فلاحی ریاست کا خواب اور تعبیر

(Hur Saqlain, Chakwal)
جو ادارے اب تک طاقتور شخصیات اور حکمرانوں کے زیرِ اثر تھے ان میں اب تبدیلی کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔نیب کو اب معلوم ہے کہ وہ اب سپریم کورٹ کے ایک جج کے سامنے جوابدہ ہے۔ملوکیت اور شہنشاہیت کا دور ختم ہونے کو ہے۔آئین اورقانون کی بالادستی کے دن شروع ہو چکے ہیں۔اب اداروں کو اپنی اس طاقت اور قوت کا بھی اندازہ ہو گاجو آئین اور قانون نے انہیں دے رکھی ہے۔ پارلیمنٹ کو بھی احساس کرنا ہو گا کہ اسے کسی خاندان کی خواہش کے تحت نہیں بلکہ آئین کے مطابق کام کرنا ہے۔ جس وقت ادارے متحرک اور موثر ہونا شروع ہو جائے گے اسی وقت ریاست بھی منظم ہونا شروع ہوجائے گی اور یہی پاکستانی ریاست کا فلاحی ریاست کی طرف پہلا قدم ہو گا۔

فلاحی ریاست کا خواب تیسری دنیا کا پسندیدہ خواب ہے۔یہ ایک ایسا خواب ہے جس کی تعبیر انتہائی مشکل ہے۔تیسری دنیا کے حکمران یہ خواب اپنی عوام کو دیکھاتے تو ہیں مگر اس کی تعبیر خود ان کے لیے تباہی اور زوال کا سبب بن سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایسے ممالک میں طرزِ حکمرانی کی بنیاد جھوٹ اور فریب پر ہوتی ہے اور حکمران اپنے عوام کو گمراہ کرنے کے لیے حقائق کو مسخ کر کے ان کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ کوئی بھی ریاست ا س وقت تک فلاحی ریاست میں تبدیل نہیں ہو سکتی جب تک وہاں آئین اور قانون کی بالادستی قائم نہ ہو۔اگر تیسری دنیا کے ممالک پر ایک نظر ڈالی جائے تو وہاں بادشاہت اور آمرانہ طرزِ حکمرانی دیکھنے کو ملے گی۔اس طرح کے جن ملکوں میں جمہوریت رائج ہے وہاں بھی جمہوریت کی آڑ میں ملوکیت کا راج ہوگا۔قانون اور آئین کا نفاذ صرف مخالفین اور کمزوروں کے لیے ہو گا۔پاکستانی ریاست کا حال بھی کوئی مختلف نہیں ہے یہ ریاست بھی فلاحی ریاست کی منزل سے کوسوں دور ہے۔یہاں پر بھی قائم جمہوریت در حقیقت مخصوص سرمایہ دار خاندانوں کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے ہے ۔ادارے انہی خاندانوں کے مفادات کا تحفظ کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ یہاں آئین اور قانون کی بالادستی کا عمل ایک خواب ہی رہا ہے۔28جولائی سن 2107کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے فیصلے سے امید کی ایک کرن ضرور پیدا ہوئی ہے کہ اب اس ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی قائم ہوگی۔

گزشتہ صدی میں ملکی اور عالمی سیاست رہنماؤں کے ہاتھوں میں تھی۔یہی رہنماء ملکوں اور دنیا کی تقدیر کا فیصلہ کرتے تھے۔مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب اس نئی صدی میں دنیا بھر میں ادارے مضبوط ہوتے چلے گے اور معاملات شخصیات کے ہاتھوں سے نکل کر اداروں کے ہاتھوں میں آگئے۔ادارے صرف ان ہی ملکوں میں مضبوط ہوتے ہیں جہاں آئین اور قانون کی حکمرانی ہو۔ پاکستان میں یہ تبدیلی اب آ رہی ہے۔سپریم کورٹ کی طرف سے نواز شریف کا نااہل ہونا اس تبدیلی کی شروعات ہے۔نواز شریف اور ان کا خاندان ایک طویل عرصہ سے یہاں حکمرانی کر رہا ہے۔ان کے کاروبار اور روپے پیسے پر سوال کرنا ہر پاکستانی کا بنیادی حق ہے۔مگر یہ سوال کہاں کیا جائے یہ کسی کو معلوم نہیں تھا۔نیب اور ایف آئی اے جیسے تحقیقاتی ادارے ان کے خلاف کام کرنے سے ہچکچاتے تھے۔جب پانامہ پیپرز کا معاملہ سامنے آیا تو سب سے پہلے تحریکِ انصاف نے نواز شریف کے خلاف ریفرنس سپیکر قومی اسمبلی کے پاس بھیجا۔سپیکر نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا اور ریفرنس پر مزید کاروائی کرنے کی بجائے اسے مسترد کر دیا۔نیب اور ایف آئی اے نے بھی پانامہ پیپرز پر کاروائی سے اجتناب کیا۔ادارے آئین اور قانون کی بجائے شخصیت کے حکم کے پابند تھے۔جب ادارے کام نہ کر رہے ہوں تو عملی طور پر ریاست ناکام ہو چکی ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں مارشل لاء کا جواز پیدا ہو جاتا ہے۔سپریم کورٹ نے184کے تحت پانامہ پیپرز مقدمے پر کاروائی شروع کر کے مارشل لاء کا راستہ روکا ہے۔جو سیاستدان اور جمہوریت کے علمبردار سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں آج ان کی سیاست اور جمہوریت اسی سپریم کورٹ کی بدولت باقی ہے۔ سپریم کورٹ 184کے تحت تب ہی کاروائی کرتی ہے جب ریاست کے تمام ادارے مفلوج ہو چکے ہوں۔پانامہ پیپرز مقدمے میں سپریم کورٹ نے ماضی کے نظریہ ضرورت کو ایک طرف رکھتے ہوئے صرف اپنے ادارے کے کردار اور آئین و قانون کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فیصلہ دیا ہے۔سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں ہے۔اسی لیے معزز عدالت نے کرپشن کے تمام مقدمات نیب کے ذریعے نیب عدالت کو منتقل کرنے کے احکامات صادر فرمائے ہیں۔اگر سپیکر کا دفتر اور الیکشن کمیشن آرٹیکل 62اور63پر اپنا کردار ادا کرتا تو سپریم کورٹ از خود اس پر اپنا فیصلہ نہ سناتی۔اداروں کی سُستی،نااہلی اور کمزوری نے سپریم کورٹ کو متحرک کیا۔احتساب کرنا حکومت اور اداروں کو کام ہے جب حکومت اور ادارے اپنا کام نہیں کرے گے ریاست کو بچانے کے لیے عدالت کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔

جو ادارے اب تک طاقتور شخصیات اور حکمرانوں کے زیرِ اثر تھے ان میں اب تبدیلی کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔نیب کو اب معلوم ہے کہ وہ اب سپریم کورٹ کے ایک جج کے سامنے جوابدہ ہے۔ملوکیت اور شہنشاہیت کا دور ختم ہونے کو ہے۔آئین اورقانون کی بالادستی کے دن شروع ہو چکے ہیں۔اب اداروں کو اپنی اس طاقت اور قوت کا بھی اندازہ ہو گاجو آئین اور قانون نے انہیں دے رکھی ہے۔ پارلیمنٹ کو بھی احساس کرنا ہو گا کہ اسے کسی خاندان کی خواہش کے تحت نہیں بلکہ آئین کے مطابق کام کرنا ہے۔ جس وقت ادارے متحرک اور موثر ہونا شروع ہو جائے گے اسی وقت ریاست بھی منظم ہونا شروع ہوجائے گی اور یہی پاکستانی ریاست کا فلاحی ریاست کی طرف پہلا قدم ہو گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: hur saqlain

Read More Articles by hur saqlain: 77 Articles with 36972 views »
i am columnist and write on national and international issues... View More
01 Aug, 2017 Views: 342

Comments

آپ کی رائے