اُجالوں کا سفر

(ام ہشام نوریہ, )

رب نے یہ زندگی دی ہے اور اسے بہر صورت کسی بھی حال میں جینا ہی ہے،اب چاہے یہ زندگی خوشحالی کے نخلستان میں پڑاؤڈال لے یا دکھوں کے صحرا میں غموں کی لازوال داستاں رقم کرے ،زندگی تو ہر صورت گزارنی ہے،لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ ہم نے رب کائنات کی اس عظیم نعمت کو کیسے گزارا؟کیا ساری زندگی ہم۔نے روتے دھوتے ،اللہ کی ناشکری کرتے ہوئے گزاردی یا پھر کبھی اللہ کی آزمائشوں پر صبر بھی کیا؟کیااس کی ذات کامل پر اپنا بھروسہ بنائے رکھا،اس کی نعمتوں اور راحتوں کا انتظار کیا؟یہ وہ اہم سوال ہیں جو ہمیں اپنے آپ سے کرنے چاہیے!آپ جو ہمیشہ غموں کی وزنی سل کو اپنے سینے پر اٹھائے پھررہے ہیں،کیا یہ درست ہے!! اپنے اس رویہ سے مصائب و آلام کی اس تند رُو آندھی میں آپ کیا کچھ گنوا بیٹھیں گے اس کا آپ کو احساس تک نہیں ہے!!

احساس کرئیے! آپ کو کرناہوگا کیونکہ آپ کی یہ زندگی اس رب کی امانت ہے جس نے آپ کو پیدا کیا اس پر آپ کی من مرضیاں اسے تباہی کی طرف لے جانے والی ہوںگی ،تخلیق کرنے والے نے توآپ کو ایک بہترین سانچے میں ڈھالا،گوشت پوشت سے استخوانی ڈھانچہ کو جاذب نظر بنایا،پھر سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں دیکر خود مختار کردیا ۔اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ ساری زندگی چھوٹی چھوٹی باتوں پر شکوہ کناں اور غموں سے نڈھال رہتے ہیں یا پھر صابر وشاکر قناعت پسندبن کر اللہ سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں،فیصلہ آپ پرہے ۔

آج کے اس تناؤبھری زندگی میں ۷۰؍ فیصد لوگ مذکورہ کیفیت کا شکار ہیں۔ اور حیرت کی بات تو یہ کہ وہ اس کیفیت سے باہر بھی نہیں آنا چاہتے،کبھی اپنی مرضی سے اور کبھی صحیح رہنمائی نہ ملنے کیوجہ سے ،کبھی ایسے لوگوں کا ساتھ انھیں ان کے دکھ سے باہر آنے ہی نہیں دیتا جو ہمیشہ دوسروں کو شکوک و شبہات میں گھرا دیکھنا پسند کرتے ہیں یا جن کے افکارو نظریات منفی ہوتے ہیں سب سے پہلے ایسے لوگوں سے دوری بنانی چاہیے ۔آئیے خوش رہنے کے کچھ گر سیکھتے ہیں ۔

خود سے محبت کیجیے:
ضرورت ہے کہ آپ اس بات پر غور کرنا شروع کریں کہ زندگی میں سب سے اہم چیز کیا ہے ،آپ کی تمام تر ترجیحات میں سب سے اوپر کیا چیز ہے ۔ممکن ہے آپ کی لسٹ میں آپ نے ذاتی فلیٹ ،کار ،فارم ہاوس،زیورات،اعلی تعلیم،جیسی چیزیں شامل کی ہوں یا پھر اگر آپ ان سب سے آگے بڑھ گئے تو اولاد کے مستقبل کاکوئی سنہرا سا پلان۔لیکن ان تمام چیزوں میں جس اہم چیز کو آپ نے نظر انداز کردیا وہ ہے آپ کی اپنی ذات،جی ہاں!! دنیا میں بحیثیت انسان آپ اپنے آپ میں ہی اس معاشرہ کے لیے ایک اہم فرد ہیں خواہ آپ کو ا س کا احساس ہو یا نہ ہو ، آپ نے ہمیشہ اپنے آپ پردوسری چیزوں کو ترجیح دی ہے ، اس غفلت کا نتیجہ کیا نکلا!! بہت ہی کم مدت میں آپ اپنی زندگی سے بیزار ہو گئے ، زندگی کے معمولی سے غم آپ کو غموں کا پہاڑ لگنے لگے ۔ آپ کے کام کرنے کی رفتار مدھم پڑگئی۔

اپنے آپ کو اہمیت دینا ہے بقیہ ساری چیزوں کو ثانوی حیثیت دیکر، اپنے آپ کو پہچانیے!!!اپنے آپ ہر غور کرئیے آپ کویہ زندگی کیوں عطا کی گئی آپ کے ہونے کا کیا مقصد ہے؟کوشش کیجیے اپنے مقصد کو سمجھنے کے لیے ،اسے جینے سے پہلے اس کے مقصد کا تعیین کیجیے، اللہ سبحانہ وتعالی نے بندوں کی تخلیق کے متعلق نہایت صاف بات بتلائی:’’وَمَا خَلَقنَا السَّمَآئَ وَالأَرضَ وَمَا بَینَہُمَا لَٰعِبِینَ ‘‘(انبیائ:16)یعنی اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے عبث نہ بنائے-

دوسرے مقام پر فرمایا:’’لَو أَرَدنَآ أَن نَّتَّخِذَ لَھْوًا لَّاتَّخَذنَہُ مِن لَّدُنَّآ إِن کُنَّا فَٰعِلِینَ ‘‘یعنیاگر ہم کوئی بہلاوا اختیار کرنا چاہتے تو اپنے پاس سے اختیار کرتے اگر ہمیں کرنا ہوتا-(انبیائ: 17)

یہ زندگی صرف ایک بار ملی ہے اور اگر اسے ہم شکوک و شبہات کی نذر کردیا تو کیا یہ ہمیں دوبارہ حاصل ہوپائے گی۔ زندگی کو اس کے عطا کرنے والے کی منشاء کے مطابق زندگی گزارو یہ زندگی کبھی بوجھ نہیں لگے گی ۔ اللہ تعالی نے اسی لیے اپنے بندوں سے فرمایا’’فلاتظلموا فیھن انفسھن‘‘ گرچہ آیت کریمہ کا ٹکڑا مخصوص مہینوں کو لیکر ہے لیکن مفسرین نے اس کی تفسیر میں یہی بات بتلائی کہ بندہ مومن خود کو گناہوں سے بچائے اور اپنی نفس سے محبت کرے، اس کاگناہوں سے باز رہنا ہی خود کی جان پر رحم کرنے کے موافق ہے۔ لیکن یہ ہماری غفلت اور کوتاہی ہے کہ ہمارے پاس دنیا جہان کی باتیں سوچنے اور کرنے کا پورا موقع ہوتا ہے صرف ہمارے پاس خود کے لیے وقت نہیں ہوتا ،دکھوں سے باہر نکلنا ہے تو پہلے خود سے پیار کیجیے ،زندگی خود بخود سہل لگنے لگے گی اور اسے جینا آسان معلوم ہوگا۔

دوسروں سے توقعات کم رکھیں:
ہمارے زیادہ تر معاملے رشتے خراب ہونے سے بگڑتے ہیں، اور یہ تب ہوتا ہے جب ہم لوگوں سے بیجا امیدیں باندھنا شروع کرتے ہیں،زندگی میںیوں تو ہم سب ایک دوسرے کی ضرورت ہیں لیکن اس ضرورت کا دائرہ آگے جاکر سمٹ جاتاہے۔ جس کے آگے صرف اللہ سبحانہ کی ذات کامل ہے اور ہم سب اس کے فقیر،انسانوں سے ان کی استطاعت اور طاقت سے زیادہ کی امید کرنا بیکار ہے ،کیونکہ ہر انسان کمزور ہے،یہ ہمارا عمومی رویہ ہے کہ کسی کی طرف سے پہلی بار بہت اچھا رسپانس ملنے کے بعد ہم ہمیشہ اس سے یہ توقع باندھتے ہیں کہ وہ یونہی ہمہ وقت ہماری مدد کو آ پہنچے اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں ہم اس سے متنفر ہونے لگتے ہیں کہ اس انسان نے شروع شروع تو بہت تعاون کیا لیکن اب دیکھو!! یہاں ٹھہر کر سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا واقعی ہم صحیح کررہے ہیں ؟ہم ایک بات یہ سمجھ لیں کہ ہمارا سب سے اچھادوست اورسب سے بڑا دشمن ہمارے اندر ہی ہے، اس لیے ہمیشہ دوسروں سے گلے شکوے کرکے رشتوں کو گنجلک اور پیچیدہ بنانے کی بجائے مفاہمت سے کام لینا چاہیے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو طول دیکر رشتوں کا احترام اور زندگی کا سکون نہ گنوائیں بلکہ دلوں میں وسعت پیدا کرکے زندگی کو ہلکا پھلکا بنانے کی کوشش کریں۔ تو کل صرف اللہ کی ذات پر رکھیں جس کی ذات ہمیشہ سب کی مدد گار رہی ہے ،جو آگے اور پیچھے کی تمام برائیوں اوربھلائیوں سے واقف ہے۔ جوروز ازل سے سبھی کواپنے خزانے سے تقسیم کرتاچلاآیاہے اورآج تک اس کے خزانے میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی جیسا کہ رب کریم فرماتا ہے :’’یایھاالناس انتم الفقراء الی اللہ و ھوا الغنی الحمید ‘‘
بندوں میں سے خواہ کوئی کتنا بھی قریب ہو اسے انسان ہی سمجھیں فرشتگی کی توقعات نہ پالیں ،ان کی کمی کوتاہی پررنج وغم غصہ نہ پالیں۔

وسوسوں سے دور رہیں:
رنج وغم اور فکر کی ایک بڑی وجہ صرف خدشات اور وسوسے ہوتے ہیں انسان بلاوجہ ہی مختلف قسم کے اوہام میں گھرا ہوتا ہے بعض دفعہ اسے لگتا ہے لوگ اس کے خلاف پلاننگ کررہے ہیں ،کبھی اسے لگتا ہے کہ لوگ متحدہ طور پر اسے نیچا دکھانے کے لیے سازشیں کررہے ہیں کبھی اسے ایسے لگتا ہے کہ کوئی اس کے جان و مال کے پیچھے پڑا ہے ،بغیر کسی ثبوت کے ،بغیر کسی ٹھوس وجہ کے بس یونہی ایسے انسان کے دماغ میں الٹے سیدھے مفروضے رقص کرتے ہیں اور اسے ڈپریشن کا مریض بنادیتے ہیں دراصل یہ بہت خطرناک بیماری ہے اس کاتدارک یہی ہے کہ جلد سے جلد اس سچویشن سے باہر آنے کی کوشش کی جائے ،اللہ سے لو لگائی جائے ، لوگوں سے حسن ظن رکھاجائے بلاوجہ توہمات کو اہنے دل میں جگہ نہ جائے۔اللہ نے اسی کے لیے بندوں کو خدشات اور بدظنی سے دور رہنے کی تنبیہ و تاکید کی: یَٰٓأَیُّہَا الَّذِینَ امَنُواْ اجتَنِبُواْ کَثِیرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعضَ الظَّنِّ إِثمٌ‘‘ (الحجرات:12)
اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے ۔

گناہ کے ساتھ بعض خدشات بالکل بے بنیاد ہوتے ہیں اس لیے محض گمان اور خیال ہر اپنی بیش قیمت زندگی کی بنیاد نہ رکھیں قضاء وقدرسے اللہ نے ہر چیز مقرر کر رکھی ہے،اس لیے ذہن سے یہ ساری باتیں جھٹک کر ایک صحتمند زندگی کا آغاز کیجیے ۔

اچھی صحبت کا انتخاب کریں:
حزن وملال کی کیفیت سے نکلنے میں یہ بھی ایک مؤثر طریقہ ہے کہ خود کو ایسے لوگوں سے دورکرلیا جائے جو Negativity کا شکار ہوں ،ایسے لوگ مزید آپ کے حوصلوں کو پست کریں گے ,یا پھر ایسے لوگ جو بہت زیادہ دنیا دار یا ہر وقت ننانوے کے چکر میں رہتے ہوں،ان کی صحبت آپ کومزید لالچ ،غم وغصہ کی طرف لیجائے گی اور صبر وشکر کی بجائے آپ لوگوں پر منحصر ہوجائیں گے۔

مفید باتیں سوچیے !! نیک لوگوں کی صحبت اپنائیے،بامقصد اور تعمیری ذہن کے لوگوں کی مجلس آپ کو زندگی کے قریب کرسکتی ہے ایسے لوگوں کا انتخاب کیجیے جو صاحب فکر ہوں امت کا درد سینے میں رکھتے ہوں اور اللہ پر بھروسہ کرنیوالے ہوں اور ایمان و یقین کی دولت سے مالا مال ہوں۔

صبرو دعا سے کام لیں:
ہر مصیبت کے وقت پر یہ نہ بھولیں کہ’’ ان مع العسر یسرا‘‘ہر مشکل کیساتھ آسانی ہے،ہر تکلیف کے پیچھے کوئی حکمت ہے ،ہر مشکل کے پیچھے کوئی نہ کوئی آسانی ہے ،مرض کے ساتھ دوا بھی ہے ہر تکلیف پر صبر چاہیے۔ بس ضرورت ہے اپنے یقین کو بنائے رکھنے کی ،لوگوں کے حالات سے عبرت حاصل کریں جنھیں مصائب و آلام کا سامنا ہوا۔ان میں سے شاکر لوگوں کی زندگی کو دیکھیں اور ناشکرے لوگوں کی زندگی کا معائنہ کریںکہ کون زیادہ خوشحال ہے ۔

بالیقین وہی لوگ جو شاکرو صابر ہونگیں۔ اس قبیل میں اللہ کا یہ جامع بیان ہے:’’وَلَقَدمَکَّنَّٰکُم فِی الأَرضِ وَجَعَلنَا لَکُم فِیہَا مَعَٰیِشَ قَلِیلاً مَّا تَشکُرُونَ ‘‘اور بیشک ہم نے تمہیں زمین میں جماؤ (ٹھکانا) دیا اور تمہارے لیے اس میں زندگی کے اسباب بنائے بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔

فضل بن عیاض رحمہ اللہ اس آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں:’’سَلَامٌ عَلَیکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ‘‘ (الرعد:24)کہ اللہ نے صابرین کو جو سلامتی اور بہترین ٹھکانے کی بشارت سنائی وہ اس بنیاد پر سنائی کہ ,انھوں نے اوامر پر بھی صبر کیا اور نواہی پر بھی صبر کیا۔

صبر کا معنی صرف استسلام نہیں ہے جیسا کہ سمجھ لیا گیا ہے بلکہ ذات باری پر یقین رکھتے ہوئے دعا کرنا، اپنی حالت کو بدلنے کی دعا کرنااور اس کی خاطر جائز اسباب کا اختیار کرنا مطلوب اور مستحسن ہے۔ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے ان سے بیجا امیدیں قائم کرکے خود کو زخمی کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ انسان تنہائی میں اپنی ساری مصیبتیں،ساری تکلیف گڑگڑاکر اپنے رب کے سامنے رکھے اپنے اس رب کے سامنے جو ہر آن،ہرلمحہ آپ کی مدد کو تیار ہوتا ہے،جو کسی بھی مصیبت زدہ کی مدد سے نہیں تھکتا۔ اپنا معاملہ اللہ کے سامنے رکھیں اور دعا کی قبولیت پر صبر واستقلال کا مظاہرہ کریں, -

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسے پکاریں،آواز دیں اور اللہ سبحانہ وتعالی ہمیں وہ طریقہ سجھائے ،ہدایت وتوفیق سے نوازے ،جس سے ہم اہنی انمول زندگی کو ضائع ہونے سے بچاسکیں،,ذکر واستغفار کے ذریعے زندگی کو نئی سمت دیں کیونکہ علماء کرام فرماتے ہیں غم ایک ایسی کیفیت ہوتی ہے جس میں بندہ اللہ کے فیصلے پر راضی نہیں ہوتا، اس لیے اس حال میں نبی کریم نے کثرت سے اس دعا کے التزام کی ہدایت فرمائی:اللَّھمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْھمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْکسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّیْنِ، وَغَلَبَۃِ الرِّجَالِ۔آمین(صحیح بخاری:کتاب الدعوات،باب الاستعازۃ من الجبن والکسل)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ام ہشام نوریہ

Read More Articles by ام ہشام نوریہ: 7 Articles with 3244 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Aug, 2017 Views: 413

Comments

آپ کی رائے