محترمہ فاطمہ جناح قومی اور خاندانی زندگی کیلئے مشعل راہ

(Amna Khatoon, Karachi)

یوں تو دنیا میں محبت کی بہت سی مثالیں موجود ہیں مگر محترمہ فاطمہ جناح کی اپنے بھائی محمد علی جناح سے محبت کا انداز بڑا منفرد اور انوکھا تھا محترمہ فاطمہ جناح نے نہ صرف یہ کہ اپنی پوری زندگی اپنے بھائی کے لیئے وقف کردی بلکہ اپنے بھائی کی شخصیت کے ہر پہلو کو خلوص دل سے اپنا لیا اور بذات خود قائد اعظم کی مجسم تصویر بن گئیں قائد اعظم کی خاطر انہوں نے ملکی سیاست میں دلچسپی لینی شروع کی،ان کی تمام تر سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کا محور ان کے بھائی محمد علی جناح کے افکار و نظریات تھے جن کی انہوں نے خلوص دل سے ترجمانی کی قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک سے زائد موقعوں پر اپنی بہن کو خراج تحسین پیش کیا اور فرمایا " فاطمہ میرے سیاسی کاموں میں نہ صرف انتھک ساتھی ہے۔بلکہ بعض اوقات اس کے مشوروں سے مستفید بھی ہوتا ہوں" رتی جناح کے انتقال کے بعد جب قائد اعظم پریشانی اور مایوسی کے دور سے گزررہے تھے انہوں نے قائد اعظم کو حوصلہ دیا ان کی خدمت کی اور اپنے ڈینٹل کلینک کو بند کرکے مستقل بھائی کے پاس آگئیں یہ قربانی بھائی سے محبت کی ایک عظیم مثال ہے۔بقول آغا حسین ہمدانی کے فاطمہ کی یہ قربانی جہاں انسانی ہمدردی کی ایک عظیم مثال ہے وہاں اس کی تاریخی حیثیت بھی غیر معمولی ہے۔قدرت ان سے اس قربانی کی شکل میں پوری مسلمان قوم کی ایک اہم ضرورت پوری کررہی تھی۔اگر قائد اعظم کی شریک حیات کے انتقال کے بعد فاطمہ یہ ذمہ داری اپنے شانوں پر نہ لیتی تو قائد اعظم کے لیئے مسلمان قوم کی اسطرح رہنمائی کرنا بڑا دشوار ہوتا جس کے نتیجے میں انہوں نے قوم کو منزل مقصود تک پہنچایا " فاطمہ جناح نے قائد اعظم محمد علی جناح کو گھریلو مصروفیات سے آزاد کردیا اور ساتھ ہی ایک معتمد ساتھی کے فرائض بھی انجام دیئے جس وقت قائد اعظم کو کسی با اعتماد مشیر اور سچے رفیق کی ضرورت محسوس ہوتی اور اس وقت کوئی نہ ہوتا تو محترمہ فاطمہ جناح ہی بھائی کو مشورے دیتیں اور ان کا حوصلہ بڑھاتیں۔قیام پاکستان سے پہلے قائد اعظم محمد علی جناح اس بات پر متفکر رہا کرتے تھے کہ قوم کی نصف آبادی یعنی خواتین سیاست میں حصہ نہیں لیں گی تو تحریک کامیاب نہیں ہوسکے گی۔قائد اعظم کی خواہش تھی کہ خواتین بھی تحریک کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں قائد اعظم کی اس خواہش کو مد نظر رکھتے ہوئے انہوں نے برصغیر کی نصف خوابیدہ آبادی کو بیدار کرنے کا عزم کیا اور اپنے بھائی کے مشن کو کامیاب کرنے کے لیئے خواتین کو سیاسی 'سماجی ' معاشرتی اور تعلیمی میدان سے آگے لانے کی جدوجہد شروع کردی انہوں نے برصغیر کی خواتین کو تحریک پاکستان میں فعال بنانے کے لیئے وہی کردار ادا کیا جو قائد اعظم نے پورے برصغیر کے مسلمانوں میں بیداری پیدا کرنے کے لیئے کیا تھا۔حصول پاکستان کی جدو جہد میں قائد اعظم کے شانہ بشانہ رہتے ہوئے انہوں نے تحریک نسواں کو فعال بنانے اور منظم کرنے کے لیئے دور دراز علاقوں کے دورے کئے اور مسلم لیگ کے لائحہ عمل کو واضح کیا۔مسلم لیگ کے اجتماعات میں تحریک پاکستان کی جدو جہد کو آگے بڑھانے کے لیئے خواتین اور طالبات کی حوصلہ افزائی کی اور مسلم لیگ کے مشن کے لیئے خواتین کی ذمہ داریوں کو احساس دلایا اور وقت کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ ہر پلیٹ فارم پر اپنی دانش اور فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے ،خواتین کے سیاسی شعور کو پیدا کیا اور انہیں سیاسی ،سماجی اور تعلیمی میدان میں اپنے روشن خیال سے مستفید کیا انہوں نے مسلمان طالبات کو بھی قومی سیاست سے آگاہ رہنے پر زور دیا کیونکہ وہ سمجھتی تھیں کہ مسلم طالبات ہی معاشرے میں تعلیمی اور سماجی اصلاح کا کام کرسکتی ہیں۔انہوں نے مسلم خواتین کو ایک نئی راہ پر گامزن کیا کونکہ وہ خود بھی بلند کردار تھیں اور عزم و ہمت اور جدوجہد مسلسل کا عملی نمونہ تھیں چنانچہ برصغیر کی مسلم خواتین نے ان کا بھر پور ساتھ دیا اور 1940 سے لیکر 19475 تک وہ قائد اعظم کے دوش بدوش تحریک آزادی وطن میں مسلم خواتین کو بیدار کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔اپریل 1943 میں دہلی وومین اسٹوڈینٹ فیڈریشن کے سالانہ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے طالبات سے فرمایا" اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ جو آپ کا پہلا فریضہ ہے یہ بھی ضروری ہے کہ آپ ہر طرح سے باخبر رہیں اور روز مرہ کے واقعات سیاسی مسائل اور دوسرے معاملات میں جو ہماری قومی زندگی اور ہمارے ملک پر اثر انداز ہوتے ہیں ان میں گہری دلچسپی لیں" کراچی میں پاکستان بننے کے بعد ایک عظیم الشان اجتماع کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا " کسی قوم کا نشان پوری آن بان سے صرف اسی وقت لہرا سکتا ہے جب اس کی قوم کی عورتیں سچائی پکے ارادے سے اس کی ترقی کے لئے آمادہ ہوں۔کسی قوم کی بہودی اور ترقی کے لئے عورتیں بہت کچھ کرسکتی ہیں" ۔ انہوں نے فرمایا"5 دراصل آپ ہی ملک اور قوم کی قسمت کی مالک ہیں قوم کے نونہالوں کے صحیح تعلیم و تربیت کی ساری ذمہ داری آپ ہی پر موقوف ہے"7243محترمہ فاطمہ جناح خواتین کی تعلیم کی زبردست حامی تھیں انہوں نے قیام پاکستان کے بعد سب سے زیادہ توجہ اس پر دلائی کے خواتین کو اعلیٰ تعلیم کی سہولتیں میسر آئیں ان کا خیال تھا کہ تعلیم یافتہ خواتین ہی اصل میں قوم کے معمار پیدا کرسکتی ہیں۔

30 جنوری 1949 مدرستہ البنات الا سلام کراچی کے افتتاح کے موقع پر آپ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے فرمایا " یاد رکھو" علم سے بہتر تمہارا کوئی زیور نہیں اور علم حاصل کئے بغیر تمہارا کوئی مقام نہیں،اس کی قوم کو اچھی بہنوں اور بیٹیوں کی ضرورت ہے تاکہ سب مل کر پاکستان کی تعمیر میں اپنا حصہ صحیح طور پر ادا کرسکیں اور یہ جب ہی ممکن ہے جب آپ تعلیم کے ہتھیار سے آراستہ ہوں لڑکیوں کی تعلیم کو اہم نہیں سمجھا جاتا یہ غلط اور نقصان دہ طریقہ ہے ایسی غلط روایات کو فوراً ترک کردیں یہ صحیح ہے کہ زندگی میں مرد اور عورت کے مشاغل اور فرائض مختلف ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہونا چاہئے کہ ان کی تعلیم سے غفلت برتی جائے بلکہ ان کے فرائض کے لحاظ سے تعلیم نسواں کا بندوبست ہو اگر مرد ،عورت اپنے دائرہ عمل میں رہ کر کام کریں اور قومی ،ملکی مقاصد اور اقتصادی مسائل میں ایک دوسرے کی مدد اور تعاون کریں تو اس سے بہترنتائج حاصل ہوسکتے ہیں اور ناممکن کو ممکن کرکے دکھایا جاسکتا ہے"5 5179

محترمہ فاطمہ نے عورتوں کی سیاسی تربیت اور نشو نما پر بھی بہت زور دیا ان کا خیال تھا کہ مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی بھی سیاسی تربیت ہونی چاہئے تاکہ وہ تمام ملکی امور میں مردوں کے ساتھ تعاون کرسکیں۔محترمہ فاطمہ جناح اپنی پوری قوم کے افراد کا بچوں کی طرح خیال کرتی تھیں ان کا نکتہ نظر یہ تھا کہ اگر پاکستان کو سچ مچ ایک مضبوط اور طاقتور ملک بنانا ہے تو آنے والی نسل کے ایک ایک بچہ کی ذہنی تربیت کرنی ہوگی اور انہیں ذہنی اور جسمانی طور پر مضبوط اور طاقتور بنانا پڑے گا کیونکہ آج کا بچہ کل کا آدمی ہے اور یہ کام صرف پڑھی لکھی خواتین ہی کرسکتی ہیں۔اپنی پرائیوٹ سیکریٹری بیگم ثریا خورشید سے اظہار خیال کرتے ہوئے آپ نے کہا " عورت کمزور نہیں ہے اگر وہ پختہ ارادے کی مالک ہو تو یہ مردوں سے زیادہ مضبوط ہوسکتی ہے" ۔عورتیں مردوں کے کارہائے نمایاں میں ہمیشہ ان کی معاون رہی ہیں انھیں مردوں سے زیادہ قربانی دینی پڑتی ہے کردار کی بلندی اور صلاحیتوں کی ان وسعتوں میں جانا پڑتا ہے جہاں مرد کی پہنچ کبھی نہیں ہوسکتی " آپ چاہتی تھیں کہ خواتین ملک و قوم کی تعلیم اور ترقی کے فروغ میں بھر پور حصہ لیں تاکہ نوزائیدہ مملکت تیزی سے پروان چڑھے اور ملک کی بنیادیں مضبوط ہوں 20 فروری 1949 میں موتر عالم اسلامی کے زنانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا " اقتصادیات اور تعلیم دو ستون ہیں جن پر کسی قوم کی ترقی کی عمارت رکھی جاسکتی ہے ۔اپنے ملک کی اقتصادی اور تعلیمی ترقی میں پوری توجہ سے منہک ہو جائیں یاد رکھئے صرف خواتین ہی نوجوانوں کے کردار کو بناسکتی ہیں آپ کی ذمہ د اری بہت گراں ہے آپ کو چاہئے کہ آپ بہت عمدگی سے اپنے فرائض انجام دینے کے لئے ہر وقت مستعد اور تیار رہیں " اسی طرح آپ نے 25 دسمبر 1955 خاتون پاکستان گرلز ہائی اسکول کے افتتاح کے موقع پر فرمایا " بچوں کو ایسی تعلیم دی جائے جو ہمارے قومی تقاضو اور اصولوں کے مطابق ہوتعلیم کا مقصد صرف اسی صورت میں پورا ہوسکتا ہے جب اس کی جڑیں عوام کے ثقافتی ورثے میں ہوں اور یہ ہمارے اقدار اور نظریہ کی عکاسی کرتی ہوں۔اس مقصد کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ تعلیم کو فقط کتابیں پڑھنے پڑھانے یا رسمی تعلیم تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ طلبہ کی صلاحیتوں کو جگانے کی اور کردار سازی کی کوشش کرنی چاہئے اساتذہ کو چاہئے کہ وہ طلبہ میں بے لوث خدمت کا جذبہ 72377 عملیت پسندی اور محنت کی عظمت پیدا کریں"7243محترمہ فاطمہ چاہتی تھیں کہ ہمارے ملک میں خواتین آنے نسلوں کی تعلیم و تربیت اسطرح کریں کہ ان میں جرات و ہمت کے ساتھ ساتھ اخلاقی صفات اجا گر ہوں۔ان کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ذہنی جسمانی اور سماجی و سیاسی تربیت بھی ہوتا کہ قوم کے تمام افراد ملک کی ترقی اور استحکام میں اپنے فرائض احسن طور پر انجام دے سکیں اور ایک عظیم تر پاکستان کی تعمیر ہوسکے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amna Khatoon

Read More Articles by Amna Khatoon: 17 Articles with 20115 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Jul, 2017 Views: 290

Comments

آپ کی رائے