حضرت بشر حافی رحمتہ اللہ علیہ کے حالات و مناقب (قسط دوم)

(Asim, Karachi)

ایک مرتبہ میدان بنو اسرائیل میں حضرت بلال خواص کی ملاقات حضرت خضر سے ہو گئی تو بلال خواص نے پوچھا کہ امام شافعی کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ حضرت خضرعلیہ سلام نے فرمایا کہ وہ اوتار میں سے ہیں اور جب امام حنبل رح کے لئے دریافت کیا تو فرمایا کہ ان کا شمار صدیقین میں ہوتا ہے تو جب حضرت بشر حافی رح کے متعلق دریافت کیا تو فرمایا کہ وہ منفرد زمانہ ہیں۔ حضرت عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے ذوالنون عصری کو عبارت سے متصف پایا اور حضرت سہیل کو اشاروں پر چلنے والا دیکھا اور حضرت بشر حافی رح کو تقوی میں ممتاز پایا۔ لوگوں نے پوچھا کہ پھر آپ کا رجحان کس کی طرف ہے فرمایا کہ بشر حافی رحمتہ اللہ علیہ کی طرف کیوں کہ وہ میرے استاد بھی ہیں۔

حضرت یا کہ بشر حافی رحمتہ اللہ علیہ محدث ہونے کے بعد باقی تمام علوم کی کتابوں کو زیر زمین دفن کر دیا تھا لیکن اس کے باوجود بھی حدیث کبھی بیان نہیں کی اور یہ فرماتے تھے کہ میں اس وجہ سے حدیث بیان نہیں کرتا کہ میرے اندر حصول شہرت کا جزبہ ہے اور اگر یہ خامی نہ ہوتی تو میں ضرور حدیث بیان کرتا۔ ایک مرتبہ لوگوں نے عرض کیا کہ جب بغداد میں اکل حلال کی تمیز باقی نہیں رہی تو آپ کے کھانے کا کیا انتظام ہے؟

فرمایا کہ جس جگہ سے تم کھاتے ہو میں بھی کھاتا ہوں اور جب لوگوں نے سوال کیا کہ عظیم مراتب آپ کو کیسے حاصل ہوئے فرمایا کہ ایک لقمہ کی بھوک چھوڑ کر کیوں کہ ہنسنے والا کھا کر رونے والے کے برابر نہیں ہو سکتا اور اکل حلال میں بھی فضول خرچی کا اندیشہ باقی ہوتا ہے۔ پھر کسی نے آپ سے دریافت کیا سالن کس چیز کا نام ہے؟ فرمایا عافیت کا سالن کھاؤ۔ مشہور ہے کہ آپ نے چالیس برس تک خواہش کے باوجود کبی بکری کی سری نہی کھائی۔ اور ہمیشہ باقلہ کی ترکاری کھانے کو جی چاہتا رہا لیکن کھائی کبھی نہیں اور کبھی حکومت کی جاری کردہ نہر سے پانی نہی پیا۔ پھر ایک مرتبہ جب لوگوں نے یہ سوال کیا کہ آپ کو یہ مراتب کیسے حاصل ہوئے؟تو فرمایا کہ خدا کے علاوہ میں نے کبھی کسی پر اظہار حال نہیں کیا اور میں وعظ و نصیحت سے بہتر تصور کرتا ہوں کہ لوگوں کے سامنے خدا کا ذکر کرتا رہوں۔ کسی نے آپ کو موسم سرما میں برہنہ اور کپکپاتے ہوئے دیکھ کر پوچھا کہ آپ اتنی اذیتں کیوں برداشت کرتے ہیں فرمایا کہ اس وجہ سے کہ اس سردی میں فقراء صاحب حاجت ہوں گے انکا کیا حال ہو گا؟ اور میرے پاس اتنا دینے کو نہیں ہے کہ ان کی احتیاج ختم کر سکوں اس لئے جسمانی طور پر ان کا شریک رہتا ہوں۔

حضرت احمد بن ابراہیم المطلب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت بشر حافی رحمتہ اللہ علیہ نے مجھ سے فرمایا کہ حضرت معروف کو میرا یہ پیغام پہنچا دینا کہ میں نماز فجر کے بعد آپ کے پاس آؤں گا ک لیکن آپ عشاء کے وقت بھی تشریف نہیں لائے۔ چنانچہ میں چشم براہ تھا تو دیکھا کہ آپ مصلہ اٹھا کر دریا ئے دجلہ پر پہنچے اور پانی پانی کے اوپر چل کر صبح تک حضرت معروف سے مصروف گفتگو رہے اور صبح کو پانی پر چلتے ہوئے واپس آ گئے اس وقت میں نے قدم پکڑ کر اپنے لئے دعا کی درخواست کی تو دعا دے کر فرمایا کہ جو کچھ تم نے دیکھا ہے اس کو میری حیات میں کسی سے بیان نہ کرنا۔ کسی اجتماع میں آپ رضائے الہی کے اوصاف بیان فرمارہے تھے کہ ایک شحص نے عرض کیا کہ یہ تو ہم بخوبی جانتے ہیں کہ آپ بہت ہی باصفا باکمال اور مخلوق سے بے نیاز ہیں لیکن اس میں کیا حرج ہے کہ اگر پوشیدہ طور پر دوسروں سے کچھ لے کر فقراء میں تقسیم کر دیا کریں گو آپ کو یہ بات بار خاطر ہوئی پھر بھی مسکرا کر فرمایا کہ فقراء کی بھی تین قسمیں ہیں۔ اول وہ جو نہ تو مخلوق سے طلب کرتے ہیں اور نہ کسی کے کچھ دینے کے باوجود ان سے کچھ لیتے ہیں۔ ان کا شمار تو ایسے روحانی بندوں میں ہوتا ہے کہ جو کچھ خدا سے مانگتے ہیں مل جاتا ہے۔ دوم وہ جو خود تو کسی سے طلب نہیں کرتے لیکن اگر کوئی دے دے تو قبول کر لیتے ہیں یہ متوسط قسم کے متوکل ہوتے ہیں اور انہیں جنت کی تمام نعمتیں حاصل ہوں گی۔ سوم وہ جو نفس کشی کرتے ہوئے صبر و ضبط سے کام لے کر ذکر الہی میں مشغول رہتے ہیں۔

آپ فرمایا کرتے کہ ایک مرتبہ حضرت علی جرجانی رح کسی چشمے کے نزدیک تشریف فرما تھے اور میں بھی انکے سامنے پہنچ گیا تو آپ مجھے دیکھ کر یہ کہتے ہوئے بھاگ پڑے کہ مجھے انسان کی شکل یاد آ گئ جس کی وجہ سے میں یہ گناہ کا مرتکب ہو گیا لیکن میں بھی بھاگتا ہوا ان کے پاس پہنچا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی نصیحت فرما دیجئے تو آپ نے کہا کہ فقر کو پوشیدہ رکھ کر صبر اختیار کرو اور خواہشات نفسانی کو نکال پھینکو اور مکان کو قبر سے بھی زیادہ خالی رکھو تاکہ ترک دنیا کا رنج نہ ہو۔

ایک قافلہ حج کی نیت سے روانہ ہونے لگا تو اہل قافلہ نے آپ سے بھی اپنے ہمراہ چلنے کی استدعا کی۔ لیکن آپ نے تین شرطیں پیش کر دیں اول یہ کہ کوئی شحص اپنے ہمراہ توشہ نہ لے دوم کسی سے کچھ طلب نہ کرے سوم اگر کوئی کچھ پیش کرے جب بھی قبول نہ کرے یہ سن کر اہل قافلہ نے عرض کیا کہ پہلی دو شرطیں تو ہمیں منظور ہیں لیکن تیسری شرط قابل قبول نہیں آپ نے فرمایا کہ توکل حاجیوں کا توشہ سفر ہے اور اگر تم یہ قصد کر لیتے کہ کسی سے کچھ نہ لیں گے تو خدا پر توکل بھی ہو جاتا اور درجہ ولایت بھی حاصل ہوتا۔(جاری)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M. Asim Raza

Read More Articles by M. Asim Raza: 13 Articles with 13874 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Sep, 2017 Views: 474

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ