شجر ممنوعہ(صفحہ نمبر ٥)

(kanwalnaveed, Karachi)

دل اسی چیز کے لیے کیوں تڑپتے ہیں جو ہمیں نہ مل سکنے کا اندیشہ ہو!

شواف کی امی کو دیکھ کر اوصاف نے بات مختصر کرتے ہوئے کہا۔ اچھا ارباب میں تم سے بعد میں بات کروں گا۔ عطیہ جبین نے غصے سے اوصاف سے کہا۔ کچھ پتہ چلا شواف کا۔ اوصاف نے نرمی سے کہا نہیں آنٹی مجھے کچھ پتہ نہیں چلا ۔ وہ اپنا موبائل بھی ساتھ نہیں لے کر گئی۔ عطیہ جبین نے پھر غصے سے کہا ، وہ گئی کیوں ہے ،میں یہ پوچھا چاہتی ہوں ۔ اوصاف نے ضبط کرنے والے لہجے میں کہا۔ تو یہ آپ اسی سے پوچھئے گا۔ کیوں کہ اس بات کی خبر تو مجھے بھی نہیں ۔ تم شوہر ہو اس کے تمہیں خبر ہونی چاہیے ، عطیہ جبین نے چیختے ہوئے کہا۔ اپنی بیٹی اس لیے نہیں دی تھی تمہیں ۔ پتہ نہیں کیا کیا!
اوصاف نے ان کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ بیٹی دے کر احسان نہیں کیا ، آپ نے مجھ پر ۔ نفسیاتی مریض ہے آپ کی بیٹی ۔ زندگی عذاب بنا کے رکھ دی ہے ۔اس نے میری ۔ پتہ نہیں کیا چاہیے اسے ۔ وہ خود نہیں جانتی کہ وہ کیا چاہتی ہے۔ جب بھی اس سے کسی مسلے سے متعلق کوئی بات کرنے کی کوشش کرو، منہ بند کر کے ایسے بیٹھ جاتی ہے۔ جیسے انسان کسی دیوار سے بات کر رہا ہو۔اب یہ حرکت ۔ سمجھ ہی نہیں آ رہا کیا کروں ۔
عطیہ جبین رونے لگیں ۔ اوصاف بیٹا ۔ کچھ بھی کرو ۔ میری بیٹی کو ڈھونڈو۔ میری بیٹی۔اوصاف نے انہیں ،ٹشو کا ڈبہ دیا اور کمرے میں چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب شواف کو ہوش آیا تو اسے اپنے پورے جسم میں دردمحسوس ہو رہا تھا۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا ۔او میرے اللہ ! یہ میں نے کیا کیا۔ سوہا میری چھوٹی سی بیٹی ۔جب جاگے گی تو ۔میں جس سے دور جانا چاہتی تھی۔ وہ تو میرے ساتھ ہی ہے۔ وہ رو رہی تھی۔ پولیس نے اس کا بیان لینے کی کوشش کی تو اس نے کچھ بھی بولنے سے انکار کر دیا۔ مریم مجتبی نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا ۔ انہوں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔ بیٹا کوئی بھی تکلیف یا غم اتنا بڑا نہیں ہوتا کہ انسان اس قسم کی حرکت کرئے ۔ تم نے کیو ں اپنی زندگی ختم کرنے کا سوچا ۔ زندگی تو رب کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اپنے آپ کو اکیلا نہ سمجھو ۔ شواف نے مایوسی سے ان کی طرف دیکھا۔

شواف مریم مجتبی کی طرف کچھ دیر دیکھتی رہی ۔ وہ کچھ بھی بولنا نہیں چاہ رہی تھی۔ ڈاکٹر نے سفیر سے کہا۔ مریض کے سر پرجو زخم ہے اس کی ڈریسنگ کے لیے مریض کوپانچ دن روز ہوسپٹل آنا ہو گا۔ شواف نے سفیر کی طرف دیکھا جو ڈاکٹرز سے بات کر رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مریم نے شواف کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ میں ایک سوشل ورکر ہوں ۔ دوسروں کی مدد کرنا مجھے پسند ہے ۔ تم اگر مجھے اپنا مسلہ بیان کرو۔ تو شاہد میں تمہاری مدد کر سکوں ۔سفیر نے اپنی ماں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ میں ہوسپٹل کے بل وغیرہ دے کر آتا ہوں ۔ شواف نے اسے جاتے ہوئے دیکھا۔ وہ کچھ دیر مریم کی طرف دیکھتی رہی ۔ جو اس کی ماں جیسی عورت تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارباب نے اوصاف اور سوہا کو دیکھا۔ اوصاف بھائی کچھ پتہ چلا بھابھی کا ۔ اوصاف نے مایوسی سے تلخ لہجے میں کہا ،کچھ پتہ نہیں چلا آ ج پانچ دن گزر گئے ۔ عجیب مسائل میں ہوں ۔ سوہا کا کیا کروں کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔ اس کو سنبھالنے والی عورت چھٹی مانگ رہی ہے تین دن کی۔ ارباب نے سوہا کی طرف دیکھا۔ اوصاف بھائی آپ اسے میرے پاس چھوڑ دیں ۔ میں دیکھ لوں گی۔ اوصاف نے تشکر بھری نظروں سے ارباب کی طرف دیکھا۔ اوصاف نے اداسی سے کہا۔ مجھے یقین نہیں آتا شواف اپنی اتنی چھوٹی سی بیٹی کو اس قدر آسانی سے چھوڑ سکتی ہے۔ ارباب نے سوہا کی طرف دیکھ کر کہا ۔ یقین تو مجھے بھی نہیں آ تا بھائی لیکن آج کے دور میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ایک بات کہوں ،اگر آپ کو بُرا نہ لگے تو۔ اوصاف نے اپنے ہونٹوں کو بھیجتے ہوئے کہا۔ پوچھو؟
شواف کا کسی کے ساتھ کچھ ۔ میرا مطلب ہے۔ وہ کسی اور کو تو۔ ایسے کوئی عورت اپنا گھر کیوں چھوڑے گی اکیلے رات میں ۔ اگر اسے آپ سے مسلہ تھا تو بھی اپنے والدین کے گھر جاتی ۔ اسی طرح تو نہیں ۔ اوصاف نے منہ بناتے ہوئے کہا۔ مجھے کبھی ایسا تو محسوس نہیں ہوا۔ ہاں کچھ دن پہلے میں نے اس کی فیس بک دیکھی ۔ جس میں اس نے کافی انجان لوگوں کو فرینڈ لسٹ میں ڈالا ہوا تھا۔ تو میں نے اسے منع کیا۔ اس نے سب کو ان فرینڈ کر دیا تھا۔ پھر ہماری اس بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی۔ ممکن ہے کہ اسے میری بات بہت بُری لگی ہو ،پھر بھی میں اس سے کسی اس قسم کی حرکت کی امید نہیں کر سکتا تھا۔ جو بات تم کہہ رہی ہو،مجھے نہیں لگتا کہ کچھ ایسا تھا یا ممکن ہے ایسا ہو ۔ میں اس بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتا۔
ارباب نے سوچنے والےانداز میں کہا،بھائی دو ماہ بعد ہم دُبئی جا رہے ہیں ۔ آپ کا آگے کیا ارادہ ہے۔
اوصاف نے معنی خیز نظروں سے ارباب کی طرف دیکھا۔ کیا مطلب ؟ارباب نے سنجیدہ لہجےکہا،ظاہر ہے ،اب آپ شواف کو تو قبول نہیں کریں گئے نا۔ پانچ دن نہ جانے کہاں ہے۔ کب آئے گی۔
ارباب نے دھیرے سے کہا،آپ کہیں تو میں آپ کے لیے لڑکی دیکھوں۔میں جب چلی جاوں گی تو سوہا کا کیا ہو گا۔ آپ گھر دیکھیں گئے یا باہر۔ اوصاف نے بے دلی سے کہا ۔ کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو ۔ جو تمہیں ٹھیک لگے کرو۔اس کا لہجہ تلخ ہورہا۔ وہ جانے کےلیے اُٹھ کھڑا ہوا۔
وہ گاڑی چلاتے ہوئے شواف کےبارے میں سوچ رہا تھا۔ شواف نےزندگی کو بدل کر رکھ دیا۔پہا نں ل زندگی آگے کا کیا رُخ لے گی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 182677 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More
07 Sep, 2017 Views: 521

Comments

آپ کی رائے