جنگِ1965ء کی معنویت

(Prof Dr Mujeeb Zafar Anwar Hameedi, )
اپنےوطن سے محبت ایک ایسا فطری جذبہ ہے جو ہر انسان بلکہ ہر ذی روح میں پایا جاتا ہے. جس زمین پر انسان پیدا ہوتا ہے، زندگی گزارتاہے، وہاں کے گلی کوچوں ، درو دیواربلکہ ایک ایک چیز سے اس کی یادیں و......................

 اپنےوطن سے محبت ایک ایسا فطری جذبہ ہے جو ہر انسان بلکہ ہر ذی روح میں پایا جاتا ہے. جس زمین پر انسان پیدا ہوتا ہے، زندگی گزارتاہے، وہاں کے گلی کوچوں ، درو دیواربلکہ ایک ایک چیز سے اس کی یادیں وابستہ ہوتی ہیں۔
پینسٹھ کی جنگ کو عموماً ایک ’بھولی بسری عسکری مہم‘ کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے کیونکہ اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تھا۔ اگرچہ متعدد غیرجانبدار مبصرین کے نزدیک یہ جنگ برابری پر ختم ہوئی تھی لیکن پاکستان اور بھارت دونوں ہی اپنی اپنی کامیابیوں کے دعوے کرتے ہیں۔ پاکستان کے مطابق اس کی فوج نے بھارتی حملے کو ناکام بنا دیا تھا۔ پاکستان میں چھ ستمبر کو ’دفاع پاکستان‘ کا دن منایا جاتا ہے، جس میں جیت کی خوشی میں خصوصی پریڈز اور مختلف تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
بھارتی مصنف نتین گوکھلے نے اس جنگ کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: ’’یہ کوئی بہت بڑی کامیابی نہیں تھی تاہم مجموعی طور پر بھارت کی پوزیشن مضبوط تھی۔ کئی غیرجانبدار مبصرین کے مطابق بھی بھارت کا پلڑا بھاری رہا تھا۔‘‘
ہندو ازل سے ہمارا دشمن ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ ہندوؤں کی دشمنی کوئی آج سے نہیں بلکہ یہ دشمنی چودہ سو سال سے چلی آرہی ہے اوراگر بھارت کا یہی رویہ رہا تو یہ دْشمنی تاقیامت چلتی رہے گی۔جبکہ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ جنگ وجدل سے مسائل حل نہیں ہو سکتے آخر کار مذاکرات کی میز پرآنا ہی پڑتا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلمان ایک بہادر اور امن پسند قوم ہے بہادر چُھپ کر وار نہیں کرتااوردشمن کوللکار کرحملہ آورہوتا ہے۔ بزدل ہمیشہ چُھپ کر وار کرتا ہے یہی کچھ پانچ اور چھ ستمبر کی درمیانی شب کو ہمارے پڑوسی ملک بھارت نے پاکستان کی سرزمین پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں نہ صرف پاک فوج بلکہ پاکستانی قوم کا بچہ بچہ دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑا ہو گیا۔
شاید ،"ہندو" کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا اور اس فکرمیں رہتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو کس طرح سے نقصان پہنچائے۔ تحریک پاکستان کے دوران جو ظلم ہندوؤں اور سکھوں نے مل کر مسلمانوں پر ڈھائے اس کی مثال نہیں ملتی۔ ہندو مسلمانوں کی الگ اسلامی ریاست کو برداشت نہ کرسکا یہی وجہ تھی کہ پاکستان بننے کے تقریباً ایک سال بعد ہی ستمبر 1948 میں کشمیر پر حملہ کردیا تاکہ پاکستان پر دباؤ ڈالا جاسکے۔ پاکستان اس وقت ابھی ایک سال کا تھا اس کے پاس جنگی سازو سامان کی انتہائی کمی تھی اور وسائل نہ ہونے کے برابر تھے مگر ہندو اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ آیا بعدازاں پاکستان تیزی کے ساتھ ترقی کی منزلیں طے کرنے لگا۔ ہندو بنیا اس ترقی کو برداشت نہ کرسکا لہٰذا اس نے اچانک 5اور6ستمبر1965 کی درمیانی شب کو پاکستان پر حملہ کردیا۔ اس وقت بھی پاکستان کے پاس اتنی بڑی فوج تھی اور نہ ہی اتنااسلحہ مگر جو قوت و طاقت جوش وجذبہ اس قوم اور فوجی جوانوں میں تھا وہ اس بے دین و بے ایمان ہندووٴں میں نہ تھا ۔
بھارت کا خیال تھا کہ پاکستان نیا نیا وجود میں آیا ہے نہ اس کے پاس کوئی اسلحہ ہے نہ بڑی فوج، نہ کوئی ٹینک ہیں نہ توپیں نہ طیارے ہیں نہ بحری جہاز، لہٰذا ہم پاکستان کو فتح کرلیں گے۔ بھار ت اس وقت بھی ایک بڑی طاقت تھا اور یہی غرو اور گھمنڈ اسے اکسا کر جنگ کی طرف لے آیا۔ بھارتی جرنیلوں اور سیاستدانوں کا کہنا تھا کہ صبح کا ناشتہ اسمبلی ہال لاہور میں کریں گے یعنی پاکستان کو فتح کرکے پنجاب اسمبلی میں فتح کا جشن منائیں گے لہٰذا بھارت نے پاکستان پر تین اطراف سے حملہ کردیالیکن جلد ہی ان کا یہ خواب چکنا چور ہو گیا۔ صدرپاکستان جنرل ایوب خان نے بھارتی حملے کے پیش نظر فوری طورپر ہنگامی حالات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ”دس کروڑ پاکستانی شہریوں کیلئے آزمائش کا وقت آن پہنچا ہے تیار ہوجاؤ ضرب لگانے کیلئے ،کاری ضربیں لگانے کیلئے کیونکہ جس بلا نے تمہاری سرحدوں پر اپنا سایہ ڈالا ہے اس کی تباہی یقینی ہے “۔ ان الفاظ نے پوری قوم کا لہو گرمادیا اور پھر پہلے ہی روز بھارت کے 800 سپاہی ہلاک یا مجروح ہوئے اور دشمن کے 22جہاز تباہ کردئیے۔پاکستان نے اسلحہ اورفوج کی کمی، ٹیک اور توپیں اور نہایت کم تعداد میں جنگی طیارے ہونے کے باوجود بھارتی افواج کو ناکوں چنے چبادئیے۔ کھیم کرن کا محاذ، چونڈہ کا محاذ، چھمب جھوڑیاں کا محاذ، واہگہ بارڈر یعنی کہ ہر محاذ پر دشمن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارت نے سیالکوٹ محاذ پر دنیا کا سب سے بڑا ٹینکوں کے حملے کا منصوبہ بنارکھا تھا جو پاک فوج کے نڈر اور بہادر سپاہیو ں نے ناکام بنادیا۔پاک فوج نے بھارتی فوج کو پسپا کردیا۔اس دوران اقوام متحدہ نے دو قراردادیں منظور کیں جن میں دونوں ملک سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا۔اس طرح بات چیت ہوتے ہوتے بالآخر 20ستمبر 1965 کو سلامتی کونسل میں پاکستان کے احتجاج کے باوجود جنگ بندی کی قرارداد منظور کرلی گئی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ دونوں ممالک اپنی اپنی افواج 5اگست 1965 والی جگہوں پر لے آئیں۔ اس طرح 23 ستمبر کو جنگ بندی ہوگئی۔ بچو آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ اس جنگ میں کس ملک کا کتنا نقصان ہوا۔ جنگ میں ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد1033 اور بھارت 9500۔ زخمی ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد2171 اور بھارت کی 11000، لاپتہ پاکستانی فوجی630 اور بھارتی فوجی1700۔ تباہ ہونے والے پاکستانی ٹینک 165 اور بھارتی ٹینک 475۔ تباہ ہونے والے پاکستانی طیارے14اور بھارتی طیارے110۔ پاکستان کے قبضے میں آنے والا بھارتی علاقہ 1600مربع میل اور بھارت میں قبضے میں آنے والا پاکستانی علاقہ450مربع میل۔ تو بچو اس اعداد و شمار سے ثابت ہوا کہ پاکستان کم قوت رکھنے کے باوجود اپنے سے تین گنا بھارتی فوج کو کئی گنا زیادہ نقصان پہنچایا اور اسے شکست فاش دی۔
6ستمبر 1965ء کا دن ہمیں اُن شیر دل پاکستانی سپاہیوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے بے مثال قوت ایمانی کی بدولت اپنے عظیم اسلاف کی جرأت و عزیمت کی روایات کو حیاتِ نو عطا کی تھی۔ اپنے جسموں کے ساتھ بم باندھ کر بھارتی ٹینکوں کے پرخچے اڑا دینے والے ان مجاہدوں نے دنیا کو دکھلا دیا تھا کہ مادرِ وطن کی آزادی اور آبرو کا دفاع یوں بھی کیا جاتا ہے۔ دورانِ جنگ پاکستان کی مسلح افواج کو اپنی قوم کی بے مثال پشتیبانی حاصل رہی۔ ہر دو نے یکجان ہوکر اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو خاک چاٹنے پر مجبور کردیا۔
درحقیقت اس مملکت خداداد کے قیام سے قبل ہی اس کے خلاف سازشوں کے جال بُنے جانے لگے تھے۔ دنیا بھر کی اسلام دشمن طاقتیں پاکستان کو معرض وجود میں آتے دیکھ کر تلملا رہی تھیں۔ چنانچہ ریڈ کلف ایوارڈ کی آڑ میں نہ صرف پاکستان کو متعدد مسلم اکثریتی علاقوں سے محروم کر دیا گیا بلکہ تاریخی‘ جغرافیائی اور مذہبی اعتبار سے پاکستان کا حصہ تصور کیے جانے والے علاقے کشمیر کو بھی بھارت کے حوالے کر دیا گیا۔ بھارت کو کشمیر تک رسائی دینے کے لئے مسلم اکثریتی ضلع گورداسپور کو بھارت میں شامل کر دیا گیا۔ پاکستان کے تمام دریائوں کے منابع چونکہ کشمیر میں واقع تھے‘ لہٰذا یہ علاقہ ہماری زرعی اقتصادیات کے لئے شہ رگ کی حیثیت کا حامل تھا۔متحدہ ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن نے اپنی ہندو نوازی کے باعث اِس امر کو یقینی بنایا کہ پاکستان کی یہ شہ رگ پنجہ ہنود میں چلی جائے۔ ان تمام ناانصافیوں کے باوجود اﷲ تبارک و تعالیٰ کی خاص تائید و نصرت کے طفیل پاکستان اپنے قدموں پر کھڑا ہو گیا تو دشمن کے سینے پر سانپ لوٹنے لگا اور وہ پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کے بہانے ڈھونڈنے لگ گیا۔ پاکستانی قوم نے 18سال تک بھارت کی ان چیرہ دستیوں کو بڑے صبر کے ساتھ برداشت کیا تاہم جب بھارتی سینا نے رات کے اندھیرے میں واہگہ بارڈر سے لاہور پر حملہ کیاتو پاکستانی قوم کا پیمانۂ صبر لبریز ہوگیا اور وہ دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ آزمائش کی اس گھڑی میں ہماری مسلح افواج نے جرأت و بہادری کی تاریخ میں ایک شاندار باب رقم کیا۔ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے شہیدوں اور غازیوں کے طفیل افواجِ پاکستان کا عارض آج تک گلنار ہے اور انشاء اللہ تاقیامت رہے گا۔بلاشبہ 14اگست 1947ء کے بعد 6ستمبر 1965ء ہماری قومی تاریخ کا ایک تابناک اور قابل فخر دن ہے۔
6ستمبر 1965ء کی جنگ کے وقت عوام کا جذبہ اپنی مثال آپ تھا۔ افواج پاکستان نے مثالی کردار ادا کیا۔ اس وقت سے لے کر آج تک پاک فوج کے ہر جوان میں وہی جذبہ پایا جاتا ہے۔ جس کے تحت آج بھی ڈٹ کر ہر دشمن کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ پاک فوج نا قابل تسخیر افواج میں سے ایک ہے۔ 1965ء میں یہی قوم ایک کارواں کے طور پر سامنے آئی پھر یہ ہجوم میں تبدیل ہو گئی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ پھر سے یہ قوم ایک کارواں کی شکل میں ابھرے۔ ہمارا بڑا المیہ لیڈر شپ کا فقدان ہے۔ اتحاد ویکجہتی سے ہر میدان میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اوپر کی سطح پر مضبوط قوت ارادی ہو تو کشمیر آزاد کروانا کچھ مشکل کام نہیں۔ دفاع کے نقط کو وسیع میں سمجھتے ہوئے نہ صرف جغرافیائی بلکہ نظریاتی ومعاشی حدود کا بھی دفاع کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر شعبہ ہائے زندگی کو میدان جنگ سمجھیں اور جیت نہ صرف یقینی بنائیں بلکہ اس جیت کو برقرار رکھنے کی بھر پور کوشش کرنی ہو گی۔ ان خیالات اظہار’’یوم دفاع پاکستان…… جذبۂ حب الوطنی‘‘ کے موضوع پر منعقدہ فورم میں ریٹائرڈ عسکری ماہرین نے کیا۔بریگیڈئیر(ر) شوکت عثمان نے کہا کہ 6ستمبر1965ء کو 11بجے کے قریب جنرل ایوب خان کی تقریر اتنی پرجوش تھی کہ اس نے پوری قوم کو یکجان کر دیا۔ عوام میں تحریک آزادی والا جذبہ موجود تھا۔لوگ چھتوں پر چڑھ کر فوجی جوانوں کو دیکھتے اور جنگی طیاروں کو دیکھ کر نعرے لگاتے اس وقت یہ قوم اپنی پوری قوت کے ساتھ دنیا کے سامنے ابھری اور دنیا کو یہ بتانے میں کامیاب ہوئی کہ وطن عزیز کے دفاع کے لئے ہر پاکستانی کی جان اور مال حاضر ہے۔ ہمارے شعرائے ایسے ملی نغمے تخلیق کئے جو آج بھی دلوں میں محب الوطنی کے چراغ روشن کرتے ہیں۔بریگیڈئیر (ر) اقبال قریشی نے کہا کہ میں نے بطور ڈاکٹر 1965ء کی جنگ میں حصہ لیا۔71کی جنگ میں بھی میں زخمی ہوا اور آگرہ جیل میں قیدی رہا۔ 1965ء میں قوم کا اتحاد مثالی تھا۔آج وہی قوم ہجوم کی شکل اختیار کر چکی ہے انہوں نے کہا کہ جب ہم نے مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈالے تھے اس وقت بھارت نے روس کے ساتھ ایسا ہی معاہدہ کیا تھا جو حال ہی میں امریکا نے بھارت کے ساتھ کیا ہے جس کے تحت یہ ممالک ایک دوسرے کے ہوائی اڈے استعمال کریں گے۔ہمارا سب سے بڑا المیہ شروع دن سے لیڈر شپ کا فقدان ہے۔ سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر صرف ملکی مفاد کے لئے کام کرنا چاہئے۔ اتحاد ویکجہتی کے بغیر ہمارا کوئی راستہ سیدھا نہیں ہو سکتا۔قومی اتحاد و یکجہتی سے ہم ہر دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکتے ہیں۔لیفٹیننٹ کرنل(ر) باقر احسن نے کہا کہ 1965ء کی جنگ کے وقت طالب علمی کا زمانہ تھا اس وقت ہم مختلف رجیمنٹس کو بڑے شوق سے دیکھا کرتے تھے۔جب ہم گھر سے سودا سلف لینے جاتے تھے تو فوجیوں کی گاڑیاں مختلف اشیائے ضروریہ سے بھری ہوئی تھیں جو عوام نے انہیں دی ہوئی تھیں۔ پھر میں حملے کی خبر آئی تو مورچے کھودنے کے لئے تمام نوجوانوں پیش پیش رہے۔ عوام میں اتنا جوش و خروش تھا کہ 2دن کا کام چند گھنٹوں میں کر لیا گیا۔تعلیم مکمل کر کے افواج پاکستان میں ملازمت اختیار کیاس دوران میں نے محسوس کیا کہ لیفٹننٹ کرنل تک کے افسران میں جذبے کی نہ اس وقت کمی تھی اور نہ ہی آج تک اس جذبے میں کوئی کمی دکھائی دیتی ہے۔ اس کی بڑی وجہ قوت ایمانی اور نظم و ضبط کی تربیت ہے۔9/11کے واقع کے بعد امریکیوں کی مداخلت ہر سطح پر اتنی بڑھ گئی کہ اس نے آج تک ہمیں ہمارے پائوں پر کھڑا ہی نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے کہا کہ 47سے 58تک سیاستدانوں اور بیوروکریٹس نے پورے ملک کے ساتھ کھیل کھیلا ہے۔ اسی لئے اسٹیبلشمنٹ کو مداخلت کرنا پڑی۔ سیاستدان اور بیوروکریٹس ایک دوسرے کے ساتھ مخلص نہیں تھے جب ان پر مصیبت آئی تو وہ فوج کو استعمال کرتے تھے۔ اس وقت ہم ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے لئے بالکل تیار نہیں اس لئے ہم متحد بھی نہیں ہیں ۔مضبوط قوت ارادی اوپر کی سطح پر ہو تو کشمیر آزاد کروانا آج بھی ہمارے لئے کوئی مشکل کام نہیں کرنل (ر) طارق احمد نے کہا کہ 65ء کی جنگ کے وقت میری عمر کم تھی لیکن جذبہ بہت بلند تھا ۔ہم سیالکوٹ سے فیصل آباد آئے مورچے بنائے اور فوجیوں کی خدمت کے لئے ہر وقت حاضر ہونے کو فخر سمجھتے تھے۔ آج بھی ہر سال 6ستمبر کو دلوں میں وہی جذبہ بیدارہو جاتا ہے اس دن کی یادیں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں۔ہمیں زندگی کے ہر شعبے ہر میدان کو میدان جنگ کے طور پر دیکھنے اور اپنا دفاع کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے نہ صرف جیتنا ہے بلکہ اس جیت کو برقرار بھی رکھنا ہے۔
6ستمبر 1965ء کا دن عسکری اعتبار سے تاریخ عالم میں کبھی نہ بھولنے والا قابلِ فخردن ہے جب کئی گنا بڑے ملک نے افرادی تعداد میں کئی گنا زیادہ لشکر اور دفاعی وسائل کے ساتھ اپنے چھوٹے سے پڑوسی ملک پر کسی اعلان کے بغیر رات کے اندھیرے میں فوجی حملہ کردیا۔ اس چھوٹے مگر غیور اور متحد ملک نے اپنے دشمن کے جنگی حملہ کا اس پامردی اور جانثاری سے مقابلہ کیا کہ دشمن کے سارے عزائم خاک میں مل گئے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اسے شرمندگی اٹھانا پڑی۔ جارحیت کرنے والا وہ بڑا ملک ہندوستان اور غیور و متحد چھوٹا ملک پاکستان ہے۔
1965ء کی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والی اس جنگ میں ثابت ہوا کہ جنگیں ریاستی عوام اور فوج متحد ہو کر ہی لڑتی اور جیت سکتی ہیں۔ پاکستانی قوم نے اپنے ملک سے محبت اور مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت اورجانثاری کے جرأت مندانہ جذبے نے ملکر نا ممکن کو ممکن بنا کر دکھایااورلوگ کہہ اٹھے :
آج ہندیاں جنگ دی گلچھیڑی اکھ ہوئی حیران حیرانیاں دی
مہاراج اے کھیڈ تلوار دی اے جنگ کھیڈ نئیں ہوندی زنانیاں دی
معروف ترین صحافی (مدیر اعلیٰ ،ماہنامہ اُردو ڈائجسٹ ،لاہور) جناب الطاف حسن قریشی صاحب لکھتے ہیں :
"۔۔۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں اور اپنے قومی مفادات اور اثاثوں کے دفاع کے لئے متحد اور مستعد ہو جائیں۔ ہمارا جذبۂ ایمانی اور اتحاد دشمن کے خلاف ہمارے سب سے موثر ہتھیار ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں وطن عزیز کی سرحدوں کے دفاع کے حوالے سے صحیح معنوں میں 1965ء کی جنگ کے شہدائے کرام اور غازیوں بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں تحریکِ مزاحمت سے خوفزدہ ہو کر 6تمبر 1965ء کو پاکستان پر جنگ مسلط کی اور قوم نے اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ اپنے وطن کا اِس پامردی اور جذبۂ ایمانی سے دفاع کیا کہ ایک دنیا ششدر اور حیرت زدہ رہ گئی۔ اِن ایمان افروز واقعات پر پچاس سال گزر گئے ہیں اور ہماری نئی نسل اِن سے بڑی حد تک ناواقف ہے جبکہ اسے دفاعِ وطن کا ایک نیا چیلنج درپیش ہے۔ بھارت میں اِس وقت راشٹریہ سیوک سنگھ کے نظریے سے وابستہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت قائم ہے اور نریندر مودی بھارت کے وزیراعظم ہیں جو گجرات میں مسلمانوں کے قاتل کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ اُنہیں اقتدار میں آئے دو سال ہو چکے ہیں اور وہ اپنی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے عوام کے اندر تیزی سے غیر مقبول ہوتے جا رہے ہیں۔ اُنہوں نے انتخابی مہم کے دوران پاکستان کو سبق سکھانے کا نعرہ لگایا تھا اور حکومت سنبھالتے ہی جدید اسلحے کے انبار لگانا شروع کر دیے۔ بھارتی فوج کے اندر مہم جوئی کی اُمنگ اُبھاری جا رہی ہے جبکہ گزشتہ دو تین برسوں سے کشمیری نوجوان جو علم کی طاقت اور جذبۂ حریت سے لیس ہیں، وہ بھارتی استبداد کو ایک نئی اور مؤثر حکمتِ عملی کے ساتھ چیلنج کر رہے ہیں۔ بھارتی قیادت کو اِس امر کا شدید احساس ہو چلا ہے کہ پاکستان خطے میں ایک بڑی طاقت بنتا جا رہا ہے اور چین پاک اقتصادی راہداری کی تعمیر سے اِس کی معاشی اور جغرافیائی طاقت میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا، چنانچہ وہ علاقائی امن کو تلپٹ کرنے پر تلی ہوئی ہے اور جنگی جنون کو ہوا دے رہی ہے۔ اِسی تناظر میں اپنی فوج کا مورال بلند رکھنے اور پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لیے مسٹر مودی نے 6ستمبر کو ’یومِ فتح‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔
6ستمبر کو یومِ فتح کے طور پر منانا بھارت کا تاریخ کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہی خیال کیا جا سکے گا۔ بھارتی جرنیلوں نے اُس روز اعلان کیا تھا کہ ہم آج شام جم خانہ میں شراب نوشی کریں گے اور جشنِ فتح منائیں گے، مگر بھارتی فوج کو بی آر بی نہر اور باٹا پور پُل پر گھمسان کی جنگ کا سامنا کرنا پڑا اور وہ سترہ دنوں میں اِسے عبور نہ کر سکی۔اِسی طرح سیالکوٹ کے قریب چونڈہ میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے بڑی ٹینکوں کی لڑائی ہوئی اور یہ میدان بھارتی ٹینکوں کا قبرستان ثابت ہوا۔ اِس بڑی جنگ میں نوجوان فوجی افسر حمید گل نے دادِ شجاعت دی تھی۔ اِس سے پہلے چشمِ فلک یہ منظر دیکھ چکا تھا کہ سرگودھا ایئربیس پرا سکوارڈن لیڈر ایم ایم عالم نے دیکھتے ہی دیکھتے چھ بھارتی طیارے مار گرائے تھے اور بھارتی فضائیہ پر ہیبت طاری کر دی تھی۔ اِس ضمن میں سب سے قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ بھارت جو حربی سازوسامان اور بہت بڑی فوجی طاقت سے لیس تھا، اُس نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے جنگ بندی کی درخواست کی اور فائربندی کا اعلان ہونے پر سُکھ کا سانس لیا تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت میں ایک باشعور طبقہ موجود ہے جو مودی حکومت کے جشنِ فتح کو ایک تاریخی فریب قرار دے گا اور ڈھول کا پول کھل جائے گا۔"
پاکستان پر1965ء میں ہندوستان کی طرف سے جنگ کا تھوپا جانا پاکستانی قوم کے ریاستی نصب العین دوقومی نظریہ،قومی اتحاد اور حب الوطنی کو بہت بڑا چیلنج تھا۔ جسے جری قوم نے کمال و قار اور بے مثال جذبہ حریت سے قبول کیا اور لازوال قربانیوں کی مثال پیش کر کے زندہ قوم ہونے کاثبوت دیا۔ دوران جنگ ہر پاکستانی کو ایک ہی فکر تھی کہ اُسے دشمن کا سامنا کرنا اور کامیابی پانا ہے۔جنگ کے دوران نہ تو جوانوں کی نظریں دشمن کی نفری اور عسکریت طاقت پر تھی اور نہ پاکستانی عوام کا دشمن کو شکت دینے کے سوا کوئی اورمقصد تھا۔ تمام پاکستانی میدان جنگ میں کود پڑے تھے۔اساتذہ، طلبہ، شاعر، ادیب، فنکار، گلوکار ، ڈاکٹرز، سول ڈیفنس کے رضا کار ،مزدور،کسان اور ذرائع ابلاغ سب کی ایک ہی دھن اور آواز تھی کہ’’ اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا‘‘ستمبر 1965ء کی جنگ کا ہمہ پہلو جائز لینے سے ایک حقیقی اور گہری خوشی محسوس ہوتی ہے کہ وسائل نہ ہونے کے باوجود اتنے بڑے اور ہر لحاظ سے مضبوط ہندوستان کے مقابلے میں چھوٹے سے پاکستان نے وہ کون سا عنصر اورجذبہ تھا، جس نے پوری قوم کو ایک سیسہ پلائی ہوئی نا قابل عبور دیوار میں بدل دیا تھا۔ مثلاً ہندوستان اور پاکستان کی مشترکہ سرحد’’رن آف کچھ‘‘ پر طے شدہ قضیہ کو ہندوستان نے بلا جواز زندہ کیا فوجی تصادم کے نتیجہ میں ہزیمت اٹھائی تو یہ اعلان کردیا کہ آئندہ ہندوستان پاکستان کے ساتھ جنگ کے لئے اپنی پسند کا محاذ منتخب کرے گا اس کے باوجود پاکستان نے ہندوستان سے ملحقہ سرحدوں پر کوئی جارحانہ اقدام نہ کئے تھے۔ صرف اپنی مسلح افواج کومعمول سے زیادہ الرٹ کررکھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ چھ ستمبر کی صبح جب ہندوستان نے حملہ کیا تو آناً فاناً ساری قوم، فوجی جوان اور افسر سارے سرکاری ملازمین جاگ کر اپنے اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف گئے۔ صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے ایمان فروز اور جذبۂ مرد حجاہد سے لبریزقوم سے خطاب کی وجہ سے ملک اللہ اکبر پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اُٹھا۔فیلڈ مارشل ایوب خان کے اس جملے’’پاکستانیو! اٹھو لا الہ الا اللہ کا ورد کرتے ہوئے آگے بڑھو اوردشمن کو بتا دو کہ اس نے کس قوم کو للکارا‘‘ان کے اس خطاب نے قوم کے اندر گویا بجلیاں بھردی تھیں۔ پاکستان آرمی نے ہر محاذ پر دشمن کی جارحیت اور پیش قدمی کو حب الوطنی کے جذبے اورپیشہ وارانہ مہارتوں سے روکا ہی نہیں، انہیں پسپا ہونے پر بھی مجبور کردیا تھا۔ ہندوستانی فوج کے کمانڈر انچیف نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ وہ لاہور کے جم خانہ میں شام کو شراب کی محفل سجائیں گے۔ ہماری مسلح افواج نے جواب میں کمانڈر انچیف کے منہ پر وہ طمانچے جڑے کہ وہ مرتے دم تک منہ چھپاتا پھرا۔ لاہور کے سیکٹر کو میجر عزیز بھٹی جیسے سپوتوں نے سنبھالا، جان دے دی مگر وطن کی زمین پر دشمن کا ناپاک قدم قبول نہ کیا۔
چونڈہ کے سیکٹر پر(ہندوستان کا پسندیدہ اور اہم محاذ تھا)کو پاکستانی فوج کے جوانوں نے اسلحہ وبارود سے نہیں اپنے جسموں کے ساتھ بم باندھ کر ہندوستان فوج اور ٹینکوں کا قبرستان بنادیا۔ ہندوستان کی اس سطح پر نقصان اور تباہی کو دیکھ کر بیرون ممالک سے آئے ہوئے صحافی بھی حیران اور پریشان ہوئے پاکستانی مسلح افواج کو دلیری اور شجاعت کی داد دی اور کہہ اٹھے:ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے توں لبھدی پھریں بازار کڑے، اس کے علاوہ جسٹر سیکٹر قصور،کھیم کرن اور مونا باؤ سیکٹرز کے بھی دشمن کوعبرت ناک شکست اس انداز میں ہوئی کہ اسے پکاہوا کھانا، فوجی ساز و سامان،جیپیں اور جوانوں کی وردیاں چھوڑ کر میدان سے بھاگنا پڑا۔
پاکستان نیوی:۔ستمبر1965ء میں نیوی کی جنگی سرگرمیاں بھی دیگر دفاعی اداروں کی طرح قابل فخر رہیں۔ اعلان جنگ ہونے کے ساتھ بحری یونٹس کو متحرک و فنکشنل کر کے اپنے اپنے اہداف کی طرف روانہ کیا گیا۔ کراچی بندرگاہ کے دفاع کے ساتھ ساتھ ساحلی پٹی پر پٹرولنگ شروع کرائی گئی۔ (راقم ان ٹیموں کا حصہ رہا) پاکستان کے بحری،تجارتی روٹس کی حفاظت بھی پاکستان بحریہ کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اس لئے سمندری تجارت کو بحال رکھنے کے لئے گہرے سمندروں میں بھی یونٹس بھجوائے گئے۔ یہ امر تسلی بخش ہے کہ پوری جنگ کے دورن پاکستان کا سامان تجارت لانے لے جانے والے بحری جہاز بلا روک ٹوک اپنا سفر کرتے رہے۔ اس کے علاوہ ہندوستانی بحریہ کو بندرگاہوں سے باہر تک نہ آنے دیا۔ پاکستان نیوی کی کامیابی کا دوسرا ثبوت یہ ہے کہ ہے۔ ہندوستان کے تجارتی جہاز’’سرسوتی‘‘اوردیگر تو کتنے عرصہ تک پاکستان میں زیر حراست وحفاظت کراچی کی بندرگاہ میں رہے۔ 7ستمبر کا دن پاکستان کی فتح اور کامیابیوں کا دن تھا۔ پاکستان نیوی کا بحری بیڑا، جس میں پاکستان کی واحد آبدوزپی این ایس غازی بھی شامل تھی۔ ہندوستان کے ساحلی مستقر’’دوارکا‘‘پرحملہ کے لئے روانہ ہوئی۔اس قلعہ پر نصب ریڈار ہمارے پاک فضائیہ کے آپریشنز میں ایک رکاوٹ تھی۔ مذکورہ فلیٹ صرف 20منٹ تک اس دوار کا پر حملہ آور رہا۔ توپوں کے دھانے کھلے اور چند منٹ میں دوار کا تباہ ہو چکا تھا۔ پی این ایس غازی کا خوف ہندوستان کی نیوی پر اس طرح غالب تھا کہ ہندوستانی فلیٹ بندرگاہ سے باہر آنے کی جرأت نہ کرسکا۔ ہندوستانی جہاز’’تلوار‘‘کو پاکستانی بیڑے کا سراغ لگانے کے لئے بھیجا گیا مگر وہ بھی’’غازی‘‘ کے خوف سے کسی اور طرف نکل گیا۔
پاک فضائیہ:۔ائیر مارشل اصغر خان اور ائیر مارشل نور خان جیسے قابل فخرسپوتوں اور کمانڈروں کی جنگی حکمت عملی اور فوجی ضرورتوں کے پیش نظر تجویز کردہ نصاب کے مطابق پاک فضائیہ نے اپنے دشمن کے خلاف’’ہوا باز گھوڑوں کو تیار کر رکھا تھا‘‘جیسا کہ مسلمانوں کو اپنے دشمن کے خلاف تیاررہنے کا حکم ہے۔ یہ ہمارے ہوا باز7ستمبر کو اپنے اپنے مجوزہ ہدف کو حاصل کرنے کے لئے دشمن پر جھپٹ پڑے۔ ایک طرف سکوارڈرن لیڈر ایم ایم عالم جیسے سپوت نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں دشمن کے پانچ جہازوں کومار گرایا۔ تو دوسری طرف سکوارڈرن لیڈر سر فراز رفیقی اور سکوارڈرن لیڈر منیر الدین اور علاؤالد ین جیسے شہیدوں نے بھی ثابت کردیا کہ حرمت وطن کی خاطر ان کی جانوں کا نذرانہ کوئی مہنگا سودا نہیں ۔ پاکستان کے غازی اور مجاہد ہوا بازوں نے ہندوستان کے جنگی ہوائی اڈوں کو اس طرح نقصان پہنچایا کہ ’’ہلواڑا‘‘بنادیا ۔پاک فضائیہ نے میدان جنگ میں اپنی کارکردگی سے ثابت کردیا کہ وہ فرمان قائد اعظم کے مطابقSecond to None ہے۔ پاکستانی شہری:۔1965ء کی جنگ کا غیر جانبداری سے اور غیر جذباتی جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ بڑے سرکش اورخونخوار شکار کوپاکستان میں چھوٹے سے جال میں آسانی سے قید کرلیا۔ سب کچھ قائد اعظم کے بتائے اصول( ایمان، اتحاد،نظم) پر عمل کرنے سے حاصل ہوا۔کسی بھی زاویۂ نگاہ سے دیکھیں تو یہی اصول1965ء کی جنگ میں پاکستان کی کامیابی کامرکز اور محور تھے۔ پاکستانی قوم کی طرف سے ملی یکجہتی ،نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کی خاطر ہر طرح کا فرق مٹا کر اختلاف بھلا کرمتحد ہو کر دشمن کوناکوں چنے چبوانے کا بے مثال عملی مظاہرہ تھا۔
1965ء کی جنگ اور پاکستانی قوم کا جذبۂ حُریت :
ہمارا دل ہماری جاں ، اس پہ ہم سب ہوں قرباں
یہ ہم سب کی ہے پہچاں ، ہماری جان ہماری آن
پرچم اسکا جب لہرائے ، خوشی سے جھومیں نغمے گائیں
ہے یہ اللہ کا احسان ، ہمارا پیارا پاکستان
پاکستان ، پاکستان ، ہے یہ ہی اپنا ارمان
فلک سے اونچی اسکی شان ، ہمارا پیارا پاکستان
1951 میں برطانیہ کے مجبور کرنے کے باوجود پاکستان نے اپنی کرنسی کی قدر میں کمی نہیں کی جبکہ ہندوستان نے پاؤنڈ کے مقابلے میں اپنی کرنسی کی قدر میں برطانیہ کے کہنے پر کمی کر دی تھی مگر جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کی جنگ کی وجہ سے ہمارا یہ فیصلہ درست ثابت ہوا اور پاکستان کی زرعی اجناس بہتر قیمتوں پر برآمد ہوئیں اور پہلی دفعہ پاکستان کا تجارتی توازن دوسرے ممالک کے مقابلے میں مثبت رہا۔ اس بات کا تاج برطانیہ کو بڑا قلق تھا کہ پاکستان دولت مشترکہ کا ممبر ہونے کے باوجود اقتصادی امور میں اسکی ہدایات پر عمل نہیں کر رہا ہے۔ چنانچہ مغربی ممالک اور ہندوستان کو یہ خدشہ پیدا ہوا کہ اگر پاکستان ایشیا کا اقتصادی ٹائیگر بن کر ابھرتا ہے تو پھر پاکستان انکی اشیا ءدرآمد نہیں کریگا بلکہ عرب ممالک کی منڈیاں بھی مغربی ممالک اور ہندوستان کے ہاتھوں سے نکل جائیں گی۔ لہٰذا مغربی سامراجی ممالک اور ہندوستان کے مشترکہ اقتصادی مفاد نے ہمیں ستمبر 1965ءمیں بھارت سے جنگ لڑنے پر مجبور کر دیا۔ ہندوستان نے بہانہ کیا کہ پاکستان کی آرمی نے آپریشن جبرالٹر کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں گوریلوں کو لڑنے کیلئے بھیجا ہے مگر بالواسطہ جنگ کی وجہ سے کوئی بھی ملک تمام سرحدوں پر کھلی جنگ کا آغاز نہیں کرتا۔ آپریشن جبرالٹر تو ایک بہانہ تھا اور پاکستان کی اقتصادی ترقی ہندوستان کو ایک آنکھ نہیں بھا رہی تھی کیونکہ ہندوستان کی اس وقت کی لیڈر شپ کا خیال تھا کہ پاکستان اقتصادی مشکلات کی وجہ سے اپنا وجود قائم نہیں رکھ پائے گا اور دوبارہ ہندوستان کے ساتھ الحاق کرنے پر مجبور ہو جائیگا۔ مگر جب دنیا نے دیکھا کہ پاکستان اقتصادی محاذ پر کامیابیاں سمیٹ رہا ہے تو بزدل دشمن نے رات کی تاریکی میں پاکستان کی سرحدوں پر اچانک حملہ کر دیا جسکے نتیجے میں ہمارے وسائل ملک کے ترقیاتی کاموں سے ہٹ کر دفاع کی طرف منتقل ہو گئے۔ پاکستان کو امداد دینے والے مغربی ممالک کے کنسورشیم نے جنگ کا بہانہ بنا کر ہماری امداد بند کر دی اور اس طرح پاکستان میں ترقیاتی منصوبہ بندی کا سلسلہ منقطع ہو گیا اور پاکستان بدستور ایک پسماندہ اور ترقی پذیر ملک ہی رہا مگر 1965 کی جنگ نے پاکستان کو فوج اور عوام کے درمیان محبت، احترام اور ایثار اور قربانی کا جو رشتہ اور تعلق استوار کیا اس کی مثال رہتی دنیا تک نہیں ملے گی۔ ساری قوم سیسہ پلائی دیوار بن کر افواج پاکستان کی پشت پر کھڑی ہو گی۔ ہر طرف جنگی ترانوں کی گونج نے پاکستان کی فوج اور عوام کے دلوں کو اس طرح گرمایا کہ قوم کا بچہ بچہ پکار اٹھا ”اپنی جان نذر کروں اپنی وفا پیش کروں، قوم کے مرد مجاہد تمہیں کیا پیش کروں“ پھر ملکہ ترنم نورجہاں کی آواز فضا میں گونجی.... ”اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے، کیوں لبھدے پھریں بازار اے کڑے“ مجھے یاد ہے کہ 1965ءکی جنگ میں جب ہندوستان کے جنگی جہازوں نے سیالکوٹ قلعے پر بم گرایا تو ان فرار ہونے والے دشمن کے جہازوں کو ہمارے شاہینوں نے مار گرایا اور فضا میں لڑائی کے اس منظر کو سیالکوٹ کے شہریوں نے اپنے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر دیکھا۔ نعرہ تکبیر اور اللہ اکبر سے فضا گونج اٹھتی تھی۔ سائرن بجائے جاتے تھے کہ لڑائی کے دوران عوام گھروں میں کھودے گئے مورچوں میں پناہ لیں مگر عوام اس کی قطعاً پروا نہیں کرتے تھے اور اکثر تو رات کو گھروں میں بلیک آؤٹ بھی نہیں کرتے تھے۔ جذبے زندہ تھے چونڈہ کے محاذ پر دشمن کے سینکڑوں ٹینکوں نے حملہ کر دیا۔ جنرل ٹکا خان کے کہنے پر کئی سو بہادر فوجی اپنے جسموں پر بارود باندھ کر ان ٹینکوں کے نیچے لیٹ گئے اور چونڈہ بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بن گیا۔ ہم بچپن میں ایک کہانی پڑھا کرتے تھے کہ جب چونڈہ پر حملہ ہوا تو ایک جگہ تیل کے بڑے بڑے ڈرم پڑے ہوئے تھے۔ بزدل دشمن نہتے سویلین پر بمباری کر رہے تھے۔ ایسے میں 80 سالہ کریم بی بی کو خیال آیا کہ اگر جہازوں سے گرائے ہوئے بم ان تیل کے ڈرموں پر گریں گے تو بڑی تباہی آئیگی۔ وہ قوت ایمانی اور پاکستان کی محبت سے سرشار بوڑھی خاتون اس بلند جگہ پر بڑی مشکل سے پہنچتی ہے۔ جہاں تیل کے ڈرموں کا ذخیرہ پڑا ہوا تھا۔ وہ جنگی جہازوں کی گھن گرج اور شیلنگ کے باوجود گرتی پڑتی وہاں پر پہنچتی ہے اور پوری طاقت سے تیل کے ڈرموں کو پہاڑی سے نیچے دھکیل دیتی ہے اور پھر یہ تیل کے ڈرم آبادی سے دور ویرانے میں پہنچ جاتے ہیں۔ جنگ کے مورخین کا کہنا ہے کہ کریم بی بی کی اس بہادری‘ ہمت اور حوصلے نے گا¶ں کے سینکڑوں لوگوں کو مرنے سے بچا لیا۔ بی آر بی نہر پر جس طرح میجر عزیز بھٹی اور بریگیڈئر شامی نے دشمنوں کے عزائم کو ناکام کیا اسکی مثال ہماری نوجوان نسل کیلئے آج بھی مشعل راہ ہے۔ میجر عزیز بھٹی نے دشمن کے اس منصوبے کی راہ میں آہنی دیوار ثابت ہوئے کہ وہ بھارتی سپہ سالار صبح کا ناشتہ لاہور جم خانے میں کریگا۔ میجر عزیز بھٹی نے جام شہادت شریف اس بہادر ہیرو کا بھانجا ہے۔ میجر تجمل ملک نے باٹا پور کو ہندوستانی فوج کا قبرستان بنایا۔
معروف شاعر امجد اسلام امجد نے لکھا :
رستے میں کالی رات کے دیوار بن گئے
میرے شہید‘ صبح کے آثار بن گئے
لے کر سبق حسینؓ کے جذب و کمال سے
بدر و اُحد کے معرکۂ بے مثال سے
عزم و وفا کے آہنی کردار بن گئے
میرے شہید‘ صبح کے آثار بن گئے
سرحد کے اُس طرف بھی عدو‘ اِ س پار بھی
لَوٹا رہے ہیں شام و سحر‘ ان کے وار بھی
ہمت کا‘ اور صبر کا‘ معیار بن گئے
میرے شہید‘ صبح کے آثار بن گئے
ان کی شجاعتوں پہ ہے حیران زندگی
کرتے ہیں کیسے قوم پر قربان زندگی
کیسے رفیق‘ کیسے نگہدار بن گئے
میرے شہید‘ صبح کے آثار بن گئے
جنگِ 1965ء ، لاہور کو نئی زندگی ملی :
ستمبر 1965 کی پاک بھارت جنگ کے حوالے سے چھ ستمبر یومِ دفاع پاکستان کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ ایک دن اُن جذبوں، ولولوں اور حکمت عملی کو خراج عقیدت پیش کرنے کی غرض سے محض ایک علامت ہے۔ جو جنگ ستمبر کی روح تھی وگرنہ حقیقت یہ ہے کہ جنگ ستمبر 1965کے سترہ دنوں، 6ستمبر سے 23ستمبر تک کا ایک ایک لمحہ جرأت و بہادری اور اتحاد و یکجہتی کی ایسی تابندہ، تابناک اور درخشندہ روایات کا امین ہے جب دفاع وطن کی خاطر یہ قوم پاک افواج کے شانہ بشانہ یک جان ہو کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی۔ چنانچہ جنگ کے ان سترہ دنوں میں شجاعت و دلیری اور ایثار و محبت کی ایسی داستانیں رقم ہوئیں کہ جن کی نظیر ملنا مشکل ہے۔
1965 چھ ستمبر کی صبح منہ اندھیرے بھارت نے بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی پیشگی وارننگ کے بغیر لاہور پر ایک بڑا حملہ کر دیا۔ یہ سب کچھ غیرعلانیہ اور غیرمتوقع تھا۔ اس خوش فہمی میں بھارتی افواج کے کمانڈر انچیف نے یہ اعلان کر دیا کہ وہ آج شام کی شراب لاہور جم خانہ میں پیئیں گے۔ مگر عملاً کیا ہوا، شراب تو رہی ایک طرف میں اور میرے جری بہادر ساتھیوں نے رحمت باری تعالیٰ کے باعث انہیں لاہور کے جوہڑوں کا پانی بھی نہ پینے دیا۔ لاہور پر قبضہ کر کے یہاں جشن فتح منانے کے ناکام بھارتی خواب اور جنگ ستمبر کی ناقابل فراموش یادیں تازہ کرتے ہوئے جب کرنل (ر) شفقت بلوچ (تب میجر) مجھے اُن تاریخی لمحوں اور اپنے ساتھیوں کے تاریخ ساز کردار سے آگاہ کر رہے تھے تو وہ اس امر پر نازاں تھے کہ ان کی زیرقیادت صرف ایک سو دس جوانوں نے لاہور پر قبضہ کرنے والا وہ بھارتی خواب ہی ملیا میٹ کر دیا جو اگر خدانخواستہ شرمندہ تعبیر ہو جاتا تو یہ ہزیمت ہمیشہ کے لئے ہمارے لئے کلنک کا ٹیکہ بن جاتی۔
کرنل (ر) بلوچ بتا رہے تھے کہ یہ محض مفروضہ نہیں حقیقت ہے کہ بھارتی کمانڈر انچیف جنرل چودھری نے لاہور پر حملے کے چند گھنٹوں بعد ہی لاہور فتح کر کے جم خانہ میں جشن فتح منانے کا پروگرام ترتیب دے رکھا تھا اور اپنی طاقت و عددی برتری کی بناء پر اس کا دعویٰ اور خواب غلط بھی نہیں تھا کیونکہ دشمن نے لاہور فتح کرنے کے لئے جو منصوبہ بنایا تھا اس میں سہ طرفہ یلغار کی حکمت عملی اپنائی گئی تھی۔ باٹوپور، بھینی اور برکی پر بھارتی فوج کے تین ڈویژن حملہ آور ہو رہے تھے۔ تین جرنیلوں کی سربراہی میں لاہور کے جم خانہ کلب میں جشن فتح منانے کا پروگرام بنانے والے ان تین ڈویژنوں کی مجموعی نفری پاکستان کے مقابلے میں سات گنا زیادہ تھی۔ بھارت کے پیادہ سپاہیوں کی تعداد 35ہزار تھی۔ کرنل (ر) بلوچ بڑی روانی کے ساتھ مجھے تاریخ کے اُن لمحوں میں لئے چلے جا رہے تھے جب خدا کے نام پر حاصل کئے گئے اس وطن کے دفاع کے لئے معجزات کا ظہور ہونے جا رہا تھا۔ کرنل صاحب کہہ رہے تھے کہ چھ ستمبر کی صبح جب یہ کنفرم ہو گیا کہ بھارت کے ٹینک سرحد پار کر کے اس طرف دوڑے چلے آ رہے ہیں اس وقت ان کے زیرکمان کمپنی صرف ایک سو دس جوانوں پر مشتمل تھی۔ نہ کوئی ٹینک نہ توپ۔۔۔۔۔ صرف دو جیپوں پر ’آرآر‘گن نصب تھیں۔۔۔ اور بس لیکن اُن کے کمانڈر نے حکم دیا تھا کہ اسی ایک کمپنی کے ساتھ بھارت کے حملے کو روکو، چنانچہ انہوں نے اپنے جوانوں سے یہ کہا۔ ساتھیو! یہ امتحان کی گھڑی ہے ہندو کے سامنے مجھے شرمسار نہ کرنا۔ کرنل صاحب کا کہنا تھا میرے اس مختصر خطاب کے اختتام پر جوانوں نے جس انداز سے نعرہ تکبیر بلند کیا وہ مجھے عجیب طاقت، ہمت، عزم، حوصلہ اور سرشاری دے گیا۔ جس میں بے قراری بھی تھی اور یہ بے قراری جلد سے جلد اپنے مشن کی تکمیل تھی۔ چنانچہ قدرت نے میری یوں سرپرستی کی کہ مجھے لمحہ لمحہ، بہتر سے بہترین حکمت عملی سوجھتی چلی گئی۔ میں نے کم نفری کو دور تک پھیلا کر زیادہ ایریا کور کر لیا۔ مقصود یہ بھی تھا کہ دشمن کو ہماری حقیقی تعداد اور قوت کا بھی اندازہ نہ ہو سکے۔ مجھے حکم یہ تھا کہ کم از کم دو گھنٹے تک دشمن کو اسی پوزیشن پر روکے رکھوں۔ یہاں مقابلہ بہت سخت تھا۔ دشمن ہڈیارہ میں داخل ہو چکا تھا اور وہاں مورچہ بند ہو کر کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر نالہ عبور کرنا چاہتا تھا۔ ہمیں سامنے سے شدید فائرنگ کا سامنا تھا۔ کرنل صاحب یہ سب یوں بتا رہے تھے جیسے یہ کل ہی کی بات ہو۔ ان کے ماتھے پر پسینے کے قطرے ستاروں کی مانند چمک رہے تھے۔ اس موقع پر میں نے کرنل صاحب کا بایاں ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔( کرنل(ر) شفقت بلوچ فطری طور پر لیفٹ ہینڈر تھے۔)کرنل صاحب یہاں کہیں آپ کو گولی بھی تو لگی تھی ناں؟ کرنل صاحب نے میرے ہاتھ کو پیچھے کرتے ہوئے پہلے بائیں ہاتھ کو گھما کر دیکھا۔ پھر دائیں اور بازو پر یہی مشق کی او رمسکرا کر کہنے لگے۔ سچی بات ہے کہ اب تو یہ بھی یاد نہیں کہ بائیں بازو پرگولی لگی تھی یا دائیں بازو پر لیکن یہ مجھے ضرور یاد ہے کہ جب یہ گولی مجھے لگی تو درد کی ٹیس اُٹھتے ہی میں نے خون آلود بازو لہرا کر جوانوں کو دکھاتے ہوئے کہا۔ دیکھو کافر کی گولی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ یہ دیکھو میں تمہارے سامنے کھڑا ہوں۔
کرنل(ر) شفقت بلوچ نہ خود کوئی افسانوی کردار تھے نہ ہی وہ مجھے کسی افسانے کا باب سنا رہے تھے بلکہ وہ تو اپنی تاریخ کے اوراق پلٹ رہے تھے۔ جس کا وہ خود بھی ایک اہم اور مرکزی کردار تھے۔ میں ان کی گفتگو سنتے ہوئے جذباتی ہو رہا تھا مگر ان کے لہجے اور انداز میں ٹھہراؤ اور دھیما پن تھا۔ میں نے پھر سوال کیا۔ اُس بے سروسامانی اور اچانک حملے کے باوجود آپ اتنے بڑے دشمن سے کیسے نبردآزما ہوئے، کوئی خوف دل میں نہیں آیا؟ کرنل صاحب نے میرا سوال تحمل سے سنا پھر اپنے سامنے رکھی فائلوں میں کچھ تلاش کرنے لگے۔ جلد ہی انہیں ڈھیروں اخباری تراشوں میں سے مطلوبہ تراشہ مل گیا۔ کرنل صاحب نے وہ تراشہ میری طرف بڑھا دیا اور بولے ذرا اس کا مطالعہ کریں۔ آپ کو اپنے سوال کا جواب مل جائے گا۔ یہ کہہ کر انہوں نے صوفے کے ساتھ ٹیک لگائی اور آنکھیں موند لیں۔ میں نے اپنی ساری توجہ مذکورہ تراشے پر مرکوز کر لی لکھا تھا۔
’’جب بریگیڈیئر اصغر نے وائرلیس پر میجر شفقت بلوچ سے رابطہ کیا تو دشمن کو ہڈیارہ ڈرین سے اس پار پہنچے دو گھنٹے سے زیادہ وقت ہو چکا تھا۔ کمانڈر کہہ رہا تھا۔ میجر بلوچ تمہارا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔ میجر بلوچ نے جواباً کہا سر میں آخری گولی اور آخری سپاہی تک لڑوں گا۔‘‘ یہ صرف میجر شفقت بلوچ ہی کا عزم نہ تھا بلکہ کمپنی کا ہر جوان اسی عزم سے لڑ رہا تھا اور وہ ڈٹے ہوئے تھے۔ دشمن کا فائر آ رہا تھا۔ لیکن وہ پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہ تھے۔ اس گھڑی سب سے اہم چیز وقت تھا۔ کمانڈر نے کہا جتنا وقت مجھے دے سکتے ہو دو۔ وہ بی آ ر بی کے اس پار دفاع کی آہنی فصیل تعمیر کرنے کے لئے اپنے کمانڈر کو زیادہ سے زیادہ وقت دینے کا تہیہ کئے ہوئے تھے۔ دشمن کے پاس ٹینکوں کی کمی تھی نہ نفری کی۔ 18کمپنیاں ایک کمپنی کے خلاف برسرپیکار تھیں۔ یہ وقت اور انسان کے درمیان جنگ تھی جونہی میں نے نظریں تراشے سے ہٹائیں شفقت بلوچ نے تراشہ میرے ہاتھ سے لے لیا اور گویا ہوئے۔ مجھ سے میرے کمانڈر نے وقت مانگا تھا۔ وقت کے لئے اگر مجھے اپنی کمپنی ساری کی ساری ایک ایک کر کے کٹوانا پڑتی تو خدا کی قسم گریز نہ کرتا۔ اس وقت زندگی کی کوئی قیمت نہ تھی ۔اپنے کمانڈر کو ایک سو منٹ دینے کے لئے میں اپنے سمیت سو جوانوں کا نذرانہ بھی دینے کے لئے تیار تھا۔ اپنے عزم و عمل کا تذکرہ کرنے کے بعد کرنل صاحب نے بتایا اُدھر دشمن لاہور پہنچ کر جم خانہ میں جشن فتح منانے کے لئے بے تاب تھا۔ اس کے ٹینک یلغار کے لئے مسلسل اکٹھے ہو رہے تھے۔ چنانچہ ہائی کمان سے مشورے کے بعد میں نے جوانوں کو حکم دیا کہ ہڈیارہ ڈرین پل کو بارودی سرنگیں لگا دو۔ کئی جوان جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے لئے والنٹیئر کر رہے تھے۔ زمین حقائق کا یہی تقاضہ اور ضرورت تھی چنانچہ اعلیٰ حکمت عملی کے تحت دشمن کے آگے بڑھنے سے پہلے ہی پل کو اڑا دینے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ بارود کو آگ دکھائی گئی ایک زور دار دھماکہ ہوا تاہم پل پوری طرح تباہ نہ ہوا اور یہ اب بھی آمدورفت کا کام دے سکتا تھا۔ مجھے ذرا سی دیر کو مایوسی ہوئی میں شدید زخمی ہاتھ کے باوجود پہلے سے زیادہ عزم کے ساتھ سرگرم تھا۔ مجھے ہائی کمان کی طرف سے آرام کا مشورہ بھی دیا گیا۔ مگر وقت کا تقاضا کچھ اور تھا۔ چنانچہ میں نے متبادل حکمت عملی اپنائی اور سامنے سے آنے والے ٹینکوں پر فائر کھول دیا یوں دشمن کی پیش قدمی رک گئی اور یہاں قبضے کا خواب تو ادھورا رہ گیا مگر دشمن کے ٹروپس میری کمپنی سے دور ہڈیارہ ڈرین عبور کر کے پچھلی طرف جمع ہونے لگے۔ اب صرف ایک ہی آپشن تھا۔ کرنل صاحب کی آواز فضا میں گونجی۔ زخمی ہاتھ فضا میں بلند ہوا اور نالے کے اس پار آگ اور دھوئیں کے بادل امڈ پڑے۔ لاہور فتح کرنے کا خواب دیکھنے والے ملیا میٹ ہو گئے۔ اس ایکشن سے لاہور کی دہلیز کے پہلے محافظ (تب) میجر شفقت بلوچ کا مشن کامیابی سے ہمکنار ہوا اور یوں لاہور سربلند ہوا۔
بلوچ صاحب کی اس کامیابی پر افواج پاکستان کی قیادت نازاں تھی۔ اس معرکے میں دو جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ بے سروسامانی اور دشمن کی طوفانی یلغار کے باوجود دشمن کو منہ کی کھانی پڑی۔ اس موقع پر کمانڈنگ آفیسر کی خوشی دیدنی تھی کہ وہ حالات کی نزاکت سے پوری طرح آگاہ تھے۔ انہوں نے اپنی ہائی کمان کو صورت حال سے آگاہ کیا تو سب اس ناقابل یقین کیفیت پر عش عش کر اٹھے کہ میجر بلوچ نے رحمت الٰہی سے ناممکن کو ممکن بنا دیا تھا۔ کرنل صاحب کا کہنا تھا کہ آج میں سوچتا ہوں کہ یہ سب کچھ کیسے ہوا تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ جنگی حکمت عملی، بہادری، شجاعت اور جذبہ سب اپنی جگہ پر مگر پورے ایمان اور یقین سے کہتا ہوں کہ جنگ ستمبر کے دوران دشمن کی یلغار کو روکنے اور اسے پسپا کرنے کے لئے اﷲ کی مدد میرے ساتھ تھی۔ وگرنہ صرف ایک سو دس جوانوں کی کمپنی توپوں اور ٹینکوں سے مسلح ایک بڑی سپاہ کا مقابلہ کس طرح کر سکتی تھی۔ جبکہ دشمن کا حملہ بھی اچانک تھا۔
کرنل (ر) بلوچ صاحب نے کہا: ’’مجھے اﷲ تعالیٰ نے ہر نعمت سے سرفراز کیا ہے۔ مگر جو نشہ، سرور اور سرشاری مجھے اپنی اس کامیابی پر ہوئی اس کی لذت سے آج اس بڑھاپے میں بھی خود کو توانا محسوس کرتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں زمین سے محبت نے مجھے ایک عجیب قوت عطا کر رکھی ہے۔ خدا کرے ہماری موجودہ اور آئندہ نسلیں بھی اس حرارت کو محسوس کر سکیں جو جنگ ستمبر کے دنوں میں ہمارا تشخص بنی رہی۔‘‘
آج کرنل (ر) شفقت بلوچ ہم میں نہیں مگر ان کی قربانی اور وطن سے محبت کی داستان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہمارا لہو گرماتی رہے گی۔
اے سپاہ وطن اے سپاہ وطن
میرے جری جواں باغبانِ چمن
عظمتوں کا یہ پرچم سلامت رہے
یہ سلامت رہے تا قیامت رہے
ہے تمہارے ہی دم سے یہ بوٹے سمن
اے سپاہ وطن اے سپاہ وطن
تم گزرتے ہو دشوار حالات سے
ہم بھی واقف تمہارے ہیں جذبات سے
دُور اپنوں سے رہ کر دفاع میں مگن
اے سپاہ وطن اے سپاہ وطن
دشمنوں کو کہاں جرأتیں اس قدر
دیکھ پائیں وطن کو جو میلی نظر
بھانپ لیتے ہو تم دشمنوں کا چلن
اے سپاہ وطن اے سپاہ وطن
اپنی ساری وفائیں تمہارے لئے
کر رہے ہیں دعائیں تمہارے لئے
سخت فولاد سے تم ہو شعلہ بدن
اے سپاہ وطن اے سپاہ وطن
تم پہ اﷲ ہمیشہ رہے مہرباں
سخت ہو تم تمہارے ارادے چٹاں
ہے سکوں سے غزالی بھی محو سخن
بس تمہارے ہی دم سے سپاہ وطن
آزادی بہت بڑی نعمت ہے اور نعمت قربانی مانگتی ہے۔ جتنی بڑی نعمت ہو اتنی بڑی قربانی ہوتی ہے۔ ہمارے اسلاف نے قربانیاں دیں جس کے نتیجے میں ہم آج آزاد فضا میں جی رہے ہیں۔ دنیا کے نقشے پر ایک آزاد وطن اور آزاد قوم کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔قوموں اورملکوں کی تاریخ میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو عام ایام کے برعکس بڑی قربانی مانگتے ہیں۔یہ دن فرزندان وطن سے حفاظت وطن کے لئے تن من دھن کی قربانی کا تقاضا کرتے ہیں۔قربانی کی لازوال داستانیں رقم ہوتی ہیں، سروں پر کفن باندھ کر سرفروشان وطن آزادی کو اپنی جان و مال پر ترجیح دے کر دیوانہ وار لڑتے ہیں۔ کچھ جام شہادت نوش کر کے امر ہو جاتے ہیں اور کچھ غازی بن کر سرخرو ہوتے ہیں۔ تب جا کر کہیں وطن اپنی آزادی، وقار اور علیحدہ تشخص برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ایسا ہی ایک دن وطن عزیز پاکستان پر بھی آیا جب بھارت نے اپنے خبث باطن سے مجبور ہو کر6 ستمبر 1965ء کو پاکستان پر شب خون مارا۔ بھارت کا خیال تھا کہ راتوں رات پاکستان کے اہم علاقوں پر قبضہ کر لیں گے اور ناشتے میں لاہور کے پائے کھائیں گے لیکن انہیں اندازہ نہیں کہ انہیں کس قوم سے پالا پڑا ہے۔ افواج پاکستان اور عوام پاکستان نے مل کر دیوانہ وار دشمن کا مقابلہ کیا۔ سروں پر کفن باندھ کر دشمن سے بھڑ گئے، جسموں سے بارود باندھ کر ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے، عوام نے اپنا سب کچھ دفاع وطن کے لئے قربان کر دیا اور ہندو بنیے کے ناپاک عزائم کو رزق خاک بنا دیا۔طاقت کے نشے سے چور بھارت پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کے لئے آیا تھا لیکن ہمیشہ کے لئے ناکامی کا بد نما داغ اپنے سینے پر سجا کر واپس گیا۔ یہ صورتحال دشمن جرنیلوں کے لئے سخت ہزیمت کا باعث بن گئی انہوں نے لاہور سیکٹر پر ناکامی سے دوچار ہونے کے بعد سیالکوٹ سیکٹر میں بھی جنگ چھیڑ دی۔ وہاں بھی دشمن کی فوج اپنے مذموم عزائم کی تکمیل نہ کرسکی اور پاکستانی جوانمردوں نے بھارتی ٹڈی دل فوجیوں کو بھاگنے پر مجبور کردیا۔ چونڈہ کے محاذ پر وطن کے بہادر سپوتوں نے ٹینکوں کی سب سے بڑی عالمی جنگ میں چونڈہ کا میدان دشمن کے ٹینکوں کا قبرستان بنادیا۔ پاک فوج کے نڈر جوانوں نے چھمب سیکٹر میں پہاڑوں پر موجود دشمن کے فوجیوں کی گولہ باری کے باوجود کھلے میدان میں اپنی پیش قدمی سے انہیں مورچوں سے بھاگنے پر مجبور کردیا، پاک فوج کے جیالے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہوئے اس حد تک آگے چلے گئے کہ بزدل بھارتی اپنے آہنی مورچے چھوڑ کر دم دبا کر ایسے بھاگے کہ ان کی جوتیاں اور نیکریں دریائے توی کے کنارے (چھمب) کے میدان میں بکھری ہوئی دیکھی گئیں۔ راجہ عزیز بھٹی شہید، محفوظ شہید، شبیر شریف شہید، محمد اکرم شہید اور سوار محمد حسین شہید جیسے جوانمردوں نے شجاعت اور بہادری کی ایسی داستانیں رقم کیں کہ دشمن بھی داد دئیے بغیر نہ رہ سکا۔ زمینی افواج کے ساتھ ساتھ بحری اور فضائی افواج نے بھی دشمن کی برتری کے خواب سمندروں اور فضاؤں میں بکھیر کر رکھ دیئے۔ پاک بحریہ نے محدود وسائل کے باجود دشمن کے ٹھکانوں پر کاری ضربیں لگا کر ثابت کیا کہ وہ اپنی سمندری حدود کی نگہبانی کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ فضائیہ کے پائلٹوں نے نہ صرف حملہ آور بھارتی طیاروں کے پائلٹوں کو دن میں تارے دکھا دئیے بلکہ دشمن کی حدود میں جاکر ایسے کارنامے دکھائے کہ دنیا مدتوں بھلا نہیں سکے گی اور دشمن پر ایسی ہیبت بٹھا دی کہ اب بھی یاد کرکے بھارتی سورماؤں کی روح کانپ اٹھتی ہوگی۔ بھارتی حکمرانوں کو ستمبر کی جنگ کے 17 دنوں میں اس بات کا بخوبی اندازہ ہوگیا ہوگا کہ انہوں نے کس قوم کو للکارا ہے۔ انہیں یہ بھی احساس ہوا ہوگا پاکستانی قوم نے قیام وطن کے بعد سے 18 سالوں میں سو کر وقت نہیں گزارا بلکہ اس کی حفاظت کے لئے لمحہ بہ لمحہ آنکھیں کھلی رکھی ہوئی ہیں۔ شاید وہ اس بات سے بھی واقف نہیں کہ جو زمین شہداء کے لہو سے سیراب ہوتی ہے وہ بڑی زرخیز اورشاداب ہوتی ہے۔ اس کے سپوت اپنی دھرتی کی طرف اٹھنے والی ہر انگلی کو توڑنے اور اس کی طرف دیکھنے والی ہر میلی آنکھ کو پھوڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جان وار دیتے ہیں لیکن وطن پر آنچ نہیں آنے دیتے۔ انتہائی بے سرو سامانی کے عالم میں بھی جرات و بہادری کی وہ درخشاں مثالیں قائم کی گئیں کہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ جنگ ستمبر کے 17 دنوں میں پوری قوم نے اپنے مادر وطن کے محافظوں کے ساتھ پورے عزم اور یقین کے ساتھ جاگ کر وقت گزارا۔ ان 17 دنوں نے پوری قوم میں اتحاد و یک جہتی کی نئی روح پھونک دی جس نے پوری قوم کو یک جان کردیا۔ ہر پاکستانی جذبہ جہاد سے سرشار تھا اور جنگ ستمبر کو حق و باطل کا معرکہ سمجھتا تھا۔ ہر شخص جذبہ حب الوطنی سے سرشار تھا، ذاتی مفاد کو پس پشت ڈال کر کدورتیں ختم کردیں۔ نہ تو اشیا ضروریہ کی مصنوعی قلت پیدا کی گئی اور نہ ہی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ بلیک آؤٹ ہوئے لیکن نہ تو چوری چکاری ہوئی اور نہ ہی کوئی ڈاکہ پڑا، حتیٰ کہ لڑائی جھگڑے کا ایک مقدمہ بھی درج نہ ہوا۔ ہر شخص قربانی کا پیکر بن گیا۔ چھوٹے چھوٹے بچوں نے"ٹیڈی پیسہ ٹینک سکیم" میں لاکھوں روپے جمع کرائے۔ جس طرح فوجی جوانوں نے دن رات جاگ کر وطن کی حفاظت کی ذمہ داری ادا کی اسی طرح پوری قوم شانہ بشانہ ان کے ساتھ رہی کھانے پینے اور ضرورت کی دیگر اشیا محاظ جنگ پر اور ان کے مورچوں تک پہنچائیں۔ یہی وہ جذبہ تھا کہ ہندو دشمن کے دل میں بھارت کی تقسیم پر جو انتقام کی آگ تھی وہ ٹھنڈی نہ ہوسکی اور وہ ناکامی کی صورت میں اس انتقام کی آگ کے شعلوں میں خود ہی جل کر بھسم ہوا۔ آج ہمیں ایک نہیں بلکہ پاک سرزمین پر بہت سے محاذوں پر کئی دشمنوں کا سامنا ہے، ہمیں جہالت کے خلاف جنگ کرنی ہے، غربت کا خاتمہ کرنا ہے، خوشحالی کے لئے جان لڑانی ہے، معاشرتی برائیوں کا قلع قمع کرنا ہے، مذہبی فرقہ واریت کے خلاف ہتھیار اٹھانے ہیں۔ آئیے ملک دشمن عناصر کی گھٹیا سازشوں کو بے نقاب کرنے کے لئے ایک ہوجائیں اور ارض پاک کی سلامتی کے لئے تجدید عہد کریں۔آئیے مل کر عہد کریں کہ وطن عزیز پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر وطن عزیز کی فلاح اور دفاع کے لئے کردار ادا کریں گے۔ اور اپنے قول و فعل سے کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جس سے وطن عزیز کی عزت پر حرف آ سکے،کیونکہ سن پینسٹھ کی جنگ سے صرف اٹھارہ مہینے قبل ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کے افق پر اچانک نہایت جو خوشگوار تبدیلی آئی تھی اور امیدوں کی دھنک ابھری تھی جب طویل تیس برس کے تعطل کے بعد مسئلہ کشمیر کے تصفیہ کے امکانات روشن ہوئے تھے۔
گو، سن تریسٹھ میں مسئلہ کشمیر پر بھٹو سورن سنگھ مذاکرات ناکام رہے تھے لیکن ان مذاکرات میں پہلی بار پاکستان نے استصواب رائے شماری کے علاوہ تصفیہ کے لیے دوسرے حل تلاش کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی اور جنگ بندی لائین میں ردوبدل کی بنیاد پر کشمیر کی تقسیم کی تجویز بھی پیش کی تھی۔امریکا کے محکمہ خارجہ کی ستائیس جنوری سن چونسٹھ کی یادداشت میں اس کی تصدیق کی گئی تھی کہ ’سن تریسٹھ کے دو طرفہ مذاکرات میں پاکستان نے استصواب رائے کے علاوہ دوسری تجاویز پر غور کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی اور ہندوستان نے کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کیا تھا اور علاقائی ردوبدل پر آمادگی ظاہر کی تھی‘۔اسی پس منظر میں ہندوستان کے وزیراعظم نہرو نے آٹھ اپریل سن چونسٹھ کو شیخ عبداللہ کو طویل نظر بندی کے بعد رہا کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس فیصلہ کے دفاع میں انہوں نے لوک سبھا میں کہا تھا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے تصفیہ کے لیے پاکستان کے ساتھ آئینی تبدیلوں کے خواہاں ہیں۔ گو انہوں نے ان آئینی تبدیلیوں کی وضاحت نہیں کی تھی لیکن یہ قیاس کیا جاتا تھا کہ وہ ہندوستان پاکستان اور کشمیر کا ڈھیلا ڈھالا کنفیڈریشن چاہتے تھے یا کشمیر کے کچھ علاقوں کو مشترکہ کنٹرول میں رکھنا چاہتے تھے۔
1965 میں پاکستان اور بھارت کی جنگ کے دوران کا ایک منظر:
یہ حقیقت ہے کہ شیخ عبداللہ نہرو کی آشیرباد کے ساتھ پاکستان گئے تھے جہاں انہوں نے ایوب خان سے نہرو کے ساتھ سربراہ مذاکرات کے امکان پر بات کی تھی لیکن اسی دورے میں دلی سے نہرو کے انتقال کی خبر آئی اور شیخ عبداللہ کو ہندوستان واپس جانا پڑا۔
بلاشبہ نہرو کے جانشین لال بہادر شاستری نہرو کے انداز فکر کے مطابق کشمیر کے تصفیہ کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے خواہاں تھے اور اسی مقصد سے انہوں نے ستمبر سن چونسٹھ کے اوائل میں جے پرکاش نارائین کی قیادت میں ایک وفد پاکستان بھیجا تھا۔ پھر اسی پس منظر میں لال بہادر شاستری نے بارہ اکتوبر سن چونسٹھ کو کراچی کے ہوائی اڈے پر ایوب خان سے ملاقات کی تھی۔ چونکہ چند ماہ بعد پاکستان میں صدارتی انتخاب ہونے والے تھے لہذا اس ملاقات میں لال بہادر شاستری نے صدارتی انتخاب کے بعد کشمیر کے تصفیہ کے لیےمذاکرات کا وعدہ کیا تھا۔
لیکن حالات نے اس وقت پلٹا کھایا جب ہندوستان میں وزیر داخلہ گلزاری لال نندہ اور حزب مخالف جن سنگھ نے لال بہادر شاستری پر اس قدر سخت دباؤ ڈالا کہ وہ کشمیر کو ہندوستان میں مزید مدغم کرنے کے لیے آئین میں ترمیمات پر مجبور ہو گئے جن کے تحت ریاستی اسمبلی کو صدر ریاست کے انتخاب کے حق سے محروم کر کے دلی کو گورنر کی تقرری کا حق دے دیا گیا اور لوک سبھا میں پہلی بار کشمیر کی چار نشستیں مخصوص کی گئیں۔
دوسری طرف ذوالفقار علی بھٹو اور عزیز احمد نے رن آف کچھ کے معرکہ میں پاکستان کی جیت کے بعد آپریشن جبرالٹر کا ایسا جال پھیلایا کہ ایوب خان بے دست و پا رہ گئے۔ ائر مارشل اصغر خان نے سن پینسٹھ کی جنگ کے بارے میں اپنی کتاب ’دی فرسٹ راؤنڈ انڈو پاک وار سکسٹی فائیو‘ میں، اس زمانہ کے فضائیہ کے سربراہ ائرمارشل نور خان نے ڈیلی نیوز اور جنگ کے ایک انٹرویو میں اور خود آپریشن جبرالٹر میں شامل بریگیڈیر فاروق اور کرنل غفار مہدی سب نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس آپریشن کی منصوبہ بندی میں بہت سقم تھا اور جب ایوب خان نے خطرہ ظاہر کیا تھا کہ اس آپریشن کے نتیجہ میں دونوں ملکوں میں بھر پور جنگ بھڑک سکتی ہے تو بھٹو اور عزیز احمد نے یہ کہا تھا کہ امریکیوں نے انہیں یقین دلایا ہے کہ ہندوستان بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ اگر کوئی ایسی یقین دہانی تھی تو وہ چھ ستمبر کو درست ثابت نہیں ہوئی۔
بہرحال اس زمانہ میں دونوں ملکوں میں ایسے عناصر طاقت ور اور باثر ثابت ہوئے جو برصغیر کو معرکہ آرائی اور جنگ کی آگ میں دھکیلنے پر تلے ہوئے تھے اور اسی وجہ سے حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ دونوں ملک تیزی سے بھرپور جنگ میں کود پڑے جس نے بہت جلد بر صغیر کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔
خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
(احمد ندیم قاسمی )
کچھ دن پہلے کسی پروفیسرمحمد شاہد اقبال صاحب نے مجھ سے سوال کیا کہ 1965 کی جنگ میں تم کہاں تھے؟ جواب دیتے دیتے بہت ساری یادیں ذہن کی اسکرین پر تیزی سے اُترتی اور گزرتی چلی گئیں۔ میں سوال کرنے والے کو بتا رہاتھا 1965 کی جنگ میرے بچپن کی یادوں کی بنیاد رہی ہے،دس بارہ برس کا تھا۔ ون یونٹ کا دور تھا۔ والد صاحب لاہور میں سرکاری ملازمت کر رہے تھے۔ میں نے آنکھ کھولی تو خود کو لاہور ہی میں پایا۔ وحدت کالونی لاہور کے سی بلاک میں ہمارا سرکاری گھر تھا۔جوبعد میں "جام صادق صاحب کے" دورِ حکومت میں "سندھ حکومت "نے واپس لے لیا،کیونکہ والد صاحب (جناب سید انوارحسین حمیدی بدایونی) کراچی "کےڈی اے میں آچکے تھے،یا بلائے جاچکے تھے۔اپنی ڈیفنس کی ملازمت کے سلسلے میں والد صاحب سیال کوٹ اور لاہور میں رہا کرتے۔ہم لوگ لاہور میں تھےکیونکہ میرے ایک چچا"پاشا چچا"لاہور کے محکمۂ ڈاک میں ملاز م ہوگئے تھے۔
ایک دن میں نے سنا کہ جنگ ہو گئی ہے۔ جنگ پتا نہیں کیسی ہوتی ہے! ذہن ابھی اتنا با خبر نہ ہوا تھا۔ وہ سرکاری ملازمین جو دوسرے صوبوں سے آ کر لاہور میں رہائش پذیر ہوئے تھے انہیں شاید ہدایات دی گئی ہوں گی کہ اپنی اپنی فیملی کو اپنے اصل علاقوں میں بھیج دیں۔ مجھے بس امی جان اور ابو کے بیچ کی گفتگو یاد ہے۔ ابوچاہ رہے تھے کہ میں اور امّی جان کراچی یا بڑے ماموں صاحب کے پاس حیدر آباد(سندھ) چلے جائیں۔ مگر والدہ صاحبہ پورے یقین اور ایمان کے ساتھ ڈٹی کھڑی تھیں کہ موت اٹل ہے۔ جہاں لکھی ہے، وہیں آئے گی۔ بچانے والے کی ذات سب سے بڑی ہے۔ وہ والد صاحب کو تنہا چھوڑنے کی کبھی بھی قائل نہیں رہی تھیں۔ بہت سے گھر خالی ہو گئے مگر ہم 16/C لاہور میں بیٹھے رہے۔
ہمارے دائیں بائیں کے گھروں میں لاہور کی پنجابی فیملیز رہتی تھیں، جن میں سے ایک گھر15/C کی خواتین بہت ہی حوصلہ مند اور دبنگ تھیں۔ ان کے بھائی ارشاد حسین صحافی ہوا کرتے تھے۔ ایک بہن بلقیس حسین کاظمی بھی پائلٹ اسکول کی پرنسپل تھیں اور ایک بہن نرگس حسین کاظمی گو کہ پروفیشنل ٹیچر تو نہیں تھیں مگر میری بنیادی تعلیم و تربیت میں ان کا بڑا حصّہ اور اثر رہا تھا۔ وہی والدہ کی بھی گہری سہیلی بھی تھیں۔ ان کے اور ہمارے گھر کے بیچ صرف ایک چھوٹی سی دیوار تھی۔ پاکستان اُن کے اندر رچا بسا تھا۔ مجھے پاکستان سے روشناس انہوں نے کرایا، جس کی وجہ سے لگتا تھا کہ پاکستان تو ازل سے اس زمین پر موجود ہے۔ پتاہی نہیں تھا کہ پاکستان صرف اٹھارہ سال کا جوان ہے۔ پھر اچانک 1965 کے ایک دن پتا چلا کہ ازل سے اس زمین پر موجود پاکستان کا ایک دشمن بھی ہے، جس کا نام ہندوستان ہے۔ پھر پتا چلا کہ وہ کافر ہیں اور ہم مسلمان ہیںاور اللہ مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ آہستہ آہستہ معاملات کھلتے گئے کہ ہم عظیم قوم ہیں۔ ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا،وغیرہ۔ فتح ہمارا حق ہے۔ ہم شہید، غازی اور مجاہد ہیں۔
جنگ شروع ہو چکی تھی۔ بظاہر زندگی معمول کے مطابق رواں دواں تھی،لیکن والد صاحب مجھے "کالی مُوری کالج"(حیدرآباد سندھ)میں سال اوّل کے داخلے کی تنبیہہ کئے جارہے تھے اور امی اور ابو کےدرمیان ایک سر جنگ کا سا آغاز ہوچلا تھا۔
گو کہ گھروں کے بیچ بنے گراؤنڈ میں خندقیں کھود دی گئی تھیں۔ کچھ وردی والے بھی آگئے تھے جنہوں نے خطرے کے وقت،ہمیں خندق میں پناہ لینا سکھایا تھا۔ خطرے کے وقت سائرن بج اُٹھتے مگر خندقیں خالی پڑی رہتیں۔ والدہ صاحبہ اور دادی صاحبہ تو خندق میں بیٹھنے سے قطعی انکار کر دیتیں کہ مجھے جیتے جی قبر میں نہیں بیٹھنا۔ میں اور کالونی کے کچھ بچے دن بھر ان خندقوں میں چور سپاہی کھیلا کرتے تھے۔ جنگی جہاز زنّاٹے سے سروں پر سے گزرتے تو ہم ہاتھ ہلا ہلاکر انہیں سلام کرتے۔ ان کی اُڑان اتنی نیچی ہوتی کہ لگتا ابھی اسی گراؤنڈ میں اُتر پڑیں گے! نیچی اُڑان کی وجہ سے ایک گمان سا گزرتا کہ اندر بیٹھا جوان ہمیں بھی ہاتھ ہلا کر سلام کا جواب دیتا ہے!ہاہا۔۔پاک فوج زندہ باد !
پھر جنگ کی وجہ سے ایک عدد سیاہ رنگ بھاری بھرکم سا فون ہمارے گھر میں لگ گیا، شاید ایمرجنسی کی صورت میں رابطے کے لیے۔ وہ فون ایمرجنسی میں ہمارے بلاک کے دوسرے لوگوں کے استعمال کے لیے بھی تھا۔ میں فون کے گرد منڈلاتا کہ کب وہ بجتا ہے کہ میں اسے اٹھاؤں اور بات کروں۔ خود نہ بھی بجتا تو بھی رسیور کان پر رکھ کر اس کی آواز سننا ایک دلچسپ مشغلہ تھا!
معمول کی زندگی میں ایک اور چیز بہت ہی اہم ہو گئی تھی اور وہ تھا ،ریڈیو۔ ایک ایسا مرکز جس کے گرد بیٹھنا بہت ضروری ہو گیا تھا۔ میرے کانوں میں آج بھی شمیم اعجاز کی آواز گونجتی ہے ۔۔۔۔۔ یہ ریڈیو پاکستان ہے۔۔۔ اب آپ شمیم اعجاز سے خبریں سنیے ۔۔۔۔ خبریں سمجھ تو نہیں آتی تھیں مگر الفاظ ذہن میں رچنا بسنا شروع ہو گئے۔ مثلاً محاذ، سرحد، واہگہ، جوڑیاں، ہمارے جوان، پاک فوج، شہادت، پیش قدمی، جوان مردی، منہ کی کھانی، دشمن، بھارت، شاستری، میجر عزیز بھٹی شہید، صدر ایوب، بمباری، جانی نقصان، تباہی، فضائی حملہ وغیرہ وغیرہ،
ان خبروں کے ساتھ ساتھ سننے والوں کے چہروں کے اتار چڑھاؤ میں مجھے خوف اور پریشانی یاد نہیں پڑتی۔ گو کہ دبی دبی سرگوشیوں کی سی آوازیں بھی سنائی دیتی تھیں کہ لاہور کو خطرہ ہے، پر زندگی معمول کے مطابق گزر رہی تھی۔ شمیم اعجاز کے لیے بہت بعد میں سنا تھا کہ خبریں پڑھتے ہوئے شاید ان کے سامنے وہ خبر بھی پڑھنے کے لیے رکھ دی گئی تھی جس میں ان کے بھائی کی شہادت کی خبر درج تھی، جو انہوں نے بڑے حوصلے کے ساتھ پڑھ دی تھی۔
ہاں مگر راتیں معمول کے مطابق نہیں ہوتی تھیں۔ بلیک آؤٹ ہوجاتا تھا۔ کھڑکیوں کے شیشوں پر سیاہ رنگ کے کاغذ چڑھا دیے گئے تھے۔ ایک ذرا سی موم بتی جلتی تھی بند کمرے میں اور وہ بھی سائرن کے ساتھ ہی بجھا دی جاتی تھی۔ مجھے آج بھی اندازہ نہیں ہے کہ بارڈر وحدت کالونی سے کتنا دور تھا مگر مجھے بمباری کی وہ لپکتی جھپکتی روشنی یاد ہے جو دیواروں پر پڑا کرتی تھی۔ بمباری کی وہ آوازیں جن میں توپ سے گولے پھینکنے والی دھمک ہوا کرتی تھی۔ گو کہ آج بھی مجھے پتہ نہیں کہ وہ فضائی بمباری ہوتی تھی یا زمینی! اسی کے ساتھ ہی کھڑکیوں کے شیشے لرزنا شروع ہو جاتے تھے اور اس زمانے کے دیسی باورچی خانے کے طاقچوں پر رکھے برتن گر پڑتے تھے۔
بس یہ وہ لمحات ہوتے تھے جب والدہ صاحبہ اونچی آواز میں" نصر من الله و فتح قریب" پڑھا کرتی تھیں۔ کچھ وقت گزرتا، پھر شاید خطرہ ٹل جانے کا بھی سائرن بجتا تھا اور بڑے سکون کے ساتھ برتن سمیٹ کر واپس اپنی جگہ پر رکھ دیے جاتے۔ وحدت کالونی کے گراؤنڈ میں کبھی کبھی پتا نہیں کیسے اور کہاں سے اُڑ آئے ہوئے دھات کے چاندی رنگ جیسے ادھ جلے ٹکڑے پڑے ملتے جنہیں اُٹھانا اور سنبھال کر رکھنا میرے لیے بہت ہی پُر کشش کام تھا۔ ایسا ہی ایک ٹکڑا 1981ءتک میرے پاس رہا، جو بعد میں کوئی گھر بدلتے ہوئے کہیں کھو گیا۔
ہر بلیک آؤٹ زدہ رات کے بعد دن ہو جاتا اور زندگی اپنے معمول پر لوٹ آتی۔ شاید اس یقین کے ساتھ کہ نہ تو ہم تباہ ہو سکتے ہیں اور نہ ہی شکست ہمارا مقدر ہے۔
آج جس طرح میڈیا پر جنگ لڑی جا رہی ہے، یاد کرتا ہوں تو وہ جنگ بھی ریڈیو پاکستان پر لڑی جا رہی تھی اور ریڈیو پاکستان کے ساتھ ساتھ لاہور کے لوگ اس کے سپاہی تھے۔ والدہ اور ہماری پڑوسی خواتین فتح کی باتیں کیا کرتیں۔ آج سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ والدہ ایک سُنّی اور مزاجاً صوفی اور مذہبی خاتون تھیں۔۔۔ لاہور ان کے لیے پردیس تھا۔ اردو، پنجابی کی آمیزش کے ساتھ بولتی تھیں اور اپنی پنجابی سہیلیوں کے ساتھ اس جنگ کی گویا سپاہی بن جاتی تھیں۔
ریڈیو پاکستان پر خبروں کے بعد جنگی ترانوں کا ماحول سجتا تھا۔ میں آج بھی کبھی کبھی ہیڈ فونز لگا کر وہ ترانے سنتاہوں،شاید اپنی ناسٹیلجیا کی تسکین کے لیے۔ ان ترانوں کو بھی اسی طرح سنا جاتا تھا ریڈیو کے قریب بیٹھ کر جس طرح خبریں سنی جاتی تھیں۔ والدہ ،اپنے وطن (بدایوں،یوپی )کے کچے آنگنوں اور اپنے سادہ دل ہم وطنوں کو یاد کرتی تھی اور اس یاد کے اضطراب اور وطن کے ساتھ اس کی وابستگی کوامیر خسرو دہلوی نے اپنے اشعار میں جس گہرائی کے ساتھ بیان کیا ہے، والدہ وہی اشعار کوحضرت نظام الدین اولیاء ؒ کے حوالوں کے ساتھ ہم بہن بھائیوں کوسُناتیں۔ مگر میں نے انہیں 1965 کی جنگ کے دنوں میں اپنی 15/C وحدت کالونی لاہور والی پنجابی سہیلیوں کے ساتھ، مہدی حسن کی آواز میں خطہِ لاہور تیرے جانثاروں کو سلام۔۔۔ شہریوں کو، غازیوں کو، شہسواروں کو سلام ۔۔۔ پر جھومتے ہوئے دیکھا تھا۔ پھر نورجہاں جب گاتی تھیں ۔۔۔۔ اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے۔۔۔۔ میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں ۔۔۔ اج تکدیاں تینوں سارے جگ دیاں اکھاں ۔۔۔۔۔ لگتا تھا جیسے اماں کا اپنا بھائی بھی محاذ پر گیا ہو! پوری پنجابن بن گئی تھیں جنگ کے جذبات میں۔
مگر ابھی ابھی یہ یادیں لکھتے ہوئے مجھے ایک ایسا دلچسپ ترانہ یاد آ گیا ہے جو آج سوچوں تو ذہن کسی اور موضوع کی طرف نکل جائے گا! معلوم نہیں وہ ترانہ آج بھی کہیں موجود ہے یا نہیں مگر جو صدر ایوب خان کی شان میں تھا۔
"صبرِ ایّوب کی ہوگئی انتہا ۔۔۔۔۔ اب تو غازی بنو یا شہیدِ وطن ۔۔۔۔۔"
ابھی یہ لکھتے ہوئے خیال آ رہا ہے کہ یہ ترانہ شاید اس حقیقت کے پس منظر میں ہو گا جو قوم سے چھپائی جا رہی ہوگی!
پھر ایک دن پتا چلا کہ آسمان میں تلوار نظر آ رہی ہے۔ حضرت علیؑ کی "ذوالفقار" سے یہ پہلی شناسائی تھی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہٗ سے شناسائی تو جانے کب کی والد صاحب نے لاشعور میں ڈال دی تھی مگر ان کی تلوار میں نے پہلی بار سنی۔ اور یہ کہ اس تلوار کی شکل کیا ہے۔
وہ رات میرے بچپن کی خوبصورت یادوں میں سے ایک ہے، جب ابّو نے ایک ہاتھ میں میری اُنگلی پکڑی ہوئی تھی اور دوسرے بازو کے گھیرے میں امّی کو لیا ہوا تھا اور ایک چاندنی رات جیسی رات میں ہم اپنے گھر سے باہر کی چوڑی گلی میں آ کھڑے ہوئے تھے اور امّی اور ابّو نے آسمان پر وہ تلوار ڈھونڈی تھی اور دونوں آسمان کی جانب اپنے ہاتھ بلند کیے تلوار کی سی ایک روشن لکیر اور اس کے دونوں سِروں پر چمکتے ستاروں کو گویا اپنی اپنی اُنگلی سے لکیر کھینچ کر پہچاننے کی کوشش کر رہے تھے! اور میں بھی گردن اُٹھائے اسے تجسس سے دیکھ رہاتھا۔
وہ تلوار کی سی لکیر اور اس کے دونوں سروں پر دو ستارے مجھے آج بھی اُسی طرح یاد ہیں۔
پھر ایک دن پتا چلا ہم جنگ جیت گئے ہیں(؟؟؟)! جنگ جیتنے کی خوشی بھی ویسی ہی گرمجوش تھی جیسی جنگ کرنے کی۔ پھر سب کچھ جنگ سے پہلے والے معمول پر آ گیا۔
پھر ایک دن صدر ایوب پتا نہیں کیوں وحدت روڈ سے گزر رہے تھے اورنجانے کیوں ہم اسکول کے بچوں کو سڑک کے کنارے بڑی دیر تک کھڑا کر دیا گیا تھا۔ ہم کھڑے رہے پر صدر ایوب نہیں آئے۔ چند دن پہلے تک مجھے صدر ایوب سے جو پیار تھا وہ نفرت میں بدل گیا۔ شاید آمریت سے یہ میری پہلی شناسائی تھی!
پھر ایک دن محلّے میں مٹھائی بھی بٹی۔ سب بہت خوش تھے۔ شاستری صدر ایوب کی تاب سہہ نہ سکا اور تاشقند میں مر گیا۔
1965 کی جنگ کے بعد ہم حج پر گئے تھے اور مجھے عربوں اور دوسرے ملکوں کے مسلمانوں کا والد کے ہاتھ چومنا یاد ہے، جب والدان کے سوال کے جواب میں بتاتے کہ ہاں میں پاکستانی ہوں۔
مگر 1965 کی اس جنگ نے نہایت ہی خاموشی کے ساتھ مجھ پر جو اپنے اثرات چھوڑے وہ میں زندگی میں اپنے ساتھ ساتھ لیے بڑاہوا۔ تب سے اب تک، اگر جنگی جہاز اچانک شور مچاتے ہوئے گزریں تو میرا فوری ری ایکشن شدید گھبراہٹ اور خوف ہوتا ہے۔ گو کہ اگلے لمحے میں خود کو پُر سکون کر لیتا ہوں کہ پوتے ،نواسے مذاق اُڑائیں گے، مگر دل کی دھڑکن کچھ لمحوں کے لیے قابو میں نہیں رہتی۔ کسی بھی چیز کی گڑگڑاہٹ کی سی آواز مجھے پریشان کر دیتی ہے اور جب تک پتہ نہ چل جائے کہ کس چیز کی آواز ہے، مجھے چین نہیں آتا۔خاص کر یہ سائلنسر نکلی شورمچاتی موٹر سائکلیں میرا ذہن ماؤف کردیتی ہیں اور میں باقاعدہ ان لڑکوں کو بددعائیں دینےلگتا ہوں،بعد میں افسوس بھی ہوتا ہے،لیکن ہر چیز کےبرتنے کا ایک سلیقہ ہوتا ہے،ایک ادب ہوتا ہے۔ہم بھی کالج لائف میں بائک چلاتے تھے،لیکن ایک بار مالٹے والے کے ٹھیلے سے ٹکڑاجانے پر والد صاحب نے میری موٹر سائکل کا روڈ پر کھڑے کھڑے سودا کردیا تھا،مجھے خطرہ تھا کہ اگر کسی نے ان کے کہنے سےمیری موٹر سائکل نھیں خریدی تو وہ اسی مُفت کسی کو بھی دے دیں گے۔
جنگ سے نفرت اور خوف میرے مزاج کا حصّہ بن گیا۔ ایک بار جب انڈیا ،بدایوں ، جانا ہوا تو مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ دلّی، جو اردو ادب پڑھتے ہوئے میرے لیے ہمیشہ کشش کا باعث رہی، رو بروُ میرے حلق سے نہیں اُتر رہی تھی! ہر چہرے میں مجھے دشمن دکھتا تھا۔ ایک عجیب سا انجانا خوف میرے اندر سرسراتا رہتا!
میں پروفیسر قمر بدایونی ( دہلی کالج ،انڈیا)کے ہاں رہا۔ میں نے جب ان سے یہ بات شیئر کی تو وہ حیرت سے مجھے دیکھتے رہ گئے!
بچپن سے آج تک جنگ سے متعلق تصاویر مجھے اپنے اندر کھینچ لیتی ہیں۔ میں نے ایک کہانی اردو میں" اخبارِ جہاں" میں لکھی تھی۔ تب میں میٹرک میں تھا،والد صاحب نے میری کہانی میرے تقاضوں سے تنگ آکر شفیع عقیل صاحب کو دے دی تھی جو اُن کے دوست تھےاور"بھائی جان"(جنگ) شایع کرتے تھے۔ وہ جنگ زدہ شہر میں رہنے والے بچے کی کہانی تھی جو ہر وقت اس پریشانی میں رہتا ہے کہ اگر جنگ ہوئی تو ہم سب مر جائیں گے؟ میرا اسکول اور میرا گھر؟ اور میرا یہ پرندہ،سب مرجائیں گے؟ وہ بچہ اس پرندے کو بچانے کے انتظامات کرتا رہتا ہے۔ بلآخر ایک دن اس کے گھر پر بھی بم گرتا ہے۔ بچہ اور گھر سب ختم ہو جاتا ہے۔ صرف پنجرے میں پرندہ باقی رہ جاتا ہے۔
جنگ ِ 1965ء اور ہمارے شاعرو ادیب :
اپنی دھرتی سے نمو پانے والے شعرا ء نے جب جذبہء حب الوطنی کو اپنی فکر کا محور بنایا تو اُن کا تخلیق کردہ ایک ایک لفظ زندہ قوم کے زندہ جذبوں کی پکار بن گیا۔ محاذِ جنگ پر قومی قیادت سنبھالنے والے سرفروشانِ وطن اور قوم کے مجموعی اور مرکزی آدرش سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے منظر ایوبی اپنے قومی اور ملی شاعری پر مشتمل شعری مجموعے ’’چڑھتا چاند اُبھرتا سورج‘‘ کے آغاز میں قومی جذبے کی سرشاری میں رہتے ہوئے قومی ادب پر یوں رائے دیتے ہیں: ’’یہ سچ ہے کہ فنکار انسانیت کی اعلیٰ و ارفع اقدار کا ترجمان اور بین الاقوامی یکجہتی اور عالمی امن کا علم بردار ہوتا ہے لیکن اُس کی فکر و احساس کی جڑیں جس مٹی میں نشوو نما پا تی ہیں اور اُس کے جسم و جاں کے تمام رشتوں کو استحکام بخشتی ہے، فنکار اُس کی عظمت و توقیر کے گیت ضرور گاتا ہے کہ اسی رویے اور دھرتی کے اسی حوالے سے اُس کی شناخت ہوتی ہے‘‘۔۲ حُب الوطنی کے احساسات وجذبات سے مزین شاعرانہ فکر کایہ سفر تاریخِ ادب کا ایک روشن باب ہے۔ شعرا ء نے کڑی آزمائش کے ہر موقع پر قوم کے اجتماعی طرزِ احساس سے ہم آہنگ ہوکر جرأتِ اظہار کی مشعلیں روشن کیں اور اس جوش و جذبے کے ساتھ کہ اس سے پوری قوم کو ایک نیا ولولہ اور ایک نئی تڑپ ملی۔ شعری سطح کا یہ مجاہدانہ اظہاریوں تو1965ء سے پہلے بھی جزوی طور پر نمایاں ہوتا رہا مگر جنگ ستمبر میں پہلی بار اس ملی شاعرانہ روایت کا وہ باب وا ہوا جس سے ہماری غزلیہ تاریخ کو نئی فکری و موضوعاتی جہت عطا ہوئی۔ شعراء نے وطنیت کے سچے اور سُچے جذبوں کی عملداری میں رہتے ہوئے جب ملی جذبوں کا اظہار شعرکے پیکر میں ڈھالا تو اُن کا لفظ لفظ قومی فضا میں ترانہ بن کر گونج اُٹھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد کے ادبی شعری رجحانات میں پاکستانیت کا موضوعاتی اضافہ اس امر کی گواہی ہے کہ وہ شعراء جنہوں نے تشکیلِ پاکستان اور تعمیرِ پاکستان کے کٹھن سفر میں اپنے ملی جذبوں کی بنیاد پرایک زندہ خواب کو آنکھوں میں بسایا تھا اُسے فکری رویّے سے ہم آہنگ کرکے شعروں میں مجسم کردیا۔ یہ الگ بات ہے کہ بقول رشیدنثار:۔ ’’پاکستان کے قیام کے فوراً بعد تہذیب کشی کے جو مناظر سامنے آئے انہوں نہ صرف پاکستانی نظریاتی ثقافت کی بنیاد فراہم نہ ہونے دی بلکہ انسانیت کی بقاء کو شد ید خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔‘‘۳ پاکستان کی قومی شعری تاریخ کے آئینے میں ابتدائی دو عشروں پر پھیلے ہوئے تہذیبی زوال، سیاسی بے چارگی، اقتصادی زبوں حالی اور عصری بے چینی کو شعراء نے جس شدت سے قومی دُکھ کے تناظر میں دیکھا اُس کی جھلک بعد کے عرصے میں بھی برابر دکھائی دیتی رہی کیونکہ پاکستان جس نظریاتی وحدت کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا بدقسمتی سے اُس کے خدوخال واضح نہ ہوسکے۔ اس سارے عرصے میں قومی احیاء
کی بنیادیں کمزور ہوتیں گئیں، ملی تشخص ماند پڑتا گیا، اجتماعی ثقافتی صورتِ حال دھند میں گم ہوگئی اور ایک ختم نہ ہونے والا سیاسی اور سماجی انحطاط برابر سر اُبھارتا رہا۔ مایوسی، بے اطمینانی، نامرادی اور خوف کے سائے ہر عہد کے سیاسی منظر نامے میں جگہ پاتے رہے۔ یہ صورتِ حال پاکستانی شعراء کے لئے انتہائی مایوس کن ثابت ہوئی۔ اُنہیں منزل تو خیر کیا ملتی وہ سرے سے راستے کا سراغ ہی بھول بیٹھے۔ اس اجتماعی بے چارگی نے ادب کے ذریعے براہ راست غزل کے مزاج کو بدلنے میں مدد دی۔ اب جو غزل لکھی جانے لگی اُس کے مزاج میں قومی درد مندی، ملی شعور اور اپنی مٹی سے والہانہ عشق کے رنگ اُبھر آئے۔ یہ رویّہ اس سارے زمانی عرصے میں ایک طاقتور رجحان کی شکل میں عصری فکری رویے کے طور پر اپنی شناخت مکمل کرتا ہے۔ خالد اقبال یاسر لکھتے ہیں کہ: "سیاسی آزادی اور اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہونے والے قتل و غارت کے واقعات ایسے تھے جس کے حوالے سے ادب میں دو قومی نظریے کی آبیاری ہوئی۔"
ناقابلِ بیان کُشت وخون اور بربریت کے جلاؤ میں وسیع پیمانے پر مہاجرت جیسے سماجی المیے کا اثر ادب پر یقینی تھا۔ یہ وہ پہلا اجتماعی تہذیبی تجربہ تھا جس نے پاکستانی قومیت کو اپنے لہو سے مضبوط بنایا۔پاکستانیت یا پاکستانی ادب کی تحریک کے لئے باقاعدہ کوئی منشور سازی نہیں کی گئی اور نہ تحریک قائم کرنے کے لئے کوئی طے شدہ منصوبہ بندی ہی کی گئی۔ لیکن ایسے اہلِ قلم جنہوں نے غیر محسوس طریقے سے اپنی تحریروں کو پاکستانی تشخص کے لئے وقف کئے رکھا۔ انہوں نے اپنے تخلیقی عمل میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی ادیب اورشاعر کو پاکستانی تمدن اور پاکستانی قوم کی مجموعی اُمنگوں اور آرزوں کا ترجمان ہونا چاہئے۔ پاکستانیت کی تحریک کے ابتدئی خدوخال نثر کی سطح پر جہاں ایک طرف محمد حسن عسکری‘ فتح محمد ملک اور ممتاز شیریں کی تحریروں میں دیکھے جاسکتے ہیں وہاں پاکستانیت کے جذبے کو غزل کی سطح پر والہانہ شیفتگی کے ساتھ شعراء نے اپنے ملی اور تہذیبی تشخص کے گہرے احساس کے ساتھ اُجاگر کیاہے ۔ شعری سطح پر جذبہء قومیت کے اشتراک سے قومی شاعری کو ایک الگ صنفِ ادب کے طور پر متعارف کرانے والے اہم قومی شعر اء صبا اکبر آبادی (۱۹۰۸ء ۱۹۹۱، ’’زمزمۂ پاکستان‘‘)، طفیل ہوشیار پوری (۱۹۱۴ء۔ ۱۹۹۳ء)، سید ضمیر جعفری (۱۹۱۴ء۔ ۱۹۹۹، ’’لہو ترنگ‘‘، ’’زبورِ وطن‘‘، ’’میرے پیار کی زمین‘‘)، کرم حیدری (۱۹۱۵ء۔۱۹۹۴)، کلیم عثمانی (۱۹۲۸ء۔ ۲۰۰۰ء)، مشیر کاظمی (۱۹۱۵ء۔ ۱۹۷۵ء) امید فاضلی (۱۹۲۳۔۲۰۰۵ء، ’’پاکستان زندہ باد‘‘، تب و تابِ جاودانہ‘‘)، کیف بنارسی (۱۹۲۶ء۔ ۲۰۰۳ء، ’’دل کی دھڑکن پاکستان‘‘)، ساقی جاوید (۱۹۲۲ء۔ ۱۹۹۳ء، ’’چاند میری زمیں‘‘)، جمیل الدین عالی (۱۹۲۶ء تا حال، ’’جیوے جیوے پاکستان‘‘)، صہبا اختر (۱۹۳۲ء۔ ۱۹۹۲ء،’’ مشعل‘‘) اورسیف زلفی (متوفی۱۹۹۱ء) کے ساتھ ساتھ تنویر نقوی‘ حمایت علی شاعر ‘رئیس امروہوی‘ احمدندیم قاسمی‘ منیر نیازی‘ قیوم نظر‘ شبنم رومانی‘ سیف زلفی‘ بشیر فاروق‘ مسرور انور‘ ریاض الرحمن ساغر اور ازاں بعدنثار ناسک، اسد محمد خاں‘ صابر ظفر‘ حسن اکبر کمال اور محمد ناصروغیرہ نے بلاشبہ قومی شاعری پر مبنی اس موضوعاتی رویے کو باقاعدہ ایک رجحان بنانے میں اہم کردار ادا کیاہے۔
میری سرحد پہ پہرا ہے ایمان کا
میرے شہروں پہ سایہ ہے قرآن کا
میرا ایک اک سپاہی ہے خیبر شکن
چاند میری زمیں، پھول میرا وطن
(ساقی جاوید)
سرفروشی ہے ایماں تمہارا
جرأتوں کے پرستار ہو تم
جو حفاظت کرے سرحدوں کی
وہ فلک بوس دیوار ہو تم
(جمیل الدین عالی)
سبز پرچم ترا، چاند تارے ترے
تری بزمِ نگاراں کے عنوان ہیں
(صہبا اختر)
اپنی جاں نذر کروں اپنی وفا پیش کروں
قوم کے مردِ مجاہد تجھے کیا پیش کروں
(مسرور انور)
ایک قلبی سرشاری اور روحانی سرخوشی کے ساتھ آزاد اسلامی معاشرے کے تصویری خاکے میں حقیقت کے نقش اُبھرے تو پاکستانی قومیت کے قابلِ فخر احساس نے مستقبل کے سنہری دنوں کی آس کے دیپ روشن کردئیے۔ ملی طرزِ احساس کی یہ ملی جلی کیفیات کہیں قومی ترانوں کی گونج میں ظاہر ہوئیں تو کہیں غزل کی ہئیت میں گیتوں کی شکل میں ڈھلیں۔ حُب الوطنی کی یہ لہر دیارِ غیر میں مقیم پاکستانی غزل گو شعراء کے شاعرانہ طرز و احساس کا حصہ بھی بنی۔ اس موضوعاتی رویے کے تناظر میں ایسی چند مزیدشعری مثالیں درج کی جاتی ہیں جو قیامِ پاکستان سے 90ء کی دہائی تک کی زمانی مدت میں مختلف شعراء کے ہاں ملتی ہیں:
ہر جنگ میں فولاد کی دیواریں ہیں ہم لوگ
منشائے دلِ حیدرِ کرارؓ ہیں ہم لوگ
(صبا اکبرآبادی)
جو غازیوں کی تگ و تاز سے بلند ہوئی
وہ خاک سرمۂ عظمت ہے آسماں کے لئے
(رئیس امروہوی)
ہزار جاں سے وطن پر نثار ہو جاؤں
ظفر یہ ایک تمنائے دل ہے جاں کی طرح
(یوسف ظفر)
اے میری سر زمینِ وطن اے دیارِ پاک
چاند سا تیرا پانی ہے سونا سا تیری خاک
(اُمید فاضلی)
چاند تیرا چراغ زندگی تیرا باغ
نصرتیں تیرا فن اے وطن اے وطن
(مظفر وارثی)
مرا لہو مری مٹی کی آبرو بن جائے
مرے چمن ہی کی مہکار ہو جہاں تک ہو
(محسن احسان)
نذر تیری راہ میں دل کا گوہر ، آنکھوں کے پھول
خاک تیری مجھ کو سانسوں کا ثمر ، یادوں کے پھول
(عطا شاد)
تو مری روح ہے میں ہوں تیرا بدن
اے مرے ہم وطن ، اے مرے ہم وطن
(امداد نظامی)
ہمارا پرچم یہ پیارا پرچم
یہ پرچموں میں عظیم پرچم
(سیف زلفی)
سلامتی ہی سلامتی کی دُعائیں خلقِ خدا کی خاطر
ہماری مٹی پہ حرف آیا تو عہدِ فتحِ مبیں لکھیں گے
(افتخار عارف)
ایسی زمیں اور آسماں اس کے سوا جانا کہاں
بڑھتی رہے یہ روشنی چلتا رہے یہ کارواں
(نثار ناسک)
یقیں کی سرزمیں ظاہر ہوئی اپنے لہو سے
یہ ارضِ بے وطن اپنا ترانہ ڈھونڈتی ہے
(ڈاکٹر اجمل نیازی)
جذبۂ پاکستانیت کی یہ لہر ہر سچے محبِ وطن غزل گو کے ہاں کسی نہ کسی روپ میں موجود رہی ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی لکھتے ہیں کہ:
’’جنہوں نے زندگی کسی شعبے میں سوچنے اور تخلیق کرنے کا کام کیا ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ وہ شخص جسے اپنے ملک ، اپنی زمین سے محبت نہ ہو ، وہ کوئی تخلیقی یا فکری کام کر ہی نہیں سکتا۔ ادیب کے مزاج میں تو ہمیشہ اُس کا ملک، اُس کے لوگ اور ان کی اتھاہ محبت کا جذبہ غیر شعوری طور پر موجود رہتا ہے۔‘‘۵ ۱۹۴۷ء سے ۱۹۹۰ء کی دہائی تک آتے آتے غزل کی سطح پر جن نئے موضوعاتی اور فکری رویّوں کے اشتراک سے جدید غزل کا منظر نامہ سجا ، اُن میں اپنی مٹی سے والہانہ محبت کا جذبہ‘ اور اس جذبے کے باطن سے اُبھرنے والے اپنی جڑوں کی تلاش کے سفر نے‘ ایک رجحان کی شکل میں بعض شعراء کے ہاں جس نو ع کے طرزِ احساس کو جنم دیا اُس کا مرکزی نقطہ اگرچہ جذبہء حُب الوطنی ہی ہے مگر اس شعری رویے نے قدرتی طور پر جنگی معرکوں کے بعدپوری قوم کی ایک ایسی مجموعی اور مشترکہ ملی درد مندی کے اظہار کی توانائی اور شدت کو واشگاف کیاجو ما قبل کی غزلیہ روایات کا حصہ نہ تھی۔ بھارت میں اگر ایک طرف فراق گورکھپوری جیسے غزل کے اہم شاعر کے ہاں دھرتی پوجا کی روش نے پاکستانی شعراء کی بہ نسبت زیادہ قوت سے اظہار کیا اور اسی سبب سے فراق اور بعض دوسرے شعراء کے ہاں شعری فضاء دھرتی سے براہ راست جُڑے ہوئے مسائل ، قریبی اشیاء اور دیسی الفاظ کو اہمیت دینے کا رویہ نمایاں دکھائی دیتا ہے تو دوسری طرف پاکستان میں مقیم جدید شعراء کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی نظر آتی ہے جس نے محبت کے معاملے میں جسم کے ارضی پہلوؤں کو نہایت واضح الفاظ میں پیش کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ جسم اور روح کے ازلی ملاپ کو نظر میں رکھتے ہوئے جدید غزل کو اُس کا اپنا مزاج عطا کررہے ہیں۔ انسانی بدن کی لذتوں سے فیض یاب ہونے اور جسم کی حقیقت سے مادی طور پر آگاہی پا کر بدنی وسیلے سے جمالیاتی طرزِ احساس کو نمایاں کرنے والے شعری نمونوں کو اگرچہ الگ زیرِ بحث لایا جائے گا ، تاہم یہاں دھرتی پوجا کے شعری تخلیقی عمل کے واسطے سے ظہور پانے والی تخلیقی گواہیوں کے کچھ نمونے درج کرنے سے پہلے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ پہلے یہ دیکھا جائے کہ زمین کے ساتھ رابطوں کا یہ سلسلہ اور اپنی جڑوں کی تلاش کا یہ سفر ارضی وابستگی کی کس روایت کو بنیاد بناتا ہے۔ اس کی بنیاد میں جو نظریاتی اور ثقافتی عوامل و عناصر شامل ہیں اُن کے رشتوں کی اصل کیا ہے؟ اس ضمن میں ہمیں دھرتی پوجا کے تناظر میں اس نوع کے فکری مباحث سامنے لانے والے اہم نقادوشاعر ڈاکٹر وزیر آغا کی اُس رائے کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے جس میں انہوں نے ادب میں ارضیت کے عنصر کا کھوج لگاتے ہوئے کہا ہے کہ: ’’ادب میں ارضیت اور آفاقیت کا وہی رشتہ ہے جو جسم وروح کا ہے، جسم نہ ہو تو روح محض ہوا میں معلق ہے اور روح نہ ہوتو جسم محض ہڈیوں کا ایک انبار ہے۔ پھر جسم و روح الگ الگ خانوں میں مقید بھی نہیں اور نہ اُن کا ملن کسی تقریب یا تہوار کی آمد کا منت کش ہے۔ جسم میں روح اس طرح سرایت کر گئی ہوتی ہے کہ کسی ایک مقام پر انگلی رکھ کر ہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ روح صرف یہاں موجود ہے۔ یہی حال ادب کا ہے کہ ارضیت تو اسے گوشت اور استخوان، خون اور گرمی مہیا کرتی ہے‘‘۔۶ پاکستانی شعراء نے زمین سے رشتہ محض اس لئے استوار نہیں کیا کہ اُنہیں کسی خاص خطہء ارضی پر صرف زندہ رہنے کی خواہش کو محفوظ کرنا ہے بلکہ انہیں تو اُس نظریاتی وابستگی کا احساس دامن گیر ہے جس کی بنیاد دو قومی نظریہ ہے۔ اُن کی محبت اگر وطن سے ہے تو وہ کسی صورت میں بھی زمینی رشتوں کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ یہی اُن کی الگ تہذیبی تشخص اور ملی استحکام کی وحدت کا نشان ہے۔
ہمیں 6ستمبر کے دن بھارتی قیادت کو یہ پیغام بھی دینا ہو گا کہ تصادم کی پالیسی اُسے بہت مہنگی پڑے گی۔ امریکی اور بھارتی اخبارات لکھ رہے ہیں کہ مہم جوئی کی صورت میں بھارت کو ناقابلِ تلافی نقصان اُٹھانا ہو گا، اِس لیے مذاکرات اور امن کا راستہ ہی سب سے محفوظ راستہ ہے۔
1965ء کی جنگ اورپاکستانی بچّوں کا جذبہ :
یوم دفاع کے موقع پر بچوں کا جوش اور جذبہ قابل دید ہوتا ہے ان کے بس میں ہو تووہ بھی دشمن کو ناکوں چنے چبوا دیں اور اپنے پیارے ملک پاکستان کی طرف ہر میلی آنکھ دیکھنے والوں کوعبرت ناک انجام تک پہنچا کر دم لیں۔یہی جوش وجذبہ 6ستمبر1965ء کوہونے والی پاک بھارت جنگ کے دوران اس وقت بچوں میں دیکھنے کو ملا اس وقت کے بچوں میں آج کوئی فوج کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہے، کوئی ڈاکٹر ہے تو کوئی انجینئر بن کر ملک وقوم کی خدمت کررہا ہے۔آج کے بچے بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو نے کی خواہش رکھتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ نسل نوتعلیمی میدان میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے٭ ٭
-------------
تحقیق و تحریر:پروفیسرڈاکٹرمجیب ظفرانوارحمیدی
ڈاک کا پتا : 205،کرن ریذیڈنسی، گلبرگ ٹائون ، بلاک 13،کراچی : 75950
موبائل فُون نمبر : 03352364711
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
حواشی وحوالہ جات :
٭تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو’’شہاب نامہ‘‘ (قدرت اﷲ شہاب) سنگِ میل پبلیشرز، لاہور (چودھواں ایڈیشن) ۱۹۹۵ء صفحہ ۳۲۔
٭منظر ایوبی ’’خودکلامی‘‘ مشمولہ ’’چڑھتاچانداُبھرتا سورج‘‘ شاداب اکیڈمی کراچی ۱۹۸۸ء صفحہ ۱۳
٭رشید نثار۔ ’’پاکستانیت کے تناظر میں‘‘ اختر ہوشیارپوری مشمولہ ’’ماہِ نو‘‘ شمارہ ۔۸ جلد ۴۶۔ اگست ۱۹۹۳ء۔ صفحہ ۳۹۔
٭خالد اقبال یاسر۔ ’’پاکستانیت اور اُرود کا نثری ادب‘‘ مشمولہ ’’فنون‘‘ شمارہ۔ ۲۵ نومبر۔ دسمبر ۱۹۸۶ء صفحہ ۱۶۳۔
٭ڈاکٹر جمیل جالبی۔ ’’ادیب اور حُب الوطنی‘‘ مشمولہ ’’تنقید اور تجربہ‘‘ یونیورسل بُکس لاہور (بارِ دوم ) ۱۹۸۸ء صفحہ ۸۶۔
٭وزیر آغا(ڈاکٹر) ’’ادب میں ارضیت کا عنصر‘‘ مشمولہ ’’تنقید اور مجلسی تنقید‘‘ آئینہ ادب لاہور ۱۹۸۱ء صفحہ۱۳۱۔
٭ Jinnah: India, Partition, Independenceاز جسونت سنگھ
٭(1965 WAR-The Inside Story by R.D. Pradhan)
٭’انڈو پاکستان وار 1965 - اے فلیش بیک از آئی ایس پی آر
٭ The 1965 War از نتین گوکھلے 2001ء قومی کتاب گھر لاہور
٭A Farewell to Arm مصنف ارنسٹ ہیمنگوئے اشاعتِ نہم : 1997ء لاہور

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Dr Mujeeb Zafar Anwar Hameedi

Read More Articles by Prof Dr Mujeeb Zafar Anwar Hameedi: 14 Articles with 11270 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Aug, 2017 Views: 1118

Comments

آپ کی رائے