کشمیرکی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ پر پابندی

(Tanveer Awan, Islamabad)

کشمیرکی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ پر پابندی - ایس احمد پیرزادہ
جامع مسجد سرینگر کی بندش اور تحریک آزادی کشمیر
ریاست جموں و کشمیر کے صد رمقام سرینگر کی تاریخی جامع مسجد گزشتہ ڈیڑھ ماہ سےنام نہاد سیکولر غاصب بھارت نے غیر قانونی اور غیر اخلاقی طور پر جبراً بند کی ہوئی ہے ،واضح رہے کہ سری نگر کے پائین شہر میں کرفیو جیسی پابندیوں کے سبب نوہٹہ علاقہ میں واقع تاریخی جامع مسجد میں گذشتہ جمعہ کو مسلسل پانچویں بار نماز جمعہ کی ادائیگی ناممکن بنا دی گئیجب کہ بھارتی حکومت کی جانب سے تاریخی جامع مسجد کے اردگرد کے علاقے کو فوجی چھاونی میں تبدیل کرکے لوگوں کو جامع مسجد کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی اور ایک بار پھر جامع مسجد کے ممبرومحراب سے نہ تواذان گونجی اور نہ ہی نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت دے دی گئی ،جب کہ میر واعظ مولوی عمر فاروق کو مسلسل نظر بند کرکے ان کو مذہبی اور منصبی سرگرمیوںسے روکا گیا ہے ،اس طرح تاریخی اور تحریکی لحاظ سے ریاست جموں و کشمیر کے عوام میں بے حد مقبولیت یہ جامع مسجد ڈوگرہ راج ہو یا قابض بھارتی حکومت اور اس کی طرف سے مقرر کردہ کٹھ پتلی حکومت ،ہر ایک دور میں جامع مسجد سرینگر کے منبر ومحراب سے اٹھنے والی آواز کو دبانے کی مکمل کوشش کی گئی ہے اور اسے اپنے اقتدار کے لیے خطرہ تصور کیا گیا ہے،،بلاشبہ قابض بھارتی افواج نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں گزشتہ سات دہائیوں سےجہاں انسانیت سوز مظالم کا بازار گرم کررکھا ہے وہیں کشمیری مسلمانوں کو ارکان اسلام کی ادائیگی سے روکنا دنیا بھر کے مسلمانوں میں بے چینی اور اضطراب کا باعث ہے ،ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق 2010 میں سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے سب سے پہلے اس تاریخی جامع مسجد کا محاصرہ کیا،اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ اس تاریخی مرکزی جامع مسجد میں مہینوں جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے جن کہ دوسری جانب منصوبہ بندی کے تحت آج کل امرناتھ یاترا کے نام پر دو ماہ کے لیے لاکھوں ہندووں کو کشمیر لایا جاتا ہے اورہر گزرتے دن کے ساتھ وادی میں جموں سے سرینگر، بٹوٹ سے کشتواڑ، بھدواہ، جموں سے راجوری تک مندروں کی تعداد میں تدریجا اضافہ کیا جا رہاہے جب کہ اس کے برعکس مسلمانوں کی آباد مساجد پر تالے چڑھا کر اُنہیں مذہبی فریضے کی انجام آوری سے روکنا بھارت کے مکروہ عزائم کو واضح کرتا ہے،یاد رہے کہ ہندوستان بزعم خود سیکولراورسب سے بڑی جمہوری اسٹیٹ ہونے کا دعویدار ہے اوراس ملک میں کروڑوں مسلمان بستے ہیں،ا س پس منظر میں بھارت کا کشمیری مسلمانوں کو ان کا حق رائے سے ظلم وجبر کے ذریعے روکنا اور دیگر کئی انسانی حقوق سےمحروم رکھتے ہوئے ان سے ان کا مذہبی اور دینی حق بھی چھیننا ،جہاں اقوام عالم اور اسلامی دنیا کے کردار پر سوالیہ نشان ہے وہیں بھارت کے بار ے میں کشمیری عوام کے غم وغصہ اورنفرت میں اضافہ کررہا ہے،واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات 8 جولائی 2016 کوکشمیری کمانڈر برھان وانی کی شہادت کے بعد یکسر تبدیل ہوئے اور آزادی کی تحریک میں ایک نیا جذبہ پیدا ہوا اوراس وقت سے لے کر اب تک سینکڑوں کشمیری نوجوان شہید اور ہزاروں زخمی اور گرفتار ہوئے،لیکن اب بھارتی مظالم اور مساجد کا محاصرہ اور نظربندیوں و صعوبتوں کے ذریعے کشمیری مسلمانوں کے جذبہ حریت اور آزادی کی تحریک کو نہیں دبایا جا سکتا ہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 207 Articles with 141507 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More
03 Aug, 2017 Views: 356

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ