مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی انتہاء ……!

(Rana Aijaz Hussain, Multan)

 بھارت جہاں شب و روز پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف اور خطے کی صورتحال کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لئے اربوں ڈالر مالیت کے جدید اسلحے اور ڈرونز کی خریداری کے معاہدے کررہا ہے تو دوسری جانب مقبوضہ وادی کشمیر میں تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے نہتے کشمیری مسلمانوں پر سنگین ظلم و بربریت اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی رواء رکھے ہوئے ہے۔ بھارتی فوج کے ظلم کی انتہا ء ہے کہ صرف جون2017ء میں بھارتی فوج نے37بے گناہ کشمیریوں کو شہید کر دیا ، جبکہ 775 افراد کوشدید زخمی اور 196کو گرفتارکیا۔ صرف ماہ جون کے دوران 56خواتین کی بے حرمتی کی گئی، اور گلی محلوں کی تلاشی کے نام پر چادر و چار دیواری کی حرمت کو ہرروز پامال کیاجارہا ہے۔ بھارتی فوج کی اس سفاکیت پر جب پر امن مظاہرین احتجاج کرتے ہیں تو انہیں گولیوں اور آنسو گیس کے گولوں سے نشانہ بنایاجاتا ہے۔بھارتی سرکار نے فوج کو مقبوضہ کشمیر میں مظالم سے روکنے کی بجائے مذید تازہ دم فوجی دستے بھیجنے کا حکم جاری کیا ہے۔ ہمالیہ کی گود میں ماضی کی جنت نظیر کہلانے والی یہ بدنصیب سرزمین کئی عشروں سے آگ وآہن، تباہی وبربادی، خون ناحق، حقوق انسانی کی بدترین خلاف ورزیوں، لٹی عصمتوں، اجڑی بستیوں، خزاں رسیدہ سبزہ زاروں، حسرت ناک کھنڈرات میں تبدیل ہوئی شان دار عمارتوں اور بے بس عوام کا مسکن بن چکی ہے۔ یہاں بلند چوٹیوں سے دل موہ لینے والے چشمے اب لہو ابل رہے ہیں، یہاں کی میٹھی خوشبومیں بارود کی زہریلی ملاوٹ شامل ہوچکی ہے، ہر گھر اور ہر فرد فریاد کرتا ہوا نظر آتا ہے ،یہاں ایک شخص کو انسانی ڈھال بنا کر جیپ کے آگے باندھا جاتا ہے اور اس جرم کا ارتکاب کرنے والے بھارتی فوجی افسر کو میڈلز دیئے جاتے ہیں۔ جبکہ آزادی ایک ایسی نعمت ہے جو کسی بھی انسان کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرتی ہے ۔ اور کوئی بھی قو م اپنی ثقافت روایات اور مذہبی آزادی کے تحت اپنی زندگی بطور آزاد شہری گزار سکتی ہے۔اور اسی کے بعد قومیں دنیا میں اپنی نسل در نسل شناخت کا باعث بنتی ہیں اور جب کسی قوم کو زبر دستی زیر کرنے یا پھران کے حقو ق سلب کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ ہتھیار تو کیا اپنی جان خطرے میں ڈال کر اپنے حقوق کا دفاع کرتے ہیں یہ کیفیت ہر انسان کی ہوتی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی نے کسی سے آزادی جیسی نعمت کو چھیننے کی کوشش کی تو اس کا کیا انجام ہوا ؟ کشمیر کے معاملے پر حکومت پاکستان نے یہ معاملہ اقوام متحدہ میں کئی بار پہنچایا اور ہر بار اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے کر اس کے حل کے لئے بھارت پر زور دیا ۔ لیکن کیا وجوہات ہیں کہ اقوام متحدہ بھی اپنی قرار دادوں پر عملدر آمد کرنے میں بے بس ہے ؟لاکھوں کشمیری عوام حق خود اردایت کے حصول کے لئے اپنی جانوں کی قربانی دے چکے ہیں ، لیکن بھارت کبھی بھی مسئلہ کشمیر کے حل میں مخلص نہیں رہا ۔ سات لاکھ سے زائد بھارتی فوج وحشیانہ کاروائیوں کی مدد سے کشمیریوں کی آواز دبانے کی کوششوں میں مصروف جبکہ بھارتی میڈیا منفی پراپیگنڈہ پر عمل پیرا ہے ۔

جہاں تک عالمی طاقتوں کا تعلق ہے ان کا اپنا طویل المدت مفاد اسی میں ہے کہ پاکستان اور بھارت میں کبھی امن و امان قائم نہ ہو کیونکہ یہ تاریخی خطہ لا محدود وسائل و معدنیات سے مالامال ہے ،اور کہیں یہ آپس میں کوئی سمجھوتہ کرکے عالمی سیاست میں اپنا کوئی کردارادا کرنے کے قابل نہ ہوجائیں، اور بعید از قیاس نہیں کہ اس پر بھی متفق ہوں کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی ایٹمی ریاست جوکہ برادر دوست ملک چین کے ساتھ پاک چین اقتصادی راہداری، ون بیلٹ ون روڈ کے منصوبے پر عمل پیرا ہے کہیں اقوام عالم کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل نہ ہو جائے ۔ خود امریکہ سلامتی کونسل کی اس متفقہ قرارداد کے محرکین میں سے تھا جس میں جمو ں و کشمیر کے عوام کو رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا تھا بعد میں جب بھارت اس قرارداد سے منحرف ہوگیا تب بھی امریکہ اپنے موقف پر قائم رہا اور کئی بار اس کے خلاف روس کی مدد سے پیش کی جانے والی قراردادوں کو ویٹو بھی کرتا رہا۔ پاکستان اس کی اسی اصول پسندی کی وجہ سے سوویت یونین کی اشتراکی یلغار کے مقابلے میں امریکہ کے ساتھ کھڑا رہا مگر جب سوویت یونین ٹوٹ گیا، افغانستان سے روس کو پاکستان کی مدد سے نکال دیاگیا تو امریکہ کی ترجیحات بدلنے لگیں اب ایک طرف سینیٹر جان مکین کہتے ہیں کہ کشمیر پر امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور امریکہ مقبوضہ کشمیر میں تشدد کا خاتمہ چاہتا ہے دوسری طرف مقبوضہ ریاست میں کشمیری عوام پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑنے والے بھارت اور اس کی فوج کی مذمت میں ایک لفظ نہیں کہا جاتا اور الٹا حریت پسند تنظیم حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کو عالمی دہشتگرد قرار دے دیا جاتا ہے۔دنیا میں سپر پاور کہلانے والا امریکہ جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی یا کسی دوسرے بہانے عراق، لیبیا، افغانستان، شام اور دوسرے ملکوں پر نیٹو اتحادیوں کو ساتھ لے کر چڑھ دوڑتا ہے ، مگر اسے مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ انسانوں کا بہتا ہوا لہو نظر نہیں آتا۔ مقبوضہ کشمیر میں نہتے مسلمانوں پر بھارتی مظالم پر عالمی امن کے ٹھیکے داروں کی پراسرار خاموشی معنی خیز ہے ۔لیکن میڈیا کسی بھی علاقے ،ملک یا قوم کی سوچ اور ان کے نظریات تبدیل کر سکتا ہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی نیوز چینلز اور اخبارات بھارتی میڈیا کے منفی پروپیگنڈے کا مقابلہ کر تے ہوئے کشمیری عوام کے درست موقف سے پوری دنیا کو آگاہ کریں۔ یہ بھارت ہی ہے جس نے آزادی اظہار رائے پر پابندی لگائی اور اطلاعات تک رسائی پر پابندی عائد کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں سماجی رابطوں کی 22 ویب سائٹس کو بلاک کردیا ہے۔ خود اقوام متحدہ کے شعبہ انسانی حقوق کونسل کے سربراہ زید رعدالحسین نے جنیوا میں کونسل کے 35ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ وادی کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت پر پھر زور دیا وہ اقوام متحدہ کے شعبہ انسانی حقوق کی ٹیم کو مقبوضہ علاقے کا دورہ کرکے وہاں کی صورتحال کا ازخود جائزہ لینے کی اجازت دے۔ اقوام متحدہ کے شعبہ انسانی حقوق کونسل کے سربراہ نے کہا کہ ’’ پاکستان کی طرف سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ٹیم کو آزاد کشمیر تک رسائی فراہم کی جاتی ہے لیکن بھارت نے انسانی حقوق کی ٹیموں کی مقبوضہ کشمیر تک رسائی بند کر رکھی ہے، ٹیموں کو کنٹرول لائن کے آرپار سرحدی اور آبادی والے علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دی جاتی جس وجہ سے ہم وہاں کی اصل صورتحال کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل نہیں کر پاتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یو این ہیومن رائٹس کونسل کو پتہ ہے دنیا کے کس علاقہ یا خطے میں حقوق انسانی کی صورتحال کیسی ہے، کیونکہ جب ہماری ٹیموں اور اراکین کو ایسے علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دی جاتی تو ہم دیگر ذرائع سے ایسے علاقوں میں زمینی صورتحال کے بارے میں آگاہی حاصل کرتے ہیں، ہمیں وہاں سے جو اطلاعات ملتی رہتی ہیں، وہ کسی بھی اعتبار سے اطمینان بخش نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں تشدد، شہری ہلاکتوں، کرفیو اور مواصلاتی بلیک آؤٹ جیسی صورتحال آئے دن پیدا ہو جاتی ہے، جس وجہ سے وہاں رہنے والے لوگوں کے حقوق پامال ہورہے ہیں ‘‘۔ نہتے کشمیری مسلمانوں پر بھارت کے بدترین مظالم کا سلسلہ رکوانے اور پاکستان بھارت دونوں ملکوں کے تعلقات معمول پر لانے اور بر صغیر میں امن و استحکام کے قیام کے لئے مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق، اور پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاناضروری ہے۔پا کستان اس کیلئے ہمیشہ تیار مگر بھارت مسلسل راہ فرار اختیار کرتا آیا ہے۔اب یہ امریکہ اور دوسری بڑی طاقتوں سمیت پوری عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کروانے کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالیں اور اسے بامقصد مذاکرات کی میزتک لانے میں مثبت کردار ادا کریں۔
٭……٭……٭

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Aijaz Hussain

Read More Articles by Rana Aijaz Hussain: 781 Articles with 336092 views »
Journalist and Columnist.. View More
09 Jul, 2017 Views: 514

Comments

آپ کی رائے