موتو قبل انتمو تو

(Aisha, Melbourne)

مولانا روم ایک بہت دلچسپ کہانی بیان فرماتے ہیں ، کہانی کچھ یوں ہےکہ ایک سوداگر نے بولنے والا طوطا پال رکھا تھا۔ جو سارا دن اپنی باتوں سے اس کا دل لبھاتا تھا۔ ایک وقت آیا کہ سوداگر کو کام کے سلسلے میں سفر درپیش ہوا، لہذا وہ طوطے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ کوئی خواہش بتاؤ ۔ طوطے نے کہا، میرے گُرو کو بس ایک پیغام پہنچانا ہے،سوداگر کے پوچھنے پرمذید بولا ، "میرے گُرو سے کہنا کہ اےآزاد فضاؤں کے باسی! ایک غلام قیدی کا سلام قبول کرو"۔سوداگر نے گُرو طوطے کو پیغام پہنچایا، گُرو طوطا سنتے ہی گرا اور گر کے مر گیا، باقی طوطے بھی اس کی دیکھا دیکھی ایک ایک کر کے گرے اور مر گئے۔سوداگر نے یہ افسوسناک خبر جب آکر اپنے طوطے کو دی تو وہ بھی گر کے مر گیا۔ سوداگر نے تاسف بھری نگاہوں سے اس کو دیکھا اور پھر اٹھا کر پنجرے سے باہر پھینک دیا۔ لمحوں کے اندر طوطا وہاں سے اڑ گیا اور جاتے ہوئے سوداگر سے کہا، "میرے گُرو نے میری فریاد کے جواب میں یہی ترکیب بتائی تھی کہ مرنے سے پہلے مر جاؤ، آزاد ہو جاؤ گے!"۔

اس حکایت کی گہرائی کا مکمل احاطہ کرنا تو شاید ممکن نہ ہو، تاہم ایک بات یقین سے کہی جا سکتی ہےکہ یہ حکایت ایک بہت خوبصورت پیراڈوکس کی حیثیت رکھتی ہے۔

کیوں ؟

وہ اس طرح کہ بقول مولانا روم کے، مرنے سے، " زندگی" کا راز دریافت کیا جا سکتا ہے۔

سوچنے کی بات ہے کہ مرنے سے پہلے کون مر سکتا ہے؟

آخر موت کا بھی ایک قاعدہ اور قانون ہے۔ اس حقیقت سے کیونکر انکار ممکن ہے کہ یہ دنیا فانی ہے، اوراس میں مکین ہر شے کا وجود عارضی اور موت بہرحال اٹل ہے۔

انسان ایک مادی وجود ہے جو مٹی سے وجود میں آئ اور وقت مقررہ پہ مٹی میں واپس چلی جائے گی۔ اسی مادی وجود کا ایک حصہ ایسا بھی ہے جو ہمیشہ باقی رہے گا اور موت کے بعد اپنے رب سے حقیقتا واصل ہو جائے گا۔ وہ حصہ انسان کی روح ہے!

مہاتما بدھ نے کہا تھا، " انسان وہی ہوتا ہے ، جیسا وہ سوچتا ہے کہ وہ ہے"۔

اس ایک جملے کے در پردہ ہر انسان کی اپنی ایک ذاتی کہانی ہوتی ہے، جس کی بدولت انسان کی سوچ اور شخصیت کی تشکیل ہوتی ہے۔ اس کہانی میں ایک ماحول ہوتا ہے، کئی کردار ہوتے ہیں جو اس کہانی میں کہیں مثبت تو کہیں منفی رول ادا کرتےنظر آتے ہیں اور یوں وقت کے ساتھ ساتھ حآصل ہونے والے تجربات سے، زندگی کے بارے میں ہمارا ایک مخصوص نکتہ نظر ترتیب پاتا چلا جاتا ہے۔ ہمارانکتہ نظر، خیالات، تمام تر عقائد کے یکجا ہونے سے ایک سیلف یا "میں" وجود میں آتی ہے جو ہماری پہچان ہوتی ہے۔ اوراسی پہچان کی عینک پہن کر ہم اس دنیا کو دیکھتے ہیں ، دوست بناتے ہیں، نظریے قائم کرتے ہیں۔، لین دین کرتے ہیں، لوگوں سے برتاو کرتے ہیں۔

بات اصل میں یہ ہے کہ وہ تمام اجزا جو ہماری پہچان کے بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ، ہماری زات کا اتنا راسخ حصہ بن جاتے ہیں کہ ان سے ہٹ کر کچھ سوچنا، عمل کرنا، ہمارے لئے تقریباً نا ممکن ہو جاتا ہے۔ ہم، اپنے ہونے کو، ان تمام چیزوں سے مشروط کر لیتے ہیں۔ زندگی میں ہونے والے تمام واقعات کو، انہی مخصوص عقائد کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔ اس پرانے وجود کو اپنے سے کھینچ کر دور کر دینا ، در حقیقت موت کے مترادف لگتا ہے، کیونکہ اس وجود کے بغیر زندگی کا تصور ہی سوحان روح ہے۔ یعنی جیسے اس بلبلےکے اندر ہماری کل کائنات محصور اور محفوظ ہو، اور اس کے ٹوٹ جانے سے ہمارا وجود بھی بکھر جائے گا، اپنا آپ کھو دے گا، ختم ہوجائے گا۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہم انسان کی قدر و قیمت ، مادہ پرستی کے حصول کے بقدر لگاتے ہیں ، اور یہ بھول جاتے ہیں کہ انسان کی اصل حقیقت ، کسی ایسی چیز سے ہرگز وابسطہ نہیں ، جس کا تعلق اس دنیا سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان مادیت کے بے پناہ حصول کے باوجود سکون سے محروم رہتا ہے۔ اور مادی اسباب اور چیزوں کے کم ہو جانے پر بھی آرزدہ ہی رہتا ہے، پل پل جیتا ہےاور پل پل مرتا ہے!

اگر غور کریں تو مولانا روم کی بیان کردہ کہانی کی گہرائی کچھ کچھ سمجھ آنے لگتی ہے۔

ایسا تو نہیں کہ مرنے سے پہلے مر جانے سے مراد ان تمام عقائد، اورمادیت پرستی کا چولا اتر پھینکنا ہے؟

اور اس الوہی سچ سے مانوس ہو نا ہے کہ انسان کا ہونا اس کی فزیکل سیلف سے کہیں بڑھ کر ہے؟

اور یہ بھی کہ اس کی حقیقی پہچان اس پروفائل سے کجا افضل ہے جو اس نے اس دنیا کے دکھانے کو سجا رکھا ہے؟

یہاں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اگر پرانا وجود مثل جوئے کم آب ہے تو اس سے نجات ایک بحر بے کراں کے مترادف ہے۔

کہیں اپنی پرانی سیلف کی غلامی سے نجات میں ہمیشہ رہنے کا راز تو نہیں پوشیدہ؟

اور کیا پتہ اس پرانی سیلف کو ایک ہی مرتبہ مار دینے سے انسان، اس بار بار کے مرنےکے کرب سےآزاد ہو جاتا ہو؟؟

کیا خیال ہے آپ کا؟
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aisha

Read More Articles by Aisha: 13 Articles with 16969 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Sep, 2017 Views: 601

Comments

آپ کی رائے