احساس ذمہ داری

(Samreen Nasarullah, Yazman, Bahawalpur)

احساس ذمہ داری ایک ذہنی کیفیت ہے . اس کیفیت کے دوران ہم کسی کام کے بروقت اور احسن انداز سے ہوجانے کی بے چینی محسوس کرتے ہیں .

احساس زمہ داری رکھنے والا انسان بھروسے کے قابل ہوتا ہے . ذمہ داری کسی بھی نوعیت کی ہو اس کے لیئے احساس ذمہ داری کا ہونا نہایت ضروری ہے . ہم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے کیونکہ ہم سب پر کسی نہ کسی حوالے سے کئی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں . انسان پریشانیوں کی گنتی کا ماہر ہے لیکن نعمتوں کا حساب ہمیشہ بھول جاتا ہے . کہا جاتا ہے کہ بہترین آنکھ وہ ہے جو اپنے اندر جھانک سکے اپنا احتساب خود کر سکے ، لیکن ہم نے وہ آنکھ جان بوجھ کر بند کر رکھی ہوتی ہے زمانے کے ڈر سے ، اپنی اکڑ کی وجہ سے ، اپنی کم عقلی کی وجہ سے یا یوں کہہ لیجیئے سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجان بننے کی وجہ سے ہم سب کچھ سمجھ بوجھ کی اتھاہ گہرائیوں میں رکھ کر انجان بن جاتے ہیں . تاکہ ہمارا قصور نہ گنوایا جاسکے ہمیں بری الزما قرار دے دیا جائے . لیکن ہم ان ذمہ داریوں سے کیسے بھاگ سکتے ہیں جو اللہ نے ہماری جھولی میں ڈالی ہیں . اگر آپ پر کوئی ذمہ داری ہے تو یہ آپ کے لیئے ایک اعزاز کی بات ہے کیونکہ اللہ جسے چنتا ہے تو اس میں کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے . ویسے بھی قرآن پاک اور متعدد جگہ پر کہا گیا ہے کہ : " اللہ اپنے بندے پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا " . کسی ادارے میں نگران بھی اسی لئے مقرر کئے جاتے ہیں کہ ملازمین اپنے نگران کے پوچھنے کے ڈر سے سستی اور لاپرواہی کا شکار نہیں ہوتے .وہمی لوگ کام کم کرتے ہیں اور سوچتے زیادہ ہیں اور کسی بھی کام سے آسانی سے مطمئن نہیں ہوتے اور یوں ایک ہی کام کو بار بار بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش میں بہت سا وقت ضائع کر بیٹھتے ہیں ۔ضرورت سے زیادہ فرمانبردار لوگوں کے لئے ’’ناں‘‘ کہنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس لئے وہ اپنے ذمے اتنا زیادہ کام لے لیتے ہیں کہ جو مقررہ وقت میں کرنا ان کے لئے حقیقتاً ناممکن ہوتاہے۔ اسی لئے شیخی باز لوگ بھی ایسے کام کی حامی بھرلیتے ہیں جو دراصل ان کے بس میں نہیں ہوتے۔ ایسی صورت حال میں ٹال مٹول سے کام لینے اور حیلے بہانے کرنے کے سوا، ان کے پاس بھلا اور چارہ بھی کیا ہوسکتا ہے؟ ذمہ داری کا احساس ضمیر کی ملامت کے خوف سے بھی پیدا ہوتا ہے . ہمارا ضمیر ہمارے اندر اچھائی اور برائی کی تمیز پیدا کرتا ہے . اللہ ہم سب کو راہ راست پر لانے کی توفیق عطا فرمائے . آمین .

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Samreen Nasarullah

Read More Articles by Samreen Nasarullah: 18 Articles with 17210 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Jul, 2017 Views: 1364

Comments

آپ کی رائے