئے تھا ، مگر وہ بحالتِ مجبوری اپنی خوشنما زندگی برباد کررہے ہیں،حالانکہ ہمارے ملک میں بچہ مزدوری کے خلاف قانون موجود ہے ۔ کیا پشکر میں اونٹ کی بگھیاں ہانکنے والے بچے اس قانون سے مستثنیٰ ہیں ؟ کیا انھیں تعلیم کی ضرورت نہیں؟یہ بات بھی تکلیف دہ ہے کہ مالکان ان بچوں کو بگھیوں پر اس لیے رکھ لیتے ہیں کہ انھیں کم تنخواہ دینی پڑے ۔ چنانچہ بگھی بان کے مسائل اور خاص طور سے بچوں کی برباد ہونے والی خوبصورت زندگی پر توجہ دنیا ضروری ہے ۔(چرخہ فیچرس)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salman Abdus Samad

Read More Articles by Salman Abdus Samad: 90 Articles with 63291 views »
I am Salman Abdus samad .I completed the course of “Alimiyat” from Islamic University Darul Uloon Nadwatul Ulama Lucknow. Right now doing the course o.. View More
02 Jul, 2017 Views: 730

Comments

آپ کی رائے