ڈراموں میں عورت کی تذلیل کیوں؟

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر:ثوبیہ اجمل ( ساہیوال)
گزشتہ چند برسوں سے تفریحی چینلز پرڈراموں کی ایک بھر مار نظر آرہی ہے۔ جس میں گنے چنے ہی موضوعات کو لیا جاتا ہے۔ جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے ناظرین نے ایک عرصہ انڈین چینلز دیکھے اسٹار پلس زی ٹی وی وغیرہ۔ جن میں ایک ہی موضوع ہوتا تھا جو مجھے بڑے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے وہ ہے عورت کی تذلیل۔ عورت کو ہی عورت کا دشمن دیکھایا جانا تھا۔ لوگوں نے ان ڈراموں کو بہت شوق سے دیکھا۔کیونکہ ہمارا ایک بڑا مسئلہ بھیڑ چال کا بھی ہے۔جو چیز پسند کی جانے لگتی ہے وہ سب ہی پسند کرنے لگتے ہیں۔ چند سالوں بعد ہوا یہ کہ پرائیویٹ چینلز پاکستان میں آگئے چینلز تو نئے آئے مگر بد قسمتی سے نئے موضوعات نہ آسکے۔ پاکستان میں ڈرامے بنانے والوں نے یہ سمجھا کہ شاید اب کوئی اور موضوع لوگوں کو بھائے گا ہی نہیں۔ اس لئے انھوں نے اسی کو بہتر سمجھا۔

حالانکہ ماضی میں ایسا نہیں ہوتا تھا جبکہ ایک چینل پی ٹی وی ہوا کرتا تھا۔ تب بہت پڑھے لکھے نامور لکھاری ڈرامے لکھتے تھے۔ ان کا معاشرے کی نبض پر ہاتھ ہوتا تھا۔ ہوتا تھا وہ سمجھتے تھے کہ ہماری اخلاقی اقدار کیا ہیں۔جب ڈراموں کی بھرمار کا دور ہو تو رائیٹر کا نام کہیں پسِ پشت میں چلا گیا۔ ڈرامہ بنانے والوں نے سوچا کہ شاید اس طرح کے ڈرامے عوام کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواسکتے ہیں۔

ٹی وی ہی وہ ذریعہ ہے آج کے دور میں جس سے بچے اور بڑے دونوں ہی بہت کچھ سیکھتے ہیں۔اگر ہم 24گھنٹے اپنے ڈراموں میں عورت کی تذلیل ہی دیکھاتے رہیں گے تو عوام کہا سیکھے گی۔ ایک لڑکی پر ظلم دیکھایا جاتا ہے اسے لڑکے کے ماں باپ اپنی مرضی سے بیاہ کر لاتے ہیں۔ مگر لڑکا اسے پسند نہیں کرتا بلکہ قبول نہیں کرتا۔پھر اس پر ساس نند اور شوہر کی جانب سے مظالم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ تو کوئی ان سے نہیں پوچھتا کہ اگر لڑکی اچھی نہیں تھی تو بیاہ کر کیوں لائے تھے۔بات بات پر طلاق کی دھمکی دی جاتی ہے۔

کیا وہ انسان نہیں ہے۔اس کی کوئی عزت نہیں ہے۔ اصل میں ہم ابھی بھی ذہنی طور پر بھارت کی غلامی کا شکار ہیں۔ جبکہ ہمارے دین اسلام نے عورت کو بے انتہا عزت سے نوازا ہے۔ چاہے وہ بیٹی ہو، بہن ہو، ماں ہو یا بیوی۔ہمارے آقا کریم اپنی ازواجِ مطہرات کو بہت محبت اور عزت دیتے تھے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے دین اور اپنی اقدار کو ملحوظِ خاطر رکھ کر ڈرامے بنائیں۔ تاکہ معاشرے کی بہتر اصلاح ہوسکے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1227 Articles with 502044 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Aug, 2017 Views: 438

Comments

آپ کی رائے