وفاقی دار الحکومت کا نیلا علاقہ اور میرا خواب۔چند سوالات (عید الاضحی)

(Muhammad Bilal Azfar Abbasi, Rawalpindi)

آج اسلام آباد کے نیلے علاقے(بلیو ایریا) میں سرِ شام قیامت کا سناٹہ گویا ہو کا عالم ہے۔ دو پہر ڈھلتے ہی یہاں کے باسی اپنے آبائی علاقوں کو دوڑے۔ کئی ایک کی مجھ سے بھی یاداللہ ہے سو مجھ سے گلو گیر ہوئے ۔ ایک چمک تھی کہ علی الاعلان عید کا پیغام دے رہی تھی۔ راقم کو یوں تو یار لوگ" بدبودار لبرل" کے طور پر جانتے ہیں مگر دلوں کے حال تو بنانے والا جانتا ہے۔ چونکہ قربانی کا ارادہ رکھتاتھا، سو کچھ پہچان والے ناراض تھے،انہیں منا لینے کو آگے بڑھا۔ سوچا کہ جس رب کو خادم جانتا ہے وہ پہلے "میں" ذبح کرنے کو فرماتا ہے۔ہاں مگر "ملا"کا رب جانے اور وہ۔ خیر دلچسپ بات یہ کہ ناراض لوگوں میں سے ایک صاحب کو منانے کیلئے مشترکہ دوست( خواتین) کی خدمات حاصل کیں اور لگے ہاتھ"معافی"کہہ کر اپنے سوہنے رب کا گھر دھو ڈالا۔

صاحبان! یہ آگاہی بھی بعض اوقات عذاب سے کم نہیں ہوتی۔ جب سب پہچان والے رخصت ہوئے تو میں نے بھی گاڑی سٹارٹ کی، کہ گھر کی راہ لوں۔ معلوم نہیں کیوں ؟ مگر آگے نہ بڑھ سکا اور لگا سوچوں کی وادی میں گھومنے۔ تا آنکہ 2گھنٹہ بعد ایک پہچان والی محترمہ کا فون آیا کہ اگر اسلام آباد میں ہیں تو لگے ہاتھ F-6آ جائیئے ۔ ویسے تو آج تنہائی میں خود کلامی کو من چاہ رہا تھا مگر جب موصوفہ نے کہا کہ Coffee کے پیسے وہ دیں گی تو خود کو روک نہ پایا۔ سیانے کہتے ہیں کہ "مفت کی کافی،لبرل کو حلال"۔

خیر اللہ اللہ کر کہ کافی پی اور واپسی کی راہ لی۔ اسوقت رات کے 10بجے ہیں۔ چائے کا بڑا کپ اور میں اکیلا۔ لوگ روشنیوں میں کہیں بچوں سے کھیل رہیں ہوں گے اور کہیں ذبیحے کی تلاش جاری ہوگی۔ جانتا ہوں کہ اہلیہ بھی منتظر ہو گی اور میری کل کائنات ،میری بیٹی حوریہ بھی اپنی ماں سے پوچھ رہی ہو گی کہ "ماماں! آج بابا جلدی آ جائیں گے؟ بابا سے میری بات کروائیں نا۔ان سے کہیں کہ حوریہ کہہ رہی ہے کہ جلدی سے آجائیں(اس جملے میں پنہاں قوتِ تعلق ایک باپ ہی جان سکتا ہے)۔اور میرے لیئے فلوٹ( اگر چہ اب وہ درست بولنے کی عمر میں ہے مگر شاید وہ فلوٹ اس لیئے بولتی ہے کہ مجھے اسکا ایسا بولنا پسند ہے)لانا ہے"۔اور بس اس کے بعد ایک جنگ عظیم شروع۔بڑے دونوں بھائیوں کو بلیک میل کرے گی کہ بابا صرف میرے ہیں۔اور ہاں اس بات پر الگ سے تکرار ہو گی کہ بابا کے جوتے کون اتروائے گا؟ ساکس(جرابیں) کون اتروائے گا۔ پینے کو پانی کون دے گا۔یہاں تک کہ بابا کے قریب ترین بیڈ پرکون سوئے گا (کیونکہ ساتھ کبھی بچوں کو میں نے نہیں سلایا اور نہ ہی اس کا قائل ہوں)۔

یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی میں نے یہاں Monologue اور زیرِ نظر آرٹیکل لکھنے کو ترجیح دی۔ سوچ رہا ہوں کہ اپنے ہم وطنو سے چند سلگتے سوال کروں۔ پوچھوں کہ کیا ہم درست سمت میں جا رہے ہیں؟کیا ہم نے اپنی معاشرتی اقدار کی ترویج اور ترقی کی لیئے کوئی منصوبہ بنا رکھا ہے؟کیا ہماری منزل یورپ کی طرز پر شتر بے مہار معاشرہ ہے؟ یا پھر ملائیت کے گھناؤنے خواب کے تعبیر ہمارا مستقبل ہے؟ہم نے کیا سوچا ہے کہ کیا ہمارے معاشرے کو عمرانی معائدے کی ایسی طرز پر تشریح و نفاذ کی ضرورت نہیں کہ جو متنوع اور جامع ہو؟کیا ہماری سیاست کے ناخدا نہیں جانتے کہ وہ کہیں تبدیلی اور کہیں جمہوریت کے نام پر جو ڈھونگ رچائے بیٹھے ہیں وہ کتنا بڑا فریب ہے؟کیا وہ نہیں جانتے کہ یہ جو آج کی جوان نسل کے لڑکے لڑکیاں ہیں،جب انکے خواب جو وہ اِن سیاسی پنڈتوں سے جوڑ کر دیکھ چکے ہیں،جب وہ چکنا چور ہوں گے تو معاشرے میں کس قدر زندہ لاشے ہوں گے؟کیا ہماری بیوروکریسی کو آگاہی نہیں ہے کہ جونک کی طرح جس ملک کی جڑوں کو وہ کھوکھلا کر رہے ہیں،جب اسکا خون چوس لینگے تو خود کہاں جائیں گے؟کیا پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نہیں جانتی کہ قوم میں میرے جیسے بھی ہیں کہ جن کی رگوں میں سپیشل سروسز گروپ کے تربیت یافتہ اور تمغہِ جرآت حاصل کرنے والے فضائیہ کے جوان کا خون ہے ،اور وہ سینہ گزٹ سے جانتے ہیں کہ ملٹری کس طرح پاکستان کی خارجہ اور خزانہ پالیسی کو اغواء کیئے ہوئے ہے؟کیا میری عدالتیں نہیں جانتیں کی سندھ طاس معائدہ کو عملاََ سبوتاژ کر کہ پرویز مشرف نے ملک کو پانی کے لیئے بھارت کا باجگزار بنا دیا؟میری عدالتیں کب تک نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے کریں گی؟کب تک ہمارا معاشرہ مذہب کے نام پر بلکتا اور سسکتا رہے گا؟کب تک ملا ملٹری الائینس اور کبھی عدلیہ ملٹری الائینس بنا کر ملک کو یرغمال بنایا جاتا رہے گا؟کب تک ہمارے ہاری اور کسان کم معاوضے پر اپنے فصلیں بیچنے پر مجبور ہوں گے؟کب تک میری زمینیں سڑکوں اور بجلی سے محروم جبکہ جاتی امراء کی بھٹی سے راؤنڈمحلات تک اور میانوالی کے پنڈ سے بنی گالہ تک میرے ٹیکس سے سفر کرنے والوں کی خواب گاہوں کا خرچ بھی سرکار دیا کرے گی؟ کب تک میر ی قوم کے بچے سڑک کے کنارے گندگی کے ڈھیر پر رزق تلاشیں گے اور نالے کے کنارے کو بیڈ روم بنا لیں گے؟کب تک سسکتی انسانیت کو Most resilient nation کے گھٹیہ خطابوں سے بین الاقوامی دنیا نوازے گی؟کب Most prosperous nation کا خطاب ہمارا مقدر ہو گا؟ کب تک میرے 5سٹار ہوٹلوں میں روز منوں کے حساب سے رزق کوڑے میں پھینکنے کو فیشن سمجھا جائے گا؟کب تک سماج میں Haves & have nots کے درمیان ایک نہ ختم ہونے والی خلیج رہے گی؟کب میر ی قوم کی کوئی لڑکی جہیز کے گھٹیہ بوجھ تلے خود کو اور اپنے باپ کو دبا محسوس نہیں کرے گی؟(مجھے فخر ہے کہ میں نے اپنے سسرال کو اس بات پر ناراض کیا اور سختی ہے جہیز نہ لینے کا اعلان کیا)،کب میرے ملک کے مُلا محراب و ممبر کو سماجی اخلاقیات کے سدھار کا زریعہ بنائیں گے؟کب مسجد لاؤڈ سپیکر سے یہ سننے کو ملے گا کہ Social Ethicsکس بلا کا نام ہے؟
جانے دیجیئے حضور! جانتا ہوں کہ اس معاشرے نے کبھی اقبال پر (شکوہ تحریر کرنے پر)کفر کا فتویٰ لگایاتو کبھی قائد کو کتا رکھنے پر کافرِ اعظم اور لبرل کہا۔کبھی فیض کو جنتا کی بات کرنے پر سرخا کہا تو کبھی جالب کو ڈکٹیٹر کا منہ چڑہانے پر باغی۔کبھی منٹو کو حق گوئی پر یاوہ گو کہا تو کبھی چغتائی کو ننگا سچ لکھنے پر فحش گو ۔میں کس باغ کی مولی ہوں؟

ہاں مگر، اگر ننگا سچ لکھنا فحاشی ہے تو پھر میں بھی فحش گو ہوں چغتائی کی طرح۔اگر حق گوئی یاوہ گوئی ہے تو میں بھی یاوہ گوہوں منٹو کی طرح۔اگر ڈکٹیٹر کی ناک میں انگلیاں چڑہانا بغاوت ہے تو میں بھی باغی (ڈہیٹ )ہوں جالب کی طرح۔اگر جنتا کی بات کرنے کا مطلب سوشلسٹ ہونا ہے تو میں بھی "سرخا"ہوں فیض کی طرح۔اگر محض ظاہری وضع قطع کا ملا کی منشاء کے بغیر ہونا لبرل ازم ہے تو میں بھی لبرل ہوں قائد کی طرح۔اور اگر ملا کی شریعت کے بجائے آقا کی شریعت اور صوفیوں کی طریقت کفر ہے تو میں بھی۔۔۔۔ پیر مشرق ،اقبال کا پیرو ہ ہوں۔
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جسکا وعدہ ہے
جس راج کرے گی خلق خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
جب اہل حکم کے سر اوپر
یہ بجلے کڑ کڑ کڑکے گی
جب ارض خدا کے کعبے سے
سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہل صفا مردود حرم
مسند پہ بٹھائے جائیں گے
ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
ہم دیکھیں گے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Bilal Azfar Abbasi

Read More Articles by Muhammad Bilal Azfar Abbasi: 4 Articles with 1782 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Aug, 2017 Views: 414

Comments

آپ کی رائے