استری

(Razia Rehman, )

پڑھنے اور پڑھ کر اس پر عمل کرنے میں غالباً وہی فرق ہے جو سننے اور دیکھنے میں ہوتا ہے ،جیسا کہ ایک آدمی بہت پڑھ لکھ جائے اور اس پر عمل نہ کرے تو وہ ہزار لیکچر بازی کے باوجود بھی آدمی رہتا ہے انسان نہیں بن سکتا ، بالکل اسی طرح سننے والاشخص اگر عقل کی آنکھ سے دیکھے نہیں تو وہ آنکھیں رکھتے ہوئے بھی اندھا ہی لگتا ہے۔

علم و ہنر ، علم و عمل اور بصیرت و تجربہ بالکل ایسے ہی لازم و ملزوم ہیں جیسے کہ دھوبی اور اس کی استری ۔کاغذ کا پلندا، ڈگریوں کا بریف کیس اٹھائے بغیر تجربے کا آدمی ہر جگہ ، ہر دفتر اور ہر شہر تلاش معاش کے لیے ایسے ہی مارا مارا پھرے گا جیسے کوئی دھوبی دھلے ہوئے اجلے کپڑوں کی گٹھڑی کمر پر لادے استری کی تلاش میں سرگرداں ۔

میں جو عرصہ دراز سے روز گار کی جستجو میں در بدر ہوا پھر رہا ہوں ،میرے ساتھ بھی گزشتہ شب کچھ ایسا ہی ہوا لیجئے آپ بھی سنئے اور سر دھنئے۔

آج صبح ہی سے موسم کے تیور کافی بدلے بدلے سے تھے، شدت کی گرمی اور طوفان بادولُوبدتمیزی بپا کئے ہوئے تھا۔ ہر شخص گرمی سے نڈھال ، پسینے سے شرابور ، شربت پی پی کر ہلکان ، بجلی کے انتظار میں ، دفتر میں یا گھر میں ، کرسی پر یا بستر میں دبکا پڑا خواب کلفت کے مزے لے رہا تھا ،مگر اس غارتِ گر ہوش و حواس کو (کہ اس کے نہ ہونے سے انسان تقریباً ادھ موا ہو جاتا ہے)۔ نہ آنا تھا سو نہ آئی اور یوں :
اس کی راہ تکتے تکتے میری شام ہو گئی

اور پھر سان نہ گمان اور میں تیرا مہمان، اچانک شام ساڑھے چھ بجے کے قریب الٰہ دین کے جن کی طرح آن وارد ہوئی۔ دفتروں میں تو نہیں کہ چھٹی ہو چکی تھی البتہ گھروں میں ضرور گھی کے نہیں (کہ اس نام کی کوئی جنس میلوں دور تک اس بے شمار آب و گیاہ والے ملک میں نہیں پائی جاتی) بلکہ بجلی کے خشک چراغ جل اٹھے۔

میں جو تلاش معاش کے سلسلے میں بطور استاد نائجیریامیں اکیلا مقیم ہوں۔یہاں استاد کو بہت عزت ووقار حاصل ہے ۔ہر استاد کو ایک عدد وسیع وعریض بنگلہ نما گھر فراہم کیا جاتا ہے ۔میں بھی اپنے شیطان کی آنت کی طرح لمبے سے اپنے یعنی سرکاری گھر میں جو مجھے ملازمت کے دوران رہائش کے لیے دیا گیا ہے، مدت سے اکیلا ہی رہ رہا ہوں ،بجلی کی اچانک آمد سے قدرے بوکھلا سا گیا ہوں، سمجھ میں نہیں آتا( کہ سمجھ بھی بیچاری ایسی گرمی میں آتے آتے ہی آتی ہے )کہ کون سا کام پہلگام کے طور پر کروں کیونکہ جو کچھ کرنا ہے مجھے ہی کرنا ہے، کوئی مونس و غم خوار عرف مدد گار بھی تو نہیں!بیوی ،بچے پاکستان……میں اکیلایہاں پریشان۔

کھانا ، جو کہ میں ناشتے کے علاوہ( جواکثر دودھ ڈبل روٹی پر مشتمل ہوتا ہے ) چوبیس گھنٹے میں کبھی کبھار صرف ایک بار کھاتا ہوں اور وہ بھی شام یا پھر دوپہر چار پانچ بجے کیونکہ اس وقت ریڈیو پاکستان اور بی بی سی لندن کی نشریات مقوی بھوک ہوتی ہیں۔کھانااکثر گیس پر ہی گرم کرنا پڑتا ہے( بشرطیکہ پہلے کا یا پھر پچھلے ہفتے کا پکا ہوا فرج میں موجود ہو اور اس دوران کسی معزز مہمان کی اس پر نظر عنایت نہ پڑی ہو) کہ مہمان تو اﷲ کی رحمت ہوتے ہیں اور اگر خدانخواستہ آپ کا گھر بھی میرے سرکاری گھر کی طرح بالکل بر لب سڑک ہو تو یہ رحمت خداوندی کسی اﷲ کی بندی کی طرح برق رفتاری سے بالکل ناک کی سیدھ میں( بشرطیکہ سڑک سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی یا کسی الھڑ دوشیزہ کی طرح انگڑائی لیتی ہوئی نہ بنی ہو) آپ کے در دولت پر ہی آکر دم لیتی ہے۔ یہ کھانا زہر مارکرنا پڑتا ہے کیونکہ اتنے دنوں کا کھانا، جو صورت کے اعتبار سے نرم اور مزاج کے اعتبار سے کافی گرم ہوتا ہے ۔ بجلی کے نہ ہونے کے سبب گرم فریج میں پڑا پڑا غالباً کوفت انتظار خوردونوش سے اکتا کر یا پھر میری طرح قدرے گھبرا کر اینٹھناشروع کر دیتا ہے اور اسی ورزش کے دوران اس کے منہ سے سبزی مائل ،پیلا پیلا پھپھوندی نما جھاگ نکلنا شروع ہو جاتا ہے ۔جو ماہرین طب کے لئے پنسلین کے قوام کا کام دے تو دے مگر ہم جیسے چھڑے لوگوں کی بھوک کا مداوا ہر گز نہیں بن سکتا ، بالکل ایسا جیسا ماسکو اولمپک کی دوڑ میں کسی حبشی کے منہ سے یا پھر ریس کورس میں جیتنے والے گھوڑے کے نتھنے سے نکلنے والا جھاگ ۔
تو صاحب بعد نماز مغرب میں نے سوچا کہ کل کالج بھی جانا ہے اور پہننے کے لیے تیار شدہ کپڑوں کے اس جوڑے کے علاوہ جو میں گزشتہ ایک ہفتے سے زیب تن کئے ہوئے ہوں، فی الحال اور کوئی جوڑا تیار نہیں تو کیوں نہ بجلی کے وجود مسعود سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پہلے ہی دھلے ہوئے کئی ایک جوڑوں کے جوڑ جوڑ پر استری پھیر کر جوڑوں کا درد نکال دیا جائے تاکہ کل کالج میں کچھ مغربی ، کچھ مشرقی، کچھ افریقی اور کچھ مغربی نما مشرق وسطیٰ کے اساتذہ کے درمیان خفت نہ اٹھانی پڑے۔میں یہی سوچ کر قصائی کی طرح اپنے پھٹے پر آبیٹھا ا ور لگا تیاری کرنے جوڑوں کی حاجت روائی کی!

استری کو اس کے مقام خاص پر رکھ کر میں نے ذرا آگے جھک کر بجلی کا سوئچ آن کر دیا اور شلوار کو میز پر لٹا کر( کہ میں یہاں پر بھی اپنے قومی تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے اکثر و بیشتر قومی لباس میں ہی رہتا ہوں،خلوت میں کبھی کبھی کہ بنیادی طور پر میں پنجابی ہوں اور دھوتی باندھتا ہوں اور جلوت میں اکثر یعنی گھر میں اور گھر سے باہر کالج وغیرہ میں شلوار،قمیض ہی پہنتا ہوں)اس کی نرم نرم ٹانگوں پر ہاتھ پھیرنے لگا کیونکہ یہ شلوار پولسٹر کی بنی ہوئی ہے۔ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ استری مارے غصے کے لال بھبھو کا بنی ہوئی ، خون آشام آنکھوں سے یا پھر آنکھ سے کہ یہ آٹومیٹک استری ہے ، مجھے گھور رہی ہے۔ میں کافی پریشان ہوا، بظاہر تو اس کی خفگی کی کوئی وجہ نظر نہیں آرہی تھی، بہت سوچا ،اتنا سوچا کہ مجھے اپنے آپ پر مفکر یا تھنکر(Thinker)ہونے کاگمان ہونے لگا اور چونکہ اکیلا ہوں اس لیے سر جوڑ کر بھی نہیں بیٹھ سکتا تھا کہ ایک سے دو بھلے ہوتے ہیں اور ایک سے ایک مل کر گیارہ ہوجاتے ہیں یاپھر دل کو دل سے راہ یا روشنی ملتی ہے۔ جب کچھ سمجھ میں نہ ٓایا تو سوچا کہ دیکھوں تو مزاج دشمناں ناساز کیوں ہیں؟ کیا اس کے ساز و سامان میں کوئی کمی ہے ؟ یہ سوچتے ہی جونہی میں نے ہاتھ لگایا تو ایک زور دار دھماکہ ہوا ،بالکل ایسے ہی جیسے سر راہ کوئی البیلا کسی راہ چلتی ناری کو چھیڑدے اور وہ گھوم کر تڑاخ سے اس من چلے کے رخ زیبا پر ہاتھ کی جنبش سے گلکا ریاں کر دے۔

میں بہت ڈرا ، بہت سہما کہ بات ہی ایسی تھی۔استری اور وہ بھی الیکٹرانک اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ گرم بالکل ایسے جیسے کریلا اور وہ بھی نیم چڑھا۔ ایسا جھٹکا لگا کہ عقل کی تمام بند کھڑکیاں فوراً وا ہو گئیں اور بات جو عقل کی چھت پر بغیر ڈوروالی پتنگ کی طرح اڑ رہی تھی، فوراًعقل کے کارخانے یعنی دماغ میں بیٹھ گئی اور استری کی ناراضگی کا سربستہ راز بھی کھل گیا۔ ہوا یوں کہ میں نے آج خلاف معمول اپنی اس پیاری سی استری کو اس کے بیڈ سے جدا کر دیا تھا اور آج اسے ایک گول مٹول سی تھالی میں بینگن کی طرح بٹھا دیا تھا کہ اس کا بیڈ ہمارا ایک دوست کل اس بکرے کی ہڈیاں توڑنے کے لیے لے گیا تھا جو اس نے دو ماہ قبل خریدا تھا اور جس کا گوشت تو عرصہ ہوا طاق نسیاں ہو گیا مگر ہڈیاں ٹوٹنے کے لیے فرج میں مارے فریزر کی سردی کے چٹخ رہی تھیں اور وہ بیڈ ابھی تک واپس نہیں آیا تھا اور میں جو ہمیشہ کی طرح جلدی میں تھا یہ بالکل بھول گیا کہ ہو سکتا ہے کہ اس تھالی جیسی سخت چیز سے میری پیاری سی استری کی کمرمیں درد اٹھ بیٹھے اور وہ کراہ کر بلبلانے لگے ، چنانچہ بالکل ایساہی ہوا میری اس استری کالمبا سا بند قبا جب مین سوئچ سے ہوتا ہوا میز پر لیٹی ہوئی شلوار تک پہنچا تو بیچ راستے کے اس کی مڈ بھیڑ اس تام چینی کی پلیٹ سے ہو گئی جس پر استری براجمان تھی ،بالکل ایسے ہی جیسے رش میں بس پر چڑھتے ہوئے کسی نوجوان کی شاپنگ زدہ ناری سے یا پھر کسی چینی سپاہی کی ویت نامی سے ۔

مجھے کچھ ایسا لگتا ہے کہ استری کے ڈھیلے ڈھالے بند قبا پر ، جو کہیں کہیں سے بے ریش تھا یعنی وہ تار جو استری میں لگا ہوا تھا کئی جگہوں سے غالباً ننگا تھا، اس تام چینی کی تھالی کی نظر خراب ہو گئی اور وہ جیسے ہی نزدیک ہوا اس نے عادت سے مجبور ہو کر اس کو پکڑنے کی ایسے ہی کوشش کی ہو گی جیسے زلیخا نے یوسف علیہ السلام کو ، جس پر استری کو طیش آگیا اور اس نے عالم جلال میں مجھ سے بے گناہ کو طمانچہ دے مارا۔میں چپ سادھے خاموش سہما سہما سا پیچھے ہٹ کر بیٹھ گیا جیسے ہمارے بہت سے ہندو دوست اپنی اپنی" استریوں "کی گھر کی سے چپ سادھے بیٹھ جاتے ہیں۔

جیسا کہ میں نے شروع میں کہا کہ سننے اور دیکھنے ، پڑھنے اور تجربہ کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے ، واقعی میں نے استری اور اس کے فوائد کے متعلق پڑھا اور سنا تو بہت تھا مگر دیکھنے اور تجربہ کرنے کا موقع آج ملا۔

اہل ہند بھی کیسے چالاک لوگ ہیں کہ عو رت کو" استری "کہتے ہیں۔ واقعی جیسے پرانے دھلے ہوئے کسی کپڑے کی سلوٹیں بغیر استری کے نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے، اسی طرح زندگی کے چہرے پر گردش روز گار کی ڈالی ہوئی آلام و مصائب کی شکنیں بھی ایک چلتی پھرتی ، بولتی چالتی استری کے بغیر ممکن نہیں۔استری گھر میں نہ ہو تو انسان نہ تو دھلے ہوئے غیر شکن آلود کپڑے پہن سکتا ہے اور نہ ہی منہ اندھیرے اٹھ کر ، دوڑ کر بس یا سرکلر ریلوے کی ٹرین پکڑنے کے لیے کچھ کھا پی سکتا ہے اور نہ ہی تھکا ہارا کام سے گھر لوٹے تو دن بھر کی کلفت کو گھر میں داخل ہوتے ہی دور کر سکتا ہے۔

آپ کا یہ فرمانا بجا ہے صاحب !مگر میں تو اپنی اس استری سے اس قدر خائف ہوں (جو کبھی کبھار ہی جلال میں آتی ہے)ایک جیتی جاگتی استری ہو گی تو پھر تو نہ جانے اس غریب الوطن کا کیا ہوگا؟پھر کبھی یہ سوچ کر یہ زمانہ تو ہے ہی استری کا اس سے بھاگ کر کہاں تک جا پاؤں گا ، چپ ہو جاتا ہوں۔

ایک وہ وقت تھا کہ دھوبی بے چارا بدقت بسیار دھوئیں میں پھونکیں مار مار کر اپنی آنکھیں سُجا لیتا تھا تب کہیں جا کر استری گرم ہو تی تھی اور ایک یہ زمانہ ہے کہ اِدھر بٹن دبایا اور اُدھر استری ہلنے کے لیے تیار کیوں نہ ہو کہ ایٹمی توانائی کا دور دورہ ہے۔مختلف قسموں کی ، مختلف جگہوں پر، مختلف کاموں پر ، مختلف رنگوں کی استریاں دھوبی کی دکان پر ، الیکٹرانکس کے شوروم میں ، درزی کی دکان میں، پروویژن سٹور یا سپر مارکیٹ میں ، ریڈیوپر، ٹی وی پر ، گھر میں ، دفتر میں، بازار میں ، سینما میں، ریل میں، بس میں، ایئرپورٹ پر اور ہوائی جہاز میں غرضیکہ کوئی جگہ بھی تو ایسی نہیں جہاں پر استری کا راج نہ ہو۔
دیکھئے بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی، میں تو آپ کو اپنی ناراض شدہ استری کی بات بتا رہا تھا۔میں نے اس کے یہ تیور دیکھے تو چپ چاپ اس کا پلگ نکال کر پرے رکھ دیا اور پھر اپنے چوکیدار کو بھیج کر اپنے اسی دوست کے ہاں سے جو کل میری اس استری کا بیڈ جو لکڑی کا ایک پھٹا ہے، لے گیا تھا، اس کی اپنی استری منگوالی۔ واہ کیا کہنے اس کی استری کے بالکل اس کی اصلی استری کی طرح نرم و نازک اور سبک اور ہلکی پھلکی ۔یوں میں رات گئے ایک آدھ جوڑے کے مزاج درست کرنے کے قابل ہو سکا۔
تحریر : محمد یحییٰ عزیز
نائیجیریا
(پرفیسر محمد یحییٰ عزیز رحمۃ اﷲ علیہ کی قیام نائجیریا کے دوران لکھی ہوئی ایک غیر مطبوعہ یادگار طنزیہ ومزاحیہ تحریر)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Razia Rehman

Read More Articles by Razia Rehman: 9 Articles with 9911 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Sep, 2017 Views: 995

Comments

آپ کی رائے