دو قومی نظریہ

(Ghulam Abbas Siddiqui, Lahore)

 بھارت کی سابق وزیراعظم اندراگاندھی نے سقوط مشرقی پاکستان کا خونی ڈرامہ رچانے کے بعد کہاکہ ہم نے دو قومی نظریہ کو (جس پر پاکستان بنا ہے) خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے اور بعض نجی مجلسوں میں یہ بھی کہا تھا کہ اب ہمارا اگلا نشانہ سندھ ہوگا دوقومی نظریہ ،دو ملی نظریہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ قرآن وسنت کا نظریہ ہے اور اسلامی سیاست کا ایک اہم اصول ہے ۔جس کا حاصل یہ کہ دنیا بھر کے مسلمان ایک ملت ہیں اور کافر دوسری ملت قرآن کریم کا واضح اعلان ہے کہ
ترجمہ:اﷲ وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا (جس کا تقاضا تھا کہ اس پرسب ایمان رکھتے اور سب مومن ہوتے لیکن) پھرتم میں سے بعض کافر ہوگئے اور بعض مومن رہے ۔یہ کافر اور مومن کی تقسیم بعد میں کچھ لوگوں کے کافر ہوجانے سے وجود میں آئی ۔ایک حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے جس میں رسول اﷲ ﷺ کا ارشاد ہے کہ
ترجمہ: ہر بچہ فطرت سلیم (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے(جس کا تقاضا مومن ہونا ہے) پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا عیسائی وغیرہ بنا دیتے ہیں بہرحال اوپر سورت تغابن کی جو آیت ذکر کی گئی ہے اس میں قرآن حکیم نے تمام بنی آدم کو دوگروہوں میں تقسیم کیا ہے۔

کافر اور مومن۔جس کا حاصل یہ ہے کہ آدم ؑکی ساری اولاد جو ایک برادری تھی اور دنیا کے سب انسان اس برادری کے افرادتھے اس برادری کوتوڑنے اور الگ الگ گروہ بنانے والی چیز صرف کفر ہے۔جو لوگ کافر ہوگئے وہ انسانی برادری کا رشتہ توڑ کر مومن برادری سے خارج ہوگئے ۔اس لئے مسلمان خواہ کسی ملک یا خطے کا ہو کسی بھی رنگ اور قبیلے کا ہو کوئی زبان بولتا ہو ان سب کو قرآن حکیم نے ایک برادری قرار دیا ہے ۔ارشاد ہے مسلمان تو سب( ایک دوسرے کے) بھائی ہیں اور دوسری طرف اسلام نے قیامت تک کیلئے یہ قانون بنا دیا کہ مسلمان اور کافر اگرچہ آپس میں باپ بیٹے یا حقیقی بھائی ہوں تب بھی وہ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے۔رسول اﷲ ﷺ کا ارشاد ہے مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوسکتا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا۔ارشاد ہے کہ دو مختلف ملتوں(دین) والے ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے۔

اس طرح قرآن وسنت نے دنیا کے تمام انسانوں کو دو الگ الگ ملتوں میں تقسیم کرکے فیصلہ کردیا کہ مسلمان ایک ملت اور کافردوسری ملت ۔لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ تمام کفارسے برسرپیکار رہا جائے اور ان کے کوئی حقوق تسلیم نہ کئے جائیں اس کے برعکس قرآن وسنت میں کافروں کے ساتھ معاملات اور برتاؤ کے سلسلے میں جو تفصیلی ہدایات دی گئی ہیں ان میں ان کے ساتھ حسن سلوک،انصاف،خیرخواہی ،مدارات اور روا داری کی ہدایت بھی اہمیت کے ساتھ شامل ہے اور ان کی حدود مقرر کی گئی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ سب کچھ ہے لیکن اسلام کی معتدل اور متوازن تعلیمات نے ہمیں اپنے دین وملت کی حفاظت اور ملی تشخص کی خاطر ساتھ ہی یہ ہدایات بھی دی ہیں کہ کسی بھی قسم کے کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤایسا میل جول اور ربط وضبط پیدا کرنے کی بھی اجازت نہیں دی۔۔۔۔۔۔اور پاکستان کا وجود بھی اسی نظریہ کا مرہون منت ہے جو ہندوستان کو تقسیم کرکے محض اس لئے حاصل کیا گیا ہے کہ مسلمان یہاں دوسری قوموں سے آزاد اور خود مختار رہ کر خدا پرستی اور قرآن وسنت کے ہمہ گیر نظام عدل اور معاشی انصاف کی بنیاد پراسلام کا پاکیزہ فلاحی معاشرہ قائم کرسکیں ۔اور اسے مضبوط ترقی یافتہ اسلامی ریاست بنا سکیں ۔اسے حاصل کرنے کیلئے ہم نے نعرہ لگایا تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اﷲ ،پھر جب ہندؤ کانگریس نے مسلمانوں کو اپنی اکثریت کے جال میں پھنسانے کیلئے ہندو مسلم بھائی بھائی کا نعرہ چلتا کیا تو ہم سب نے مل کر مسلم مسلم بھائی بھائی کا جوابی نعرہ بلند کیا جس سے سارا برصغیر گونج اٹھا تھا یہ صرف جذباتی نعرہ نہ تھا یہ ہمارے عقیدے اور ایمان کی آواز اور ہمارے سیاسی منشور کا عنوان تھا ۔ہم اس دو ملی نظریہ کے ترجمان تھے جو ہمیں قرآن وسنت نے عطاء کیا ہے۔اسی نظریہ کی طاقت پر ہم نے بیک وقت تین طاقتوں انگریزوں،ہندوؤں،سکھوں سے چومکھی لڑکر پاکستان حاصل کیا۔

یہاں یہ بات خاص طور پر قابل لحاظ ہے کہ انسانی برادری کو مختلف سیاسی نظریات نے کہیں رنگ کی بنیاد پر تقسیم کیا۔جیسا کہ جنوبی افریقہ اور برطانیہ میں ہو رہا ہے کہ وہاں جو حقوق کتے کو حاصل ہیں کالے آدمی کو حاصل نہیں ۔کہیں نسل کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا جیسا کہ اسلام سے پہلے قبائل عرب کا حال تھا اور آج بھی دنیا کے بعض قبائلی علاقوں میں ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ کے خون کا پیاسا نظر آتا ہے ،اور کہیں اس برادری کو زبان اور وطن کی بنیاد پر ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیاجیسا کہ لسانی اور وطنی قومیت کی بنیاد پر آج پاکستان میں ایک بھائی دوسرے بھائی کاگلا کاٹ رہا ہے ۔ان سب کے برخلاف اسلام نے بنی نوع انسان کی تقسیم کا مدار ایمان اور کفر پر رکھا ہے ۔غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ صرف یہی ایسی تقسیم ہے جو انسانی برادری کے مکمل اتحاد کا وسیع ترین میدان اور موثر ترین پیغام بھی ساتھ رکھتی ہے ۔اس لئے کہ مومن اور کافر ان دو ملتوں کی بنیاد ایسی دو چیزوں پر ہے جو انسان کے اختیار میں ہیں کیونکہ ایمان بھی انسان کے اختیارمیں ہے اور کفر بھی۔اگر کوئی شخص ان میں سے ایک ملت چھوڑ کر دوسری ملت میں شامل ہونا چاہے تو بڑی آسانی کے ساتھ شامل ہوسکتا ہے ۔چنانچہ آخری زمانے میں جب عیٰسی ؑ کا نزول ہوگا تو قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کے ارشادات کے مطابق وہ دور پھر واپس آجائے گا کہ دنیا کے تمام انسان ایمان لا کر ایک ملت ہوجائیں گے اور انسانی برادری جو کفر کی وجہ سے دو ملتوں میں بٹ گئی تھی اس کا بٹوارہ ختم ہوجائے گا۔۔۔۔۔۔رنگ ،زبان اور قبائل کے اختلاف کو قرآن حکیم نے اﷲ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی نشانی اور انسان کیلئے بعض فوائد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ایک نعمت قرار دیا ہے (سورۃ الروم ۲۲۔سورۃ الحجرات ۱۳)

لیکن اس کو بنی آدم میں گروہ بندی کا ذریعہ بنانے کی اجازت نہیں دی اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں قبائل کو گروہ بندی کی بنیاد بنا دیا گیا تھا اسلام نے ان سب بتوں کا پاش پاش کر ڈالا ۔

کفار مکہ جو آنحضرت ﷺ کے ہم وطن،ہم زبان اور ہم قبیلہ تھے ۔آپ نے اور آپ ﷺ کے جاں نثارصحابہؓ نے ایمان ،کفر کی ہی بنیاد پر ان سے دشمنی مول لی ،آبائی وطن سے ہجرت کی اپنے رشتہ داروں تک سے باربار جہاد فرمایا ان سے الگ ایک مسلم برادری قائم فرمائی جس میں انصار مدینہ کو حبشی ،رومی اور فارسی مسلمانوں کو بھائی بنا کر گلے لگا لیا ۔جس قبیلے اور جس علاقے کے لوگ مشرب بہ اسلام ہوتے گئے وہ اس برادری میں شامل ہوتے گئے اسلام نے ان کو سبق ہی دیاتھا کہ:
بتان رنگ وبو کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا نہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی

ایک سفر میں دو صحابیوںؓ کا جھگڑا ہوا ایک مہاجر تھے دوسرے انصاری۔مہاجر نے انصاری کی پشت پر ماردیا۔انصاری نے اپنی مدد کیلئے انصار کو پکارا اور مہاجر نے مہاجرین کو پکارا۔آپ ﷺ نے یہ آواز سنی تو پوچھا:یہ جاہلیت کے الفاظ کیوں پکارے جا رہے ہیں؟ لوگوں نے واقعہ بتایاتو آپ ﷺ نے فرمایا :ان (متعصبانہ اور گروہ بندیوں کے )الفاظ کو چھوڑ دو کیونکہ ان سے (جاہلیت اور کفر) کی بدبو آتی ہے۔(جامع ترمذی۳۳۱۵)

یہی وہ اسلامی برادری اور ایمانی اخوت تھی جس نے تھوڑے ہی عرصے میں مشرق ومغرب ،جنوب و شمال ،کالے گورے،امیر وغریب اور عرب وعجم کیلئے بے شمار افراد کو ایک لڑی میں پرو دیا اور مسلمان دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن گئے۔ ۔۔۔۔ اس طاقت کا مقابلہ دنیا کی قومیں نہ کرسکیں۔تو انہوں نے پھر ان بتوں کو زندہ کیا جن کو رسول اﷲ ﷺ نے پاش پاش کیا تھا۔مسلمانوں کی عظیم ملت واحدہ کو ملک وطن ،رنگ وزبان اور نسب وقبائل کے مختلف ٹکڑوں میں تقسیم کرکے ان کو باہم ٹکرا دیا ۔اسپین(اندلس) سے مسلمانوں کا تقریباً ایک ہزار سالہ اقتدار اسی آپس کی پھوٹ کی نذر ہوا۔ترکی کی خلافت عثمانیہ اسی ٹکراؤ کے نتیجہ میں پارہ پارہ ہوئی اور سقوط مشرقی پاکستان کے المناک سانحہ کیلئے بھی بھارت نے وطنی اور لسانی قومیت کو آلہ کار بنایا ۔عرب ممالک تو عربی قومیت کے فریب سے اس کے تلخ وسنگین تجربات کے بعد کسی حد تک نکل بھی گئے ۔بنگلہ دیش بھی بنگالی قومیت کی تباہ کاریوں سے نڈھال ہو کر مسلم ملت کی طرف واپس آرہا ہے ،لیکن پاکستان اور خصوصاً سندھ میں لسانی اور وطنی قومیت کے نئے بت تراش لئے گئے ہیں جن کی بنیاد پر مسلمانوں کی ملت واحدہ کو پھرٹکڑے ٹکڑے کیا جارہا ہے۔لسانی اور وطنی عصبیتوں نے ایسا اندھا کردیا ہے کہ مشرقی پاکستان کی طرح اب پھر بھائی بھائی کا گلا کاٹ رہا ہے۔حالانکہ رسول اﷲ ﷺ نے خطبہ ٔ حجتہ الوداع میں بڑی دل سوزی سے یہ وصیت فرمائی تھی کہ میرے بعد تم کافر نہ ہوجانا کہ آپس میں ایک دوسرے کا گلا کاٹنے لگو۔

طرف تماشہ یہ ہے کہ ہر خود ساختہ لسانی گروہ ،اپنے مقتولوں کو شہید کا مقدس خطاب دینے پر مصر ہے ،حالانکہ رحمتہ للعالمین ﷺایسی لڑائی میں مرنے والوں کے بارے میں آگاہ فرما چکے ہیں کہ جب مسلمان اپنی اپنی تلوار یں لے کر آپس میں لڑیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے۔(سنن نسائی ۴۱۲۴)
اب جن گھناؤنی عصبیتوں کا صور پھونکا جارہا ہے ان کے بارے میں رسول اﷲ ﷺ کا یہارشاد ہر مسلمان کے کانوں تک پہنچ جانا چاہیے کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو عصبیت کی طرف بلائے اور وہ شخص ہم میں سے نہیں جس کی موت عصبیت پر آئے۔

اس شرمناک خانہ جنگی کی پشت پر ہمارے دشمنوں کی سازشیں تو کار فرما ہیں ہی لیکن یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ بیرونی سازش اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اسے ہماری کچھ ایسی کمزوریاں ہاتھ نہ آجائیں جن کے ذریعے وہ اپنے مکرو فریب کا تانابانا بن سکیں اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہماری سب سے بڑی کمزروری وہ ظلم ،بد عنوانیاں اور حق تلفیاں ہیں جن کا موجودہ سرمایہ دارانہ اور جاگیردارنہ نظام(باطل)کا بازار گرم ہے۔اور جو اس ظالمانہ نظام کی بے دین فضا نے قدم قدم پر پھیلا رکھی ہے نئی نسل اس صورت حال پر مضطرب ہے اور اضطراب کو بنیاد بنا کر بیرونی سازشوں نے ان پر لسانی اور صوبائی عصبیت کا جال پھینکا ہے ،اگر اسلام کا صرف نام لیکر نہیں بلکہ اسلام کے نظام معیشت اور نظام عدل(خلافت) کو عملاً نافذ کرکے ان مظالم ،بد عنوانیوں اور حق تلفیوں کا خاتمہ کردیا جائے تو کچھ غدار تو شاید پھر بھی ملک میں باقی رہیں لیکن ان سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے کا راستہ بند ہو جائے گا جو نہ ملک دشمن ہیں نہ اسلام کے باغی بلکہ انھیں مظالم اور حق تلفیوں نے فساد پر آمادہ کیا ۔

ہمار اصل مسٔلہ پنجابی،پٹھان،سندھی یا مہاجر نہیں ۔ان میں سے کسی طبقے کو علی الا طلاق ظالم اور دوسرے کو علی الا طلاق مظلوم قرار دینے پر لے درجے کی نا انصافی کی بات ہے یہ منطق دین ودانش کے کسی خانے میں فٹ نہیں ہو سکتی کہ ظلم ہمیشہ دوسرے علاقے کے باشندے کرتے ہیں اور اگر کوئی اپنا ہم وطن یا ہم زبان ظلم کرے تووہ ظلم نہیں انصاف ہے اور حقوق کی جدوجہد ہے ۔

دراصل ہمارا اصل مسٔلہ وہ بے دینی اور خدا فراموشی ہے جو ظلم کو بے خوف خطر ظلم پر آمادہ کرتی ہے ،یہی ذہنیت ہے جس نے ہر جگہ مظالم اور حق تلفیوں کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔یہی ذہنیت دوسروں سے ہر وقت اپنے نام نہاد حقوق کا مطالبہ کرتی رہتی ہے لیکن اسے نہ اپنے فرائض کا کوئی احسا س ہے نہ دوسروں کے حقوق کا پاس۔

جب تک یہ دین اور اﷲ تعالیٰ کے خوف سے آری ذہنیت موجود ہے اگر ہر صوبہ اور ہر علاقہ اﷲ نہ کرے الگ بھی ہوجائے تب بھی اسے مظالم اور حق تلفیوں سے نجات نہیں مل سکتی۔بنگلہ دیش کا تجربہ ہمارے سامنے ہے۔
(انتخاب:دوقومی نظریہ جس پر پاکستان بنا،مفتی ٔ اعظم پاکستان مولانا رفیع عثمانی،معہ اضافہ بریکٹس)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Abbas Siddiqui

Read More Articles by Ghulam Abbas Siddiqui: 264 Articles with 159988 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Aug, 2017 Views: 460

Comments

آپ کی رائے