میرے گرائیوں میری بات سنو

(Iftikhar Chohdury, )

بلکل سچ ہے گجرانوالہ اس کے مضافات کے دلوں سے نواز شریف کو کوئی مائی کا لعل نہیں نکال سکتا اگر کوئی نکال سکتا ہے تو وہ سکتی ہے اور وہ تعلیم ہے جو لوگوں کے دلوں سے ان لٹیروں کی راسخ شدہ محبت کو نکالے گی ایک گجرانوالہ ہی نہیں ملک کے ان تمام حصوں میں جہاں اسکول نہیں ہے۔وہاں سے آپ سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کو نہیں نکال سکتے۔یہ لوگ اتنے چالاک ہیں کہ جیتنے یا ہارنے والی پارٹیوں میں اوپر والی جگہ پر بیٹھ جاتے ہیں اور پھر تعلیم کی روشنی کو پھیلنے نہیں دیتے نئے نئے تھڑے ہماری کنڈ پر ڈالے جاتے ہیں اور کولہو کے بیل کی طرح ہم چلتے تو ہیں پر سفر نہیں کٹتا۔یہ المیہ ہر جگہ کا ہے لیکن مجھے تو آج گرائیوں سے بات کرنی ہے۔دیکھ لیں جہاں بھی اسکول ہو گا وہاں ان لوگوں کی گرفت ڈھیلی پڑے گی۔ایک اور آسان سا نسخہ ہے اگر اسے اپنا لیا جائے۔ڈش اور کیبل اگر ان علاقوں میں لگا دی جائے تو رات کو ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر یہ لوگ اپنی تقدیر کو بدلنے کے لئے اپنء بچوں کو اسکول بھیجنا شروع کر دیں۔میرا بنیاد تعلق ہزارہ سے ہے اسلام آباد کے پچھواڑے میرا نلہ گاؤں اپنی خوبصورتی کے لئے اپنی مثال آپ ہے۔یہ گاؤں بدل رہا ہے یہاں کسی زمانے کوئی اسکول نہیں تھا ایک پرائیمری اسکول تھا جس میں بچے دھوپ میں بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے۔اب یہاں آٹھ سے زیادہ اسکول ہیں بچیوں کے بھی اور بچوں کے بھی۔کچھ پرائیویٹ ہیں۔اسکولوں کی وجہ سے اس گاؤں کے بچے اب پڑھ رہے ہیں یہاں کے بچوں نے ایک آسان سا راستہ اپنا لیا ہے یہ سرائے صالح سے ڈپلومہ انجینئر بن رہے ہیں اور اب کئی لوگ یہاں سے فارغ ہو کر بیرون اور ندرون ملک میں اچھی ملازمتیں کر رہے ہیں۔تعلیم نے انہیں بتایا ہے کہ تم کسی کے غلام نہیں ہو۔یہ اپنے نمائیندے آپ چنتے ہیں۔کسی زمانے میں یہ لوگ علاقائی تعصب میں مبتلا تھے ہم لوگوں کو پنجابی سمجھ کر ووٹ نہیں دیتے تھے ہم تلاش رزق کے لئے گجرانوالہ چلے گئے ہمارے بڑے یہاں کی پسماندگی سے تنگ آ چکے تھے۔محنت مزدوری کرنے شہروں میں نکل گئے۔اب ہماری اولادیں یہاں کی نمائیندگی کرتی ہیں اس گاؤں میں سڑک ہسپتال بجلی ہم لائے اور ہم ہی ان لوگوں کی انگلی پکڑ کر انہیں روشنی کے دروازوں تک لے گئے۔یہ سب کچھ تعلیم کی وجہ سے ہوا۔میں اس علاقے میں جاتا ہوں صرف اسی بات پر زور دیتا ہوں کہ بچوں کو پڑھاؤ۔اب ایک اور تحریک شروع کی ہے۔میں اپنے ان گرائیوں کو کہتا ہوں خدارا اپنی زمینیں نہ بیچیں ۔انہی زمینوں کو قبضے میں رکھیں۔اب ایک نہیں کئی سڑکیں یہاں آ رہی ہیں۔پیر سوہاوہ سے یہ سڑک کوہہالہ تک پہنچ رہی ہے بلکہ آ گے دکھن پیسر کے پل کو استعمال کرتی گلیات کو نکلے گی۔ترناوہ کوپالہ روڈ بھی بن رہا ہے۔نجف پور نلہ روڈ بھی انشاء اﷲ بنے گا۔اس علاقے میں بجلی نہیں ہے اگر بجلی مل جائے تو لوگوں کی زندگیاں آسان ہو جائیں گی۔اگر یہاں کے نمائیندے جو ایبٹ آباد کی طرف سے مرتضی جاوید عباسی ہیں اور دوسرے بابر نواز دونوں مل کر ان سسکتے مرتے لوگوں کو بجلی پوری دے دیں تو کمال کا کام ہو جائے گا۔

عباسی صاحب نے کہیں بیان دے دیا کہ عمران خان جہاں ملے ٹھوک دو۔حضور آپ کب سے ٹھوکنے میں لگ گئے ہیں آپ کا باپ تو ایسا نہیں تھا اس نے تو ہزارے کے لوگوں کی خدمت کی جب ڈسٹرکٹ کونسل ہری پور سمیت ہوتی تھی وہ لوگوں کی خدمت کیا کرتے تھے ۔انہی نے نلہ ہسپتال دیا تھا۔مختار گجر چیئرمین ارشاد میرے مرحوم بھائیوں کے دوست تھے۔ایسی پھلجھڑی چھوڑنے سے پہلے سوچ لیں ٹھوکنے والے کبھی محفوظ نہیں رہتے آپ کے سامنے کرہکی اور بستی بلند والے ٹھوکتے ٹھکتے اس دنیا سے چلے گئے۔جو کام آپ کے بزرگوں نے نہیں کیا اسے نہ کریں۔آپ جہالت غربت پسماندگی کو ٹھوکیں-

اس علاقے کے لوگوں کی خدمت کرنے کی اشد ضرورت ہے۔میں پی ٹی آئی میں رہ کر اپنے ان دوستوں کے ساتھ مل کر غربت مکاؤ مہم میں لگا ہوں آپ کو اﷲ نے ہمت دی ہے پاور دی ہے وہاں پنجہ آزمائی کریں ۔یوسف ایوب سے ہری پور میں ہم کام کروا رہے ہیں ہمارے دوسرے دوست بابر نواز سے کروا رہے ہیں آپ بھی دکھن پیسر،لسن،ڈنہ نورال،کرہکی اور دیگر دیہات کی زندگی بدلیں۔آپ خوبصورت ہیں عینک اچھی اور مہنگی لگاتے ہیں شادی جنازوں میں تیار ہو کر آتے ہیں۔ایسا نہ کیا کریں سادگی اپنائیں۔لوگ اپنی زندگیوں پر لعنت بھیجتے ہیں جب یہ منظر دیکھتے ہیں کہ ہمارے جیسے کا بیٹا اب ہمارے جیسا نہیں رہا۔پراڈو بی ایم ڈبلیو نلہ کے گجروں نے آج سے تیس سال پہلے دیکھی ہیں لیکن یقین کیجئے ہمارے بڑے ہمیں منع کرتے ہیں کہ کہ سادگی سے گاؤں میں جانا ہے کالی عینیک نہیں لگانی۔کسی کے پاس سے گاڑی تیزی سے نہیں نکالنی۔کبھی میرے بچوں فیصل۔عادل،عابد ،ماجد،نوید کو دیکھنا اور پھر کہنا کہ یہ اﷲ کا دیا سب کچھ ہوتے ہوئے بھی سادگی سے اپنوں میں رہتے ہیں۔

مرتضی جاوید صاحب کوئی نشانی دیں کوئی ہسپتال بنائیں لسن میں ڈنہ بورال منڈڑیاں میں تو پھر پتہ چلے کہ جاوید عباسی زندہ ہے۔عمران خان کو ٹھوکنے سے کوئی آپ کو کیا زندہ چھوڑے گا۔یہاں اکرم خان نے کسی کو زندہ نہیں طؤچھوڑا تو کیا ان کی اولادیں زندہ رہ رہی ہیں۔

اس علاقے میں عباسی، گجر،سید ،اعوان،لوہار، موچی ،ترکھان یہ سب ہمارے ہیں۔مجھے حویلیاں میں وہ رات کبھی نہیں بھولے گی جب آپ کے لوگ جیت کے بعد گجر برادری کو گالی دے رہے تھے میرا بھتیجا ہارا تھا اور آپ جیتے تھے۔ادھر مانسہرہ میں گجر جیتا تو وہ بھی غصے میں۔ویسے ہے ناں اکیسویں صدی کے اس دور میں جہالت کی بات۔خدارا اس پر غور کریں۔شاہد خاقان جیتے تو ایک نے کہا کہ آتھ سو سال بعد بنو عباس جیتے۔خدارا اس دڑبے سے باہر آئیں۔برادری ازم پر لعنت بھیجیں۔ویسے بھی یہ وزیر اعظم تو بس کی سیٹ پر رکھی چادر ہیں۔عمران خان نے کے پی کے کیا کیا ہے اور کیا کر لیا ہے۔میں زمینی آدمی ہوں میں جاناتا ہوں کہ کے پی کے میں بہت کچھ بدل چکا ہے اور بہت کچھ بدلنے والا ہے۔لالچی،بد خصلت لوگ ہر پارٹی میں ہوتے ہیں لیکن یہ یاد رکھئے اگر کے پی کے میں دودھ کی نہریں نہیں بہیں تو خون کی ندیاں بھی نہیں بہائی گئیں۔آئیں مل کر ان لوگوں کی قسمت بدلیں جنہیں یہ احساس ہی نہیں کہ کے وہ کتنی گہرائی میں چلے گئے ہیں۔انہیں سمجھائیں کہ اپنی زمینیں نہ بیچیں۔ورنہ ایک دن ہوگا کہ کہ ان کے پوتے ایک بڑے ہوٹل کے باہر ریڑھی لگا کر کہیں گے کہ یہ ہوٹل جو بڑا عظیم ہے اس کی زمین میرے دادا نے بیچی تھی۔سلام مری کے لوگوں کو کہ انہوں نے اپنے کاروبار کی جگہیں کسی کو نہیں دیں اور وہاں چائے کے کھوکھے ریفریشمنٹ کی دکانیں ہوٹل اپنے بنائے۔آج اﷲ نے انہیں اچھی گاڑیاں پیارے گھر دئے۔کرائے لاکھوں میں لے رہے ہیں۔کیا کل کملی،برکوٹ،درکوٹ کوہالہ،بانڈی،نلہ،ہلی۔جبری،دکھن پیسر،مساح چنجاء میں یہ وقت نہیں آئے گا؟ضرور آئے گا۔میری ان باتوں کو یاد رکھئے گا۔کل انشاء اﷲ آپ بھی پراڈو بی ایم ڈبلیو پر بیٹھیں گے۔کاروبار کیجئے سیاحت کی تعلیم بچوں کو دلائیں۔ہوٹلنگ پڑھائیں۔میرا بھائی ہوٹلینگ میں ہے باہر کے ہوٹلوں کا جنرل مینیجر بھی رہا ہے۔ہم کیئریر کونسلنگ کے لئے آپ کے بچوں کو فری لیکچر دینے کے لیئے تیار ہیں۔نلے کا بیٹا لندن اسکول میں ہوٹلینگ کا کورس کر رہا ہے ڈگری لے گا۔آپ کے بچے کیوں نہیں۔اس علاقے کی قسمت ہم نے برادریوں سے اوپر ہو کر کرنی ہے۔دوستو!باسٹھ سال عمر ہو گئی ہے کل کا کوئی پتہ نہیں لیکن میری یہ سادہ سی باتیں یاد رکھنا۔تعلیم کے بغیر آپ کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔اﷲ تعالی میرے ان دوستوں کو خوش و خرم رکھے جنہوں نے اس علاقے کے غریبوں کے گھروں کے چولہے جلائے انہیں کم نرخوں پر پاکستان سے باہر بھیجا۔سلام اسحق جنجوعہ اور ظفر بیگ۔اﷲ تعالی نے چاہا تو وقت کا دھارا کبھی میری بے جی اور والد صاحب کے علاقے کے لوگوں کے حالات بدلے ۔کیوں نہیں اﷲ ہے ناں۔بلکل سچ ہے گجرانوالہ اس کے مضافات کے دلوں سے نواز شریف کو کوئی مائی کا لعل نہیں نکال سکتا اگر کوئی نکال سکتا ہے تو وہ سکتی ہے اور وہ تعلیم ہے جو لوگوں کے دلوں سے ان لٹیروں کی راسخ شدہ محبت کو نکالے گی ایک گجرانوالہ ہی نہیں ملک کے ان تمام حصوں میں جہاں اسکول نہیں ہے۔وہاں سے آپ سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کو نہیں نکال سکتے۔یہ لوگ اتنے چالاک ہیں کہ پارٹیوں میں اوپر والی جگہ پر بیٹھ جاتے ہیں اور پھر تعلیم کی روشنی کو پھیلنے نہیں دیتے۔ عمران خان بھی یہی کچھ چاہتا ہے جو راقم نے لکھ کر بتا دیا ہے۔بس ایک بات یاد رکھنا ووٹ دیتے وقت مری ان گزارشات کو ذہن میں ضرور جگہ دینا۔کہ مجھے اسکول کس نے دیا میرے بچوں کو تعلیم کی سہولت کون دے گیاَ-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry

Read More Articles by Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry: 407 Articles with 162128 views »
I am almost 60 years of old but enrgetic Pakistani who wish to see Pakistan on top Naya Pakistan is my dream for that i am struggling for years with I.. View More
15 Aug, 2017 Views: 242

Comments

آپ کی رائے