روبوٹ بیوی

(Ajmal Malik, faisalabad)
تمہاری بھابھی (نصیبو) مجھےٹپکے آم کی طرح اچانک ملی تھی۔ ۔آم کو سونگھتے ہی بھوک لگ جاتی ہے۔ناں ۔؟۔ویسے ہی شادی کے ابتدائی دنوں میں مجھےبھی لگتی تھی۔۔اور میں اسے دنیا سے چھپا چھپا کر رکھتا تھا۔ جیسے امبیوں کو بھوسے میں چھپا کر رکھتے ہیں۔پھر ایک دن وہ پک گئی۔بیوی جب پک جائے تو وہ شوہر کو پکانے لگتی ہے۔پکنے کے ڈر سے۔ میں خود ہی بھوسے میں چھپنے لگا تھا۔اچانک اُس کی تاثیر آم جتنی گرم ہو گئی۔سچ تو یہ ہے کہ ہر بیوی کی تاثیرگرم ہوتی ہے۔۔

چین میں تیار کی گئی روبوٹ بیوی

تمہیں پتہ ہے کہ سقراط۔ رن مریدوں کاجد امجد تھا۔؟۔بہت کم شوہر وں پر ویساازدواجی تشدد ہوتا ہے۔۔ جیسا سقراط پرہوتا تھا۔ ۔یہ رولنگ میرے دوست شیخ مریدنے دی تھی۔

میں مرید کی رائے پررائے زنی کرنا چاہتا تھا۔اور۔ جونہی منہ کھولا ۔تو کم بخت سمجھا ۔میں جمائی لے رہاہوں ۔اور ۔وہ ۔جواب سنے بغیرہی۔۔پھر بول پڑا۔ کس جاہل سے متھا۔ لگ گیا میرا۔۔تم کہیں ابو جہل کی لڑی سے تو نہیں۔؟۔اس نے دوسری رولنگ دی۔تو۔میں نے دوسری ’’جمائی‘‘لی۔ وہ ہیٹرک چانس پر تھا۔بولا۔۔ بھئی میں تو سقراط کی لڑی سے ہوں۔ تمہیں پتہ ہے۔۔ سقراط کو زہر سے رغبت تھی۔؟۔ ایک بار ۔وہ ریاست کی سب سے بدمزاج، بدزبان اوربدتمیزعورت کی تلاش میں نکل پڑا۔۔اور ۔وہ عورت اسےمل بھی گئی۔اللہ جانے اس میں فلسفہ تھا یا۔معرفت ۔۔کہ ’’حضور‘‘نےاُ س سے شادی کر لی ۔یہ کوئی غیر مرئی شادی نہیں تھی۔۔پورے یونان نے دیکھاکہ حضور نے طوفان کو سسرال سے اپنے گھر منتقل کیا۔اسی مہم جُوئی کے دوران وہ رن مرید ہوا ۔ہوگا۔؟۔۔یہ زہر کا پہلا پیالہ تھا جوحضور نے پیا۔ناصر کاظمی نے حضور کے لئے۔ہی تو کہا تھا۔۔
پی جا ایام کی تلخی کو بھی ہنس کر ناصر
غم کو سہنے میں بھی قدرت نے مزارکھا ہے۔
۔تیسری جمائی۔۔ لیکن میں شادی کے معاملے میں۔۔بالکل سقراطی نہیں ہوں۔۔ تمہاری بھابھی(نصیبو) مجھےٹپکے کے آم کی طرح اچانک ملی تھی۔۔آم کو سونگھتے ہی بھوک لگ جاتی ہے۔ناں ۔؟۔ویسے ہی شادی کے ابتدائی دنوں میں مجھےبھی لگتی تھی۔۔اور میں اسے دنیا سے چھپا چھپا کر رکھتا تھا۔ جیسے امبیوں کو بھوسے میں چھپا کر رکھتے ہیں۔پھر ایک دن وہ پک گئی۔بیوی جب پک جائے تو وہ شوہر کو پکانے لگتی ہے۔پکنے کے ڈر سے۔ میں خود ہی بھوسے میں چھپنے لگا تھا۔اچانک اُس کی تاثیر آم جتنی گرم ہو گئی۔سچ تو یہ ہے کہ ہر بیوی کی تاثیرگرم ہوتی ہے۔مجھ احمق پرسارے بھید شادی کے بعدکھلے تھے۔۔حضور۔چونکہ مفکرِ اعظم ۔ بلکہ ۔ مریدِ اعظم بھی تھا۔اس نے توشادی ہی باغی ڈھونڈ کرکی تھی۔وہ جانتا تھا کہ صبرفلسفے کی تخلیق کابنیادی عنصرہے ۔اور۔ شادی سے بڑا صبرکوئی نہیں ہوتا۔پورے یونان کی شورش اُس ’’جِیون جوگے‘‘کے گھر میں برپا تھی۔ گھرکا طوفان ابھی تھما نہ تھاکہ حضور پر نوجوانوں کو بغاوت پر اکسانے کا الزام لگ گیا۔جیوری بیٹھی ۔دلائل ہوئے۔صفائی بھی دی۔ لیکن حضورسارے پیپروں میں فیل ہو گیا۔جیوری نے۔اسے اپنی سزا خود چننے کا اختیار دیا۔۔مینئیومیں اس کے سامنے ، عمر قید، قید با مشقت، جلاوطنی، کوڑے اور پھانسی شانسی کا آپشن تھا لیکن اسے خود کشی پسند تھی۔ سو اس نے دوسری بار ۔زہر کا پیالہ آرڈر کر دیا۔اللہ ہی جانے۔کس سانپ کا منکا اس نے اپنے اندر فٹ کروا رکھا تھا۔؟ ۔ وگرنہ زہریلی بیوی کے بعدزہرکا انتخاب کون کرتا ہے؟۔ وہ جب تک زندہ رہا۔ زنداں میں رہا۔۔ میں بھی سقراطی ہوں کیونکہ میں بھی زنداں میں ہوں۔مرید نے ہیٹرک کرلی تھی۔ لیکن سقراط دوسرے چانس کے بعد آؤٹ ہوگیا۔پانامہ کیس کی طرح یہ فیصلہ بھی تین دو کا نکلا تھا۔
مریدنے جتنی سقراطی میرے اوپر جھاڑی تھی۔اس کا ذمہ دار بھی میں خود ہی تھا۔میں نے تو صرف اتنا پوچھا تھاکہ’’رن مریدی کیسی جا رہی ہے۔؟‘‘۔اس نے جوکہا۔وہ ۔ابتدائیے میں درج ہے۔ ایسے ابتدائیے میں کئی بار سن چکا ہوں۔ہم یک لنگوٹ اور دو قلب جیسے دوست ہیں۔مجھے وہ ٹپکے آم کی طرح اچانک ہی ملا تھا۔لنگوٹ میں۔ننگ تڑنگا۔۔نہرکے کنارے۔تب وہ درختوں کی گھنی چھاؤں تلے سن باتھ والے لباس میں تھا۔اس کی اکثر باتوں نے بھی صرف لنگوٹ پہنا ہوتا ہے۔۔ہم۔ بچپن سے نہر کے دو کناروں کی طرح ایک ساتھ لیکن الگ الگ رہے ہیں۔ہماری اپنی اپنی دھارا ہے۔وہ ہمیشہ تروتازہ رہتاہے۔۔ نہر کنارے کھڑے خواجہ سراؤں کی طرح ۔بے فکر۔۔اس کا فلسفہ حیات تھوڑا واحیات ہے۔وہ دیسی سقراط ہے۔۔ میں مرید سے متاثر اور اس کی دوستی سے متاثرہ ہوں۔
’’تمہارے شب وروزکیسے گذرتے ہیں۔؟‘‘۔ میں نے دوسرا سوال داغا۔
’’محبت بخار جیسی ہو تی ہے۔بتانے سے پتہ چلتی ہے۔۔اور۔شادی خمار جیسی ۔۔ دیکھتے ہی پتہ چل جاتا ہے۔مجھے کبھی بخار نہیں ہوا۔ لیکن خمارکئی سال سے اترا ہی نہیں۔ خلیل جبران نے کہا تھا ’’عورت کا دل وقت اور زمانے کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتا‘‘۔ دل کے معاملے میں نصیبو بھی پکی جبرانی نکلی۔کہتے ہیں کہ انسان سے بولنے کا حق چھینا جا سکتاہے۔ لیکن۔خاموش رہنے کا نہیں ۔۔ میں نے بھی گھرمیں بولنے کا حق۔۔ محفوظ رکھا ہوا ہے۔۔شادی کے بعدحق زوجیت سمیت سارے حق بیوی کے ہوتے ہیں ۔۔ٹی وی اور فریج کی طرح لڑائی جھگڑا جہیز کی بنیادی آئیٹم ہے۔گھروں کی بیشتر لڑائیاں شو ہر کا ماضی جاننے کے لئے ہوتی ہیں کیونکہ مستقبل تو۔ بیوی کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔۔انسان سے بڑی دھوکہ باز اس کی زبان ہے۔۔وہی بہوجو بارات اور ولیمے کے روز پتھر بن کر بیٹھی ہوتی ہے۔اچانک پتھر بن کربرسنے لگتی ہے۔۔کیونکہ۔۔دنیا خاموش آدمی کو مفکر اور خاموش عورت کوپاگل سمجھتی ہے۔۔ عورت ہمیشہ چیخ چیخ کر ثابت کرتی ہے کہ وہ عقل مند ہے۔ جو مرد شادی سے قبل دھوکہ دہی کے ماسٹر ہوتے ہیں ۔۔ شادی کے بعد ان کی زندگی’’دھوکہ سہی‘‘ میں گذرتی ہے۔۔محترم اشفاق احمد سچ کہتے ہیں کہ دھوکے میں بڑی طاقت ہوتی ہے یہ لوٹ کر آجاتا ہے۔ہمارے ہاں تو۔ ادب بھی ستم رسیدہ تخلیق ہوا ہے۔ وگرنہ ۔۔۔مشتاق احمد یوسفی کو یہ لکھنے کی ضرورت نہیں تھی کہ ’’عورت کی ایڑھی ہٹاؤ تو اس کے نیچے سے کسی نہ کسی مرد کی ناک ضرور نکلے گی‘‘۔۔۔مرید بولا۔۔!۔
لیکن ممتاز مفتی توکہتے ہیں کہ’’دنیا کی سب سے بور چیز شریف عورت ہے‘‘۔تمہیں تو خوش ہوناچاہیے تمہاری زندگی میں ایڈونچر ہے۔؟۔میں نے کہا۔
مرید۔۔:۔بیوی۔ بارش میں گیلی ہونے والی چارپائی کی طرح ہوتی ہے۔جو ہر وقت کسی کسی رہتی ہے۔اور۔شادی۔ قسمت پُڑی کی طرح ہو تی ہے۔ٹوکن خالی نکلتے ہی ایک اور ٹوکن نکالنے کے لئے جی مچلتا ہے۔۔یہ تو ایسے ہی کہ ’’اگربیوی تھکن کی شکایت کرے تو اس کی خدمت کے لئے ایک اور بیوی لے لیں‘‘ ۔لیکن میں خوفزدہ ہوں پھر دونوں منجیاں کسی کسی رہیں گی۔۔ ہندو شاستری کہتے ہیں کہ عورت کے چار سو چار چلتر ہیں۔ میں آٹھ سو آٹھ چلتر کا کیا کروں گا۔؟۔اور۔انگریز کہتے ہیں۔ کہ ’’ مچھلی اور عورت کو دم سے پکڑ لو تو وہ ہلنا چھوڑ دیتے ہیں‘‘۔ مجھے تو کوئی سرا دکھائی نہیں دے رہا۔۔تم ہی کچھ بتاؤ۔؟۔اس نے مجھےپوچھا۔
چین میں زنگ گیاگی نامی 31 سالہ انجنئیر نےروبوٹ بیوی ایجادکر لی ہے۔جس میں زندہ خواتین والی ساری صفات ہیں۔۔ صرف اور صرف خوبیاں ۔۔نہ طعنے،کوسنے، نہ بدتمیزی اوربدزبانی کی فکر۔۔ موٹاپے کی ٹینشن بھی نہیں۔صرف ساڑھے چار کلووزنی بیوی ۔چائنا کا مال ہے۔جب چاہے بد ل ڈالو۔دوسری تو کیا۔تیسری، چوتھی شادی بھی کرو۔جیبوں کی تلاشی کی فکر اور نہ تنخواہ چھپانے کی جھنجھٹ۔۔بیوی کی بیوی، غلام کا غلام۔۔۔زنگ گیاگی نے اپنی ہی تخلیق کردہ روبوٹ بیوی سے شادی کر لی ہے۔۔ میں مسلسل بول رہاتھا۔اب مریدجمائیاں لے رہا تھا۔اچانک وہ اٹھ کر چلتا بنا۔ اس نے جاتے جاتے دوسوال پوچھے۔
پہلا:زنگ گیاگی کی زندگی کیسی گذر رہی ہے۔؟
دوسرا:سی پیک کب تک مکمل ہو جائے گا۔؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ajmal Malik

Read More Articles by Ajmal Malik: 76 Articles with 52286 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Jul, 2017 Views: 698

Comments

آپ کی رائے