346ویں سیاسی جماعت!

(Muhammad Anwar Graywal, BahawalPur)

 پاکستان میں ایک نئی سیاسی پارٹی کے قیام کے امکانات روشن ہو رہے ہیں، یہ اپنی خصوصیات اور بناوٹ وغیرہ کے لحاظ سے منفرد اور انوکھی پارٹی ہوگی۔ پاکستان سیاسی پارٹیوں کے لحاظ سے خود کفیل ہے، اس وقت الیکشن کمیشن میں تین سو پنتالیس سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں، اگرچہ الیکشن کمیشن کے بنائے ہوئے قواعد وضوابط پر صر ف پچاس پارٹیاں پورا اتر رہی ہیں۔ اس اہم ایشو پر پھر کسی وقت بات ہوگی، مگر اتنی پارٹیوں کے باوجود یہاں مزید پارٹی کی گنجائش کیسے نکلتی ہے؟ یہی سوال پارٹی کی مقبولیت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے، کہ ابھی پارٹی کا وجود تصوراتی خاکوں تک ہی محدود ہے، تاہم پارٹی کیسی ہوگی اور اس کے اغراض ومقاصد کیا ہوں گے، ان کی جھلکی ضرور دکھائی دیتی ہے۔ نئی سیاسی پارٹی کا ایک ہیولا سا اس وقت سامنے آیا جب تحریک انصاف کی منحرف ممبر قومی اسمبلی عائشہ گلالئی ایوان میں پگڑی اور مردانہ جوتی پہنے تشریف لے آئیں، یہ منظر اکثر لوگوں کے لئے حیران کن تھا، تاہم موصوفہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وضاحت بھی کردی ہے کہ’’ ․․․ رضیہ سلطانہ کو جب مردوں سے مقابلہ کرنا پڑا تھا تو انہوں نے بھی پگڑی باندھ لی تھی، اب ہمارا خاندان بھی مافیا کا مقابلہ کر رہا ہے، جس کے لئے مجھے بھی یہی روپ دھارنا پڑا ․․․‘‘۔

خاتون ممبر قومی اسمبلی کے اس بیان کے بعد یہ تصور تقویت پکڑے گا کہ کوئی خاتون حالات کی ناساز گاری کا مقابلہ کرنے کے لئے مردانہ روپ بھی دھار سکتی ہے، جب وہ پگڑی سر پر باندھے، گھوڑے پر سوار ہو کر نکلے گی تو جہاں اپنی حفاظت وہ خود کرے گی، وہاں عوامی مقبولیت کے ریکارڈ بھی قائم ہوتے جائیں گے۔ کوئی پارٹی صرف خواتین پر مشتمل نہیں ہے، یہ پہلی جماعت ہوگی، جس کی سربراہ بھی خاتون ہوگی اور ممبران بھی خواتین۔ ممکن ہے کہ اس جماعت کے لئے پگڑی کے انتخابی نشان کا مطالبہ بھی داغ دیا جائے۔ اگر یہ نشان پارٹی کو الاٹ ہو جائے تو یہ بھی عین ممکن ہے کہ اس کی تمام ممبران کے لئے پگڑی لازمی قرار دے دی جائے، یوں انتخابی نشان کے ذریعے سے بھی عوام میں مقبولیت حاصل کی جا سکتی ہے،باقی کمی مردانہ انداز کے جوتے پوری کر لیں گے۔ اس کے بعد ممکن ہے کپڑے بھی مردوں جیسے پہننے کا معاملہ بھی طے پا جائے، کیونکہ مقابلہ کرنا ہے تو اسی روپ میں سامنے آنا ہوگا۔ امید کی جاتی ہے کہ اس زنانہ پارٹی کی پہلی سربراہ عائشہ گلالئی ہی ہوں گی، اس عزت افزائی کی مستحق وہی ہیں، کیونکہ پگڑی پہننے اور مردانہ روپ دھارنے کی بانی بھی وہی ہیں۔ اس پارٹی کی ایک انفرادیت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین شامل ہو جائیں، کیونکہ مرد تو ہر سیاسی جماعت کا نہ صرف لازمی حصہ ہیں، بلکہ عملی سیاست میں خواتین کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ سیاسی پارٹیوں میں خواتین سالہا سال سے موجود ہیں، پی پی کی تو چیئر پرسن بھی خاتون رہ چکی ہیں۔ مگر بہت سالوں کے بعد جن خواتین کو علم ہوتا ہے، کہ ان کی پارٹی کے سربراہ اچھے آدمی نہیں ہیں، ایسی خواتین بھی اُن کے ساتھ شامل ہو سکتی ہیں۔ چلیں پارٹی سربراہ ناسہی، کسی دوسرے لیڈر کے بارے میں بھی اگر شک ہو تو بھی پارٹی بدل کر یہاں محفوظ مقام پر آیا جاسکتا ہے۔

سیاست کے ساتھ ساتھ یہ پارٹی سماجی معاملات میں بھی خواتین کی رہنمائی کر سکتی ہے، معاشرے میں خواتین کے ساتھ ہونے والی ناانصافی اور استحصال کے خاتمے کے لئے بھی جدوجہد کرسکتی ہے، بلکہ یہ نکتہ تو پارٹی منشور میں سرفہرست ہی ہوگا، کیونکہ مردوں کے کئے گئے استحصال سے تنگ آکر ہی یہ سارا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ چونکہ معاملہ صرف خواتین تک محدود رہے گا ، اس لئے فرصت کے لمحات میں خواتین کے دیگر مسائل پر بھی توجہ دی جاسکے گی، مثلاً خواتین کے لئے مناسب رشتے کروانے کا سلسلہ بہت مقبول رہے گا، کیونکہ فی زمانہ اچھے رشتے کی تلاش عام گھرانوں میں اہم ترین مسئلہ ہے، گھروالوں کے علم میں لائے بغیر شادی کرلینے والی جوڑیوں کی حفاظت کا بندوبست بھی یہ پارٹی اپنے ذمے لے سکتی ہے۔ مرد سیاستدانوں کی خفیہ کارروائیوں کے علاوہ خفیہ شادیاں بھی اہم مسئلہ ہے، تاہم یہ معلوم نہیں کہ اس پر پارٹی متفق ہوگی یا نہیں کہ سیاستدانوں کی خفیہ شادیوں کو صیغہ راز میں رکھا جائے یا مفادِ عامہ کے طور پر پبلک کر دیا جائے؟ امید ہے یہ پارٹی کامرانیوں کے جھنڈے گاڑے گی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: muhammad anwar graywal

Read More Articles by muhammad anwar graywal: 599 Articles with 251354 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Aug, 2017 Views: 273

Comments

آپ کی رائے