موجودہ تعلیمی نظام اور ہمارا معاشرہ

(Abdul Bari Shafique, Mumbai)

تعلیم وہ شاہ کلید اور ایک ایسا جوہر ہے جو انسان کو ظلمت وتاریکی کے عمیق غار سے نکال کرروشن شاہراہ اور بلندی کی اوج ثریا پر پہنچا تاہے ،تعلیم سے انسان اور اقوام میں بیداری آتی ہے ،صحیح سوچنے وسمجھنے کا شعور پیداہوتاہے۔ اچھے اوربرے کی تمیز کااحساس بیدارہوتا ہے ،اسی تعلیم ہی کے ذریعہ اللہ نے انسانوں کو تمام مخلوقات پر اشرفیت وافضلیت بخشی ہے اورتمام بنی انسان کے باپ دادا آدم علیہ السلام کو اسی کے ذریعہ فرشتوں پر فوقیت دی اور اس کی اہمیت ہی کے پیش نظر اپنے آخری نبی جناب محمد بن عبداللہ ﷺ پر وحی کا آغاز لفظ ’’إقراء ‘‘سے کیا ۔ اور اسی کے ذریعہ عالم کے درجات کو بلند فرمایا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :﴿یرْفَعِ اللہ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ﴾(المجادلۃ:۱۱ ) اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے جو ایمان ﻻلائے ہیں اور جو علم دیئے گئے ہیں درجے بلند کر دے گا۔
قرآن و احادیث میں بیشمار مقامات پر سیکھنے اور سکھلانے والوں کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ ‘‘تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اورسکھلائے۔ (بخاری )۔اب آیئے دیکھتے ہیں کہ تعلیم کے معنی ومفاہیم اور اس کی ضرورت واہمیت اور فوائد وثمرات کیاہیں :
تعلیم کامعنی ومفہوم :
تعلیم یہ عربی زبان کا لفظ ہے جو ’’علّمَ یعلِّم تعلیم ‘‘سے ماخوذ ہے جس کے معنیٰ ہیں کسی کو کچھ بتانا، پڑھانا، سکھانا، تلقین کرنا یا رہنمائی کرنایعنی طلبہ کو لکھنا پڑھنا یا حساب وغیرہ سکھانا یا کوئی مضمون اور کتاب پڑھا دینا۔
عام طور پر تعلیم کو انگریزی کے لفظ ایجوکیشن کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے ۔ مگر صحیح معنی میں ایجو کیشن کی مکمل ترجمانی صرف تعلیم سے نہیں ہو پاتی۔ لفظ ایجوکیشن در اصل لاطینی لفظ ایڈو کو (educo)سے اخذ کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کسی انسان یا جانور کے بچے کو خصوصی توجہ اور نگہداشت کے ساتھ پال پوس کر بڑا کرنا ۔ اس مناسبت سے ایجوکیشن کا مطلب ہوگا کسی بچے کی پرورش ، اور اس کی دماغی ، جسمانی اور اخلاقی تربیت کرنا۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایجوکیشن کا مفہوم صرف تعلیم سے نہیں بلکہ تعلیم و تربیت سے پورا ہوتا ہے۔اور یہی تعریف زیادہ معتبر ومناسب معلوم ہوتی ہے۔
تعلیم کی اہمیت وضرورت اور اس کے فوائد وثمرات سے دنیا کے کسی ذی شعور کو انکار نہیں ،کیونکہ تعلیم پر قوم وملت کی تعمیر وترقی کا ہی انحصار نہیں بلکہ اس میں قوم کے احساس وشعور کو جلا بخشنے کی قوت بھی پنہاں ہے ۔ اگر آپ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کا دورہ کرکے اور اس کی شرح خواندگی کا جائز ہ لیں گے تو آپ کے سامنے یہ سچ خود بخود واضح ہوجائے گا کہ قوم کی تعمیر وترقی میں تعلیم کس قدر ممدوومعاون ہے ، اورموجودہ دورمیں اس کی کتنی اہمیت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں انہیں قوموں نے ستاروں پر کمندیں ڈالیں ہیں جنہوں نے تعلیم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ، علم کے حصول کی خاطر کافی پریشانیاں برداشت کیں ۔اپنے گھر بار اور اعزہ واقارب کوچھوڑا۔ خوش قسمتی سے آج ہمار املک اوراس کے باشندے بھی دیگر اقوام و مما لک کی طرح اس طرف خاطرخواہ توجہ دے رہیں ہیں اور علم کے فروغ اور تعلیم کو عام کرنے میں کوشاں نظرآرہے ہیں۔ اور تجربات ومشاہدات سے یہ بات بالکل واضح ہےکہ علم کے حصول ہی میں ہمیں حقیقی خوشحالی مل سکتی ہے اور ہم منزل مقصود تک پہنچ سکتے ہیں ۔
اور اس کے بالمقابل جہالت جو علم کی ضد ہے جس سے سماج میں برائیاں اور بے حیائیاں جنم لیتی ہیںجوسماج کا سب سے بڑا کینسر اور مہلک بیماری ہےایسے انسان کی اس دنیا میں کوئی قدر وقیمت نہیں ،اگر وہ سماج میں زندہ بھی ہے تو لوگ اسے مردہ ہی سمجھتے ہیں لیکن ایک پڑھا لکھا ذی شعور اپنی قابلیت وشرافت کی وجہ سے لوگوں کے دلوں پر راج کرتاہے لوگ اس کو قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اسکی عزت کرتےہیں۔ گویا علم ہر ڈگر وشاہرا ہ پر انسان کے لئے مفید ہے اور جہالت تاریکی و نقصاندہ ہے۔یہی وجہ ہے خلیفہ راشد حضرت علی رضی اللہ عنہ علم اور مال کے درمیان تقابل کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
رضینا قسمة الجبار فینا لنا عمل وللجہال مال
ترجمہ :’’اللہ تعالی کی تقسیم سے ہم راضی ہیں کہ ہمارے حصے میںعلم ہے اور جاہلوں کےحصے میں مال ہے ‘‘۔
محترم قارئین!
آج کے اس ترقی یافتہ اور پرفتن دور میں معاشرتی خرابیوں وبرائیوں کی سب سے بڑی وجہ جہالت ہے جس کے خاتمے کی ہمیں ہر طرح سے تگ ودو کرنی چاہئے اور تعلیم کے حصول میں انتھک کوشش ومحنت کرنی چاہئے تاکہ ہمارا معاشرہ ایک پاکیزہ اور صاف ستھرا معاشرہ بن سکے ۔اور اس کے باشندے امن وسکون اور الفت ومحبت نیز بھائی چارگی کی زندگی گذار سکیں ،کیونکہ حصول علم وہ روشن شاہراہ ہے جس پر چل کر ہم اپنی تعلیمی پسماندگی کو ختم کرکے سماج کو روشن مستقبل دے سکتے ہیں ،انہیں تاریکی سے نکال کر اجالے کی طرف رہنمائی کرسکتے ہیں ۔
تاریخ اسلام کا ادنیٰ طالب بھی اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ جب تک مسلمانوں نے حصول علم کی طرف اپنی توجہ مبذول رکھی وہ ہمیشہ کامیاب وسرخرو رہے ان کی کامیابی کا ڈنکا چہار دانگ عالم میں بجتارہا ۔ اور اسی علم ہی کی بدولت وہ پوری دنیا پر حکمرانی کرتے رہے لیکن جیسے ہی اس پاکیز رشتہ اور عظیم
سرمایہ سے منہ موڑاتووہ تنزلی وپستی اور پسماندگی کی اس عظیم کھائی میں جا گرے جہاں ان کا کوئی نام لیوا نہ رہا۔ اور ذلت ورسوائی ہمیشہ ہمیش کے لئے ان کا مقدر بن گئی ۔
اسی طرح یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ تعلیم انسانیت کی سب سے بڑی دولت اور شرف وعزت کی ضامن ہے ،تعلیم ہی وہ شجرۂ مثمرہ ہے جس کے رنگین پھول اور مہکتی کلیاںدل ودماغ کو معطر کردیتے ہیں اور قلب وروح کی تسکین کا ذریعہ بنتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ سماج کا ہر ذی علم طبقہ اپنے نونہالوں کو معیاری تعلیم دلانے کی حتی المقدور سعی کرتاہے اور انہیں ملک وسماج کے اچھے سے اچھے اسکو لوںوکالجز میں داخلہ دلانے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی تگ ودو کرتا ہے تاکہ ان کا لخت جگر اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے بہترین ڈاکٹر اچھاانجینئرکامیاب سائنسداں بن سکے اوراپنے پیر وں پر کھڑا ہوکر اپنےوالدین اور اعزہ واقارب کی کفالت کرسکے۔
لیکن افسوس کہ آج جو نظام تعلیم ہمارے ملک وریاست میں رائج ہے وہ قابل غور ہے مخلوط تعلیم معاشرہ کے لئے سم قاتل اور نئی نسل کے لئے زہر ہلال سے کم نہیں ۔ اس نظام تعلیم سے ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ہم اپنے بچے کو ایک اچھا ڈاکٹر،انجینئر اورسائنسداں تو بنا سکتے ہیں اور اس کی ذہنی وجسمانی صلاحیت کو تو بڑھا سکتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہم اسے ایک اچھا انسان بھی بنا سکیں اسے قوم وملت کا ایک بہترین خادم بھی بناسکیں۔کیونکہ کالجزویونیورسٹی کا آزادنہ ماحول بچوں کی تعلیم وتربیت پر بہت گہرا چھاپ چھوڑتا ہے اور بچے ان اثرات سے بہت جلد متائثر ہوکر اپنے مقصد حقیقی کو بھول جاتےہیں۔ ایسی صورت میں والدین ،گھرکے ذمہ داران کا ایک اہم فریضہ ہوتا ہے کہ اپنے نونہالوں کے حرکات وسکنات اوردوست واحباب پر کڑی نظر رکھیں انھیں سماج کی برائیوں وخرافات سے روشناکرائیں اور ان کی صحیح تعلیم وتربیت کا منظم بندوبست کریں اور موجودہ تعلیمی نظام اور اس کی پالیسیوں سے انہیں آگاہ کریں۔
اور یقینا موجودہ تعلیمی نظام جہاں ایک طرف قوم کے نونہالوں کے لئے غیر مناسب ہے وہیں دوسری طرف ملک کی سیاسی پارٹیاں اپنی سیاست کی
روٹی سیکنے کے لئے اپنے اپنے خیالات اورافکار کے نصاب تعلیم بچوںکے سر تھوپتے ہیں جس سے اسکولوں ،کالجزوں اور طلباکا رجحان بھی منتشر ہوتاہے اور ملک ونصاب تعلیم سے بدظن بھی ۔
میں دنیاوی تعلیم اور اس کے حصول کے خلاف نہیں اورنہ ہی تعلیم کے دنیا وی مقاصد سے کسی کو انکارہے ،لیکن تعلیم کا جو صحیح اور اصل مقصدہو وہ ہمارے سامنے ہو اور ہمارا مقصد صرف مال کمانا یا شہرت طلبی نہ ہو بلکی حقوق اللہ وحقوق العباد کی ادائیگی بھی ملحوظ خاطر ہو ۔تبھی جاکر ہم اپنے مقصد حقیقی میں خاطر خواہ کامیاب ہوسکتے ہیں ۔
اللہ ہم سب کو علم کی اہمیت ومقصدیت کو سمجھنےاور موجودہ نظام تعلیمی سے خاطر خواہ استفادہ کرنے کی توفیق دے ۔ آمین!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Bari Shafique

Read More Articles by Abdul Bari Shafique: 114 Articles with 68570 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Jul, 2017 Views: 1599

Comments

آپ کی رائے