قصئہ پارینہ کا خوف کیوں؟

(Syed Mehboob Ahmed Chishty, )

اعصاب پر سوار کرنا اور اعصاب پر سوار ہونا دوالگ باتیں ہیں کسی کی محبت کو اعصاب پر سوار کرلینا اور کسی کی محبت کا اعصاب پر سوار ہونا یہ بھی الگ الگ بات ہے اور کسی کی محبت پر قائم یہ رہنا یہ بالکل الگ اور منفرد بات ہے بات اگر نظریات کی جائے تو اسکا تعلق براہ راست کسی کی طرز فکر سے ہوتا ہے تربیتی اور نظریاتی فکرانسان کو اسکا مقام دلوانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے لیکن اسی تربیتی اور نظریاتی فکر میں ذاتی مفادات کا حصول آجائے تو پھر انسان کی طرز فکر ونظریات کسی کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور کچرے کا ڈھیر ہمیشہ تعفن کا سبب ہی بنتا ہے اور یہ اسوقت مزید بدبودار ہوجاتا ہے جب انسان اپنی عقل وشعور کو کسی کے پاس گروی (MORTGAGE) رکھوادیتا ہے تو یہ عمل انسان کو اپنے ویژن سے ہٹا دیتا ہے اس عمل کو شیطانی طرز فکر سے تشبیہ دینے سے مراد اس لئیے پیش آئی کہ اپنی عقل وشعور وقابلیت کو کسی کے پاس گروی رکھنے سے اپنی عقل وشعور کی صلاحئیت ختم ہوجاتی ہے اور جب آپ اپنی عقل وشعور کو رہن(Mortgage) رکھوادیتے ہیں تو اس سے آپکی آسائشوں میں تو اضافہ ہوجاتا ہے لیکن اسکے ساتھ آپکو اپنی قابلیت.ویژن.نظریات.طرزفکر عقل وشعور حتیٰ کہ اپنے معمولات زندگی بھی اسکی منشاء ومرضی کے مطابق گزارنی پڑتی ہے جس کے پاس آپکا سب کچھ گروی Mortagageرکھی ہوئی ہے آپ اپنی دانش کے مطابق یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ پہلے درست تھا یا اب درست ہے پہلے آپکی قابلیت۔عقل وشعور کسی ایسے انسان کے تابع تھی جب آپ کچھ نہیں ہوتے ہیں اللہ تبارک تعالیٰ آپکو ایسا انسان وسلیے کے روپ میں دیتا ہے جو آپکو زمین سے اٹھا کر وہ زندگی دینے کاسبب بن جاتا ہے جس میں عزت شہرت دولت احترام سب مل جاتا ہے اگر آپکی طرز فکر وتربیت اعلیٰ خطوط پر استوار پر کی گئی ہوگی تو وہ آپکا زندگی بھر آپکا احسان مند رہیگا۔لیکن اگر اس میں شیطانی طرز فکر غالب آجائے اور وہ یہ سمجھنے لگے کہ اب میں اتنا بن چکا ہوں دولت۔شہرت۔سب مل چکا ہے تو پھر وہ نظریات برائے فروخت کی عملی تصویر بن کر اس مارکیٹ کا رخ کرتا ہے جہاں نظریات کی خریدوفروخت اپنے عروج پر ہوتی ہے اور پھر آپ اس خریدار کی منت سماجت کرکے اپنے نظریات کی قیمت بڑھانے پر زور دیتے ہیں۔یہاں قانون قدرت حرکت میں آتا ہے جس عزت قابلیت شہرت کو جو آپکو اس پہلے انسان کی بدولت ملا جسکو اللہ تعالیٰ نے آپکے لئیے وسیلہ بنایا اسکو اپنا سمجھ کر وہی عزت شہرت قابلیت آپکی ذلت ورسوائی کا سبب بن جاتی ہے.جن جگہوں پر آپکو کھبی عزت وشہرت ملتی تھی وہاں آپکو مختلف القابات سے نوازا جاتا ہے آپکی تربیت پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں شائد اسی فکر پر یہ قول سامنے لانا پڑتا ہے کہ
نسل دیکھ کر احسان کرو۔
اور نسل دیکھ کر احسان لو۔
اور پھر اس قول عظیم کو کون نظرانداز کرسکتا جو حضرت علی کرم اللہ وجہہُ نے فرمایا کہ
”جس پر احسان کرو اسکے شر سے بچو“
ویژن سے خالی جدوجہد جو کسی کی ایماء پر ہوآپکو صرف مالی آسائشیں دینے کاسبب توبن سکتی ہیں لیکن وہ آپکو اور آپکی آنے والی نئی نسل کو سوائے رسوائی وذلت کے کچھ نہیں دے سکتی۔لیکن اگر آپ نے عزت کو اس کسوٹی پر رکھا کہ عزت تو آنی جانی ہے مفادات مالی سکون سلامت رہے تو آپکی عقل پر سوائے ماتم کرنے کے علاوہ دوسرا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔۔
ہمارے معاشرے میں قصہء پارینہ کا مطلب کیا ہے؟قصئہ پارنیہ کا مطلب آسان الفاظ میں یہی ہوسکتا ہے کہ جسکو انسانوں نے بھلادیا ہو جسکا تذکرہ کھبی نہ ہو.جس کے متعلق کوئی بات نہ کی جائے۔نہ اچھے الفاظوں میں نہ برے الفاظوں اسکو یاد کیا جائے تاریخ بھی اسکو ختم کردے کوئی نام لیوا نہ ہو اسکا قصئہ مکمل ختم ہوچکا ہو اسکو قصئہ پارینہ کہا جائے تو درست ہوگاکسی انسان کو قصئہ پارنیہ کہہ دینا انسانی عقل وشعور کی کسوٹی پر رکھ کر دیکھی جائے تو یہ پتا چلتا ہے کہ اگر وہ شخص واقعی قصئہ پارینہ بن چکا ہے تو پھر اس شخص پر بات نہ کی جائے نہ اسکے خلاف نہ اسکے حق میں لیکن جب اس شخص کی بات کی جائے جو کھبی آپکے لئیے کھبی قابل احترام ہوتا تھا تو وہ کھبی بھی قصئہ پارینہ نہیں بن سکتا آپکی ذاتی نفرت جو کسی کی ایماء پر اجاگر کی گئی ہو وہ نفرت بھی اس انسان کو قصئہ پارینہ میں تبدیل نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ بات پھر وہی کہنی پڑرہی ہے کہ آپ تو اپنی عقل وشعور۔نظریات تو گروی رکھواچکے ہیں پھر آپ یہ کیسے فیصلہ کرسکتے ہیں کہ آپ جو کہہ رہے وہ درست کہہ رہے ہیں کیسے مان لیں کہ کل تک آپ کا ویژن کچھ اور تھااور آج آپکا ویژن کسی اور کے پاس گروی (Mortgage) ہے تو کیسے مان لیں کہ آپ درست بات کررہے ہو؟ آپکی مالی مفادات پر بھرپور جدوجہد جوکسی کی مرہون منت ہو تو کیسے یہ تسلیم کرلیا جائے جس انسان کو قصئہ پارینہ کہاجارہاہے وہ واقعی قصئہ پارینہ بن چکا ہے کیونکہ اگر وہ قصئہ پارینہ بن چکا ہے تو تو آپکے اپنے ہاتھ ان دیواروں پر اس انسان کو نفرت انگیز القابات سے نواز رہے ہیں یہ کیسا
”قصئہ پارینہ“ ہے کہ وہ کسی نہ کسی انداز میں آپ کے اعصاب پر سوار ہے ۔۔
عجب انسان ہے کہ قصئہ پارینہ بن چکا ہے چشتیَ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نفرت میں بھی یاد کرتے ہیں اسکے دشمن۔۔۔۔۔
میرے ذاتی نظریات کے مطابق انسان کھبی بھی قصئہ پارینہ نہیں بن سکتا کیونکہ قصئہ پارینہ میں اسکو مکمل نظرانداز کرنا اور بھولنا ضروری ہے اور زندگی میں یہ ہونا ناممکن ہےاور تاریخ گواہ ہے کہ جو انسان تاریخی جدوجہد وتحاریک شروع کرتے ہیں انکو تاریخ بھی قصئہ پارینہ نہیں بنا سکتی تو پھرایک منفی طرزفکر پر قائم انسان کسی کو کیسے قصئہ پارینہ بناسکتا ہے کیونکہ انسان ہی اس باری تعالی کی رضا سے ہی تاریخ رقم کرتے ہیں کوئی تاریخ کسی انسان کو رقم نہیں کرسکتی۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Mehboob Ahmed Chishty

Read More Articles by Syed Mehboob Ahmed Chishty: 5 Articles with 2255 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Jul, 2017 Views: 414

Comments

آپ کی رائے