لمبی گردن والی خواتین کاتھائی گاؤں

(Rafi Abbasi, Karachi)
پاڈوانگ قبیلے کی ان عورتوں کو ’’جراف یا زرافہ خواتین‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے

خوب صورتی کی علامت کے طور پر صراحی دارگردن، موٹی اور پتلی گردنوں سے متعلق استعارات توہم سنتےہی ہیںلیکن لمبی گردن اور وہ بھی خواتین کی،کبھی سنی یا دیکھی نہیں۔دنیا میں ایک علاقہ ایسا ہے جہاں صرف لمبی گردن والی خواتین رہتی ہیں اور سیاح صرف انہیں دیکھنے کے لیے وہاں جاتے ہیں۔ یہ تھائی لینڈ اور برما کے پہاڑی حصے میں آباد قبیلہ ’’کیان‘‘ سے تعلق رکھنے والی خواتین ہیں، جن کی گردنوں کی لمبائی دنیا بھر میں رہنےوالی عورتوں کی نسبت زیادہ ہے، اس سے بھی زیادہ دل چسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ خواتین اپنے گلے میںدرجنوں سنہری کڑے پہنے رہتی ہیں جو ان کی ہنسلی کی ہڈی سے نرخرے تک ہوتے ہیں جن کی وجہ سے وہ ماورائی مخلوق نظر آتی ہیں۔ گردنوں میں اس طرح سے کڑے پہننے کا رواج فراعین مصر کے دور میں بھی تھا ۔ کیان انتہائی قدیم قبیلہ ہے،یہ ’’کیان لاہوی‘‘، جنہیں ’’پاڈوانگ‘‘ بھی کہا جاتا ہے،’’ کیان کاخوانگ‘‘، ’’کیان لاہٹا‘‘،’’ کیان نگین‘‘،’’ کیان جیبر‘‘، ’’کیان کاخی‘‘ کے افراد پر مشتمل ہے۔کیان لاہوی خواتین اپنے گلے میں پیتل کے کڑے پہنتی ہیں، جو پیتل کی پتلی سلاخ کے ٹکڑوں کو موڑ کر جوڑکر بڑے سے ’’چھلے‘‘ کی صورت میں بنائے جاتے ہیں۔ ان کے مختلف سائز ہوتے ہیں جو خواتین اپنی عمر کے مطابق پہنتی ہیں۔ جب لڑکی 5سال کی ہوتی ہے تو اس کے گلے میں پہلا کڑا ڈالا جاتا ہے، دوسرے سال اس کی گردن کے سائز کے مطابق اسے اتار کر دوسرا کڑاپہنایا جاتا ہے۔پاڈوانگ قبیلے کی اکثر بچیاں پانچ سے چھ سال کی عمر میں تین، چار کڑے پہنتی ہیں، جب یہ سن بلوغت کو پہنچتی ہیں تو ان کڑوں کی تعداد پندرہ سے بیس تک ہو جاتی ہے۔بعض بچیاں اپنی گردن، ٹانگوں اور ہاتھوںمیں بھی کڑے پہنتی ہیں اور اٹھارہ سال کی عمر تک ان کی تعداد بڑھتی جاتی ہے۔

مذکورہ قبیلے میں خواتین کے کڑے پہننے سے متعلق عجیب و غریب روایات ہیں۔ لوک داستانوں کے مطابق مذکورہ قبیلہ ،ڈریگون نسل سے تعلق رکھتا ہے۔ ماضی میںپاڈوانگ قبیلے کے افراد جنگلات میں رہتے تھے ۔مرد تو شکار کی تلاش میں گھر سے باہر چلے جاتے تھے لیکن ان کی خواتین کو شیر، چیتوں اور دیگر درندوں سے خطرات لاحق رہتے تھے۔ ان کے تدارک کے لیے انہوں نے اپنے دیوتا کی ہدایت کے مطابق عورتوں کی گردنوں میں پیتل کے کڑے ڈالنا شروع کیے۔ان کے عقیدے کے مطابق مذکورہ خواتین خوں خوار جانوروں کو خیالی درندے، ڈریگن جیسی دکھائی دیتی ہیں جن سےہیبت کھاکر وہ ان پر حملہ کرنے کی ہمت نہیں کرتے۔ یہ بھی کہا جاتا ہےکہ قدیم دورمیںبعض سرکش قبائل حملہ کر کے ان کی عورتوں کو غلام بنا کرلے جاتے تھے۔ ان سے حفاظت کیلئے انہوں نے ان کی گردنوں میں طوق کی صورت میں دھاتی چھلے ڈالنے کا سلسلہ شروع کیا تاکہ حملہ آوروں کو وہ بد ہیبت نظر آئیں اور وہ انہیں ہاتھ نہ لگائیں۔ اکثر خواتین انہیں خوب صورتی کی علامت کے طور پر پہنتیںاور انہیں اپنی سماجی و ثقافتی شناخت قرار دیتی ہیں۔سائنسی ماہرین خواتین کی لمبی گردنوں کو نظر کا فریب قرار دیتے ہیں۔ گلےکے گرد لپٹے ہوئے کڑوں کی وجہ سے آنکھوں کومحسوس ہوتا ہے کہ پاڈوانگ خواتین کی گردنیں غیرمعمولی حد تک لمبی ہیں، مگرحقیقتاً کئی کلو وزنی یہ کڑے کندھوں اور ہنسلی کی ہڈی کوشانوں سے نیچے دبا دیتے ہیں یاجس کے بعدمذکورہ خواتین کندھوں اور کمر کے مختلف عوارض میں مبتلا ہوجاتی ہیں،کیوں کہ اس سےان کی ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ بڑھ جاتا ہے،۔لیکن اپنی قبائلی روایات کی وجہ سے وہ انہیں پہننے پر مجبورہوتی ہیں۔زیادہ تر خواتین ان کڑوں میں کپڑے اور روئی کے ٹکڑے بھی رکھتی ہیں، تاکہ ان کی جلد پر اس کی رگڑ سے زخم نہ بن جائیں۔ جب ان کو شدید اعصابی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو وہ اس وقت ان کڑوں کو گردن سے اُتار کر طبی معائنہ کراتی ہیں بعد ازاں انہیں دوبارہ پہن لیتی ہیں۔

جانوروں میں سب سے طویل گردن زرافے کی ہوتی ہے اور مذکورہ خواتین جن میں سے بعض کی گردن تقریباً گیارہ انچ لمبی ہوتی ہے’’زرافہ نما خواتین‘‘ کی حیثیت سے پہچانی جاتی ہیں۔ریڈ کیرن نسل کے افراد تقریباً گیارہ سو سال قبل منگولیا سے ہجرت کر برما کے پہاڑی علاقے میں آباد ہو گئے تھے، بعد میں یہ برماکی مقامی آبادی میں گھل مل کر اس کی آبادی کا حصہ بن گئے۔ ربع صدی قبل اس قبیلے کے بعض گروپوں نے فوجی حکومت کے جبر کے خلاف آواز اٹھائی جو بعد ازاں علیحدگی پسند تحریک میں بدل گئی ۔ حکومت اور باغیوں کے مابین مسلح تصادم کی وجہ سے کیانی نسل کے 600افراد ہجرت کرکے تھائی لینڈ کی سرحد عبور کرکے شمالی سرحد کے ساتھ واقع قصبات میں پناہ گزین کیمپوں میں رہنے لگے۔ مذکورہ علاقے میں ’’لمبی زرافہ نما گردن والی خواتین ‘‘ کے قبیلے کا علیحدہ احاطہ بنایا گیا ہے۔ 1985ء سے یہ کیمپ سیاحوں کے لیے پرکشش مقام ہے۔ دنیا بھر سے سیاح جب تھائی لینڈ کی سیاحت کے لیے آتے ہیں تو اس علاقے کودیکھنے کی خواہش، انہیںدشوار گزار راستوں اور سانپوں سے بھرے جنگلات کو عبور کرکے تھائی، میانمار سرحد کے ساتھ صوبہ ’’مائی ہانگ سون‘‘ میں دریائے ’’پائی‘‘ کے کنارے ’’ہواپوکنگ‘‘کے قصبے تک کھینچ لاتی ہے۔ اس قصبے میں ’’جراف خواتین ‘‘ کے تین گاؤں ہیں، جن کے زیادہ تر افراد پناہ گزین کیمپوں میں رہتے ہیں۔ ان کیمپوں میں رہنے والے افراد کو حکومت کی جانب سے کسی قسم کی امداد کی ضرورت نہیں پڑتی، کیوں کہ یہاں آنے والے سیاح 500سے 600بھات ٹکٹ خرید کر مذکورہ کیمپوں میں داخل ہوتے ہیں۔ کیمپوں میںلمبی گردن والی خواتین کو دیکھ کر وہ خود کو ایک نئی دنیا میں محسوس کرتے ہیں اور ان کے لیے یہ تجربہ انتہائی مسحور کن ہوتا ہے۔پاڈوانگ خواتین گھریلودست کاری میں مہارت رکھتی ہیں، یہاںکی سیر کے لیے آنے والےافرادان کی بنائی گئی اشیاء کو ’’جراف خواتین ‘‘ کے علاقے کی سوغات سمجھ کر خریدکر لے جاتے ہیں۔ غیرملکی سیاحوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کی وجہ سے ’’پاڈوانگ‘‘ قبیلے سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد بھی ان کیمپوں میں منتقل ہوگئے ہیں اور تھائی حکومت سے ورک پرمٹ حاصل کرنے کے بعد سیاحوں کو مختلف خدمات فراہم کرتے ہیں لیکن’’ کیان نسل‘‘ کے افراد کے پاس نہ تو باقاعدہ تھائی لینڈ کی شہریت ہے اور نہ ہی انہیں مہاجرین کا درجہ دیا گیا ہے، اس لیے انہیں مذکورہ علاقے میں محدود سہولتیں فراہم کی گئی ہیںاور انہیں صرف پناہ گزین کیمپوںسے ملحقہ قصبات تک محدود رکھا گیا ہے، جب کہ دیگر علاقوںمیں نقل و حمل اور لوگوں سے میل ملاپ کی انہیں اجازت نہیں ہے۔
افریقہ میں بوٹسوانا کےعلاقے جنوبی بینڈ بیلے میں بھی گردن میں گول چھلے پہننے کا رواج ہے، لیکن ان کی گردن جراف خواتین کی بہ نسبت چھوٹی ہوتی ہے۔افریقہ کی مذکورہ قبائلی خواتین برمی خواتین کی طرح گلے میںکڑے پہنتی ہیں، ان کڑوں کا شمارقبیلے کے روایتی زیورات میں ہوتا ہے۔بینڈ بیلےلڑکیاںجب 12سال کی ہوتی ہیں،توقبیلے کے رواج کے مطابق ان کی شادی کردی جاتی ہے اور شادی کی رسومات کے دوران ان کے گلےمیں ایک گول دھاتی کڑا ڈالا جاتا ہے۔ اس کے بعد مختلف مواقع پر ان کی گردن پر دھاتی کڑوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہتا ہےاور شادی کے موقع پر رسم کے طور پر پہنائے جانے والے کڑے کے بعد دیگرکڑے ان کی امارت اور ظاہری شان و شوکت کے اظہار کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ گلے میں کڑوں کی تعداد ان کی دولت، عزت، اور سماجی حیثیت کے مطابق بڑھتی رہتی ہے ۔جس عورت کے گلے میں سب سے زیادہ کڑے ہوتے ہیں وہ اپنے قبیلے میں بلند رتبے کی حامل ہوتی ہے۔تانبے کی موٹی سلاخوں سے بنے ہوئے ان کڑوں میں نہ تو کسی قسم کا لاک لگا ہوتا ہے اور نہ ہی انہیں گردن میں پہننے کے بعد کسی ڈوری یا تار سے باندھا جاتا ہےلیکن اس کے باوجود افریقی خواتین سوتے وقت بھی انہیںگلے سے نہیں اتارتیں ،بلکہ یہ اپنے قبائلی عقائد کے مطابق چوبیس گھنٹے گردن میں ڈالے رکھتی ہیں، اور انہیں اسی وقت اتارتی ہیں، جب شوہرکا انتقال ہوتاہے۔ بینڈلے قبیلے کی خواتین جو کڑے پہنتی ہیں، ان سے ان کی گردن کی کھال کو نہ تو کوئی نقصان ہوتا ہے اور نہ ہی ان کی جلد کی ہیئت میںمیں کسی قسم کی تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ مذکورہ خواتین جب انہیں گردن میں ڈالتی ہیں تو ان کی گردن میں معمولی سی خراش تک نہیں آتی۔ ابتدامیں انہیں تھوڑی سی الجھن محسوس ہوتی ہےلیکن بعد میں وہ اس کے بوجھ کی عادی ہوجاتی ہیں اورانہیں مستقل طور سے پہننے کی صورت میں نہ تو ان کے اعصاب پر کسی قسم کا اثر پڑتا ہے اور نہ ہی انہیں اپنے روزمرہ کے معمولات نمٹانے میں دشواری پیش آتی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rafi Abbasi

Read More Articles by Rafi Abbasi: 109 Articles with 81105 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Sep, 2017 Views: 531

Comments

آپ کی رائے