روس کی نئی کروٹ

(Amjad Siddique, Lahore)

کہتے ہیں سدا بادشاہی نہیں رہتی۔بڑے بڑے بادشاہوں کو گمنام ہوتے بھی دیکھا گیا۔اور انہیں تحت سے تختہ دار پر بھی جاتے دیکھنے کا موقع ملا ۔دنیا کے ممالک بھی اپنی اپنی بادشاہی کو شہنشاہی میں تبدیل کرنے کے لیے ہمیشہ سرگرم رہتے ہیں۔یہ کوئی قدرتی فیصلہ ہے یا محض اتفاق کہ زیادہ تر دنیا پر کسی نہ کسی جوڑی کا راج رہے۔کبھی یہاں روم اور ایران کی جوڑی دنیا بھی میں اپناسکہ چلواتی رہی۔اورکبھی برطانیہ اور فرانس نے اس دنیا کو حصے بخرے کرکے اپنا راج چلایا ۔پچھلے کئی برسوں سے امریکہ اور روس کی جوڑی اس عالمی شہنشاہیت سے لطف اندوز ہورہی تھی۔مگر کسی سبب اس میں تعطل آگیا۔روس کو بوجوہ اس دوڑ میں سے باہر ہونا پڑا۔اندورنی معاملات کی اصلاح کے لیے اسے عالمی معاملات سے کچھ سالوں کے لیے چشم پوشی اختیا ر کرنا پڑی ۔اس کی بے نیازی اس قدر بڑھ گئی کہ کبھی کبھی یوں لگاجیسے امریکہ بہادر اکیلا ہی دنیا کی شہنشاہی کا دعوے دار ہے۔اب یوں محسوس ہورہاہے کہ روس ایک بارپھر دنیا کو اپنی اہمیت جتانے کی پلاننگ کررہاہے۔یوں لگتاہے آنے والے کچھ مہینے بعد روس کو ایک بار پھر اس کا کھویا ہوا مقام مل جائے گا۔

پی پی کے قائد اور سابق صدر آصف زرداری نے نواز شریف حکومت کو سریا بیچنے والے بے وقوفوں کی حکومت قر اردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ملک کی ڈوریں اس وقت سریا بیچنے والے بے وقونوں کے ہاتھ میں ہیں۔سابق صدراپنی مخصوص سیاست کی پہچان رکھتے ہیں۔عقلمند حلقے انہیں ایک مخصوص اور محدود ذہنیت کاشخص قراردیتے ہیں۔جو کم از کم ابھی تک اس سے باہر نہیں نکل پایا۔ان کی اسی قسم کی سیاست او ر ذہنیت نے وقتی ہلاگلہ تو بہت مچایا مگر انجام کاران کی اس مفاہمتی سیاست نے ایک بڑی او رقومی پارٹی کو ایک علاقائی پارٹی میں تبدیل کردیا ہے۔پارٹی کی حالیہ تباہی کے باوجود زرداری صاحب نہ اپنا انداز سیاست بدلنا چاہتے ہیں ۔او رنہ اپنا انداز تکلم ۔وہ سریا پیچنے والو ں کو بے وقوف قرار دے رہے ہیں۔حالانکہ ان کے سسر صاحب نے اسی سریاکے لیے روس سے تعلقات قائم کیے ۔ان کی کامیاب حکمت عملی کے باعث روس نے پاکستا ن میں سٹیل ملز لگائی۔جو اب تک پاکستان کی سب سے بڑ ی سٹیل ملز ہے۔اس میں سینکڑوں نہیں ہزارو ں بندے کام کرتے تھے۔بھٹو کی سریا بیچنے والوں کی قدر دانی نے ملک کو ترقی اور خوشحالی کے دروازے کھولے ۔روزگار کی دستیابی ہوئی۔بھٹو صاحب کی بڑی سوچ نے پارٹی کو بڑا کیا۔اور ان کے داماد کی چھوٹی سوچ پارٹی کو چھوٹا کررہی ہے۔سوچ کا فرق پی پی کے مستقبل کو دھندلا رہاہے۔بلاول صاحب بڑی کوشش کررہے ہیں کہ کسی طریقہ سے پارٹی کا امیج بحال کرسکیں۔مگر ان کے والد محترم اپنی عقل کل کا پرچار بند کرنے پر آمادہ نہیں ہورہے۔اب جبکہ اگلے الیکشن میں ایک سال سے بھی کم وقت رہ گیاہے ۔بلاول کو کلی طور پر فری ہینڈ مل بھی جائے تب بھی وہ اوروں کے بچھائے کانٹے صاف کرنے میں بمشکل کامیاب ہونگے۔

سٹیل مل روس کا ایک ایسا تحفہ تھا۔جس نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے نئے باب وا کیے۔اب روس کی تازہ انگڑائیاں بھی پاکستان سے متعلق ہیں۔سی پیک کے سبب روس کو اپنی اونگھ ختم کرکے بیداری کی طرف مائل ہونا پڑا رہاہے۔یہ کوئی چھوٹا موٹا منصوبہ نہیں ۔اگرروس آج اپنی آنکھ موند حکمت عملی نہیں بدلتاتو شاید آنے والا عالمی منظر نامہ اسے بالکل دیوار سے لگادیے۔پچھے کئے سالوں سے امریکہ اکیلا دینا بھر میں دندناتاپھر رہا ہے۔ا س کی ٹکر کا کوئی ملک نظر نہیں آیا۔نہ کوئی اس کی راہ میں رکاوٹ بنا۔روس کے لیے سی پیک کے باعث متحرک ہونا وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔اگرچہ چین اس منصوبے کا یک لازمی جزوہے۔اس کی موجودگی او رشراکت کے بعد امریکہ بہادرکے لیے سی پیک کی کھل کر مخالفت ممکن نہ رہی ۔اگر یہ منصوبہ خالی پیلی پاکستان کا اندرونی معاملہ ہوتاتو ہمارے امریکی نمک خوار اس کو گول کرنے کا اعلان کر چکے ہوتے۔چین کی شراکت کے باعث پاکستان کو اس طرح کی کسی پریشانی کا سامنا نہیں ہوا۔اب اگر روس بھی اس منصوبے کی حمایت کرتاہے۔تو امریکہ کے لیے جو تھوڑی بہت کدورت نکالنے کا عمل ہے ۔وہ بھی رک جائے گا۔امریکہ اسے ایک کڑوہ گھونٹ سمجھ کر نکل جائے گا۔پھر اس منصوبے کے لیے روس بذات خود شروع ہی سے اظہار دلچسپی رکھتاتھا ۔مڈل ایسٹ او رخلیجی ممالک کی منڈیوں تک رسائی کے لیے اس کے پاس کوئی متبادل نہیں ۔اس کے بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات تو ہیں۔مگر اس کی سرحدیں بھارت کے ساتھ براہ راست نہیں ملتیں۔جس کے سبب گرم پانیوں تک روس کی رسائی ایک خواب بن گئی۔اس نے اسی کی دہائی میں ایک متبادل راستے کے طور پر افغانستا ن چڑھائی کی۔مگر امریکہ نے یہ کوشش ناکام بنادی۔پاکستان ان دنوں امریکہ کے ہاتھ پاؤں بن کر سامنے آیا۔یہ وہی دور تھا۔جس کے بعد ایک لمبے عرصے تک پاک روس تعلقات سردی مہری کے شکاررہے۔اب یہ تعلقات سی پیک کے سبب دوبارہ بہتر ہوتے محسو س ہورہے ہیں۔سول ملٹری لیڈر شب کی سوچ میں فرق کبھی ہمیں امریکہ کی طرف مائل کرتاہے۔اور کبھی روس کی طرف ۔فوجی حکمرانوں نے زیادہ تر امریکہ کو ترجیح دی۔اوربھٹو او رنواز شریف جیسے لیڈران امریکہ پر تکیہ کرنے کی بجائے چین او رروس کے ساتھ تعلقات بڑھانے میں کوشا ں بھی رہے۔تازہ انگڑائیاں لیتا روس اگر کچھ کمال دکھانے میں کامیاب ہوگیا۔تو سی پیک صحیح معنوں میں کسی نئے عالمی نقشے کا پیش خیمہ ثاتب ہوگا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amjad Siddique

Read More Articles by Amjad Siddique: 222 Articles with 65309 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Jul, 2017 Views: 1005

Comments

آپ کی رائے