حضرت پیر سید جنید شاہ گردیزی رحمتہ اللہ علیہ

(Syed Rashid Gardezi, Rawalakot AJK)
فرید العصر ،قطب الاقطاب،ابدال اقلیم حضرت پیر سید جنید شاہ گردیزی رحمتہ اللہ علیہ خطہ کشمیر کے ایک مشہور روحانی بزرگ تھے

�اللہ رب العزت نے انسانیت کی راہنمائی کے لیے کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر دنیا میں بھیجے اور یہ تبلیغ و ہدایت کا سلسلہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ پر ختم ہوا۔اب آپ کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔لیکن فیضان نبوت اہل حق کے ذریعے تاقیات جاری و ساری رہے گا۔

نبوت کے بعد ولایت و امامت کا سلسلہ شروع ہو ا۔جس کا باضابطہ اعلان حضور نبی کریم ﷺ نے حجتہ الوداع سے واپسی کے موقع پر 18 ذی الحجہ کو مقام غدیر خُم پر فرمایا۔آپ ﷺ نے لاکھوں صحابہ کرام سے مخاطب ہو کر فرمایا ” کیا تمھیں معلوم نہیں کہ میں مومنوں کی جانوں سے بھی قریب تر ہو؟انہوں نے کہا: کیوں نہیں ! آپ ﷺ نے فرمایا کیا تمھیں معلوم نہیں کہ میں ہر مومن کی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں؟صحابہ کرام نے عرض کی کیوں نہیں؟پھر آپ ﷺ نے حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ بلند کر فرمایا کہ ” مَن کُنْت مولا فَعلیُ ٗ مولاہ اللہم والِ من والاہ و عادِ مَن عادَاہِ۔ جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں ۔

اے اللہ تو اسے دوست رکھ جو اسے (علی) کو دوست رکھے اور اس سے عداوت رکھ جو اس( علیؑ ) سے عداوت رکھے” ( ترمذی الجامع الصیح رقم 3713 )(احمد بن حنبل فضائل الصحابہ رقم 959 )۔آپ کے اس اعلان کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر مولی علی ؑ کو سلام کیا اور ان سے کہا ” اے ابن ابی طالب!مبارک ہو آپ صبح و شام ( یعنی ہمیشہ کے لیے) میرے اور ہر مومن و مومنہ کے مولا بن گئے۔یہ اعلان ولایت مولی علی ؑ تھا جس کا اطلاق قیامت تک کے جملہ اہل ایمان پر ہوتا ہے۔اور جس سے یہ امر قطعی طور پرثابت ہوتا ہے کہ جو ولایت علی ؑ کا منکر ہے وہ ولایت محمدی ﷺ کا منکر ہے ۔

ولایت کا یہ سلسلہ مولی علی علیہ السلام سے سے چلتا ہوا تمام روئے زمین پر پھیل گیا اور اولیاء کرام نے ہر دور میں بھٹکی ہوئی انسانیت کی راہنمائی فرمائی۔لوگوں کو حق کی پہچان کرائی۔برصغیر پاک وہند میں بھی تبلیغ اسلام کا فریضہ اولیا کرام نے سرانجام دیا۔حضرت پیر سیّد جنید شاہ گردیزی چشتی رحمتہ اللہ علیہ خط کشمیر کے ایک عظیم صوفی بزرگ تھے ۔ آپؒ مادرزاد ولی اللہ تھے۔آپؒ سادات گردیزیہ کے چشم و چراغ تھے۔مصدقہ روایات کے مطابق آپ ؒ 1860ء زمانہ قحط میں کوٹیری سیّداں زیارت بازار جنیدآباد(پانیولہ) میں پیدا ہوئے ۔آپؒ کے والد محترم کا نام سیّدبیر شاہ تھا جو ولی اللہ تھے۔آپؒ کا شجرہ نسب چھتیس پشتوں کے بعد مولیٰ کائنات سیّدنا علی المرتضی شیرخدا سے جا ملتا ہے۔

سادات گردیزیہ کی ایک روشن تاریخ ہے۔سادات گردیزیہ امام الشہداء سیّدنا امام حسین ؑ کی اولاد سے ہیں ۔سادات گردیزیہ کی شاخ اہلبیت کے چھٹے امام سیدنا امام جعفر صادقؓ سے الگ ہو جاتی ہے۔حضرت سیّد محمدؒ کے بیٹے سیّد شاہ قصور گردیزی غزنی کے شہر گردیز میں پیدا ہوئے اور اس جگہ کی نسبت سے سادات کرام کا یہ خاندان ساداتِ گردیزیہ سے مشہور ہوا۔آپؒ کا مزار اقدس بھی گردیز میں ہے۔آپؒ کا شمار وقت کے اکابر علماء میں ہوتا تھا۔آپؒ کے بیٹے سیّد ابو بکرؒ تھے ان کے جلیل القدر فرزند پیدا ہوئے جو شاہ گردیز کے لقب سے مشہور ہوئے۔آپؒ کا نام سیّد شاہ یوسف گردیزی تھا ۔حضرت شاہ یوسف گردیزی رحمتہ اللہ علیہ 450 ہجری میں پیداہوئے۔آپؒ کی تعلیم و تربیت اور پرورش اپنے جد امجد کی زیر نگرانی ہوئی۔آپؒ 1088 ء میں ملتان شریف لائے اور دریائے راوی کے کنارے اقامت گزیں ہوئے۔

تاریخ مکی کتب میں لکھا ہے کہ آپؒ شیر پرسوار ہاتھ میں ایک بڑا ایژدہابطور عصا لیے ملتان شہر میں داخل ہوئے آپؒ کے سر پر دو کبوتروں نے سایہ کیا ہوا تھا۔اور روایت میں یہ بھی ہے کیاس شیر اور سانپ کی قبر بھی آپؒ کے مزار کے احاطہ میں ہے اور ان کبوتروں کی نسل آج تک دربار شریف میں موجود ہے۔ آپؒ نے 531 ہجری بمطابق 1130 عیسوی میں انتقال فرمایا۔اور اسی جگہ دفن ہوئے جہاں آپؒ کا حجرہ تھا۔آپؒ کا مزار مبارک کی تعمیر 1150 ء میں ہوئی ۔حضرت شاہ یوسف جو کہ شاہ گردیز کے لقب سے بھی مشہور ہوئے۔آپؒ کی مشور کرامت جو کہ اخبار الاخیار میں صاحب کتاب نے درج کی ہے کہ آپؒ کا ایک شخص طالب تھا جو کہ طویل پیدل سفر کرنے کے بعد ملتان شریف پہنچا تو اسے معلوم ہوا کے حضرت شاہ یوسف گردیزی ؒ دنیا سے پردہ فرما چکے ہیں ۔

وہ بہت اداس ہوا اور آپؒ کی قبر انور پر حاضر ہو کرزارو قطار رونا شروع کر دیا ۔اسی اثنا ء میں قبر سے آواز آئی کہ تم کیا چاہتے ہو تو اس نے عرض کی حضرت میں آپ کا مرید ہونا چاہتا ہوں آپؒ نے قبر سے ہاتھ باہر کرتے ہوئے فرمایا کہ لو بیت کر لو۔تقریباً چالیس سال تک آپؒ قبر انور سے ہاتھ باہرکر کے لوگوں کو بیت فرماتے رہے بعد میں اس وقت کے ولی اللہ نے قبر پر آکر کہا کہ آپ برائے مہربانی ہاتھ اندر کر لیں اور لوگوں پر عالم برزخ کے حالات ظاہر نہ کریں دوسرا لوگ شرک میں بھی مبتلا ہورہے ہیں اس پر آپؒ نے ہاتھ قبر کے اندر کر لیا لیکن وہ سوراخ آج بھی آپؒ کی قبر انور پر موجود ہے اسے شیشے کے کور سے بند کیا گیا ہے راقم نے بھی آپؒ کے مزار پر حاضری کے دوران دیکھنے کا شرف حاصل کیا۔

آپؒ کے فرزند سیداحمد نے خطہ پوٹھوار کی طرف تبلیغ اسلام کی غرض سے ہجرت کی اور دھان گلی شاہراہِ کشمیر میں سکونت اختیار کی پھر وہاں سے بہارہ کہو اسلام آباد میں سکونت اختیار کی۔سیّد احمدؒ اور ان کے فرزند سیّد محمد شاہ جو اس پورے علاقے میں عظیم روحانی شخصیت تسلیم کیے جاتے تھے نے خطہ پوٹھوار کے بالائی حصوں کے ساتھ ساتھ کوہ مری اور ہزار تک اپنی تبلیغ کا دائرہ وسیع کیا ۔اس پہاڑی علاقے کے کئیں ہندوں قبیلوں نے اسلام قبول کیا ۔حضرت سیّد محمد کے فرزند سیّد شاہ منور تھے جو کہ شاہ سچیار کے لقب سے مشہور ہوئے۔آپؒ نے بھی اپنے اباؤ اجداد کی طرح تبلیغ اسلام کا مشن جاری رکھا اور خطہ پونچھ آزاد کشمیر میں تبلیغ اسلام کی باقاعدہ بنیاد رکھی۔آپؒ نے بہارہ کہو اسلام آباد کے علاوہ مختلف علاقوں میں مساجد اور مدارس کا قیام عمل میں لایاآزاد کشمیر میں جس قدر بھی ساداتِ گردیزیہ آباد ہیں حضرت سیّد شاہ منورشاہ سچیارؒ کی اولاد ہیں۔حضرت پیرسیّد جنید شاہؒ حضرت شاہ سچیارؒ کے بڑے بیٹے سیّد شاہ منصور ؒ کی شاخ سے ہیں۔

حضرت شاہ منصورؒ کی قبرانور بھی مزارمبارک شاہ سچیار میں ہے۔1860 ء میں پڑنے والے قحط کی وجہ سے اس علاقہ کے ہزاروں لوگ لقمہ اجل بنے اور سینکڑوں گھرانوں نے خطہ پوٹھوار کی طرف ہجرت کی۔حضرت پیر صاحبؒ کے والدین نے بھی ہجرت کی اور کہوٹہ راولپنڈی کے نواحی موضع بھکرال میں قیام فرمایا۔آپؒ اس وقت شیر خوار بچے تھے۔قاضی محمد حسن ؒ جنہوں نے کہوٹہ میں مسجد اور مدرسہ قائم کر رکھا تھا۔انہیں جب پتہ چلا کہ یہ گھرانہ سادات سے تعلق رکھتا ہے تو انہوں نے اپنے گھر جگہ دی۔ حضرت پیر صاحبؒ نے اپنا سارا بچپن اسی موضع میں گزارا۔آپؒ نے قاضی محمد حسنؒ سے قرآن کریم پڑھنا شروع کیا اور پانچ سال کی عمر میں ناظرہ مکمل کیا اور سات سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کرلیا۔اس کے علاوہ آپؒ نے قاضی محمد صاحب سے علوم دینیہ کی کتب بھی پڑیں۔حضرت پیر صاحبؒ قاضی محمد صاحب کے مدرسہ ہی میں رہتے تھے۔ایک رات آپؒ عبادت میں مشغول تھے ۔

اللہ رب العزت نے آپ ؒ پر اپنا خصوصی کرم فرمایا اور آپؒ کو لیلتہ القدر عطا فرمائی اور آپؒ پر اپنے اسرا ر و رموز کھول دیے۔اس وقت آپؒ کی عمر 14 سال تھی۔آپؒ کے آنکھوں سے پردہ ہٹ گیا۔آپؒ کی طبیعت یکسر بدل گئی اور آپؒ کے چہرہ مبارک پر جلال کی وجہ سے ہر آنکھ دیکھنے کی تاب نہ رکھتی تھی۔آپؒ نے ساری زندگی مجاہدوں اور مراقبوں میں گزاری ۔آپؒ نے بھکرال ،بہارہ کہو مزار حضرت شاہ سچیارؒ ، گولڑہ شریف، بری امامؒ سوہاوہ شریف میں چلہ کشی کی۔آپؒ عام حالات میں بہت کم کھانا تناول فرمایا کرتے، جب کوئی کھانہ لاتا تو اسے کووں اور چڑیوں کے آگے رکھ لیتے۔آپؒ نے پاک و ہند کی تما م درگاہوں کی زیارت کی اور حرمین شریفین کی زیارت فرمائی اور حج کی سعادت حاصل کی۔آپؒ کی محویت اور استغراق کا یہ عالم تھا کہ کہیں کہیں روز تک ایک ہی جگہ بیٹھے آسمان کی طرف دیکھا کرتے تھے۔حضرت پیر صاحبؒ نے اپنا سارابچپن بھکرال ہی میں گزارا اور آخری وقت تک اس علاقہ کو فراموش نہ کیا۔آپؒ کی والدہ محترمہ اور بہن کی قبریں بھی اسی موضع میں ہیں۔

حضرت پیر صاحب ؒ نے۲۰ سال کی عمر میں اپنے گاؤں میں آنا شروع کیا ،لیکن آپؒ نے مستقل یہاں قیام نہیں فرمایا۔آپؒ مختلف مقامات پر رہے یوں کہیے کہ آپؒ نے ساری زندگی سفر میں گزاری۔آپؒ باغ میں مولانا سیّد ثناء اللہ شاہ صاحب ؒ جو کہ خطیب جامع مسجد باغ تھے کے پاس کافی عرصہ رہے۔مولانا کو آپؒ سے بے حد عقیدت تھی۔ اور آپؒ سے فیض بھی حاصل کیا ۔آپؒ کی باغ میں خواجہ برادری سے کافی قربت رہی ۔جن میں خواجہ غلام اکبر قابل ذکر ہیں۔خواجہ برادری نے آپ سے فیض حاصل کیا یہی وجہ ہے کہ یہ خاندان آج تک آپؒ کے مزار پر حاضری دیتا ہے۔اس کے علاوہ آپؒ سے فیض حاصل کرنے والوں میں پیر سیّد عبدالرحمن شاہ داتوٹ، سید میر بادشاہ داڑیالی شریف۔سیاسی شخصیات میں سابق صدر و وزیر اعظم سردار عبدالقیوم خان کا نام قابل ذکر ہے۔

سردار صاحب کی پیر صاحب بہت قربت رہی۔آپ اپنی انتخابی مہم میں حضرت پیر صاحب ؒ کو لازمی شامل کیا کرتے تھے ۔اور سردار عبدالقیوم خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ اگر حضرت پیر صاحبؒ جلوس سے آگے نکل جاتے تو مجھے معلوم ہو جاتا تھا کہ ہم ہار جائیں گے۔اگر آپؒ جلوس سے پیچھے چلتے تو مجھے یقین ہوتا تھاکہ ہم الیکشن جیت چکے ہیں۔حضرت پیر سیّد جنید شاہؒ تقریباً 25 سال کی عمر میں سوہاوہ شریف میں حضرت پیر سیّد سید علی شاہ سوہاویؒ کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے مزید روحانی تربیت حاصل کرنا شروع کی۔سجادہ نشین دربار عالیہ حضرت پیر سوہاویؒ بیان کرتے ہیں ایک روز حضرت پیر سیّد سید علی شاہؒ اپنے شاگردوں کو درس دے رہے تھے اچانک انہوں نے اپنے شاگردوں سے فرمایا کہ جلدی جلدی دودھ گرم کرو ایک مہمان آرہا ہے۔دو تین شاگردوں نے لنگر خانے میں جا کر دودھ گرم کیا ۔

اسی اثناء میں ایک فقیر نیم برہنہ ایک سیا ہ کتے کی زنجیر تھامے کسی طرف سے آیا اور آتے ہی حضرت پیر سیّد سید علی شاہ سوہاوی ؒ سے کہا کہ میرا راشن کہاں ہے۔مجھے سخت بھوک لگی ہے۔حضرت پیرصاحب سوہاوی ؒ نے لنگ خانہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کمرے میں تشریف لے چلیے آپؒ کا ناشتہ تیار ہے۔حضرت پیر سیّد سید علی سوہاویؒ کافی دیر تک فقیر کے ساتھ کمرے میں موجود رہے۔جب فقیر روانہ ہو ا تو پیر صاحب نے کہا کہ یہ شخص اس عہد کا ابدال ہے کہ کشمیر جا رہاہے اور افسوس کہ راستے میں اس کی موت واقع ہو جائے گی۔مرتے وقت جو شخص اسے کے پاس ہو گا خدا تعالی اسے یہ مقام عطا فرما دے گا۔ حضرت پیر سیّد جنید شاہؒ نے یہ بات سنی تو دیگر طلباء کے ساتھ آپؒ بھی فقیر کے ساتھ ہو گئے ۔باقی شاگر د پیچھے رہ گئے حضرت پیر سیّد جنید شاہؒ آخر دم تک فقیر کے ساتھ رہے چکار کے جنگل میں پہنچ کراس فقیر کا انتقال ہو گیا ۔

اور اس کے ساتھ حضرت پیر سیّد جنید شاہ ؒ کی روحانی طاقت میں دوگنا اضافہ ہو گیا۔فقیر کی تجہیز و تکفین کسی غیبی مخلوق نے کی حضر پیر صاحبؒ نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی ۔جب آپؒ واپس سوہاوہ شریف تشریف لائے تو پیر سیّد سید علی شاہ سوہاویؒ نے فرمایا کہ جنید شاہ ؒ میں اب دو ابدالوں کی طاقت ہے۔آپؒ نے سوہاوہ شریف میں تقریباً 2سال چلہ کیا۔آپؒ نے ساری زندگی عبادت و ریاضت ،چلوں ،مجاہدوں اور مراقبوں میں گزاری۔آپؒ ہمہ تن یا د الہیٰ میں مشغول رہے تھے ۔قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت فرماتے تھے۔لوگوں کو صوم و صلوٰۃ کی پابندی کی سختی سے تلقین کرتے۔آپؒ بے نمازی شخص سے نہیں ملتے تھے۔آپؒ سے ہزاروں افراد نے فیض حاصل کیااوریہ سلسلہ آپؒ کے وصال کے بعد بھی جاری ہے ۔آپؒ کے ارادت منددنیا کے کونے کونے میں موجود ہیں۔آپؒ انتہائی کم آواز میں گفتگو فرماتے،آپؒ کے پاس ہر وقت لوگوں کا ہجوم رہتا ۔
آپؒ سے جو بھی جائز مقصد کے لیے دعا کی درخواست کرتا تو ضرور دعا فرماتے اور جس کے لیے آپؒ کے ہاتھ اٹھتے اللہ پاک ضرو ر قبول فرماتا۔آپؒ کا چہرہ مبارک حیا و نور کا مرقع تھا ڈاڑھی پوری سفید تھی جو آپؒ کے چہرے پر انتہائی خوبصورت لگتی تھی ،سر کے بال آپؒ ہمیشہ منڈوائے رکھتے تھے۔گرمی ہو یا سردی کئیں قمیضیں اور اس پر ایک بڑاکوٹ زیب تن فرماتے ۔سر پر سفید ململ کی پگڑی یا گرم اونی ٹوپی پہنتے تھے۔کمر کے گرد ہر وقت بلٹ باندھتے تھے بدن متوازن تھا نہ زیادہ دبلے نہ زیادہ موٹے تھے۔آپؒ تارک الدنیا تھے یہی وجہ ہے کہ آپؒ نے شادی نہیں کی۔

وفات سے کچھ عرصہ قبل جب آپؒ کی صحت زیادہ خراب ہوئی تو اپنے بھتیجے سید سلیمان شاہ کے گھر تشریف لائے۔آپؒ کی صحت مزید خراب ہوتی گئی بالآخر آپؒ ایک سو سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔اور لاکھوں چاہنے والوں کو سوگوار چھوڑ گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔آپؒ کی نماز جنازہ مولاناپیر سیّد ثناء اللہ شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ خطیب جامع مسجد باغ نے پڑھائی ۔نماز جنازہ میں ہزاروں عقیدت مندوں نے شرکت کی۔حضرت پیر سیّد جنید شاہؒ کی اپنے بھتیجے سیّد سلیمان شاہ کے فرزند سید گل بہار شاہ پر خصوصی نظر کرم تھی آپؒ انہیں اپنے ساتھ رکھتے تھے اور ان کی تربیت فرماتے۔آپؒ کی وفات کے بعد پیر سیّد شمشاد حسین شاہ ؒ سوہاوہ نے صاحبزادہ پیر سیّد گل بہار شاہ کی باضابطہ دستار بندی کی یوں آپ کو حضرت پیر صاحب کے پہلے سجادہ نشین ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ آپؒ صاحب کرامت ولی اللہ تھے آپؒ کی بے شمار کرامات مشہور ہیں جن کا احاطہ کرنا یہاں ممکن نہیں۔روایت ہے کہ آپؒ ایک وقت میں مختلف مقامات پر دیکھے جاتے تھے۔اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو جاتے تھے۔

آپؒ نے پیدل کئیں بار حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔لوگوں نے انہیں حج کرتے ہوئے دیکھا۔جامع مسجد پانیولہ اور پانیولہ بازار کی بنیا د حضرت پیر صاحبؒ نے خود اپنے ہاتھوں سے رکھی ۔حضرت پیر صاحبؒ کو پانیولہ سے خاص لگاؤ تھایہی وجہ ہے کہ پانیولہ روز بروز ترقی کر رہا ہے اوریہاں اب ضروریات زندگی کی تما م سہولیات میسر ہیں۔اس کے علاوہ موجودہ مظفرآباد روڈ کی بھی نشاندہی آپؒ نے فرمائی تھی۔آپؒ کا مزار شریف یونین کونسل پاچھیوٹ ،ہورنہ میرہ ،بنگوئیں کے سنگم زیارت بازار میں وقع ہے۔مزار شریف کی تعمیر عقیدت مندوں کے تعاون سے حضرت پیر صاحب کے بھتیجے سید سلیمان شاہ صاحب نے کروائی اور عرس کا سلسلہ شروع کیا ۔بعد میں محکمہ اوقاف نے دربار عالیہ کا انتظام سنبھالا۔حضرت پیر صاحب کے عرس پاک کی تقریب صاحبزادہ پیرسیّد گلبہار شاہ صاحب کے زیر انتظام اپریل کے پہلے ہفتے میں ہوتی ہے۔

عرس پاک کی تقریب میں پاکستان و آزاد کشمیر کے کونے کونے سے عقیدت مند شرکت کرتے ہیں اور مرادیں پاتے ہیں اوریہ سلسلہ انشا ء اللہ عزوجل صبح قیامت تک جاری و ساری رہے گا۔اس سال عرس پاک کی تقریب صاحبزادہ سیّد گل بہار شاہ کے زیر انتظام آستانہ عالیہ زیارت بازار پر8-9 اپریل بروز ہفتہ اتوار منعقد ہو رہی ہے۔اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے ان نیک بندوں کی صحبت اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے�
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Rashid Gardezi
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Jul, 2017 Views: 1234

Comments

آپ کی رائے