57اسلامی ممالک کی بے حسی ……

(Sardar Asghar Ali Abbasi, )
آج برق روہنگیا پر گری تو کل ان پر بھی گر سکتی ہے ……خواب خرگوش سے جاگیں

میانمر(برما) کی حکومت کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹنے کی بد ترین تاریخ آج بھی رقم کی جارہی ہے ۔ایک جانب بچوں کو والدین کے سامنے کاٹا جا رہا ہے تو دوسری جانب روہنگیا مسلمان بچوں کے سر قلم اور زندہ جلانے کے کئی لرز ہ خیز واقعات سامنے آئے ہیں۔روہنگیائی خواتین اور بچوں کو بانسوں کے ساتھ باندھ کر جلا دیا جاتا ہے اور اسکی رپورٹ عالمی میڈیا کی رپورٹس میں چھپ چکی ہیں ۔ہزاروں مسلمانوں کو بے دردی سے قتل عام کا نشانہ بنا کر انکے اعضا کو ٹکڑوں میں تبدیل کر کے انسانیت کی جس طرح تذلیل کی جا رہی ہے اسکی مثال بھی ماضی میں کہیں نظر نہیں آتی۔

برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ برمی حکومت روہنگیا کے مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک کر رہی ہے وہ اقوام متحدہ کی جانب سے مقرر کر دہ نسل کشی کی تعریف پر پورا اترتا ہے لیکن اس کے باوجود اقوام متحدہ اور عالمی رہنماؤں کی جانب سے برماکی حکومت کے خلاف کوئی اقدام نہ کرنا حیران کن ہے ۔

تازہ رپورٹس کے مطابق میانمر کے شمال مغرب میں فوج اور انتہا پسند بودھ بھکشوؤں نے روہنگیائی مسلمانوں کے مزید 8سے زائد گاؤں نذر آتش کر دیئے ہیں اور یہ وہ گاؤں تھے جنہیں مسلمانوں نے اپنے لئے جائے پناہ بنا رکھا تھا۔برطانوی خبر رساں ایجنسی کو ایک میڈیا نمائندے نے یہ خبر دی اور یہ بتایا کہ ان میں سے ایک گاؤں کو خود اس نے جلتے ہوئے دیکھا۔جہاں بدھ بھکشوؤں نے صحافیوں کے سامنے یہ اعتراف کیا کہ انہوں نے فوج کی مدد حاصل کرکے ان دیہاتوں کو نذر آتش کیا۔صرف یہی نہیں میانمر کی ریاست راکھین میں پھر بھڑک اٹھنے والے تشدد کے بعد سے اب تک ایک لاکھ64ہزار روہنگیامسلمان بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کے مطابق انہوں نے خود ایک گاؤں کو جلتے دیکھا ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک تین لاکھ کے قریب روہنگیا مسلمانوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے اور عالمی امن کے داعی ادارے اقوام متحدہ جس نے ابھی تک کوئی عملی اقدام نہیں کیا تاہم اس نے بے حسی کی چادر سے باہر نکل کر یہ ضرور بتایا ہے کہ راکھین میں برما کی بری فوج نے 4لاکھ مسلمانوں کو قید کر رکھا ہے یہ قید ان مسلمانوں کی زندگیوں کو چھین سکتی ہے تاہم اس سے بڑھ کر ابھی تک مزید کچھ نہیں کیا جا سکا کہ جس پرکچھ خیر مقدمی کلمات ادا کئے جا سکیں ۔

البتہ کچھ ممالک نے اپنے تئیں کچھ اقدامات کئے ہیں جن پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں ان ممالک میں مالدیب نے میانمر سے تجارتی تعلقات کے خاتمے کا اعلان کیا اور تجارتی تعلقات اس وقت تک دوبارہ بحال نہ کرنے کا الٹی میٹم دیا ہے کہ جب تک روہنگیا کے مسلمانوں کا قتل عام اور ظلم روکا نہیں جاتا ۔اسی طرح ترکی کے صدر کی جانب سے روہنگیا کے مسلمانوں کے حق میں بھر پور آواز اٹھائی گئی بلکہ خود ترک خاتون اول آمینہ اردوان نے بنگلہ دیش کا دورہ کیا اور روہنگیا کے مسلمانوں سے ملاقات کی اور حالات کا جائزہ لیا اور امدادی سامان بھی روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں میں تقسیم کیا جبکہ ترک صدر رجب طیب اردگان نے میانمر اور روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا مقدمہ اٹھایا ترک صدر نے روہنگیا کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز نہ اٹھانے والوں کو اس جرم میں برابر کا شریک ٹھرایا ہے ۔ جبکہ ملائشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق بھی روہنگیائی مسلمانوں کی مدد کیلئے میدان میں آچکے ہیں اور انہوں نے دو کارگو طیارے جن میں غذائی اشیاء اور طبی سامان ہے روانہ کر نے کا عندیہ دیا ہے جبکہ ملائیشیا کی مسلح افواج کے سربراہ نے200فوجی بستروں پر مشتمل فوجی فیلڈ ہسپتال فراہم کرنے کا پروگرام بھی ترتیب دیدیا ہے نہ صرف یہی بلکہ ملائشیائی فوجی سربراہ کی جانب سے دورہ امریکہ کے دوران ٹرمپ کی توجہ روہنگیا کے مسلمانوں کی موجودہ المناک صورتحال کی جانب مبزول کروائی جائے گی ۔

برماکی حکومت ہر آنے والے دن کے ساتھ روہنگیائی مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک کر رہی ہے وہ بد سے بد تر ہو تا جا رہا ہے اب برما کی حکومت کی جانب سے سرحد وں کے قریب بارودی سرنگیں بچھائی جا رہی ہیں تاکہ برما میں رہنے والے مظلوم مسلمان کسی صورت برما کی سرحدوں سے باہر نہ جا سکیں ۔حالیہ میڈیا اور سوشل میڈیا رپورٹس میں کئی ایسی رپورٹس منظر عام پر آچکی ہیں کہ جن میں بے گناہ اور مظلوم روہنگیائی بچے اور عورتیں برمی فوج کی بچھائی گئی بارودی سرنگوں کا نشانہ بن چکی ہیں ۔یو ایچ ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ برمی فوجیوں کی گولیوں اور تشدد سے زخمی ہونے والے برمی مسلمانوں کو بنگلہ دیشی کیمپوں میں طبی سہولیات نہیں مل پا رہیں جس کے باعث کئی زخمیوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔جبکہ بنگلہ دیش میں روہنگیائی مسلمانوں کی بہت سی تعداد آج بھی ایسی ہے جو بھوک اور پیاس سے لا چار ہے جبکہ سمندر میں طویل سفر کے باعث بہت سے برمی مسلمان جو ان مہاجر کیمپوں میں مقیم ہیں کو سانس کی بیماری نے بھی آن گھیرا ہے جبکہ طویل سفر طے کرنے والے بہت سے یہ مسلمان کم خوراکی کا شکار ہیں ۔

برماکے مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف دنیا بھر میں مسلمان سراپا احتجاج ہیں دنیا کے بہت سے ملکوں میں مسلمانوں نے مظاہرے کئے ہیں ۔انڈونیشیا کے درالحکومت جکارتہ ،منیلا،ٹوکیو،کابل،غزہ کی پٹی،سرینگر،دہلی جبکہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے طول و عرض میں مظاہرے اور جلسے جلوس جاری ہیں جبکہ مذمتی قراردادوں کا سلسلہ بھی جاری ہے سول سوسائٹی ہو یا اقتدار کے ایوان پاکستان کے چپے چپے سے روہنگیائی مسلمانوں سے اظہار ہمدردی کی جا رہی ہے اور انکے حق میں آواز بلند کی جا رہی ہے تاہم ظلم ہے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا اور بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے یہاں تک کہ چین اور روس تک نے روہنگیائی مسلمانوں کے حق میں بات کی اور اسے انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزی قرار دیا مگر اسکے باوجود روہنگیائی مسلمانوں پر ٹوٹنے والی قیامت ختم نہیں ہو پارہی اور انہیں آج بھی تاریک رات ہی میسر ہے روہنگیا کے گلی کوچے میں انسانی اعضا اس طرح پڑھے ہیں جیسے قصابوں کی دوکانوں پر جانوروں کے اعضا ہوں اورپھر یہی نہیں کہیں یہ اعضا کاٹ کر جدا کئے گئے ہیں تو کہیں بے رحم اور انسانیت کے دشمنوں نے معصوم اور مظلوم مسلمانوں کے جسد خاکی کو نذر آتش کر کے انسانیت کو داغدار کرنے والوں میں اپنا نام لکھوا کر ایک سیاہ تاریخ رقم کی ہے ۔

قارئین……!!روہنگیائی مسلمانوں پر ظلم کی یہ تاریک رات ایک دو دنوں کی بات نہیں بلکہ یہ سال ہا سال کا سلسلہ ہے جو میڈیا کہ شہہ سرخیوں میں رہا ہے اور آج تک کبھی بھی اس پر انسانیت کے علمبرداروں کو زبان کھولنے کی جسارت نہیں ہوئی کیا ظلم کی یہ تاریک رات جو غزہ سے کشمیر اور پھر کشمیر سے روہنگیا تک پہنچی ہے یہ اسی طرح مسلمانوں پر ہی برق بن کر گرتی رہے گی یا پھر اس کا رخ تبدیل بھی ہو سکے گا کیا دنیا بھر میں موجود57اسلامی ممالک کا عملی وجود ہے یا پھر یہ اس کرہ ارض پر اپنا وجود نہ رکھنے والے چند اسلامی ممالک کے ماڈلز ہیں جن کے نام اسلامی ممالک کے نام پر رکھ دیئے گئے ہیں کیا ان ممالک میں رہنے والے ارباب اقتدار اپنے ہی ہم مذہب بھائیوں کی امداد تک کرنے کے قابل نہیں کیا ان اسلامی ممالک میں رہنے والے ارباب اختیار کو انصار اور مہاجرین کے قصے یاد نہیں کیا ان کو وہ ماضی بھول گیا جسے پڑھ کر اور سن کر آج بھی یہود و ہنود کانپ اٹھتا ہے کہ ان57اسلامی ممالک میں کوئی ایک بھی اس قدر طاقت نہیں رکھتا کہ روہنگیائی مسلمانوں پر گرنے والی اس برق کو روک سکے کیا یہ سلسلہ کسی جگہ فل سٹاپ کی طرح فل سٹاپ بنے گا یہ پھر اس کائنات میں موجود ان 57اسلامی ممالک میں سے ہی کوئی اگلا اسکا شکار بنے گا کیا ان 57اسلامی ممالک کو عراق،افغانستان ،شام،لیبیا ،فلسطین ،کشمیرودیگر اسلامی ممالک جو اس وقت یہود و ہنود کی لگائی گئی آگ میں جل رہے ہیں کی مثالیں ان کی غیرت اور انکے جذبہ ایمانی کو جگانے کیلئے کافی نہیں کیا یہ ابھی بھی خواب خرگوش کے مزے میں گم ہیں اور اس وقت کے انتظار میں ہیں کہ جب یہ برق اِن پر آگرے اور پھر یہ اسی طرح کسی مسیحا کی تلاش میں دردبدر ہوں اور انہیں کہیں سے بھی کوئی ہمدرد میسر نہ آسکے ۔

قارئین……!! اخبارات کے ایڈیٹوریل اور اسکے بین الاقوامی،قومی،علاقائی ،صفحات پر شائع شدہ خبریں پڑھ کر عام انسان کا دل دہل جاتا ہے اورروہنگیائی مسلمانوں کی یہ خبریں صرف پاکستان میں نہیں بلکہ اس دنیا کے تمام میڈیا نے ان خبروں کو شائع اور نشر کیا ہے کیا میڈیا میں شائع اور نشر ہونے والی ان خبروں کی کوئی حقیقت نہیں کیا روہنگیائی مسلمانوں کا مذہب ان 57اسلامی ممالک کے مذہب اسلام سے ملتا نہیں کاش کہیں نہ کہیں تو ہمارے اندر کا ضمیر جاگے اور ہم سر فروشی کی تمنا لے کر نکلیں اور یہود و ہنود کے ان انسانیت سوز مظالم کا جواب دے کرروہنگیائی مسلمانوں کے دلوں کو تسکین پہنچائیں وگرنہ روہنگیا کی سر زمین پر گرنے والے ہر خون اور ہر لاشے اور ہر آگ کی نظر ہونے والے مسلمان کی روح ہم سے سوال کناں رہے گی کہ اے مسلماں تیری غیرت کہاں سو گئی ہے میں کٹ کر مر رہا ہوں ،نذرآتش ہو رہا ہوں مگر تو کل بھی سویا ہوا تھا اور آج بھی سویا ہوا ہے ۔

قارئین……!! اس سارے ظلم پر آج57ممالک میں سے چند ایک کے سوا جس طرح تمام ممالک کے لبوں پر خاموشی چھائی ہوئی ہے یہ سب اس جرم کے برابر شریک ٹھریں گے اگر آج یہ روہنگیائی مسلمانو ں پر ہونے والے مظالم پر بے حسی کی چادر لئے سو رہے ہیں تو کل ان میں سے کسی پر جب برق گری تو ان کی مدد کو آنے کیلئے بھی کوئی تیار نہیں ہوگا اسلئے مکافات عمل سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ 57کے57اسلامی ممالک خواب غفلت سے بیدار ہوں اور روہنگیائی مسلمانوں کو ظلم اور بربیت کی چکی سے نکال کر نئی تاریخ رقم کریں اگرچہ او آئی سی کواس ظلم کے خلاف ڈٹ جانا چاہئے تھا مگر او آئی سی سفید گھوڑاثابت ہوئی ہے اور اسکا کردار کبھی بھی فعال نہیں رہا اگر یہ فعال کردار ادا کرتی تو آج فلسطین،کشمیر کب کا آزاد ہو چکا ہوتا اور کسی کو یہ جرات تک نہ ہوتی ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sardar Asghar Ali Abbasi

Read More Articles by Sardar Asghar Ali Abbasi: 26 Articles with 11014 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Sep, 2017 Views: 399

Comments

آپ کی رائے