لازوال قسط نمبر 14

(Muhammad Shoaib, Faisalabad)

مجھے اپنا حصہ چاہئے۔۔‘‘ناشتے کی میز پر انمول نے برجستہ کہا تو رضیہ بیگم اور علی عظمت کے ہاتھ رک گئے۔ رات جو قیامت ٹوٹی تھی ابھی اس کا ازالہ بھی نہ ہوا تھا کہ اس نے ایک اور قیامت توڑ ڈالی تھی
’’ انمول۔۔ تم جانتے بھی ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟‘‘رضیہ بیگم نے تصدیق چاہی تھی
’’ جی میں جانتا ہوں۔۔‘‘ اس نے سرسری طور پر کہا
’’تمہیں ایک پائی بھی نہیں ملے گی سمجھے تم۔۔‘‘ علی عظمت نے کرخت لہجے میں سنا دیا۔ یہ سنتے ہی انمول نے عقابی نظروں سے علی عظمت کی طرف دیکھا مگر پھر اپنے آپ کو کنٹرول کرتے ہوئے گویا ہوا
’’ دیکھئے۔۔ میں صرف اپنا حصہ مانگ رہا ہوں۔۔ یہ تو نہیں کہہ رہا کہ آپ اپنی ساری پراپرٹی میرے نام کریں۔۔ جو کچھ میرا ہے ۔ بس وہ مجھے دے دیں۔۔۔‘‘اس نے بناوٹی انداز میں کہا تھا
’’سنا نہیں تم نے؟کیا کہا میں نے کہ تمہیں۔۔۔‘‘ علی عظمت نے ابھی اپنا جملہ بھی مکمل نہیں کیا تھا کہ رضیہ بیگم نے مداخلت کی
’’ ٹھیک ہے ہم تمہیں نہ صرف تمہارا حصہ دیں گے بلکہ ساری پراپرٹی بھی تمہارے نام کر دیں گے ۔۔‘‘ پرسکون لہجے میں رضیہ بیگم نے کہا تھا۔ یہ سن کر علی عظمت برہم ہوگئے
’’ بیگم۔۔ آپ جانتی بھی ہیں کہ کیا کہہ رہی ہیں؟‘‘انہوں نے جبڑے بھینچتے ہوئے تنبیہہ کی تھی
’’جی ہاں۔۔ میں جانتی ہوں کہ میں کیا کہ رہی ہوں۔۔‘‘ انہوں نے علی عظمت کے سوال کا جواب انتہائی پرسکون انداز میں دیا اور ایک بار پھر اپنی نگاہیں انمول پر مبذول کیں
’’آپ سچ کہہ رہی ہیں امی؟؟‘‘ وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا۔اٹھ کر رضیہ بیگم کے قدمو ں میں آبیٹھا۔ عندلیب جو ابھی ابھی وہاں آئی تھی۔ یہ سن کر شاطرانہ ہنسی اس کے چہرے پر ابھر آئی
’’مگر ایک شرط ہے۔۔‘‘انہوں نے نظریں پھیرتے ہوئے کہا
’’شرط؟ کون سی شرط؟‘‘انمول کے دل میں کھٹکا سا ہوا تھا۔ اس نے استفہامیہ انداز میں رضیہ بیگم کی طرف دیکھا تھا۔علی عظمت بھی یک ٹک رضیہ بیگم کی طرف دیکھتے جا رہے تھے
’’ہم یہ ساری پراپرٹی تمہاری بیوی کے نام کر دیں گے۔۔۔‘‘ ادھوری بات سن کر عندلیب کے چہرے پر ایک بہار امڈ آئی۔ جو پہلے ٹی وی لاؤنج میں کھڑی سب کی باتیں سن رہی تھی ۔فوراً ڈائینگ ٹیبل کی طرف لپکی
’’ آپ سچ کہہ رہی ہیں؟‘‘خوشی سے اس نے کہا تھا۔ انمول بھی فوراً کھڑا ہوا
’’ میں ناں کہتا تھا کہ سب تم سے کتنا پیار کرتے ہیں۔۔ تم بس ایسے ہی شک کر تی تھی۔۔‘‘ انمول نے عندلیب سے کہا تھا
’’رضیہ بیگم آپ ہوش میں تو ہیں؟؟‘‘علی عظمت نے کراخت لہجے میں کہا تھا
’’ جی۔۔۔میں ہوش میں بھی ہوں اور یہ بھی جانتی ہوں کہ کیا کہہ رہی ہوں۔۔۔‘‘انہوں نے ایک بار پھر اپنے کہے گئے الفاظ دہرائے تھے۔
’’ تو پھرآپ کب کر رہی ہیں میرے نام ساری پراپرٹی؟‘‘عندلیب نے اپنے جذبات کو قابو میں کرتے ہوئے کہا تھا
’’ میں نے یہ تو نہیں کہا کہ میں پراپرٹی تمہارے نام کررہی ہوں۔۔‘‘رضیہ بیگم نے اپنے الفاظ کی وضاحت کی۔ سب استفہامیہ انداز میں رضیہ بیگم کی طرف دیکھ رہے تھے
’’ لیکن ابھی تو کہا آپ نے کہ آپ ساری پراپرٹی میری بیوی کے نام کر دیں گی۔۔‘‘ انمو ل نے ان کے کہے گئے الفاظ دہرائے
’’ ہاں میں نے یہ کہا تھا۔۔‘‘
’’ تو عندلیب میری بیوی ہے۔۔۔‘‘
’’تو بیوی تو دوسری بھی ہو سکتی ہے۔۔‘‘ رضیہ بیگم نے ناشتہ کے برتن سمیٹتے ہوئے بے نیازی سے کہا
’’ دوسری بیوی سے کیا مطلب ہے آپ کو؟‘‘ عندلیب تیکھی نظروں سے رضیہ بیگم کی طرف دیکھنے لگی
’’مطلب یہ ہے کہ میں ساری پراپرٹی تمہاری بیوی کے نام کردونگی اگر تم دوسری شادی کرلو گے تو۔۔‘‘ انہوں سے سپاٹ لہجے میں کہا
’’ کس سے؟‘‘ انمول کی آواز میں لڑکھڑاہٹ تھی
’’ حجاب سے۔۔۔‘‘یہ کہہ کر وہ کچن میں چلی گئیں۔ علی عظمت کے چہرے پر جو حیرانی تھی اب غائب ہوتی دیکھائی دی۔ وہ اچھی طرح سمجھ گئے تھے کہ رضیہ بیگم کیا کرنا چاہتی ہیں۔
’’آپ نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ میں اُس حجاب سے شادی کروں گا۔۔ جس کو میں نے ٹھکرایا اس سے۔۔۔اس سانولے رنگ والی سے۔۔۔ ایسا کبھی سوچنا بھی مت۔۔۔‘‘وہ تہذیت کے دائرے سے نکل کر ان کے سامنے جھلا کر بول رہا تھا
’’ جو میں نے کہنا تھا سو کہہ دیا۔۔۔اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔ اگر پراپرٹی میں حصہ چاہتے ہوتو حجاب سے شادی کر لو ورنہ سب کچھ بھول جاؤ۔۔‘‘ٹیبل سے برتن سمیٹ کر ایک بار پھر وہ کچن میں چلی گئیں۔علی عظمت بھی بنا کچھ کہے اپنے کمرے کی طر ف چل دئیے۔ وہ جل بھن کر دونوں کو دیکھتا رہا
’’میں اُس سے شادی کسی قیمت پر نہیں کرنے والا۔۔‘‘وہ چلاتا رہا مگر عندلیب کے سوا کوئی نہیں سن رہا تھامگر وہ بھی کب تک سنتی۔ پاؤں پٹختی ہوئی اپنے کمرے کی طرف چل دی۔ انمول تنہا کھڑا دہکتی آنکھوں سے چیزوں کوگھورتا جا رہا تھا۔ بس نہیں چل رہا تھا ورنہ ہر شے کو جلا ڈالتا
* * * *
’’ یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ؟ لیکن۔۔۔۔ چلیں آپ فکر مت کریں۔ انشاء اللہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے فون کریڈل پر رکھ دیا اور سر پکڑ کر ایک سوچ میں ڈوپ گئی
’’ کس کا فون تھا بیٹا؟‘‘شفگتہ بی بی اس کے سامنے آکر صوفے پر بیٹھی گئیں۔
’’امی کا فون تھا کہہ رہی تھیں کہ انمول نے پراپرٹی میں حصہ مانگا ہے اور گھر چھوڑ کر جانے کی دھمکی دی ہے۔۔‘‘ انہوں سے ساری بات سے آگاہ کردیا جو اس کے اور رضیہ بیگم کے درمیان ہوئی تھی
’’ پتا نہیں آج کل کے بچوں کو کیا ہوگیا ہے؟کس ڈگر پر چل پڑے ہیں۔ چلنا سیکھتے نہیں کہ جائیداد میں اپنا حصہ مانگا شروع کر دیتے ہیں۔۔‘‘ ان کا اشارہ جس کی طرف تھا وجیہہ فوراً سمجھ گئی
’’ امی آپ کیوں فکر مند ہورہی ہیں۔۔یہاں تو سب ٹھیک ہورہا ہے ناں۔۔‘‘ اپنی جگہ سے اتھ کر وجیہہ ان کے ساتھ بیٹھ گئی اور ان کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر انہیں حوصلہ دیتے ہوئے کہا
’’یہ سب دین سے دوری ہے کا نتیجہ ہے۔اگر کچھ دین سیکھ جائیں آج کے بچے تو والدین کے سامنے یوں شرطیں نہ رکھیں ۔ ان کے سامنے یوں زبان درازی مت کریں مگر دنیا کی رنگینیوں نے آج کل کے بچو ں کو اس قدر لپیٹ میں لے لیا ہے کہ وہ اپنے سے بڑوں کا دب کرنا ہی بھول گئے ہیں۔۔‘‘فکرمندی ان کے لہجے سے عیاں تھی
’’ امی آپ کہہ تو سب ٹھیک رہی ہیں لیکن کہتے ہیں اللہ کے خزانوں میں دیر ضرور ہے مگر اندھیر نہیں۔۔اللہ سب کی دعاؤں کو سنتا ہے کچھ تو اسی وقت قبولیت کا درجہ پالیتی ہیں اور کچھ بعد میں قبول ہوتی ہیں۔۔دیکھنا وہ دن دور نہیں جب دین دونوں کے دل پر دستک دے گا۔۔‘‘اس نے امید کی ایک کرن باندھی تھی جو وہ ہمیشہ باندھتی آئی تھی جو اس کی دادی نے باندھنا سیکھائی تھی
’’ بیٹی! کبھی اللہ کی ذات نے ناامید مت ہونا!اللہ کی رحمت سے نا امید صرف کافر ہی ہوا کرتے ہیں۔۔‘‘
’’ لیکن دادی اگر ہماری دعا قبول نہ ہو تو؟‘‘
’’ بیٹی!دعا قبول ضرور ہوتی ہے کبھی فوراً ہوجاتی تو کبھی تاخیر سے۔۔۔لیکن بیٹی یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا دعا قبول ضرور ہوتی ہے۔‘‘
’’ لیکن دادی اگر کبھی بھی پوری نہ ہو تو۔۔۔‘‘
’’ بیٹی ایسا کبھی نہیں ہوتا۔۔ انسان جب بھی اللہ سے مانگتا ہے وہ ضرور دیتا ہے ۔ ہاں یہ بات الگ ہے ہم بعض اوقات اپنی نادانی میں ایسی چیزیں مانگ لیتے ہیں جو ہمارے لئے بہتر نہیں ہوتا لیکن ہم نہیں سمجھتے اور رب سے بار بار مانگتے رہتے ہیں تو اللہ تعالی ایسی دعاؤں کے بدلے ہمیں نیکیاں عطا کر دیتا ہے۔اگرچہ ہمیں من پسندشے تو نہیں ملتی مگر اس من پسند شے کے احسن شے ضرور مل جاتی ہے‘‘
’’ یعنی دعا کے بدلے ہمیشہ کچھ نہ کچھ ملتا ضرور ہے؟‘‘
’’ بالکل بیٹی!خدا کی ذات بڑی رحیم و کریم ہے ۔ وہ جب نہ مانگنے کے باوجود ہمیں نوازتا رہتا ہے پھر خود سوچو جب اس سے مانگا جائے تو کیا وہ نہیں نوازے گا؟وہ ضرور نوازے گا بس ہماری فہم اتنی نہیں ہے کہ ہم اس کی نعمتوں کا شمار کر سکیں۔۔‘‘
’’کیا ہوا؟‘‘ وجیہہ کو خیالوں میں گم دیکھ کر شگفتہ بی بی نے کہا تھا
’’کچھ نہیں۔۔ بس دادی جان کی باتیں یا دآگئی تھیں‘‘خیالوں کو جھٹکتے ہوئے کہا
’’لگتا ہے تم اپنی دادی سے بہت پیار کرتی ہو۔۔‘‘
’’ بالکل ۔۔ بہت پیار کرتی ہو ں میں اپنی دادی سے۔۔ اور کروں بھی کیوں ناں؟آخر آج میں جو کچھ بھی ہوں انہی کی وجہ سے تو ہوں۔۔‘‘ اس نے بڑے مان سے کہا تھا
’’اللہ اجر عظیم عطا کرے تمہاری دادی کو۔۔۔‘‘
’’آمین۔۔‘‘
٭ ٭ ٭
’’ویسے میں نے ایک فیصلہ کیا ہے۔۔‘‘کافی دیر سے عندلیب انمول سے بات کرنے کا سوچ رہی تھی مگر ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی مگر اب جب وہ کافی دیر سے خاموش بیٹھا رہا تو اس نے دانستہ کہا
’’فیصلہ ؟ کیسا فیصلہ؟‘‘ انمول نے چونک کر اس کی طرف دیکھا جو چہرے پر سنجیدگی سموئے اس کی طرف دیکھ رہی تھی
’’یہ کہ تم یہ شادی کر لو۔۔۔‘‘وہ اٹھ کر اس کے پا س آکر بیٹھ گئی
’’ تم پاگل تو نہیں ہوگئی عندلیب۔۔۔؟میں اُس لڑکی سے شادی کروں جو مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتی اور پھر تم مجھ سے یہ کہہ بھی کیسے سکتی ہو؟ تم اچھی طرح جانتی ہو کہ میں تم سے پیار کرتا ہوں ۔۔‘‘وہ جھلاتے ہوئے کھڑا ہوگیا
’’انمول۔۔ میں جانتی ہوں۔۔ مگر حالات کو سمجھنے کی کوشش کرو۔۔۔‘‘وہ اس کو شانت کروانے کی ناکام کوشش کرنے لگی
’’سمجھنے کی تم کوشش کرو عندلیب۔۔‘‘ اس نے غصے میں کہا تھا
’’ میری بات ٹھنڈے دماغ سے سنو پھر اس کے بارے میں سوچنا ۔۔‘‘ اس نے انمول کے کندھوں پر ہاتھ رکھے تو اس نے بے رخی دیکھاتے ہوئے جھٹک دیئے
’’مجھے کوئی بات نہیں کرنی اس بارے میں۔۔‘‘ اس نے واضح طور پر کہہ دیا
’’لیکن مجھے کرنی ہے۔۔اور تمہیں سننا بھی ہوگی۔۔‘‘ اس کا چہر ہ اپنی طرف کیا
’’ ہنہ۔۔‘‘ اس نے گردن جھٹک کر پیچھے کرنا چاہی مگر عندلیب نے ایک بار پھر اس کا چہرہ اپنی طرف کیا
’’ انمول ۔۔ میری بات سنو۔۔تم یہ شادی کرو۔۔ ‘‘ اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی انمول نے مداخلت کی
’’لیکن میں اس کو بیوی کا درجہ نہیں دے سکتا۔۔‘‘ اس نے سپاٹ لہجے میں کہا
’’تو تم کو کہہ کون رہا ہے کہ تم اسے بیوی کا درجہ دو۔۔‘‘اس نے شاطرانہ انداز میں کہا تھا
’’کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘وہ اس کی بات کا مطلب نہیں سمجھ سکا
’’مطلب یہ ہے کہ تم اس سے صرف شادی کرو گے اور وہ بھی صرف پراپرٹی کے لئے ۔ ایک بار اس لڑکی سے پراپرٹی اپنے نام کر لینا اس کے بعد جو دل میں آئے وہ کرنا چاہے تو اسے اپنی زندگی سے نکال پھینکنا۔۔ سمجھے۔۔‘‘یہ کہتے ہوئے اس کے چہرے پر ایک شاطرانہ ہنسی تھی۔ اس کا پلان انمول کے دل بھا گیا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اس شادی کے لئے تیار ہوگیا
’’ بس ۔۔ اب تم یہ بات جا کر اپنے امی ابو کو کہہ دو۔۔‘‘
’’ بالکل۔۔‘‘ اس نے پیار سے عندلیب کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور اس کے ماتھے پر اپنے لب نقش کئے
٭ ٭ ٭
’’ ویسے اب تم بدلتے جا رہے ہو ضرغام۔۔‘‘ لازوال کے سیٹ سے وہ دونوں ایک ساتھ لوٹ رہے تھے
’’میں؟ بدل رہا ہوں؟‘‘ اس نے حیرت سے کندھے اچکائے تھے
’’ہاں۔۔ تم ۔۔تم پہلے والے ضرغام نہیں رہے۔۔‘‘ اس نے کار سے باہر دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ رات کا سناٹا اپنے اندر ایک عجیب سے کشش سمائے ہوئے تھے۔ اس نے شیشہ نیچے کرکے اس آواز کو سننے کی کوشش کی
’’تمہیں کس نے کہا یہ۔۔‘‘اس کا انداز استفہامیہ تھا۔ وہ داہنی کہنی کھڑکی پر رکھے ہوئے کار ڈرائیو کر رہا تھا
’’میں نے خود محسوس کیا ہے۔۔‘‘
’’اچھا جی وہ کیسے؟‘‘ وہ تو جیسے جان بوجھ کر انجان بن رہا تھا
’’اب یہ ایکٹنگ کرنا بند کرو۔۔۔میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ تم اس لڑکی کے ساتھ کچھ زیادہ ہی فری ہونے کی کوشش کر رہے ہو۔۔‘‘اس نے اپنا چہرہ ضرغام کی طرف کیا جو بنا اس کی طرف دیکھے اپنی توجہ آگے راستے پر مرکوز کئے ہوئے تھا۔
’’کون سی لڑکی؟ کس کے ساتھ فری ہونے کی کوشش کررہا ہوں۔۔ صاف صاف کہو جو کہنا چاہتی ہو۔۔‘‘ وہ انجان بن رہا تھا یا پھر وہ واقعی انجان تھا۔ عنایہ ایک پل کے لئے کچھ سمجھ نہ سکی
’’ضرغام۔۔بریک لگاؤ۔۔‘‘
’’بریک۔؟؟‘‘ اس نے کار کی سپیڈ آہستہ کرتے ہوئے اس کی طرف دیکھا تھا جو انتہائی سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی
’’ہاں بریک۔۔۔ لگاؤ۔۔‘‘اس نے سپاٹ لہجے میں کہا تو ضرغام نے ایک جھٹکے سے کار روک دی۔عنایہ کا سر آگے کی جانب جھکا مگر اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے وہ کار کا دروازہ کھول کر باہر آگئی
’’ عنایہ۔۔!!‘‘منہ بنا کر وہ بھی اپنی سیٹ بیلٹ کھولنے لگا اور پھر دروازہ کھول کر وہ بھی باہر آگیا
’’کیا ہوا؟ تم نے یہاں اتنی سنسان جگہ پر کار کیوں رکوائی؟‘‘وہ اس کے پیچھے پیچھے سڑک کے کنارے پر آگیا۔ رات کا اندھیرا ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا۔ سڑک کے ساتھ ساتھ بوہڑ کے خزاں رسیدہ درخت بھی خواب خرگوش کا مزہ لے رہے تھے مگر ہوا کی سرگوشیاں ان کے پتوں میں ایک سرسراہٹ پیدا کر دیتی۔
’’تم اُس لڑکی کو کب چھوڑ رہے ہو؟‘‘اس نے تمہید باندھے بنا اصل بات کہی
’’کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘وہ عنایہ کی بات کا مقصد نہیں سمجھا تھا
’’مطلب صاف ہے ضرغام۔۔ تم نے جس مقصد کے لئے اس لڑکی سے شادی کی تھی وہ تو پورا ہوگیا ناں۔ پراپرٹی تو تمہارے نام ہوگئی پھر اب کیوں تم اس لڑکی کے ساتھ رہ رہے ہو؟‘‘ ٹھنڈی میٹھی ہواچل رہی تھی۔ ٹڈیوں کے آوازیں پورے ماحول میں گونج رہی تھیں۔
’’لیکن ابھی ساری پراپرٹی نہیں ہوئی۔ براق گروپ آف کالجز کے تمام کاغذات وجیہہ کے نام ہیں‘‘ہوا کے چلنے سے اس کی شرٹ بھی لہرا رہی تھی۔اس کے بال بھی ہوا کے پروں پر سوار ہونے کی ناکام کوشش کر رہے تھے
’’ تو کب کرواؤ گے تم اپنے نام۔۔؟‘‘ اس نے آنکھوں کے سامنے رکاوٹ بنتی زلفوں کو سمیٹتے ہوئے کہا پوچھا تھا
’’بہت جلد۔۔۔‘‘
’’ بہت جلد کب؟ اور کتنا وقت چاہئے تمہیں؟ ‘‘
’’بس کچھ وقت اور۔۔۔‘‘اس نے آنکھیں چر ا کر جواب دیا تھا
’’ابھی بھی وقت چاہئے تمہیں۔۔۔ ضرغام وقت انہیں دیا جاتا ہے جن کے لئے دل میں جگہ ہو۔۔‘‘ اس نے اپنے ہاتھ اس کے شانوں پر رکھ کر اس کا چہرہ اپنی طرف کیا
’’ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ تمہارے دل میں؟؟‘‘استفہامیہ انداز میں اس نے کہا تھا
’’ عنایہ۔۔تم غلط سوچ رہی ہو۔۔‘‘ کندھے اچکاتے ہوئے اس کے ہاتھ جھٹک دئیے
’’میں غلط سوچ رہی ہوں تو تم ہی بتاؤ کہ سچ کیا ہے؟ کیوں تم اس کو چھوڑنا نہیں چاہتے؟ کیوں تم اسے اپنی زندگی سے نکالنے میں اتنی دیر کر رہے ہو؟‘‘ وہ جھلاتے ہوئے اس کی آنکھوں کے سامنے آئی تھی
’’میں خود نہیں جانتاعنایہ کہ میں ایسا کیوں کر رہا ہوں۔۔جب جب وہ لڑکی میرے سامنے آتی ہے تو میرے دل میں نہ جانے کیا ہونے لگتا ہے ۔دل پگھلنے سا لگ جاتا ہے۔ اس کی صورت کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے میں اس کے ساتھ ظلم کرنے جا رہا ہوں ۔میرے لب وہیں خاموش ہوجاتے ہیں۔اس کی معصومیت، اس کا لبادہ مجھے کچھ بولنے ہی نہیں دیتا۔میں خود کچھ نہیں جانتاعنایہ۔۔۔ یقین مانو۔۔‘‘ اس نے اپنے دونوں ہاتھ اس بار عنایہ کے کندھوں پر رکھے
’’ میں خود اسے چھوڑنا چاہتا ہوں مگر جب جب اسے دیکھتا ہوں تو میرے سارے ارادے پر پانی پھر جاتا ہے۔میں اس کے سامنے کمزور پڑنے لگ جاتا ہوں۔۔ اب تم ہی بتاؤ میں کیا کروں؟‘‘وہ معصومیت کے ساتھ اپنا حال دل اس کے سامنے رکھ رہا تھا جواس احساس سے بخوبی واقف تھی ۔
’’اس کا مطلب ہے تم اپنی منزل کو پانے سے پہلے ہی کھونا چاہتے ہو۔۔‘‘اس نے کندھے جھٹکتے ہوئے کہا
’’نہیں عنایہ۔۔ میں منزل پانا چاہتا ہوں ۔ اس لئے تو تمہارے ساتھ ہوں۔۔‘‘اس نے دونوں ہاتھوں سے عنایہ کا ہاتھ تھاما تھا
’’پھر میرے ساتھ ہوتے ہوئے بھی میرے پاس کیوں نہیں ہو؟‘‘وہ بات جو ہمیشہ اس کے دل میں رہتی تھی۔ جو وہ زیر لب کہتی تھی آج اعتراف کر رہی تھی
’’میں خود تمہارے پاس آنا چاہتا ہوں مگر جب جب میں تمہارے پاس آنے کی کوشش کرتا ہوں میری اندر کچھ ہونے لگتا ہے ۔ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی میرا سانس روکے ہوئے ہے۔ میرا دم گھٹنے لگتا ہے۔‘‘وہ معصومیت کے ساتھ اس کو کہہ رہا تھا
’’یہ جھوٹ ہے۔۔ سچ تو یہ ہے کہ تم نے میرا صرف استعمال کیا ہے اور کچھ نہیں۔۔۔‘‘بڑی مکاری کے ساتھ وہ پیچھے کو ہٹ گئی۔
’’نہیں عنایہ۔۔۔میں سچ میں تمہارے پاس آنا چاہتا ہوں۔۔مگر ایک اوٹ ہمیشہ مجھے روکے رکھتی ہے وہ اوٹ کیا ہے؟ کیوں روکتی ہے میں خود نہیں جانتا۔۔۔‘‘
’’اچھا تم میرے پاس نہیں آسکتے تو کم سے کم اسے تو اپنی زندگی سے نکال سکتے ہو ناں۔۔تم جانتے نہیں ہو جب بھی میں تمہیں اس لڑکی کے ساتھ دیکھتی ہوں ناں میرے اندر کچھ ہونے لگتا ہے۔ دل چاہتا ہے کہ ان سب چیزوں کو آگ لگادوں جو تمہیں مجھ سے الگ کئے ہوئے ہیں۔ میں تمہیں اپنے علاوہ کسی اور کا نہیں دیکھ سکتی ضرغام۔۔۔‘‘ٹسوے بہاتے ہوئے اس نے گلوگیر لہجے میں کہا تھا
’’ عنایہ۔۔ اس میںآنسو بہانے کی کیا بات ہے؟ ادھر دیکھو۔۔‘‘ اپنی طرف اس کا چہرہ کرتے ہوئے کہا
’’ میں تمہیں کبھی اکیلانہیں چھوڑوں گا۔۔ کبھی نہیں۔۔‘‘ اپنے دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ لیتے ہوئے کہا ۔ آسمان نے اچانک رنگ بدل لیا۔ہواؤں کا انداز بدل گیا۔ کچھ دیر پہلے جو ہوا محبت کے گیت گا رہی تھی ۔ اب اس میں شور کے علاوہ کچھ نہ تھا
’’وعدہ۔۔!!‘‘پیار سے اس کے ہاتھوں کو بوسہ دیتے ہوئے اس نے تصدیق چاہی تھی۔ سیاہ رات میں سیاہ بادل کب چھا گئے؟ باتوں میں انہیں علم ہی نہ ہوا۔ گرج کی آواز زوروں پر تھی۔ خواب خرگوش کا مزہ لیتے بوہڑ کے درخت بھی بیدار ہوکر جھومنے لگ گئے۔
’’ وعدہ۔۔۔‘‘ اس نے اثبات میں سر ہلایا تو آسمان نے آنسو بہانا شروع کر دئیے۔ اس سے پہلے عنایہ اپنے جال میں ضرغام کو مزید پھانستی مینہ نے مخل کیا۔
’’ چلو جلدی کار میں۔۔۔‘‘ٹپ ٹپ مینہ تیز ہوتا گیا۔ ضرغام نے عنایہ کا ہاتھ چھوڑ کر کار کا دروازہ کھولاتو عنایہ بھی منہ بنا کر کار میں آبیٹھی۔ ایک نظر ضرغام نے آسمان کی طرف دیکھا ۔ جہاں سے ٹپ ٹپ بوندیں گرتی جا رہی تھیں۔ اس کے بال لمحہ بھر میں بھیگ گئے۔ اس نے ایک ادا سے بالوں کو جھٹکا اور پھر کار میں جا بیٹھا
٭ ٭ ٭
انمول نے حجاب سے نکاح کے لئے ہامی بھری تو رضیہ بیگم اور علی عظمت کی زندگی میں جیسے ایک بہار آگئی اور حجاب اس کی تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔اس کی تو دیرینہ خواہش تکمیل ہونے کو تھی۔ بچپن سے ہی انمول کے ساتھ زندگی گزارنے کا سپناآج حقیقت بننے جا رہا تھا۔ایک ماہ کے بعد کی تاریخ طے کی گئی۔رضیہ بیگم اور علی عظمت نے اپنے سار ے ارمان جو انہوں نے انمول کی شادی کے لئے دیکھے تھے۔حجاب جے ساتھ نکاح میں پورے کئے۔
’’پھپو۔۔ اتنا کچھ رہنے دیں۔۔‘‘ ایک سے بڑھ کر ایک ڈریس رضیہ بیگم حجاب کے لئے سیلیکٹ کر رہی تھیں
’’اتناکچھ؟ یہ تمہیں اتنا لگتا ہے ؟ گنتی کے دس گیارہ تو سوٹ ہیں۔۔۔‘‘
’’ پھپو ۔۔ دس گیارہ کم ہیں کیا؟پہننا تو ایک وقت میں ایک ہی ہوتاہے۔۔‘‘ اس نے مؤدبانہ کہا تھا
’’لیکن دلہن کا صرف ایک سوٹ ہو ۔۔ ایسا کوئی چلتا ہے۔ تم بس آرام سے بیٹھو اور جو پسند ہو مجھے بتاؤ ۔۔‘‘ اس کو ہمیشہ خاموش کروا دیتیں۔ عندلیب یہ دیکھ دیکھ کر جلتی رہتی
’’ اس گھر کی پہلی بہو تو میں ہوں۔۔ آپ نے میرے ساتھ اتنا لاڈ تو نہیں کیا۔۔‘‘جلتے کڑہتے وہ کہتی
’’بہو وہ ہوتی ہے جو بڑوں کی پسند کی ہو۔۔۔ زبردستی کی بہو ہم نہیں مانتے۔۔‘‘ رضیہ بیگم سپاٹ لہجے میں کہتیں تو پاؤں پٹختی وہاں سے چلی جاتی
’’پھپو۔۔آپ کو ایسے بات نہیں کرنی چاہئے تھی۔۔‘‘
’’ ایسے لوگوں سے کیسے بات کی جاتی ہے۔ میں اچھی طرح جانتی ہوں۔۔‘‘
’’ لیکن پھپو۔۔۔‘‘ وہ کچھ کہنا چاہتی مگر رضیہ بیگم اس سلسلے میں کوئی بات ہی نہیں کرنا چاہتی تھی
’’یہ تمہاری امی ٹھیک نہیں کر رہی۔۔‘‘کمرے میں جا کر عندلیب انمول سے جلتے ہوئے کہتی
’’ٹھیک نہیں کر رہی ؟ مطلب؟‘‘حیرت سے اس کی طرف دیکھ کر پوچھتا
’’تمہاری امی ساری تر توجہ اس حجاب کو دے رہی ہیں۔۔ میں تو جیسے ان کے لئے کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتی۔ جب دیکھو حجاب یہ دیکھ۔۔ حجاب وہ دیکھو۔۔ حجاب میں تمہارے لئے یہ لائی ہوں۔۔۔ حجاب میں تمہارے لئے وہ لائی ہوں۔۔۔ اور پتا نہیں کیا کیا کچھ۔۔۔‘‘ وہ جل بھن کر رہ جاتی
’’لیکن تمہیں تو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ۔۔‘‘
’’ فرق نہیں پڑتا تھا مگر اب پڑتا ہے۔۔‘‘جھلا کر اس نے کہا
’’مگر کیوں؟‘‘اس کے سامنے سینہ تان کر پوچھا
’’کیونکہ وہ سب کچھ میری سوکن کے لئے یہ سب کچھ کر رہی ہیں۔۔‘‘اس کی بات سن کر وہ ہنس پڑا
’’ اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے؟‘‘ منہ بگاڑ کر پوچھا
’’وہ اس لئے کہ تم اسے ابھی سے جلنے لگ گئی ویسے اگر میں اس کے ساتھ رہنا شروع کر دوں تو۔۔‘‘ اس کو مزید جلاتے ہوئے کہا
’’جسٹ شیٹ اپ۔۔۔ایسا سوچا بھی ناں تو میں تمہاری جان نکال دوں گی۔۔‘‘ اس سے تیکھی نظروں سے جواب دیا
’’ اوہ۔۔ پھر تو لگتا ہے وقت تو گزارنا ہی پڑے گا تمہاری سوکن کے ساتھ۔۔ویسے ہنی مون پر کہاں لے کر جاؤں اس کو۔۔؟‘‘اس کے بالکل پاس آکر کان میں سرگوشی کی تھی
’’جہنم میں۔۔۔‘‘کراخت جواب دیا
’’جہنم میں۔۔۔ لیکن وہاں توپھر میں اور وہ اکیلے ہونگے ۔۔ ‘‘اس نے معنی خیز لہجے میں کہا
’’انمول کے بچے۔۔۔‘‘اس نے ایک گھونسا اس کے پیت میں رسید کیا
’’ہاں۔۔آئیڈیا اچھا ہے میرے اور اُس کے بچوں کا۔۔‘‘پھلجڑی چھوڑ کر وہ بیڈ کی طرف بھاگا
’’انمول۔‘‘ جبڑے بھینچتے ہوئے اس کا تعاقب کیا۔ صوفے سے کشن اٹھاکر انمول پر یکے بعد دیگرے وار کئے۔
’’اچھا اب بس۔۔۔‘‘مگر وہ رکنے والی کہاں تھی۔ ایک کے بعد ایک کشن اٹھا کر پھینکتی رہی اور وہ مسلسل اس کے انداز سے محظوظ ہوتا رہا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ناول ابھی جاری ہے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Shoaib

Read More Articles by Muhammad Shoaib: 64 Articles with 64021 views »
I'm a student of Software Engineering but i also like to write something new. You can give me your precious feedback at my fb page www.facebook.com/Mu.. View More
02 Aug, 2017 Views: 416

Comments

آپ کی رائے