واہ ! کیا بات ہے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کی

(Prof Riffat Mazhar, Lahore)

سپریم کورٹ کے تین رُکنی بنچ نے پونے تین سو دِنوں کی تلاشِ بسیار کے بعد بالآخر میاں نوازشریف کو نا اہل قرار دے ہی دیا ۔ خلیل جبران نے کہا تھا ’’جب میرا پیالہ آدھا بھرا ہوا تھا تو میں مسلسل چیختا رہا لیکن جب سارا خالی ہو گیا تو مجھے قرار آگیا‘‘۔ یہی حال نوازلیگ کا ہے کہ جب تک جے آئی ٹی کی تحقیقات جاری رہیں ، اکابرینِ نوازلیگ تعصب اور جانب داری کی دہائیاں دیتے ، ثبوت پیش کرتے اور دَرِعدل کھٹکھٹاتے رہے لیکن جب فیصلہ آ گیا تو یقینا اُنہیں بھی سکون مِل گیا ہو گا کہ مرگ الموت میں مبتلاء مریض کی سانس کی ڈوری جب تک بندھی رہتی ہے ، لواحقین کی آس کی ڈور بھی نہیں ٹوٹتی ۔ لیکن جب مریض دارِ فانی سے کوچ کر جاتا ہے تو لواحقین بھی ایک آدھ دن رو،پیٹ کر صبر کر لیتے ہیں ۔ نوازلیگ کو جے آئی ٹی کی متعصبانہ اور جانبدارانہ تحقیقات کے بعد خوب معلوم ہو گیا تھا کہ فیصلہ حق میں نہیں آنے والا لیکن سپریم کورٹ سے موہوم سی اُمید وابستہ تھی جو 28 جولائی کو دَم توڑ گئی ۔ فیصلہ آ گیا ، نوازشریف نہ صرف نا اہل قرار پائے بلکہ اُنہیں پورے خاندان سمیت احتساب عدالت میں پیشی کا حکم بھی صادر فرما دیا گیا ۔

سپریم کورٹ کے تین رُکنی بنچ نے جو فیصلہ سنایا ، کیا اُس کی نظیر دنیا کی کسی بھی دوسری عدالت میں پیش کی جا سکتی ہے؟۔ ۔۔۔ شاید نہیں کیونکہ اقوامِ عالم کی تاریخ کو تو رکھیئے ایک طرف ، خود پاکستان کی ’’تاریخِ عدل‘‘ میں بھی ایسا فیصلہ دیکھا ، سُنا نہ پڑھا۔ بات شروع پاناما سے ہوئی اور ختم اقامہ پہ۔ ہم تو یہی سمجھتے تھے کہ ’’میں نہ مانوں‘‘ کی رَٹ صرف کپتان ہی لگاتا رہتا ہے لیکن اب یہ بھی معلوم ہو گیا کہ ہماری اعلیٰ ترین عدلیہ بھی اِس جملے پر’’ مُہرِعدل ‘‘ ثبت کر سکتی ہے ۔ شریف فیملی نے اپنے تئیں ثبوتوں کے ڈھیر لگا دیئے ،میاں نوازشریف تمام تر تحفظات کے باوجود اپنے پورے خاندان سمیت جے آئی ٹی کے سامنے پیش بھی ہو گئے لیکن جے آئی ٹی نے اُن کی ایک نہ سُنی اورتین رُکنی بنچ نے ثبوتوں کو ماننے سے انکار کر دیا ۔سوال مگر یہ کہ فیصلہ کِس بنیاد پر ہوا۔ کیا میاں نواز شریف کرپشن میں ملوث پائے گئے ؟۔ کیا اُنہوں نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا ؟۔ کیا پاناما لیکس میں اُن کا نام تھا؟۔ یہ تو خیر جے آئی ٹی اور تین رکنی بنچ نے بھی تسلیم کیا کی میاں نوازشریف پر اِس قسم کا کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا ۔ یہی وجہ ہے کہ پاناما پیپرز کا معاملہ احتساب عدالت کو بھیج دیا گیا لیکن چونکہ میاں صاحب کو نا اہل قرار دینا ٹھہر چکا تھا ، اِس لیے جواز وہ تراشا گیا جو جمہوریت کیا ،آمریت کی تاریخ میں بھی نہیں ملتا۔ جواز اِس حکایت کے عین مطابق تھا کہ ایک شخص اپنی بیوی سے بہت تنگ تھا ۔ وہ اُسے طلاق دینا چاہتا تھالیکن اُسے کوئی بہانہ نہیں مِل رہا تھا ۔ایک دِن وہ گھر میں داخل ہوا تو اپنی بیوی کو آٹا گوندھتے ہوئے پایا ۔ وہ اپنی بیوی کے پاس گیا اور اُسے مخاطب کرکے کہا ’’چونکہ تُم آٹا گوندھتے ہوئے ہِل رہی ہو اِس لیے تمہیں طلاق ،طلاق ،طلاق‘‘۔ کچھ ایسا ہی’’ ہَتھ‘‘ میاں نوازشریف کے ساتھ بھی ہوا۔ بنچ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ 2007ء میں (جب میاں نواز شریف جَلاوطن تھے ) حسن نواز نے دبئی میں ایف زیڈ ای نامی کمپنی بنائی جس کے چیئرمین میاں نوازشریف تھے ۔ میاں صاحب کی دَس ہزار درہم تنخواہ مقرر کی گئی ، جو میاں صاحب نے کبھی وصول نہیں کی ۔ بنچ کا فیصلہ یہ کہتا ہے کہ یہ تنخواہ واقعی وصول نہیں کی گئی لیکن وہ اثاثے میں شمار ہوتی ہے کیونکہ اُس کے واجب الادا ہونے کا امکان موجود رہتا ہے۔ الیکشن کمیشن میں اِس ’’اثاثے ‘‘ کا ذکر ضروری تھا جو جان بوجھ کر چھپایا گیا۔اِس لیے میاں صاحب صادق و امین نہیں رہے ، اُنہیں نا اہل قرار دیا جاتا ہے ۔ شریف فیملی کے خلاف مدعیان یعنی تحریکِ انصاف ، جماعت ِ اسلامی اور شیخ رشید میں سے کسی نے بھی اِس کمپنی کا ذکر تک نہیں کیا ۔ سبھی مدعیان پاناما پیپرز تک محدود تھے ۔ سپریم کورٹ کے بنچ نے جے آئی ٹی کو جِن تیرہ سوالات کے جوابات دھونڈنے کا حکم دیا ، اُن میں بھی اِس کمپنی کا ذکر نہیں تھا۔ گویا سارے فسانے میں جس کا ذکر تک نہ تھا ، وہی بات میاں صاحب کی نا اہلی کا سبب قرار پائی۔ اِسی لیے نوازلیگ نے اِس فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے فیصلے کے دِن کو تاریخی نہیں ’’تاریک دِن‘‘ قرار دیا ۔ جب ہم نے یہ فیصلہ سُنا تو بے ساختہ ہمارے مُنہ سے نکلا ’’ واہ ! کیا بات ہے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کی‘‘۔

دَست بستہ عرض ہے کہ آپ نے دَس ہزار درہم (جو لَگ بھَگ دو ، سوا دو لاکھ روپے بنتے ہیں )کے عوض ایٹمی پاکستان کے وزیرِاعظم کونااہل قرار دے دیا ۔ اور طُرفہ تماشہ یہ کہ وہ رقم میاں صاحب نے کبھی وصول ہی نہیں کی۔ اگر میاں صاحب کو کرپشن یا اختیارات کے غلط استعمال پر نا اہل قرار دیا جاتا تو ہم بھی بلند آہنگ سے اِس فیصلے کی تحسین کرتے لیکن اب گو مگو میں ہیں کہ تحسین کریں یا نفرین۔ ہمیں خوف ہے کہ کہیں آنے والا مورخ بھٹو کے عدالتی قتل کی طرح اِس فیصلے کو ’’جوڈیشل مارشل لاء ‘‘قرار نہ دے دے ۔ یہ فیصلہ تو بہرحال سیاسی ہی گردانا جائے گا کیونکہ عوام کی بھاری اکثریت سے منتخب وزیرِاعظم کو ایک جھٹکے میں گھر بھیج دیا گیا ۔ حیرت ہے کہ پہلے پانچ رکنی بنچ نے محفوظ کیا گیا فیصلہ لکھتے ہوئے دو ماہ لگا دیئے تھے لیکن تین رکنی بنچ نے ایک ہفتے میں ہی فیصلہ سنا دیا ۔ ہم تو سمجھتے تھے کہ جے آئی ٹی کی طرف سے پیش کیے گئے ثبوتوں کے بنڈل (خواہ وہ درست تھے یا غلط) کا مطالعہ کرتے کرتے بنچ کو ایک عرصہ درکار ہو گا ۔ جلدی فیصلہ آنے کی شاید ایک وجہ یہ ہو کہ فیصلہ آنے سے دو دِن پہلے کپتان نے عدلیہ کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ جلدی فیصلہ کریں کیونکہ قوم فیصلہ سُننے کے لیے بیتاب ہے۔ فیصلے سے صرف ایک دِن پہلے تحریکِ انصاف کے بابر اعوان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ بتا دیا تھا کہ کل فیصلہ آ رہا ہے ۔ اِسی طرح پیپلز پارٹی کے لطیف کھوسہ نے بھی جمعے کو فیصلہ آنے کا بتا دیا تھا۔ پوری قوم تو فیصلے کی تاریخ سے بے خبر تھی لیکن اکابرینِ تحریکِ انصاف اور پیپلزپارٹی با خبر۔

ہمیں اِس بات پہ بھی حیرت ہے کہ پاکستان کی سَتّر سالہ تاریخ میں 17 وزرائے اعظم ہو گزرے ہیں جن میں سے کسی ایک کو بھی اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی۔ کوئی گولی سے شہید ہوا تو کسی کا مقدر پھانسی کا پھندا ٹھہرا ۔ کسی پر 58-2B کی تلوار چلی تو کسی کو جلاوطنی کا دُکھ جھیلنا پڑا ۔ یہ کیسا جمہوری ملک ہے جس پر پینتیس سالوں تک تو آمریت کے گہرے سیاہ بادل چھائے رہے اور باقی پینتیس سالوں کے دَوران کسی وزیرِاعظم کو اپنی مدت ہی پوری نہیں کرنے دی گئی ۔ ہمیشہ جمہور کی آواز کو کبھی آمریت کی تلوار سے ذبح کیا جاتا رہا اور کبھی عدل کا ہتھوڑا سَر پہ پڑتا رہا لیکن قصور اِس میں سیاستدانوں کا بھی ہے کہ وہ جمہوریت کی مضبوطی کے لیے نہیں ،مسندِاقتدار کے لیے باہم دست و گریباں رہتے ہیں۔

ہم نے یہی دیکھا ہے کہ پاکستان کی عدلیہ ہمیشہ یک جان رہی ۔اگر کسی نے عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کی تو سبھی ’’عادل‘‘ اُس کے خلاف کھڑے ہو گئے ۔پاناما لیکس میں ایک جج صاحب کا نام بھی ہے لیکن اُس کے بارے میں کبھی کوئی خبر آئی ، نہ زنجیرِ عدل ہِلی۔عدلیہ کا جب جی چاہے اور جو جی چاہے لکھ دے یا بول دے ، کوئی پوچھنے والا نہیں کہ اعلیٰ ترین عدلیہ کے بعد تو صرف اﷲ کی عدالت ہے۔ ڈیڑھ کروڑ سے زائد ووٹوں سے منتخب ہونے والی نوازلیگ کے سربراہ کو ’’گاڈ فادر‘‘ کہہ دیں یا ’’سِسلی مافیا‘‘ ، کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ یہ ’’عدل‘‘ کا حکم ہے جو جمہور کی آواز سے کئی گنا زیادہ طاقتور۔ سوال تو یہ ہے کہ اگر یہی الفاظ کوئی اعلیٰ عدلیہ کے کسی جج کے بارے میں کہہ دے تو کیا وہ ’’ توہینِ عدالت‘‘ سے بچ پائے گا؟۔۔۔۔ ہر گز نہیں ، اُسے تو نشانِ عبرت بنا دیا جائے گا۔ گویا یہ بات مسلم الثبوت ٹھہری کہ اﷲ کے بعد طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں ، عدلیہ ہے ۔ البتہ تاریخ کا طالب علم خوب جانتا ہے کہ عدلیہ بھی ’’بندہ‘‘ دیکھ کے ہی فیصلہ کرتی ہے ۔ اگر بندہ ’’زورآور‘‘ ہو تو عدلیہ ’’نظریۂ ضرورت‘‘ تراش لیتی ہے اور اگر جمہور کا نمائندہ ہو تو پھر ’’جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے‘‘۔ ہمیں میاں نواز شریف کے ’’سیاسی قتل‘‘ کا دُکھ ہے اور یہ دُکھ ہر محبِ وطن کو ہونا بھی چاہیے ۔اِس دُکھ کی وجہ یہ ہے کہ میاں نواز شریف ڈیفالٹ کرتے پاکستان کو پٹڑی پر لے آئے ،لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہو گئے اور بڑی حد تک اِس پر قابو بھی پا لیا ،دہشت گردی کا بڑی حد تک خاتمہ کیا ،کراچی اور بلوچستان کا امن بحال کیا اور سب سے بڑی بات یہ کہ سی پیک جیسا گیم چینجر منصوبہ لے کر آئے جس پر بہت تیزی سے کام جاری تھا ۔ لیکن یہ منصوبہ بھارت کو قبول ہے نہ امریکہ کو اور نہ ہی اسرائیل کو ۔ بھارت کو اِس منصوبے کی تکمیل کی صورت میں اپنا ’’ خطّے کا چودھری‘‘ بننے کا خواب بکھر تا نظر آ رہا ہے ،امریکہ دُنیا پر چھاتی چینی معیشت سے پریشان ہے اور اسرائیل تو ہے ہی عالمِ اسلام کا ازلی و ابدی دشمن۔ دبنگ چودھری نثار علی خاں نے سرِعام کہہ دیا ’’میرے اور وزیرِاعظم سمیت چار افراد جن میں دو فوجی ہیں ، اچھی طرح جانتے ہیں کی پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے ‘‘۔ اِس لیے ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ میاں نوازشریف بین الاقوامی سازش کا شکار ہوئے اور اِس سازش کے کچھ مہرے پاکستان کے اندر بھی موجود ہیں۔

بھٹو نے ایٹم بم بنانے کا ارادہ کیا تو اُس وقت کے امریکی وزیرِ خارجہ ہنری کسنجر نے کہا ’’ہم تمہیں نشانِ عبرت بنا دیں گے‘‘۔بھٹو باز نہ آیااور اُسے واقعی نشانِ عبرت بنا دیا گیا۔میاں نوازشریف نے شدید ترین امریکی دباؤ کے باوجود ایٹمی دھماکہ کرکے پاکستان کو عالمِ اسلام کی واحد ایٹمی طاقت بنایا تو اُنہیں جلاوطنی کا دُکھ جھیلنا پڑا ۔ اب وہ سی پیک کی صورت میں ’’معاشی دھماکہ‘‘ کرنے جا رہے تھے اور عالمی سرویز پاکستان کو تیزی سے اُبھرتی ہوئی معاشی قوت کے طور پر دیکھ رہے تھے لیکن اُنہیں ایک دفعہ پھر گھر بھیج دیا گیا۔ ۔۔۔۔ ایسا تو ہونا ہی تھا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Riffat Mazhar

Read More Articles by Prof Riffat Mazhar: 755 Articles with 313698 views »
Prof Riffat Mazhar( University of Education Lahore)
Writter & Columnist at
Daily Naibaat/Daily Insaf

" پروفیسر رفعت مظہر کالمسٹ “روز نامہ نئی ب
.. View More
31 Jul, 2017 Views: 456

Comments

آپ کی رائے