سود،سود کی حرمت اور سود کا خاتمہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قسط نمبر٣

(MUHAMMAD BURHAN UL HAQ JALALI, Jhelum)

سود کے اخلاقی نقصانات:
اخلاقی اعتبار سے اگر ہم سود کے نقصانات کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی مضرتوں سے سود لینے والے، سود دینے والے،اور جس معاشرہ میں اس کا چلن ہوتا ہے سبھی متاثر ہوتے ہیں اور کوئی بھی اس کے اخلاقی نقصانات سے بچ نہیں سکتا۔ چنانچہ اس کی وجہ سے سود لینے والوں کے اندر سے اپنے بھائیوں کے ساتھ ہمدردی، محبت، اور للہ فی اللہ تعاون کا جذبہ ختم ہوجاتا ہے، چنانچہ ہر شخص جانتا ہے کہ بینکوں اور سودی اداروں کی عالیشان بلڈنگوں، بیش قیمت اور اعلیٰ قسم کے کرسیوں پر اورانتہائی قیمتی وخوبصورت فرنیچر سے مزین کمروں اور اے سی کی پرکیف اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں میں بیٹھنے والے سود خوروں کو اس سے سودی قرض لینے والے غریبوں کے دکھ درد،اور مجبوریوں وپریشانیوں کا ذرا بھی احساس نہیں ہوتا۔ اگر کوئی غریب وقت مقررہ پر قرض مع سود کی رقم کے ادا نہیں کرسکتا تو فورا اس کے خلاف قانونی کاروائی کرتے ہیں۔اور عدالت کے ججوں سے لیکرتھانے کی پولیس تک سب ان کی مدد کرتے ہیں اور بیچارے غریب قرضدار کی مجبوریوں، پریشانیوں،فقر وفاقہ،کاروبار میں نقصان اور اس کے اور اس کے بال بچوں کے آنسوؤں کو کوئی نہیں دیکھتا،ان کی آہ وبکا کی آواز سے کسی کے دل میں جذب? ترحم پیدا نہیں ہوتا، بلکہ الٹے سبھی اس پر ناراض ہوتے، ڈانٹتے اور لعنت ملامت کرتے ہیں پھر اجنبی زبان میں لکھے ہوئے شروط کے مطابق جن کو شاید اس غریب نے سمجھا بھی نہیں تھا اور ایجنٹو ں نے بھی جان بوجھ کر اس کو سمجھایا اور بتایانہیں تھا،اس کی زمین، جائداد نیلام کردی جاتی ہے، اور بینک کا قرض مع سود وصول کرلیا جاتا ہے۔
اسی طرح سودی قرض لینے والوں کے دل بھی اس کی نحوست سے ایمانداری، سچائی، وفا داری اور احسان شناسی کے اوصاف حمیدہ سے خالی ہوجاتے ہیں۔اور ان کے اندر بے ایمانی، کذب بیانی،بے وفائی اور احسان فراموشی جیسے اوصاف خبیثہ پیدا ہوجاتے ہیں، چنانچہ اگر ان پر ترس کھاکر کوئی شریف آدمی قرضہ حسنہ دیدے اور ان پر اعتماد کرکے تحریری،قانونی کاروائی نہ کرے،اور وہ جسمانی طاقت اور افرادی قوت میں ان سے کمزور ہو تو نہ صرف وہ قرض کی واپسی میں ٹال مٹول کرتے ہیں اور طرح طرح سے پریشان کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اسے گالیاں دیتے،الزام تراشی کرتے،خود مارنے یا غنڈوں سے پٹوانے کی دھمکیاں دیتے ہیں، اور بسا اوقات مار پیٹ بھی کر لیتے ہیں،اور قرض دی گئی پوری رقم ہڑپ کرلیتے ہیں۔اور ایسا صرف اس بناپر ہو تا ہے کہ سود خوری نے ان کے دلوں میں قساوت اور بے ایمانی بھر دی ہے، جس سے وہ اس شریف آدمی کی شرافت اور کمزوری سے نا جائز فائدہ اٹھا رہے ہیں اور احسان فراموشی کرکے اس پر ظلم کررہے ہیں۔
پھر ان لوگوں کی حرکتوں سے دوسرے لوگوں کے اندر سے بھی غریبوں، مجبوروں کے ساتھ تعاون وہمدردی کے جذبات ختم ہوجاتے ہیں، چنانچہ کچھ لوگ تو سودی اداروں کی طرح چاہتے ہیں کہ وہ بھی ان غریبوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھائیں اور قرض دے کر سود حاصل کریں۔اور کچھ شرفاءاور نیکوکار لوگ قرض لینے والوں کے نازیبا سلوک کرنے اور ان کا مال ہڑپ کرجانے سے بددل ہوجاتے ہیں،اور اس خوف سے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی اسی طرح کا معاملہ اور سلوک نہ ہو، چاہتے ہوئے بھی قرض نہیں دیتے،اس طرح سودی نظام اور کاروبار کی وجہ سے پورا معاشرہ اخلاقی زوال کا شکار ہو جاتاہے، لوگوں کے اندر خود غرضی،بے ایمانی،شقاوت قلبی، بے وفائی، جھوٹ ودغا بازی وغیرہ اخلاقی برائیاں اور بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں۔
سود ی کاروبار کے اخلاقی نقصانات میں سے یہ بھی ہے کہ اس نظام نے لوگوں کے درمیان کافی اونچ نیچ پیدا کردی ہے،اور ان کو دو طبقات میں تقسیم کردیا ہے،اور اس کی وجہ سے ان کے درمیان عداوت ودشمنی،کینہ وکپٹ اور بغض وحسد عام ہو گیا ہے۔
لوگ پہلے بڑی محبت وسکون سے رہتے تھے،پریشانیوں اور مصیبتوں کے وقت ایک دوسرے کے ساتھ قرضہ حسنہ اور صدقہ و خیرات وغیرہ کے ذریعہ تعاون کرتے تھے،قرض کی وصولی میں سختی کرنے کی بجائے سہولت ہونے تک مہلت دیتے تھے اور غرباءومساکین اور پریشانیوں میں مبتلا حضرات بھی ان کے اس احسان وتعاون کا اپنے دل میں احساس رکھتے اور زبان سے تسلیم کرتے اور اس پر ان کا شکریہ اداکرتے تھے۔اس طرح سے مسلم معاشرہ میں بڑا سکون،محبت،ہمدردی اور بھائی چارگی تھی،اونچ نیچ کا احساس نہیں تھا، کیونکہ مالدار اپنے غریب بھائیوں کے ساتھ جو بھی احسان وتعاون کرتے تھے وہ اپنا دینی فریضہ اور عبادت سمجھ کر کرتے تھے،احسان جتلانے، ان کا استغلال کرنے،ان کی دولت لوٹنے اور خون چوسنے کے لئے نہیں کرتے تھے،وہ یہ کام صرف رضا الٰہی اور آخرت میں اجر وثواب کے لئے کیا کرتے تھے۔اور جانتے تھے کہ احسان جتلانے اوراس سے کوئی مادی فائدہ اٹھانے کی صورت میں ان کی نیکیاں ضائع ہوجائیں گی، لیکن سودی نظام نے ان کے دلوں سے ان نیک جذبات کو ختم کردیا ہے،اور لوگ دو مختلف گروپ اور متحارب طبقوں میں تقسیم ہوگئے، اس نظام کو چلانے کے لئے ظالموں نے غریبوں، محتاجوں اور مظلوموں کی ہمدردی ودستگیری کے نام پر اشتراکیت اور کمیونزم جیسے مذہب دشمن نظریات والی پارٹیوں کو جنم دیا جنھوں نے سماجی واقتصادی مساوات، عدل وانصاف،زر،زن اور زمین میں سب کا حصہ،عوام کی حکومت عوام کے ذریعے وغیرہ خوش کن نعرے لگائے اور اس کے ذریعہ طبقاتی نا برابری،غربت ومسکنت، اور ظلم وستم کے خاتمے کا پر زور بلکہ پرشور دعویٰ کیا۔لیکن عملی دنیا میں اس میں سے کچھ بھی حاصل نہ ہوا،بلکہ ظلم وجور،فقر وفاقہ اور محرومی وبیکسی اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔اور روس جیسا عظیم ملک جو ان نظریات کا سب سے بڑا علمبردار تھا،خود ان مسائل ومصائب میں مبتلا ہوکر لوگوں کے لئے عبرت کا سامان بن گیا۔
دوسری طرف انہیں یہودیوں نے جن کے اوپر ان کے شریعت میں سود کو حرام قرار دیا گیا تھا اور اس کی مخالفت کی پاداش میں انہیں بہت سی پاکیزہ اور عمدہ چیزوں اور نعمتوں سے محروم کردیا گیا،جیسا کہ اللہ رب العالمین نے فرمایا
پس یہودیوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے بہت سی وہ پاکیزہ چیزیں ان پر حرام کردیں جو پہلے ان کے لئے حلال تھیں،اور ان کے بکثرت اللہ کے راستے سے روکنے کی بنا پر اور ان کے سود لینے کی بنا پر جس سے انہیں منع کیا گیا تھا۔
انہیں یہودیوں نے دنیا کے اقتصاد اور حکمرانوں کو اپنے کنٹرول میں کرنے،پوری دنیا پر اپنا دبدبہ وغلبہ قائم کرنے اور جب چاہیں دوسرے ممالک اور خاص طور سے جن سے ان کی عداوت اوردشمنی ہو کے اقتصاد کو تہ وبالا کرنے کے لئے یہ سودی نظام رائج کیا اور دنیا پر اس کو اس طرح مسلط کیا کہ لوگوں کے لئے اس سے نجات اور بلا سودلئے کوئی بڑاکاروبار کرنا مشکل ہوگیاہے،یہودی پروٹوکولز میں ہے:
”ہماری انتظامیہ کو ماہرین معیشت کی بہت بڑی تعداد کی خدمات میسر ہونگی،یا یہ کہہ لیجئے کہ وہ ماہرین اقتصادیات سے گھری ہوئی ہو گی،یہی وجہ ہے کہ یہودیوں کو دی جانے والی تعلیم میں اقتصادی سائنس کو ایک اہم مضمون کی حیثیت حاصل ہے، ہمارے چاروں طرف بنکاروں، صنعت کاروں،سرمایہ کاروں اور کروڑ پتیوں کا ایک مجمع ہوگا،ہمیں ان کی خدمات بہت سی کاموں کے لئے درکار ہونگی، کیونکہ ہم ہر مسئلہ کا فیصلہ اعداد وشمار کی روشنی میں کرتے ہیں۔
وہ وقت بہت قریب ہے جب ہماری مملکتوں کے کلیدی عہدوں پر ہمارے یہودی بھائی تعینات ہوں گے،ان کی تقرریوں میں نہ کوئی رکاوٹ ہوگی اور نہ کوئی خطرہ ہوگا لیکن وہ وقت آنے تک ہم معاملات کی باگ دوڑ ایسے لوگوں کو دیں گے جن کا ماضی اور حال یہ ثابت کرسکے کہ ان کے اور عوام کے درمیان ایک وسیع خلیج حائل ہے۔ہماری ہدایات کی خلاف ورزی کرنے پر انہیں سخت الزامات کا سامنا کرنا پڑیگا،یا پھر شرم وندامت کی وجہ سے خود کشی کئے بغیر کوئی چارہ نہ ہوگا۔اس طریقہ کار سے دوسرے لوگوں کو نا فرمانی کرنے والوں کے انجام سے سبق ملا کرے گا اور وہ آخری وقت تک ہمارے مفاد کے لئے کام کرنے پر مجبور ہوں گے۔ (یہودی پروٹوکولز:ص۱۳۳)
اور یہی وجہ ہے کہ علم الاقتصاد یہودی طبقہ کا بنیادی موضوع ہے،اور امریکہ، بریطانیہ وغیرہ ممالک،بڑے بڑے یہودی سرمایہ داروں،بینک کاروں اور کروڑ پتیوں کے گھیرے اور نرغے میں ہیں،اور تمام دنیا کی دولت کے حقیقی مالک چند ہزار یہودی اور سود خور ہیں،ان کے علاوہ تمام اصحاب ثروت،تجار اور کار خانوں اور فیکٹریوں کے مالک جو بینکوں اور سودی اداروں سے قرض لے کر کام کرتے ہیں در حقیقت یہ بندھوا مزدور کے سوا کچھ نہیں، کیونکہ اخیر میں ان تمام کاروباروں کے اصل منافع انہیں یہودی سود خوروں کے جھولیوں میں چلے جاتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو ان کی محنت،کارکردگی اور فرائض ومسلیات کے اعتبار سے صرف مزدوری مل پاتی ہے۔
یہودی پروٹوکولز کے اس اقتباس کو دوبارہ پڑھئے اور دیکھئے سودی نظام اور قرضوں وغیرہ کے ذریعہ کس طرح یہودیوں اور صلیبیوں نے مسلم ممالک پر خصوصا اور تیسری دنیا کے ممالک پر عموما ایسے حکمرانوں کو مسلط کردیا ہے جن کو اپنے عوام سے نہ کوئی ہمدردی ہے اور نہ ان سے کوئی تعلق اور ربط ہے،جو واضح طور پر ان کے پروردہ ایجنٹ ہیں،اور انہیں کے ہدایات واحکامات پر عمل کرتے اور اپنے اپنے ملک اور عوام کو معاشی، اخلاقی،دینی،اور عسکری ہر اعتبار سے تباہ کر رہے ہیں،اور جس روز ان کے ذریعہ وہ مطلوبہ کام کرلیتے ہیں اور ان کی ضرورت نہیں رہ جاتی ہے،یا جس دن انہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ ہمارے حکم سے سرتابی کررہے ہیں ان کے خلاف سنگین قسم کے الزامات لگا دیتے ہیں اور میڈیا جو ان کا غلام اور کارندہ ہے ان حکمرانوں کے خلاف شب وروز الزامات کی بوچھار کرتا اور ان کے مظالم اور کالے کرتوں کی داستانیں سناتاہے اور پھر مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کرکے یا تو انہیں پھانسی دلادی جاتی ہے یا کسی ذریعہ سے قتل کرادیا جاتا ہے،یا خود کشی پر مجبور کردیا جاتا ہے، بہر حال انہیں ذلیل وخوار کرکے اس طرح منظر سے غائب کردیا جاتا ہے کہ کہیں ان کا پتہ بھی نہیں لگتا اور ایسا اس لئے کیا جاتا ہے کہ دوسروں کے لئے عبرت ہو۔
سود کے اخلاقی نقصانات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جو لوگ سودی قرض لیتے ہیں انہیں مقررہ مدت پر اسے سود کی ایک بڑی رقم کے ساتھ واپس کرنا رہتا ہے،اس واسطے وہ ایسے پروجیکٹوں میں جو انسانی ضروریات ومصالح کے مطابق اور ملک وملت کے حق میں مفید ہوں پیسے لگانے کے بجائے ایسے کاروبار میں لگاتے ہیں جن سے زیادہ سے زیادہ نفع کما سکیں،بھلے ہی وہ مخرب اخلاق اور تہذیب وشرافت،حیا وغیرت اور ایمانداری وہمدردی اور حق وصداقت کا جنازہ نکالنے والے ہوں۔چنانچہ آج ہر شخص اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے کہ لوگ کس طرح گندی فلموں،فحش رسالوں،رقص گاہوں، شراب خانوں،تھیٹروں،بیوٹی پارلروں اور گندے گانوں اور فلموں کے آڈیو، ویڈیو کیسٹوں اور سیڈیز بنانے کے کارخانوں میں سرمایہ لگا کر زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے لگے ہیں تاکہ یقینی طور سے اور زیادہ سے زیادہ نفع کمائیں اور سودی قرض ادا کرنے کے بعد ایک اچھی بڑی رقم پس انداز کرلیں۔بلا سے اس کی وجہ سے معاشرے میں فحاشی وعیاشی کا سیلاب آجائے،نوجوانوں کے اخلاق بگڑ جائیں، قتل وخونریزی کے بازار گرم ہوں اور شراب نوشی اورسٹہ بازی کی وجہ سے گھر،خاندان اور پورا معاشرہ تباہ وبرباد ہوجائے۔
یہ سودی قرضوں کی ہی دین ہے کہ مسلم حکمراں اپنے آقاوں کے حکم پر دینی تحریکوں کو کچلتے،علما ءودعاة کو قتل کرتے،دینی واخلاقی لٹریچر پر پابندی لگاتے اور فحش لٹریچرکی اشاعت کرتے اور اجازت دیتے ہیں۔
یہ اسی سود کی برکت ہے کہ دینی اداروں اور مساجد ومدارس کے نشاطات پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں،مجاہدین کو دہشت گرد قرار دے کر انہیں اعدائے اسلام کے حوالے کیا جارہا ہے،وہ فوج جسے قوم وملت کی حفاظت اور ملک کے دفاع کے لئے تیار کیا گیا تھا اس کے ذریعہ بے گناہ مسلم مجاہدین اور علماءوطلبہ کو قتل کرایا جارہا ہے، دینی مدارس پر بم باری کی جارہی ہے،انہیں دہشت گردی کا اڈہ کہا جارہا ہے، ان کے نصاب میں یہود ونصاریٰ کی خواہشوں اور سازشوں کے مطابق تبدیلیاں کی جارہی ہیں،ان میں مخلوط تعلیم اور ساتویں اور آٹھویں جماعت کے طلبہ وطالبات کے لئے جنسی تعلیم کولازم قرار دیا جارہا ہے،جس سے اخلاق وحیا اور عفت وپاکدامنی کا جنازہ نکل رہا ہے اور پوری قوم ناکارہ، بے غیرت اور بے دین ہورہی ہے۔غرض یہ کہ امت مسلمہ کے لئے خصوصا اور پوری انسانیت کے لئے عموما سود کے بے شمار دینی واخلاقی نقصانات ہیں
بہرحال اللہ ہم سب کو سود جیسی بیماری سے بچنے کی توفیق عطاءفرمائے
آمین ثم آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MUHAMMAD BURHAN UL HAQ JALALI

Read More Articles by MUHAMMAD BURHAN UL HAQ JALALI: 111 Articles with 96739 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Aug, 2017 Views: 257

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ