طالب ؔالہ آبادی کی رام کتھا سیتارام

(Ajai Malviya, India)

ہندوستانی ادبیات میں دو رزمیہ صحائف ہیں۔ایک رامائن اور دوسرا مہابھارت ہے۔ان کی ابدی(Eternal) جمالیاتی(Kalological)، قدریاتی(Axiological)، علمیاتی(Epestimological) ، وجودیاتی (Existential)، عرفانیاتی(Ontological) ،قدسیاتی(Sacred Most) اور الوہیاتی(Divine Most) معنویت اور قدر و قیمت ہے۔ بالمیکی رامائن سناتن دھرم کا پہلا رزمیہ صحیفہ ہے۔ جو مہابھارت سے قبل دوسری یا تیسری صدی میں وجود میں آ چکا تھا۔اس صحیفہ میں بھگوان شری رام چندر جی کے حالات زندگی کا بیان طویل ترین نظمیہ پیرائے میں کیا گیا ہے۔ عوام کی فلاح و بہبودکے لیے رام نے سرزمین ہندوستان میں مثال(آدرش) قائم کرنے کے لیے اوتار لیا۔ رام مریادا پرشوتم تھے۔ دشرتھ اور کوشلیہ کے فرمابردار بیٹے تھے۔ رام بھرت، شتروگھن اور لکشمن کے شفیق بھائی تھے۔ رام سیتا کے محبت شعار خاوند تھے۔ رام اجودھیا کے فرض شناس تھے۔ رام جری سپہ سالار تھے ۔رام بے گناہ اور مظالم کے دوست تھے۔ رام رحم وکرم کرنے والے تھے اوررام انصاف پسند، غریب پرور اور ایثار و قربانی کی زندہ مثال تھے۔ رام رامائن کے مثالی کردار ہیں۔ انھوں نے عوام کے لیے ایک روشن مثال قائم کی ہے کہ بیٹوں کو فرمابردا ر، بھائیوں کا باہم برادرانہ پیار و یگانگت ،میاں بیوی کے درمیان محبت،وفا او رایثار و قربانی کا جذبہ ،بادشاہ کو انصاف پسند، غریب پرور ، رحم و کرم نواز ہونا ناگزیر ہے۔ رام نے جو آدرش رامائن میں پیش کئے ہیں وہ صرف کسی ایک خاص فرقہ یا قوم تک محدود نہیں ہیں بلکہ وہ آ فاقی اور عالمگیرکردار کا امین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دُنیا کے تمام زبانوں میں رام کی عظمت کا اعطراف ہوا ہے۔بالمیکی نے سب سے پہلے بھگوان شری رام چندر جی کے حالات زندگی کا بیان عوامی سنسکرت زبان میں نظم کے پیرائے میں کیا ہے۔
رامائن ہندوستان کا مہابیانیہ (Metanarative) ہے۔ جو ہندوستان کی اجتماعی (Collectively) تہذیبی اور مذہبی روح کی نمائندگی کرتا ہے۔ سناتن دھر م کی تبلیغ و تشہیر کے لیے رشیوں اور منیوں نے سنسکرت زبان کو اپنایا۔ وید،رامائن اور مہابھارت جیسے مقدّس صحائف سنسکرت زبان میں ہی لکھے گئے لیکن کوئی بھی مذہب زبان کا محتاج نہیں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذہبی کتابیں بہت جلد زبان کے حصار سے باہر نکل جاتی ہیں اور اس کا ترجمہ دنیا کے مختلف زبانوں میں ہو جاتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ تلسی داس نے رام چرت مانس کی تخلیق اودھی زبان میں تقریباً ۱۵۷۴ء میں کی۔ جس میں بھوج پوری اور برج کی بولی کے اثرات نظر آتے ہیں۔ اس کو قلم بند کرنے میں تلسی داس کو دو سال سات مہینے اور چھبیس دن لگے۔ شمالی ہندوستان میں رام چرت مانس کونہایت عقیدت آگیں نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ گھر گھر میں رام چرت مانس کا پاٹھ (تلاوت) ہوتا ہے اور دشہرہ کے خاص موقع پر جگہ جگہ رام لیلا منعقد ہوتی ہیں۔
فارسی زبان میں پہلا ترجمہ اکبرِ اعظم کے حکم سے ایک دیندار مسلمان عبدالقادر بدایونی نے ۱۵۹۰ء میں نثر میں کیا تھا۔ اس کے بعد شہنشاہ جہاں گیر کے عہد حکومت میں رامائن کے دو اہم تراجم فارسی زبان میں منظوم ہوئے۔ ایک ملا سعد اﷲ مسیح کیرانوی نے اور دوسرا گردھر داس نے کیا۔
سنسکرت زبان میں وید ویاس نے مہابھارت کے بن پرب میں راموپاکھیان،کالی داس نے رگھوونش، بھوبھوتی نے اُتّر رام چرت، چھیمیندر نے رامائن منجری، چندبردائی نے پرتھوی راج راسو،کیشو داس نے رام چندرکااور رام پارشو نے شری رام پنچ شتی کی تخلیق کی۔ ہندوستانی زبانوں میں رنگ ناتھ کی رنگ ناتھ رامائن تیلگو زبان میں،ثرلا داس نے اتکل (اُڑیا)زبان میں،گوروگووند سنگھ کی پنجابی زبان میں رامائن، ایک ناتھ نے مراٹھی زبان میں بھاوارتھ رامائن،رامانجم ایشوتچھن نے ملیالم زبان میں ادھیاتم رامائن، تمل میں کمبن نے کمبن رامائن، کُمار بالمیکی نے کنّڑ زبان میں توروے رامائن ،بھانوبھگت نے نیپالی زبان میں ادھیاتم رامائن، گردھر نے گجراتی زبان میں گردھر رامائن،کشمیری زبان میں دواکر پرکاش بھٹّ کی کشمیری رامائن ، کرتی واس اوجھا نے کرتی واس رامائن بنگالی زبان میں اور اسمیا زبان میں مادھوکندلی نے مادھو کندلی رامائن کی تخلیق کی ہے۔
رامائن اپنی آفاقیت(universality)کے باعث قومی سراحد کی شکست و ریخت کرتا ہے اور اپنی عالم گیر معنویت و اہمیت کے سبب دنیا کے مختلف زبانوں میں وقتاً فوقتاً ترجمہ بھی کیا جاتا رہا ہے۔بیرون ممالک میں بھی رامائن کے ترجمہ خوب ہوئے۔ مثلاً تھائی لینڈ کی رامائن رام کین یعنی رام کیرتی، کمبوڈیا کی رامائن رام کیر، ملیشیا کی رامائن حکایت شری راما، جاوا کی رامائن کاک ون، چین کی رامائن کان سنہویاور تبّت کی کھیتانی رامائن بہت مشہور ہیں۔
سناتن دھرم کا زیادہ تر تبلیغی ادب اردو زبان میں ہے۔ یہ ذخیرہ اتنا بڑا ہے کہ ہندو مذہب سے متعلق ہندوستان کی دوسری زبانوں کے مقابلے میں اُردو میں ہندو مذہب کا سرمایہ اگر سب سے زیادہ بھی نہیں ہے تو کسی سے کم بھی نہیں ہے بلکہ بیش تر زبانوں سے زیادہ ہے۔ اس وسیع اور بیکراں ادب کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ تمام زبانوں کی طرح اردو زبان میں بھی رامائن کے بے بہا تراجم ہوئے۔ اُردو کا مزاج ہمیشہ سے ہی سیکولر رہا ہے اور مذہبی رواداری اس کے خمیر میں داخل ہے۔ ہندو شعرا و ادباء کے شانہ بشانہ مسلم ادباء و شعرا نے بھی رام کی عظمت کا اعتراف کیا ہے۔ جنھوں نے اردو زبان میں نظم،غزل،مثنوی،رباعی،ناول اور ڈرامہ کی ہیت میں رامائن نظم کی ہے۔ ہماری تحقیق کے مطابق اردو زبان میں اب تک تقریباً ڈیڑھ سو شعرا نے رام کتھا تخلیق کی ہے۔
طالب ؔ الہ آ بادی نے اردو زبان میں رام کتھا کی تخلیق نظمیہ شاعری کے ذریعہ بہت ہی پر کیف ،معنی خیز اور تاثر انگیز طریقے سے کی ہے۔ انھوں نے اپنی اس مائیہ ناز تصنیف ’سیتا رام‘کو گیلانی الیکٹرک پریس،لاہور سے1936 میں شائع کیاہے۔ طالب الہ آ بادی نے36 ابوامیں رام کی حالاتِ زندگی کی حقیقی تصویر کو نظمیہ پیرائے میں بہت ہی دلکش انداز میں پیش کیا ہے۔جس میں شاعر نے شری رام کا جنم، رام کا بچپن، تاڑکا بدھ،اہلیہ ادھاّر چمن، کمان،منتھرا،کیکئی، سیتا، رتھ، گنگا، چترکوٹ،سپرنکھا، کھردوشن، ہرن، جٹایو، کھوج،انگوٹھی، اشوک واٹکا، بات چیت، آگ، راکشش، میگھناد، راون، رام،وبھیشن،چتا، ملاپاور راج تلک وغیرہ کے عنوان سے رام چندر جی کی رام کتھا کو موتیوں کی لڑیوں میں پروکر عوام کے سامنے بہت ہی کامیابی اور چابکدستی کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کیا ہے۔جو اردو زبان و ادب کے لیے بے مثل ،لاجواب اور یادگار ہے۔
اجودھیاکے راجہ د شرتھ کی تین رانیاں تھیں۔ کوشلیہ،سُمترا اور کیکئی۔کوشلیہ سے رام،سُمترا سے لکشمن اور شتروگھن اور کیکئی سے بھرت پیدا ہوئے۔ راجہ دشرتھ رانی کیکئی سے بے پناہ محبّت کرتے تھے۔منتھرا رانی کیکئی کی داسی تھی۔ منتھرا کے کہنے پر رانی کیکئی راجہ دشرتھ سے وردان مانگتی ہے۔ منتھرا اور کیکئی کے مکالمہ کی دلکش تصویر طالب الہ آبادی نے بڑی فنکاری اور خوبصورتی کے ساتھ کھینچی ہے۔
تم کو تمہارے بیری برباد کر رہے ہیں
اور تم سمجھ رہی ہو آباد کر رہے ہیں
اب کل کے بعد جوکچھ ہوں گے رام ہوں گے
آنکھوں کے میرے تارے اُن کے غلام ہوں گے
راجہ جو رام ہوں گے ماں اُن کی ہوں گی رانی
اور تم بنو گی چیری سن لو یہ میری جانی
گایا کرو گی تم تو شوہر ہی کے ترانے
ہیں چالئے مگر وہ بے انتہا سیانے
یہ سن کے کیکئی نے غصّہ میں اُس کو ڈانٹا
میرے پتی کے حق میں تو جھاڑ کا ہے کانٹا
گر جب نہیں رہے گی اے بے تمیز چیری
گدّی سے کھینچ لوں گی میں زبان تیری
اب منتھرا نے دیکھا طوفان بڑھ گیا ہے
سوکن کا بھوت سر پر رانی کے چڑھ گیا ہے
بولی وہ منھ بنا کر سمجھوں گی جھوٹ رانی
کھاتی ہوں دل کے ٹکڑے خونِ جگر ہے پانی
کونے میں جا کے لیٹو صورت بنا کے غم کی
ہوتی ہے جیسے بیوہ تصویر اک الم کی
آئیں گے وہ منانے تب اور دُکھ نہ سہنا
وردان دونوں اپنے تم مانگ ہی کے رہنا
بلوائیں وہ بھرت کو راجہ یہاں بنائیں
چودہ برس تلک کو جنگل میں رام جائیں
رام،سیتا اور لکشمن جنگل جنگل گھومتے ہیں۔ راستے میں انھیں ایک پتھّر کی چٹّان ملتی ہے۔ رام کے پیر جیسے ہی اس پتھّر کی چٹّان پر پڑتے ہیں۔ وہ چٹّان ایک خوبصورت عورت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ گوتم رشی کی بیوی اہلیہ بہت خوبصورت تھی، راجہ اندر کو جب اس کا علم ہوا، تو اس نے اہلیہ کو دیکھا اور اس پر فریفتہ ہو گیا۔ وہ گوتم رشی کا بھیش بدل کر ان کی کُٹیا میں جاتا ہے۔ رشی روز صبح گنگا نہانے جاتے تھے۔ واپس آکر دیکھا کہ اندر روپ بدل کر کُٹیا سے نکل رہا ہے۔ انھوں نے اہلیہ کو بد دعا دی اور اُسے پتھّر کی چٹّان بنا دیا۔طالبؔ الہ آبادی نے اہلیہ پر رام کی بیکراں شانِ رحمانی ، شانِ رحیمی اور شانِ کریمی کا کیمیا اثر جذبات انگیز منظر نامہ نہایت فنّی چابک دستی اور کامیابی کے ساتھ ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔
اہلیہ پری تھی بڑی سندر تھی
بَری عیب سے تھی گنوں سے بھری تھی
بڑی دلربا تھی بڑی باوفا تھی
وہ سیوا میں رہتی تھی ہر دم پتی کی
کسی نے کیا راجہ اندر سے جا کر
اہلیہ سے کوئی نہیں آج سندر
یہ سن کے کہا راجہ اندر نے اچھا
کروں گا میں جلدی اہلیہ پر قبضہ
رشی روز جاتے تھے گنگا نہانے
جہاں مرغ بولا چلے تڑکے تڑکے
ابھی رات آدھی تھی بارہ بجے تھے
رشی لیکن آواز پر اٹھ کے بیٹھے
رشی جی ادھر چل پڑے سوئے گنگا
ادھر راجہ اندر نے بھیش اپنا بدلا
رشی کی صدا میں پکارا ہے جو در پر
اہلیہ یہ سمجھی کہ لوٹ آئے شوہر
کھلا در تو اندر ہوا گھر میں داخل
جو دیکھا پری کو تو ٹھنڈا ہوا دل
مگر ناگہاں ایک بجلی سی چمکی
نہ معلوم کیوں لوٹ آئے رشی جی
جو گوتم نے دونوں کو دیکھااکٹھا
ہوا ان کی آنکھوں میں عالم اندھیرا
رشی جی نے جو دیں بد دعائیں تڑپ کر
اہلیہ ہوئی بس اسی وقت پتھر
گورو سے یہ سن کر ہوئے رام مضطر
قدم رکھ دیے اپنے پتھر پہ بڑھ کر
جہاں پر وہ چٹّان اب تک پڑی تھی
اہلیہ وہیں ہاتھ جوڑے کھڑی تھی
جس عالم میں اس وقت شوہر تھا اس کا
اسی لوک میں بس اہلیہ کو بھیجا
رام، سیتا اور لکشمن شرنگی رشی کے آشرم شرنگویر پور(پریاگ) کی دھرتی پر آتے ہیں۔ شرنگی رشی کی دعا لے کر وہ آگے بڑھتے ہیں۔ دریائے گنگا کے کنارے اُ ن کی ملاقات کیوٹ سے ہوتی ہے۔کیوٹ سے وہ دریا پار کرنے کے لیے کہتے ہیں۔ کیوٹ اُن تینوں کو پہچان لیتا ہے۔ اُن لوگوں کے پیر دھو کر اُن کو اپنی کشتی پر بٹھاتا ہے۔ بھگوان رام اور کیوٹ کے مکالمہ کی فنّی تصویر کشی طالب الہ آبادی نے بہت ہی والہانہ انداز اور فنّی جمالیات کے ساتھ بیان کیا ہے۔
ایک کیوٹ ناگہاں آیا نظر کے سامنے
رام نے اُس کو پکارا ناؤ لانے کے لیے
سب کے سب بے چین تھے اُس پار جانے کے لیے
آکے کیوٹ نے چھوئے اُن کے چرن کہنے لگا
آپ کی ہے ناتھ سب معلوم ہے مجھ کو کتھا
جب قدم رکھتے ہی پتھر بن گیا تھا استری
یا تو ڈوبا ہو گئی عورت اگر کشتی میری
یا تو اے بھگوان اپنے پاؤں دھونے دیجئے
یا یہیں پراور بھی کچھ دھوپ ہونے دیجئے
مسکرا کر رام نے سیتا کو دیکھا پیار سے
دیکھ کر چتون ہنسے کیوٹ سے یوں کہنے لگے
ہو رہی ہے دیر اب پھُرتی سے ہم کو پار کر
آ کے دھونے پاؤں میرے چاہتا ہے تو اگر
اب تو کیوٹ نے کٹھوتا لے کے گنگا جل بھرا
پاؤں دھو کر بال بچّوں کو وہ پانی دے دیا
پار اُتارا سب کو گنگا سے انوکھے بھاؤ سے
دی انگوٹھی اپنی سیتا نے اُتر کر ناؤ سے
رام کے قدموں پہ لیکن گر پڑا کیوٹ وہیں
اور کہا اب تو کسی شے کی کمی مجھ کو نہیں
حسنِ قسمت نے چکا دی آج مزدوری مری
لوں گا بے شک لوٹتی بار آپ جو دیں گے مجھے
کہہ کے یہ کیوٹ اِدھر لوٹا اُدھر یہ سب چلے
لنکا کے راجہ راون کی بہن شوپرنکھا جنگل میں رام، سیتا اور لکشمن کو دیکھتی ہے تو وہ رام پر فریفتہ ہو جاتی ہے۔ رام شوپرنکھا سے کہتے ہیں کہ میں تو شادی شدہ ہوں تم لکشمن سے شادی کر لو۔ لکشمن کے منہ کرنے پر وہ سیتا پر حملہ کر دیتی ہے، رام شوپرنکھا کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ آخر میں رام لکشمن سے کہتے ہیں کہ اس کے ناک اور کان کاٹ لو۔طالب الہ آبادی نے سوپرنکھا اور رام کے مکالمہ کی دلکش منظر کشی بہت ہی فنّی لطائف کے ساتھ بیان کیا ہے ۔
وہ آئی رام کے پاس ایک دن پری بن کر
ادائیں حسن کی دکھلائیں خوب تن تن کر
نظر اُٹھا کے بھی اس کو نہ رام نے دیکھا
تو خود ہی شورپنکھا نے مزے مزے سے کہا
جوان کوئی نہیں ہے جہاں میں تم سا
جواب کوئی نہیں عورتوں میں بھی میرا
ہمارا اور تمہارا غضب کا جوڑا ہے
نہ حسن کم ہے کسی میں نہ ناز تھوڑا ہے
سنی جو رام نے بک بک تو مسکرا کے کہا
وہ دیکھو سامنے بیٹھی ہے میری ماہِ لقا
نظر جو حسن پہ سیتا کے پڑ گئی اُس کی
پسینہ آ گیا ماتھے پہ دل ہی دل میں گھٹی
وہاں سے آئی وہ لچھمن کے پاس گھبرا کر
کی تمام وہی داستان یہاں آ کر
جو سن چکے تو کہا ہنس کے اس سے لچھمن نے
جو رام کہہ دیں وہی ہم کریں بے کھٹکے
اگر کرو گے نہ مجھ سے بیاہ تم اب بھی
تو صاف کہتی ہوں کچّا ہی سب کو کھا لوں گی
تمہیں خبر بھی ہے کچھ میں بہن ہوں ر ا ون کی
چمن کی ہوں جو پری تو پریت ہوں بن کی
تھا ایسا روپ بھیانک کی ڈر گئیں سیتا
تو بڑھ کے رام نے لچھمن سے کچھ اشارہ کیا
پلک جھپکتے ہی تیزی سے بڑھ کے لچھمن نے
پکڑ کے بال وہیں ناک کان کاٹ لیے
کٹی جو ناک تو وہ ننکا کے چلّائی
یہی مچاتی ہوئی شور اک طرف بھاگی
ابھی میں بھائی کو اپنے یہاں بلاتی ہوں
کٹی ہے ناک تو تم کو مزا چکھاتی ہوں
راون اپنے ماما ماریچ کی مدد لیتا ہے۔ ماریچ ایک خوبصورت سونے کے ہرن کا بھیس بنا کر رام، سیتا اور لکشمن کے سامنے چوکڑی بھرنے لگتا ہے۔سیتا رام سے سونے کے ہرن کو پکڑ لانے کے لیے کہتی ہے۔ رام ہرن پکڑنے کے لیے جاتے ہیں۔ سیتااور رام کے مکالمہ کو طالب الہ آبادی نے بڑی شاعرانہ اور فنکارانہ لطافت کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔
مرگ نینی نے جس سمئے دیکھا مرگ کی ا ور
اسی سمئے رگھوناتھ سے بولی ہیں کر جور
رگھوکل بھوشن دکھ ہرن میرے جیون پران
داسی کی ونتی سنو دین بندھو بھگوان
مرگ ایسا دیکھا نہ سنا جیسا یہ سگھڑ سلونا ہے
دیکھو تو سر سے پاؤں تلک سارا سونا ہی سونا ہے
ہے ناتھ کھال لاؤ اس کی تو کُٹیا کا سنگار ہوگی
سونے کے مرگ کی مرگ چھا لا کیا ا د بھت یا د گا ر ہوگی
رام کے واپس نہ آنے پرسیتا گھبرا جاتی ہیں۔ سیتا لکشمن کو رام کی مدد کے لیے بھیجتی ہیں۔ لکشمن سیتا کو کُٹیا کے اندر رہنے کی ہدایت کرتے ہیں اور ایک لکیر دروازہ پر کھینچتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب تک آپ اس کھینچی ہوئی لکیر کے اندر رہیں گی آپ حفاظت سے رہیں گی اور لکشمن اپنے بھائی رام کو تلاشنے نکلتے ہیں۔ اسی درمیان راون جوگی کا بھیس بدل کر سیتا کی کُٹیا کے سامنے آتا ہے اور بھیک مانگتا ہے۔ راون سیتا کو لکشمن ریکھا کے باہر آکر بھیک دینے کو کہتا ہے۔ اس سلسلے میں طالبؔ الہ آباد ی لکشمن ریکھا کی مان مریادا اور راون کی فریب دہی کی شاعرانہ نشاندہی کرتے ہیں۔
سیتا کی آنکھوں نے دیکھا ایک بوڑھا جوگی آتا ہے
آواز اسی جوگی کی ہے وہ ہی جوگی کچھ گاتا ہے
ہے مائی مجھکو بھکشا دے مرتبہ ہے اعلیٰ تیرا
بھگوان تجھے جیتا رکھے ہو سدا بول بالا تیرا
یہ سوچ کے جوگی بول اُٹھا ریکھا کے باہر آ مائی
جوگی بابا لیتے نہیں اس طرح بندھی بھکشا مائی
سیتا نے کہا چھما کرئیے میں ریکھا چھوڑ نہیں سکتی
یہ آن ہے میرے دیور کی میں اس کو توڑ نہیں سکتی
ریکھا کے باہر آتے ہی اُس جوگی نے بانا بدلا
راون راون ہو گیا وہیں وہ ٹھاٹھ فقیرانہ بدلا
جنگل میں رام ماریچ کو تیر مارتے ہیں۔ تیر لگتے ہی سونے کا ہرن ماریچ بن جاتا ہے۔ راون سیتا کو رتھ پر بٹھا کر پنچوٹی سے آسمان کی جانب اُڑا کرلے جاتا ہے۔جٹایو سیتا کو آہ و جاری کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔ جٹایو راون سے سیتا کو چھوڑنے کے لیے کہتا ہے۔ جٹایو ناکام ہوکر راون سے جنگ کرتا ہے اور بد حواس ہو کر گر جاتا ہے۔رام اور لکشمن سیتا کی جدائی میں در در بھٹکتے رہتے ہیں۔ راستے میں ان کی ملاقات جٹایو سے ہوتی ہے۔جو راون کے حملہ سے گھائل اور خون سے شرابور تھا۔ جٹایو رام کو بتاتے ہیں کہ لنکا کا راجہ راو ن سیتا کو اُٹھا لے گیا ہے۔سیتا رام‘ کتاب میں طالب الہ آبادی نے اُس وقت کی تصویر کشی بہت ہی خوبصورتی کے ساتھ بیان کی ہے جب راون سیتا کو اُٹھا لے جاتا ہے تو اُس کی ملاقات جٹاؤ سے ہوتی ہے،جٹاؤ راون کو بہت سمجھاتا ہے۔آخر میں جٹاؤ اور راون کی جنگ ہوتی ہے۔سیتا ہرن اور راون و جٹاؤ کے درمیان جنگ کی حقیقی اور سچّی تصویر کوطالب الہ آ بادی نے بڑے ہی فنّی لطائف اور ہُنر مندی کے ساتھ پیش کیاہے:
اب روپ بدل کر وہ سیتا کے قریب آیا
دکھلائی زبردستی دیوی کو پکڑ لایا
اک ہاتھ دہن پر تھا اک ہاتھ کمر میں تھا
تاریک جہاں سارا سیتا کی نظر میں تھا
بیٹھا دیا اب اُس میں رتھ ساتھ جو لایا تھا
مکّار یہاں پورے سامان سے آیا تھا
رتھ اُس کا ہوائی تھا پرواز میں طیّارہ
اُڑتا تھا ہوا پر وہ جیسے کوئی غبارہ
اُڑا لے کے رتھ اپنا راون ہوا میں
تو برپا ہوا اک طلاطم فضا میں
تڑپتی تھی رہ رہ کے ناشاد سیتا
یہ رو رو کے کرتی تھی فریاد سیتا
سوامی مرے رام پیارے کہاں ہو
مری زندگی کے سہارے کہاں ہو
تھے آرام سے گھونسلے میں جٹاؤ
اچانک ملی ان کو سیتا کی خشبو
جٹاؤ جو للکار کر پاس آئے
تو تیزی سے بھاگا راون ڈر کے مارے
جما کر نظر دیکھتا ہی رہا جب
جٹاؤ نے بھی اس پہ حملہ کیا تب
بدن سوج آیا وہ چونچیں جمائیں
ہوا خونا خون ایسی چوٹیں لگائیں
ہوا جسم ظالم چھلنی سراسر
وہ بیہوش ہو کر گرا پرتھوی پر
مگر ہوش آتے ہی راون نے اُٹھ کر
جو دانتوں سے کاٹے جٹاؤ کے سر پر
کٹے پر جٹاؤ گرے پرتھوی پر
بھوکے پیاسے رام اور لکشمن سیتا کے غم میں در بدر تلاش کرتے رہتے ہیں۔ راستے میں انھیں دلت شبری کی کُٹیا ملتی ہے۔ دلت شبری رام سے بے پناہ والہانہ عقیدت رکھتی ہے ۔ رام اور لکشمن کو کھانے کے لیے وہ بیر لاتی ہے اور چکھ چکھ کر بیر اپنے پربھو رام کو کھانے کے لیے دیتی ہے۔ پربھو رام شبری کے جوٹھے بیر کو بڑے ذوق و شوق سے کھاتے ہیں۔ وہ لکشمن سے بھی بیر کھانے کے لیے کہتے ہیں۔ لکشمن بیر کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ شبری کے جوٹھے بیر کھلانے کی تصویر طالبؔ الہ آبا دی نے اپنی مایۂ ناز شعر ی تصنیف ’’سیتا رام‘‘ میں بڑے جذبات آفریں رنگ و آ ہنگ میں پیش کیا ہے۔ جو قابلِ دید ہے۔
سُندر پتّوں کے آسن پر اپنے پربھو کو بٹھلاتی ہے
میہمانی کے کچھ بیروں کو ڈلیا میں بھر کر لاتی ہے
پریمکا کا سچّا پریم دیکھ رگھو ناتھ جی ہا تھ بڑھاتے ہیں
جھوٹے بیر و ں کو بیر بیر خوش ہو کر بھو گ لگاتے ہیں
لکشمن تم نے کھایا ہی نہیں دیکھو تو کیسا میٹھا ہے
پاتال سے لے کر سو ر گ تلک جو ہے و ہ ا س سے پھیکا ہے
ہنومان کا اشوک واٹکا میں پھل کھانا، پیڑوں کو درہم برہم کرنا، راون کے دربار میں ہنومان کے آنے کی خبراور ہنومان کا لنکا میں آگ لگانے کا منظر طالبؔ الہ آ بادی بڑی انسانی بصیرت اور فنّی چابک دستی سے کرتے ہیں ۔
اب توہنومان باغ میں آئے
پھل پہ پھل توڑ توڑ کر کھائے
ڈالیوں پر اچک کے کھاتے تھے
پیڑ سے پیڑ پر وہ جاتے تھے
جب کہ اچھے کُمار مارا گیا
تھا جو راون کا لاڈلا بیٹا
باغ میں میگھناد تب آیا
ساتھ تھی اس کے اک بڑی سینا
سب کو ہنومان نے حلال کیا
خون سے پرتھوی کو لال کیا
وہ دیا میگھناد کو مُکّا
بس وہیں اس کو آ گئی مرچھا
کہا راون نے خوب ہنس ہنس کر
کیوں بے بندر تو آ گیا پھنسکر
دونوں میں دیر تک ہوئی تکرار
کہا راون نے سب سے آخر کار
اب کرو بس سزا یہ تم اس کی
مثلِ مشعل جلاؤ دُم اس کی
چیتھڑے خوب دُم میں کس کس کر
تیل مٹّی میں ڈال کر اوپر
آگ لوگوں نے جس گھڑی دے دی
آئی اُ س وقت زور سے آندھی
اب چلے کود کود کر ہنومان
آگ کا شہر میں اُٹھا طوفان
چھت سے چھت پر کود جاتے تھے
آگ ہر گھر میں وہ لگاتے تھے
ہو گئے خاک جل کے لاکھوں گھر
سارے لنکا میں مچ گیا محشر
اس کے بعد ہنومان جی سمندر پار کرکے بھگوان رام کے پاس جاتے ہیں۔ ماتا سیتا کا پیغام رام کو دیتے ہیں۔ رام لکشمن، ہنومان،سگریو،جامونت اور انگد وغیرہ کی مدد سے پُل باندھتے ہیں اور فوج لے کر لنکا پہنچتے ہیں۔ وبھیشن اپنے بھائی راون کو بہت سمجھانے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ ناکام رہتا ہے۔ راون وبھیشن کو بے عزّت کرکے دربار سے نکال دیتا ہے۔ وبھیشن رام کے پاس پہنچتاہے۔ رام اس کی بڑی عزّت کرتے ہیں اور اسے اونچا مرتبہ دیتے ہیں۔ لنکا فتح کے بعد وبھیشن کو لنکا کا راجہ بنا دیتے ہیں۔ راون کا بیٹا میگھناد بڑا بہادر تھا۔ میگھناد اور لکشمن کی جنگ ہوتی ہے۔ جس میں لکشمن بے ہوش ہو جاتے ہیں۔ رام بھائی کے غم میں آہ و جاری کرتے ہیں۔ فریاد کرتے ہیں۔ بید راج کے کہنے پر ہنومان کشکندھا پہاڑ پر جاتے ہیں۔ وہ بوٹی کو پہچان نہیں پاتے ہیں تو پوراپہاڑ ہی اُٹھا لاتے ہیں اور لکشمن کو دوبارہ زندگی نصیب ہوتی ہے۔ اس ضمن میں طالب الہ آبادی فرماتے ہیں۔
بوٹی لانے کو جب چلے ہنومان
تب اُٹھا دشمنوں میں اک طوفان
کالنومی کو بھیجا راون نے
جاکے جنگل میں راستہ روکے
بن میں ہنومان جس گھڑی آئے
پیا س سے تھے بہت وہ مرجھائے
بوٹیوں سے بھرا تھا وہ پربت
پتّیوں سے لدا تھا وہ پربت
بوٹی ہنومان نے نہ پہچانی
تب تو چٹّان ہی پڑی لانی
لائے اس شان سے جو وہ بوٹی
ہوئے چنگے ترنت لچھمن جی
دھیرے دھیرے اس عظیم جنگ میں کنبھکر ن جیسا بہادر اور راون کے سارے دلاور بیٹے مارے جاتے ہیں۔ مندودری اپنے شوہر راون کو آخری وقت تک سمجھانے کی کوشش کرتی ہے اور کہتی ہے کہ سیتا رام کو واپس کر دے لیکن راون انتہائی مغرور ، ضدّی، سرکش اور ظالم تھااور وہ خود کو انتہائی انانیت کے باعث ناقابلِ تسخیر سمجھتا تھا۔ اس کے مزاج میں انتہائی درجہ کا اضطراب اوتحرُّک تھا۔ اس کا ہرانانیت بھرا عمل جوشِ تحرُّک، جوشِ تموّج اور جوشِ تلاطم سے بھرا ہوا تھا۔ جس کے باعث اس کے تمام شر آگیں اعمال عدمِ توازُن اور گناہ کی جانب مرکوز ہو جاتے تھے۔ وہ اپنی دُنیاوی دولت (سونے کی لنکا) پر بیحد نازاں اور فخرکُناں تھااور روحانی دولت سے مالامال رام کو انتہائی حقارت سے دیکھتا تھا۔ رامائن میں رام اور راون کے جنگ کی عکاّسی نہایت جمالیاتی اور اقداری آن بان شان سے کی گئی ہے اور یہ بنیادی طور پر نیکی اور بدی کا ابدی رزمیہ ہے۔ رامائن میں میدانِ دین(دھرم کشیتر) کی فتح اورانانیت آگیں اور شر آگیں عمل کے میدان(کرم کشیتر) کے شکست کی ترجمانی کی گئی ہے۔ اس لیے غلط اور منفی ذہنی رویہ اور منفی عوامل کی وجہ سے راون کو شکستِ فاش نصیب ہوئی۔ یہ ایک طرح سے بنیادی انسانی اور روحانی اقدار کی غیر انسانی ،شیطانی اور ابلیسی عناصر اور اقدار پر فتح کی علامت ہے۔ رامائن بنیادی طور پر میدانِ دین اور شیطانی میدانِ عمل کے درمیان رزم کا فنّی اور جمالیاتی آئینہ خانہ ہے۔ رام کے ساتھ جتنے بھی معاون کردار ہیں۔ وہ تمام اچھّائی، سچّائی اور بھلائی کی ترجمانی کرتے ہیں۔ وہ سب تمثیلی کردار ہیں لیکن یہ جیتے جاگتے کردار ہیں۔ وہ نظر یاتی کٹھپتلی نہیں ہیں۔ یہی بالمیکی کا عظیم تر انسانیاتی اور حسنیاتی کارنامہ ہے۔ اس کے برعکس راون کے ساتھ جتنے بھی معاون کردار ہیں، وہ بھی منفی جذبات و احساسات کے نمائندہ تو ہیں لیکن وہ بھی جیتے جاگتے کردار نظر آتے ہیں۔ ان کی نفسیاتی ترجمانی رامائن میں نہایت ہی زندہ اور دھڑکتے ہوئے انداز میں نظر آتی ہے۔ رام کے معاون کردار صداقت پرور ہیں۔اس کے بر عکس راون کے معاون کردار ہوش اور صداقت سے بے نیاز ، ابلیسی اور غیر متحرک کردار ہیں۔ گو بذات خود راون نہایت اضطرابی اور حرکی قوت اور طاقت کا نمائندہ ہے لیکن اُس میں آدرشی معراج کی طرف بلند پروازی کا ذرا سا شائبا بھی نہیں ملتا ہے۔ اس کے بر عکس رام، ہنومان، سیتا اور لکشمن میں صعودی اور عمودی کیفیت ملتی ہے۔ جو ان کو آدرشی بلندی کے معراج کی طرف مسلسل بلند پروازی کے لیے مائل کرتی ہے۔ اسی لئے تمام عینی کردار ہر عہد میں اعلیٰ ترین انسانی اور روحانی اقدار کی روشن علامت رہے ہیں اور وہ ہر زمانے میں قابلِ تقلید رہے ہیں۔رامائن بنیادی طور پر ظلمت پسند صفت، قوت اور ملکہ کی ترجمانی سے آگے بڑھ کر حرکت پسند، قوت ،طاقت اور ملکہ کی بھی عکّاسی کرتی ہے لیکن ان دونوں منفی قوتوں کی جہت زمینی اور اُفقی سطح(Horizental Plane) پر ہوتی ہے اور قدرتی طور پر وہ سچ کے بجائے جھوٹ ، نیکی کے بجائے بدی، حسن کے بجائے بد صورتی، توازُن کے بجائے عدمِ
توازُن کی طرف فطری طور پر راغب ہوتے ہیں۔ ان دونوں کے بر خلاف روشن، فَروزاں اور منّور صداقت پسند صفت، قوت اورملکہ کی بھرپور طور پر عینی نمائندگی کی گئی ہے۔ جو قدرتی طور پر صعودی سطح(Vertical Plane) پرمائلِ پرواز ہوتے ہیں۔
لنکا فتح کرنے کے بعد رام، لکشمن اور سیتا اپنے تمام رفیقوں اوراحباب کے ساتھ اجودھیا واپس لوٹتے ہیں۔رام کے کہنے پر چودہ برس تک بھرت نے رام کی کھڑاؤ گدّی پر رکھ کر اجودھیا پر راج کیا۔ رام کے اجودھیا واپس آنے پر رام کا راجیابھشیک ہوتا ہے۔ رام اجودھیا کی گدّی پر بیٹھتے ہیں اور حکومت کرتے ہیں۔ پھر کچھ عرصہ کے بعد بیکراں وفا، ایثار اور فرض کی مثالی دیوی سیتا پر ایک دھوبی کے بیجاالزام لگانے پر رام اُس زمانے کے رسم رواج کے مطابق انھیں جنگل میں چھوڑ آنے کے لیے لکشمن کو بھیجتے ہیں ۔ جہاں جنگل میں سیتا بالمیکی کی کُٹیا میں پناہ لیتی ہیں اور وہیں پر لو اور کُش پیدا ہوتے ہیں۔ رام اشومیدھ یگیہ کرتے ہیں۔ یگیہ کے دوران گھوڑا چھوڑا جاتا ہے۔ لو اور کُش رام کے گھوڑے کو پکڑ لیتے ہیں۔ جہاں لکشمن اور لوکُش سے جنگ ہوتی ہے۔ جنگ کے دوران سیتا لکشمن کو دیکھتی ہیں۔ وہ دونوں راج کُماروں کو لکشمن سے ملواتی ہیں۔ سیتا اور لوکُش اجودھیا لائے جاتے ہیں۔ پھر سیتا کو اپنی پاک دامنی کا شبوت پیش کرنے کے لیے اگنی پریکشا دینی پڑتی ہے۔ سیتا جی اگنی پریکشاسے کامیاب گزرنے کے بعد ناری لجّا اور سمّان کے باعث دھرتی میں سماجاتی ہیں۔ بعد میں رام لو کو کُشواتی اور کُش کو شراوستی کا راجہ بنا دیتے ہیں۔
رامائن دنیا کے عظیم رزمیہ(Epic)ادب میں ایک خصوصی معنویت، قدر و قیمت اور آفاقی اہمیت کا امین ہے۔رام میدانِ دین کے علمبردار ہیں۔ انھوں نے تمام انسانی اور روحانی اقدار کا بھرپور تحفظ کیا اور وہ بنیادی طور پر میدانِ دین کے مرکزی کردار تھے اور ان کا حریف راون انانیت زدہ میدانِ عمل کا نمائندہ تھا۔ یہ دونوں رامائن کے مرکزی تمثیلی اور علامتی کردار ہیں۔
رامائن میں زندگی اور زندگی کی تمام قدروں کو سیاح اور سفید رنگ و آہنگ میں دیکھا گیا ہے۔ رام بنیادی طور پر صداقت، خیر اور حسن کے نقیب ہیں یا دوسرے لفظوں میں صداقت، ہوش و آگہی اور روحانی سرمدی،نشاط و انبساط کی روشن فروزاں اور منوّر تمثیل ہیں۔ راون ان کے بر خلاف شر (برائی) کی تمثیل ہے۔ وہ زندگی کیتمام منفی اقدار کا ترجمان ہے۔رام اور راون کی جنگ در حقیقت انسانی اور روحانی دولت اور ابلیسی،شیطانی اور دنیاوی دولت کے جنگ کی نمائندہ ہے۔ بالآخر انسانی اور روحانی دولت کی جیت ہوتی ہے۔ جو در حقیقت صداقت اور خیر کی جیت ہے۔
در حقیقت طالب ؔالہ آبادی نے اردو زبان و ادب میں رام کتھا کی تخلیق بہت ہی سادہ، سلیس اور آسان زبان میں عوام کے سامنے پیش کیا ہے۔ جو اردوزبان پڑھنے والوں کے لیے لاجواب ،بے مثل اور نایاب تحفہ ہے۔ اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ آج اکیسویں کی دوسری دہائی کے اس ما بعد جدید جدید تناظر میں بھی طالب ؔالہ آبادی کی رام کتھا ’سیتا رام‘ کی معنویت و اہمیت ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ajai Malviya

Read More Articles by Ajai Malviya: 33 Articles with 38147 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Aug, 2017 Views: 775

Comments

آپ کی رائے