پولیس یونیفارم اور ریفارم

(Muhammad Nasir Iqbal Khan, Lahore)

پنجاب پولیس کی وردی پھر سے بدلی جائے گی،دوبارہ قومی وسائل سے بڑی رقم صرف ہوگی اور چندبااثر افرادکوان کاحصہ مل جائے گا۔کاش پولیس اہلکاروں کی وردی کے ساتھ ساتھ ارباب اقتدار کی سوچ اورروش بھی بدلی جاسکتی ۔ پولیس سمیت پنجاب کے متعدد اہم ترین سرکاری ادارے اوراہلکار تختہ مشق بنے ہوئے ہیں۔سات دہائیوں میں بے پناہ وسائل صرف اورمختلف تجربات کرنے کے باوجود تھانہ کلچر تبدیل نہیں ہواتاہم لاہور میں کسی حد تک رویوں میں مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ لاہور کے متحرک سی سی پی او کیپٹن (ر)محمدامین وینس شہرلاہورمیں اپنے پرعزم ،پرجوش اورمستعد ٹیم ممبرز ڈی آئی جی آپریشن ڈاکٹر حیدراشرف ،ڈی آئی جی انوسٹی گیشن چودھری سلطان احمد،ایس ایس پی ایڈمن راناایازسلیم،ایس ایس آپریشن اطہراسماعیل ،ایس ایس پی انوسٹی گیشن غلام مبشر میکن،سی ٹی اورائے اعجاز،ایس پی سکیورٹی عبادت نثار، ایس پی موبائیل فیصل شہزاد،منصورقمر،ذوالفقار علی بٹ،محمداقبال شاہ،ضیاء اﷲ خان،رانازاہد،سلیم بٹ، ملک یعقوب اعوان اورمحمدعتیق ڈوگر کی معاونت سے بھرپوراور دوررس اصلاحات کررہے ہیں۔سعودیہ جہاں سرعام مجرمان کی گردنیں اڑادی جاتی ہیں مجرمانہ سرگرمیاں وہاں بھی ختم نہیں ہوتیں ۔لاہورمیں مجرمانہ سرگرمیوں کے پیچھے سیاسی محرکات بھی کارفرما ہیں اس کے باوجود لاہور پولیس کے آفیسرز کیپٹن (ر)مبین زیدی،زاہدمحمودگوندل سمیت جوانوں نے قیام امن کیلئے جام شہادت نوش کیا ہے،لاہور پولیس کے شہداء اس کاسرمایہ افتخار ہیں ۔سی آئی لاہور کیلئے دبنگ اورزیرک عمرورک کاکوئی متبادل نہیں ہے،انہیں کارنرکرنے کی بجائے ان سے کام لیاجائے۔ لاہورپولیس میں عہدحاضر کے چیلنجز سے نبردآزماہونے کیلئے آئی ٹی کا بھی بھرپور استعمال کیاجارہا ہے۔ لاہور کے باصلاحیت سی سی پی او کیپٹن (ر)محمدامین وینس کے کام میں جرأتمندی، آبرومندی اوردردمندی جھلکتی ہے،یقینا ان سے مستقبل میں پنجاب کی سطح پر اہم کام لیاجائے گا،وہ پنجاب بھرمیں جس منصب پر بھی فائز ہوئے وہاں اپنے منفرد کام اورکمٹمنٹ سے انمٹ نقوش چھوڑآئے۔نیایونیفارم پولیس فورس کیلئے بوجھ بن گیا تھا،اس بوجھ کااترجانا بہتر ہے ۔ پولیس فورس کی کارکردگی میں انفرادی واجتماعی بہتری کیلئے پرانے یونیفارم جبکہ جدید ریفارم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔راقم نے اپنی تحریروں میں پولیس حکام کومتعدد مثبت تجاویزدیں اوران سے استفادہ بھی کیا گیا لیکن ان کی طرف سے آج تک زبانی یا تحریری فیڈبیک نہیں آیا ۔میں اعتماد اورایقان سے کہتاہوں اگر مشتاق سکھیرا کی بجائے اگر اس وقت حاجی حبیب الرحمن یا کیپٹن (ر)محمدامین وینس آئی جی پنجاب ہوتے توپنجاب پولیس کی وردی ہرگز تبدیل نہ ہونے دیتے۔اگرپنجاب پولیس کے ریٹائرڈآئی جی حاجی حبیب الرحمن کی اپنے منصب سے آبرومندانہ رخصتی کو ان کے متعدد بارآبرومندانہ انکار کانتیجہ قراردیاجائے توبیجا نہیں ہوگا۔پنجاب پولیس آئینی طورپرپنجاب حکومت کے ماتحت ہے لیکن ارباب اقتدار کے ماورائے آئین احکامات تسلیم کرنے کی پابند نہیں۔حاجی حبیب الرحمن نے بڑے وقار اوراعتماد سے ا پنے منصب کی مدت پوری کی اورعزت سے رخصت ہوئے لیکن مشتاق سکھیرا رخصتی کے وقت چھوٹو گینگ کے ہاتھوں پولیس فورس کی درگت اور وردی کی تبدیلی کے سبب تنازعات اوربدعنوانی کے الزامات کی زدمیں آگئے ۔وردی کی تبدیلی کے نام پر''وصولی '' کرنیوالے کرداروں کااحتساب آزادعدلیہ کافرض اوراس پرقرض ہے۔اگرحکمرانوں کو اپناانتخابی نشان ''شیر'' تبدیل کرنے کیلئے کہاجائے تووہ ہرگز نہیں کریں گے لیکن اگرانہیں میٹروبس کا قذافی سٹیڈیم اورداتادربارتک ٹریک توڑکردوبارہ بنانے کیلئے کہاجائے تووہ فوراً توڑپھوڑشروع کردیں گے کیونکہ پل بنانے سے'' پیسہ ''بھی بنتا ہے ۔پنجاب پولیس کی پرانی وردی خاصی معقول ومقبول ہے وہ بحال کی جائے گی تاہم اس وردی کو ٹرسٹ وردی بناناآفیسرز اور اہلکاروں کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ پولیس کوٹرسٹ وردی بنانے کیلئے اس فورس کوسیاسی مداخلت سے سوفیصد پاک کرناہوگا۔پولیس فورس کی خودداری اوربہترکارگزاری کیلئے اس کی خودمختاری ازبس ضروری ہے۔اگرخیبرپختونخوا پولیس خودمختارہوسکتی ہے توپنجاب پولیس پراعتماد کیوں نہیں کیاجاسکتا۔اگر پنجاب پولیس کوخودمختاری اورخودداری کامینڈیٹ دیاجائے تویقینا یہ مزید ڈیلیورکرے گی اورمجرمانہ سرگرمیوں کاگراف نیچے آئے گا۔دوسرے اداروں کی طرح پولیس بھی کرپشن سے پاک نہیں لیکن سیاسی اشرافیہ کی بیجامداخلت اورسفارشی کلچرمعاشرے کیلئے کرپشن سے زیادہ مہلک ہے۔زیادہ تر واقعات میں جس ملزم کو رشوت ہوتے ہوئے بھی چھٹکارا نہیں ملتا وہ سیاسی دباؤپرچھوٹ جاتا ہے ۔سانحہ ماڈل ٹاؤن کے پیچھے دباؤ کسی اورکاتھا مگرناکامی اوربدنامی پولیس کے اعمال نامے میں لکھ دی گئی ۔

اب پھروردی تبدیل کرنے کی آڑ میں عوام کی جیب سے پیسہ نکال کر پھر چندبااثرافراد کی تجوری بھری جائے گی۔ پاکستانیوں کی اجتماعی دانش جہاں ختم ہوتی ہے ارباب اقتدار کی ''عقل سلیم ''وہاں سے شروع ہوتی ہے۔ پاکستان میں پیسہ اورپاکستانیوں کوبیوقوف بنانا سیاسی اشرافیہ کیلئے انتہائی آسان ہے کیونکہ اس ملک کے خوابیدہ لوگ اپناحق چھن جانے پرآبدیدہ یارنجیدہ تک نہیں ہوتے۔حکمرانوں کی عقل قومی پیداوار کوتقویت دینے کی بجائے انفرادی'' پیداوار'' یقینی بنانے کیلئے زیادہ تیز چلتی ہے۔پی آئی اے سمیت پاکستان کے قومی ادارے ڈوب رہے ہیں جبکہ حکمرانوں کے نجی اداروں نے انہیں زمین سے آسمان پرپہنچادیا ہے۔ہمارے حکمران عقل کل اورمختارکل ہیں،انہیں قومی وسائل کے ضیاع سے کوئی نہیں روک سکتا،ان کے پاس سرمایہ کہاں سے آیا کوئی نہیں پوچھ سکتا ،ان کے محلات کس طرح تعمیر ہوئے یہ بھی کوئی جاننے یاپوچھنے کاحق نہیں رکھتا۔پاکستان میں بدعنوانی ،بدنیتی،بدزبانی اوربدانتظامی زوروں پر ہے،اگرکسی طرح سات دہائیوں بعداحتساب کی شروعات ہوئی بھی ہے توالٹاچوراپنے زراورزورکے بل پر محتسب کوکٹہرے میں کھڑاکرنے کے درپے ہیں۔اگر آسمان سے فرشتے بھی احتساب کیلئے زمین پراترآتے تو ان فرشتوں کابھی میڈیاٹرائل شروع کردیاجاتا۔جے آئی ٹی کاکون ممبر کس کارشتہ دار ہے یہ اہم نہیں ، چور کو اپنی بیگناہی ثابت کرنے کیلئے صفائی دینے کاحق حاصل ہے مگروہ کسی محتسب کاحسب نسب چیلنج نہیں کرسکتا۔اگر حکمران خاندان کی روش دیکھتے ہوئے تھانوں کی سطح پر بھی عام ملزمان نے ایس ایچ اویاتفتیشی آفیسرز کی سیاسی وابستگی پر انگلیاں اٹھاناشروع کردیں توریاست اورقانون کی رٹ مذاق بن جائے گی۔جس ملک میں پنجاب کے صوبائی وزیرتعلیم کی مبینہ رشوت وصول کرتے ہوئے ویڈیو منظرعام پرآجائے مگر پھربھی اس وزیرکے منصب پرکوئی آنچ نہ آئے وہاں دستاویزی شواہد کومتنازعہ بنانا یاردی قراردینا کوئی تعجب کی بات نہیں۔اس ملک میں رات کوہونیوالے فیصلے اگلے دن تبدیل ہوجاتے ہیں،حکمرانوں سے ان کے کسی'' یوٹرن'' پر کوئی سوال نہیں پوچھ سکتا۔صرف آزاد عدلیہ زورآور حکمرانوں سے بازپرس کرسکتی ہے۔شہبازسپیڈ سے وضاحت طلب کی جائے پنجاب پولیس کی وردی تبدیل کرنے کافیصلہ اس قدر عجلت میں کیوں کیا گیاتھا ،ان کے اس اقدام سے کس کی'' منشاء '' پوری ہوئی تھی ،کس کوکیافائدہ اور عوام کوکس قدرنقصان پہنچا اس امرکی بھی تحقیقات کرناہوں گی۔ ہمارے ملک میں مقتدر لوگ کسی قسم کاسراغ چھوڑے بغیر مہارت سے کرپشن کرتے ہیں ، جہاں اشرافیہ کی بدعنوانی کے ٹھوس شواہدہوں اور نہ کوئی عینی شاہدہووہاں قومی چوروں کا احتساب کون کرے گامگرقدرت کے وجوداورکردارکوہم کیوں فراموش کردیتے ہیں۔دنیا کے کسی ملک میں وسائل کی اس طرح بربادی نہیں ہوتی جس طرح پاکستان میں متنازعہ ،ناقص اورمہنگے منصوبوں پر پیسہ اڑایاجاتا ہے۔قومی چوروں کاقدرت کی گرفت میں آنا خوش آئند ہے ۔

وردی کی تبدیلی کیلئے''شہبازسپیڈ'' کاسرکاری فرمان جاری ہوگیاہے،یقینا پنجاب پولیس کے پرانے یونیفارم کی تیاری کاکنٹریکٹ بھی اسے ملے گاجوان کی مرضی و''منشاء'' کے مطابق کام کرے گا،امید ہے اس بارآزاد عدلیہ مداخلت کرے گی اوراس بار میرٹ پرسمجھوتہ نہیں ہونے دیاجائے گا ۔اگر پرانی وردی تبدیل کرتے وقت سوچ بچار اورمشاورت کی گئی ہوتی تو یہ فیصلہ بیک فائر نہ کرتااوراربوں روپے کاضیاع نہ ہوتا۔بدقسمتی سے حکمران اپنی سہولت اوراپنے سہولت کاروں کی'' منشاء ''کے مطابق'' منفعت بخش ''فیصلے کرتے ہیں جبکہ ان کے متنازعہ فیصلوں کی قیمت پورامعاشرہ چکاتا ہے۔ خالی وردی کی تبدیلی سے تھانہ کلچر اورحکمرانوں کامائنڈسیٹ تبدیل نہیں ہوگا ۔جس دن حکمران پولیس کواپنے سیاسی مقاصد اورمفاد کیلئے استعمال کرناچھوڑدیں گے اس روز تھانہ کلچر تبدیل ہونا شروع ہوجائے گا۔ شہباز سپیڈ کی اِصطلاع شعبدہ بازی ہے،کچھوے اورخرگوش کی دوڑ میں کچھواجیت گیا تھا ۔ منصوبوں کی تعمیر اورتکمیل میں رفتاریامقدارنہیں معیاراہم ہے۔پنجاب میں حکمران متعدد منصوبوں کافیتہ کاٹ دیتے ہیں جبکہ ان کی باضابطہ تکمیل کئی ماہ بعدہوتی ہے۔محض محدودمدت میں منصوبوں کی تعمیراورتکمیل کا کریڈٹ حاصل کرنے کیلئے ''سپیڈ''کاڈھونگ رچایاجاتا ہے جبکہ ان کامعیار یقینی نہیں بنایاجاتا ۔لاہورمیں بارشوں کے نتیجہ میں میٹروبس ٹریک کاپانی شہریوں کیلئے مصیبت بن جاتا ہے،عوام اس قسم کی سپیڈ کے متحمل نہیں ہوسکتے۔عجلت میں کئے جانیوالے فیصلے مذاق بن جاتے ہیں اورقومی وسائل کاضیاع بھی ہوتا ہے۔حکمرانوں کے تجربات اوراقدامات ''مال مفت دل بے رحم''کے مصداق ہیں۔جس وقت پنجاب پولیس کی یونیفارم تبدیل کرنے کاشوشہ چھوڑا گیا تھاتوراقم اوربرادرم توفیق بٹ سمیت کچھ کالم نگارحضرات نے اس کے مضمرات پر بہت کچھ لکھا مگر'' شہبازسپیڈ'' کے آگے کوئی ''سپیڈ بریکر ''نہیں ہے ۔پاکستان میں شہنشاہوں کے ناکام تجربات جاری ہیں اورپھر بھی جمہوریت کامژداسنایاجاتا ہے۔شہبازسپیڈ نے پنجاب پولیس کے قائمقام آئی جی کیپٹن (ر)عثمان خٹک کومستقل جبکہ عدالت عالیہ لاہورنے ان کی تقرری کومعطل کردیا ہے،اگرانہیں مستقل کرناتھا توقائمقام کیوں لگایا اورعدالت عالیہ لاہور سے بار بار مہلت کیوں طلب کی گئی،افسوس آزاد عدلیہ کے احکامات اوراخبارات کے اداریوں کوسنجیدہ نہیں لیا جاتا۔کیپٹن (ر) عثمان خٹک نے قائمقام آئی جی کی حیثیت سے ایسا کیاکردیا تھا جس سے شہباز شریف ان سے متاثر اوران پرمہربان ہوگئے۔ مشتاق سکھیرا کی ریٹائرمنٹ پروعدے کے تحت کیپٹن (ر)عثمان خٹک کوتین ماہ کی مدت کیلئے قائمقام آئی جی لگا یاگیاتھا اوربعدازاں لاہورہائیکورٹ میں رٹ دائرہونے پرانہیں ریٹائرمنٹ میں تین ماہ باقی رہ جانے کے باوجود مستقل آئی جی پنجاب لگادیا گیا جوایک مذاق تھا۔اگرتین ماہ بعد پھرنیا آئی جی تلاش کرناہے تو بہترہوگایہ پریکٹس ابھی کرلی جائے ۔دوسری بات جو آفیسرخودمیرٹ پر آئی جی نہیں بنے گاوہ میرٹ پرفیصلے کس طرح کرے گا۔ میاں شہبازشریف کورام کرنااورراضی رکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔پنجاب کے سرکاری ادارے اورقابل ترین آفیسر بھی شہبازسپیڈ کے رحم وکرم پر ہیں،ان کامیرٹ کااپناپیمانہ ہے ۔ حکمرانوں کی تابعداری اوروفاداری کی بجائے قابلیت ، دانائی اورخودداری کومیرٹ بنایاجائے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Nasir Iqbal Khan

Read More Articles by Muhammad Nasir Iqbal Khan: 173 Articles with 80441 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Jul, 2017 Views: 725

Comments

آپ کی رائے