خودبدلتے نہیں حکمرانوں کوبدل دیتےہیں۔

(Mufti Abdul Wahab, UAE Sharjah)

یہ حقیقت ہےکہ حکمرانوں کی بےشمارزمہ داریاں ہیں جنکواچھےطریقے سےنبھاناان کافرض ہےاوروہ ان زمہ داریوں کواچھےطریقےسےنبھانےمیں بڑی حدتک ناکام ہیں لیکن اس کےباوجودہرقسم کےفسادکاان کوزمہ دارٹہرانااور معاشرے کی تمام تربرائیوں کوان کی طرف منسوب کرنابھی کوئی انصاف نہیں بلکہ ان میں سےاکثرہماری اچھی تربیت نہ ہونےکایالاپرواہی کانتیجہ ہیں۔اگرہم ایک اچھامعاشرہ وجودمیں لاناچاہتے ہیں توہمیں خودکوبدلناپڑےگانہ کہ حکمرانوں کو،نماز،روزہ کی پابندی،زکوۃاورصدقات سےغریبوں کی مدد نمودونمائش سےپاک حج،قرآن کی تلاوت،بڑوں کاادب،چھوٹوں پرشفقت ،رشتداروں سےصلہ رحمی ،بیماروں کی تیمارداری اوربےکسوں کی دل جوئی یہ سب اوراس قسم کےتمام اچھےکاموں سےخان صاحب روکتےہیں اورنہ نوازشریف کیاآپ نےدیکھانہیں کہ ابھی کچھ دن قبل پی ایس ایل کےمیچزمیں قومیت اورعصبیت کےبدبودارنعرےلگاکرمعرکےمیں تبدیل ہم نےکیاحکمرانوں نےنہیں آج کل فیس بک پرلائیومیچ دیکھنےوالےکمنٹ کرتےہوۓجوگندی گالیاں لکھتےہیں ایسالگتاہےجیسےانکوکسی عورت نےنہیں جنا بلکہ یوں ہی کسی صحرامیں پاۓگئےہوں اسلئےانکونہ اپنی ماں بہن عزیزہیں نہ دوسروں کی،میچ میں بھی سیاست اورقومیت اورپھرقومیت اورسیاست میں وہ گالیاں کہ، الامان والحفیظ،، گالیوں سےناواقف کسی مظلوم کواگردفاع کےلئےگالیوں کی حاجت پڑجاۓ توان فیسبکیوں کی خدمات حاصل کرنے سےاچھاخاصاماہرِسب وشتم بن سکتاہے،یہ لعن طعن اورنازیباالفاظ اورگھٹیازبان کےاستعمال کاآپ کوکس حکمران نے حکم دیاہے؟دھوکہ،جھوٹ اورفراڈپرہم کوکس نےمجبورکیاہے ؟گاڑی میں دسیوں ہارن لگاکراورپھربغیرکسی ضرورت کے بجاکرکیاآپ نے کبھی سوچاکہ اس سے کسی کوتکلیف ہوسکتی ہےگاڑی میں جابجاشیشےلگاکردوسروں کی ماں بہن کوگھورنےکاخاص انتظام فرمانےکاآپ کوکس نےکہاتھا،ریڈسگنل کی توڑ،غلط آورٹیک اوربریک کےساتھ گالی کی تربیت کس نےکی جناب کی؟ گاڑی کاشیشہ نیچےکرکےگاڑی کےاندرکاساراکچراروڈپرپھینکنےکی عادت کس وزیرنےڈالی،موسیقی سنناخلوت اورجلوت دونوں میں گناہ ہےلیکن اگرسننابھی ہےاورآپ کے ہاں وہ تیری روح کی غذاہے توپبلک ٹرانسپورٹ میں دوسروں کوڈسٹرب کرکےاورذاتی گاڑی میں والیم تیزکرکےراہگیروں اورشریف انسانوں کوبےجاتنگ کرنےکانرالااندازکیوں اپنایا؟پیسےزیادہ کمانےکےلالچ میں پبلک گاڑیوں میں آورلوڈنگ کرکےلوگوں کی زندگیوں سےکون کھیلتاہے؟رمضان کےمبارک مہینےمیں دیگرمسلم معاشروں میں روحانیت میں اضافہ ہوتاہےاورہمارےہاں جھگڑےفسادمیں ،اسلام نےراستے سےتکلیف دہ چیزاٹھانےکوصدقہ اورصفائی ستھرائی کونصف ایمان قراردیاہےآپ اٹھاتےنہیں توغیرمناسب جگہ پھینک کرمعاشرےکےماحول کوگندہ کیوں کرتےہیں؟پبلک مقامات پرپیشاب کرناہمارے معاشرے میں عام ہے،نہ شرم وحیامانع ہےنہ دوسروں کوضررنہ پہنچانےکاجذبہ،عام شاہراہوں اورگزرگاہوں پربیٹھ کرگپےمارتےہوۓیاکھیلتےہوۓکبھی سوچاہےکہ اس سےدوسروں کوتکلیف ہوتی ہےاورکسی کوتکلیف دینااسلام میں حرام ہے؟اردو،پشتو،پنجابی اورسندھی میں لکھی وہ ناپاک تحریریں جن سےہر ملک کےٹوائلٹزکی دیواریں ،جہازوں اوربسوں کی سیٹیں سیاہ ہیں کیاہماری سوسائٹی کےگھٹیامزاج کی عکاسی نہیں کرتی ہیں؟ دشمن کےخلاف لڑناحکومت کاکام ہےلیکن دشمن کےاسلام مخالف تہواروں اوررسومات کا بائیکاٹ کرکےکیاآپ اپنی نئی نسل کوآوارگی اوربےہودگی سےنہیں بچاسکتے؟خوشی ہویاغمی کیاہندوانہ رسومات ہمارےہاں عام نہیں ؟ غیرضروری اورسودی قرضےلیکردھوم دھام سےشادی کرتےوقت کبھی سوچاآپ نےکہ میرےاس طرزعمل سےغریب کی شادی مشکل ہوجائیگی یامعاشرےمیں غلط کلچرکوفروغ ملےگا؟کبھی طلاق کےمسئلےکےعلاوہ دیگراسلامی تعلیمات سیکھنےکےلئےبھی کسی عالم دین کی صحبت اختیارفرمائی ہے؟اوریہ انڈین بےہودہ فلمیں آپ کےگھرمیں آپ کےٹی وی کےسکرین پرمیاں صاحب آکرچلاتےہیں نا؟ مان لیاکہ حکومت کرپٹ ہےلیکن کیاآپ نے انفرادی طورپررشوت سےبچنےکی کوشش بھی کی ہے؟یادرکھ! اللہ جلّ شانہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتاجب تک وہ خوداپناطرزعمل درست نہ کردے،بعیدنہیں کہ ہماری اپنی اصلاح سےاللہ تعالی ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرماۓ یامتبادل انتظام فرماۓ،کہ سدھری قوم پربرےحکمران کوقیادت کرتےہوۓشرم آتی ہے،سدھریں نگےتوحضرت موسی علیہ السلام جیسی قیادت ملیگی ،نہیں توفرعون جیسےحکمرانوں کی جابرانہ حاکمیت میں خوارہوتےرہینگے،سدھرجایئے ایسانہ ہوکہ ہماری اخلاقی گراوٹ ہی ہماری پہچان بن جاۓاورمہذب قومیں یہ کہکرہمیں دھتکارے کہ تم سےپاکستانیت کی بوآرہی ہے،خدارا!تبدیلی کاعمل اپنی ذات سےشروع کرے۔تنقیداگرمہذب طریقےسےبراۓاصلاح ہوتوفائدہ ہوتاہےاوریقیناحکمرانوں کوبھی فائدہ ہوگااوراگردوسروں کوذلیل وخوارکرنےکی نیت سےہوتونقصان اورفسادہی ہوگا-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mufti Abdul Wahab

Read More Articles by Mufti Abdul Wahab: 41 Articles with 18217 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Aug, 2017 Views: 191

Comments

آپ کی رائے