شق نمبر 203

(naseer ahmad, peshawar)

کسی بھی معاشرے کا بنیادی عنصر انسانیت ہے اور انسانیت کا عروج اخلاقیات کی بلندی میں ہوتی ہے، اخلاقیات ہی انسانیت کا نصاب ہوتا یے- جب کوئی معاشرہ زوال پذیر ہوتا ہے تو اس کی زوال کا سبب سب سے پہلے مفادات بن جایا کرتے ہیں، یعنٰی جب اپنے مفاد کو ترجیح دینا شروع ہوجاتا ہے تو سمجھو آئیں و قانون، انسانیت و اخلاقیات اور نتیجتًا معاشرے کا شیرازہ ہی بکھرنا شروع ہوچکا ہے-

ایسا ہی کچھ اس دن دیکھنے کو ملا جب سینیٹ سے ایک بل پاس ہوا کہ جس کی رو سے اب ایک نااہل بے ایمان اور بے ضمیر شخص ارٹی صدارت سنبھال سکتا ہے چاہے وہ پارلیمنٹ سے نااہل ہی ہوچکا ہو- اب سوچ رہا ہوں کہ جو انتخابی اصلاحات بل پاس ہوا ہے اس کو چھوڑ کے صرف اس کے شق نمبر 203کومیں کیا نام دوں...!!! آہ حرص نام رکھوں یا ہوس یا پھر لالچ کا لقب دے ماروں؟؟ کہتے ہیں جب آنکھوں پر حرص و ہوس کی پٹی بند جائیں تب قانون کو پاؤں کی نیچے رگڑ کر اس میں سے بڑے راستے نکال لئے جاتے ہیں-

آپ شائد جانتے ہونگے یا اگر نہیں تو خوشخبری دیتا چلوں کہ مبارک ہو آپ کو حضور!!! آپ کے اراکین پارلیمنٹ اب آئین و قانون سے آذاد ہوچکے...اب اگر یہ عدالتوں سے بےایمان، بے ضمیر اور کرپٹ ثابت ہو کے بھی نکلیں گے تو جناب والا یہ لوگ شق 203 کی رو سے سیاست کرسکتے ہیں، سیاست کو راستہ بنا کر کابینہ کا بھی حصہ بن سکتے ہے جو زبانی طور پر عوام کے حقوق کے تحفظ کیلئے ہوا کرتی ہے جبکہ عملاً ابھی تک کچھ ایسا دیکھنے کو نہیں ملا-

آئین کو تو پہلے ہی دن اپنے مفاد کیلئے پاکستان کے مہان لیڈر اور اس آئین کے بانی بھٹو نے بدلا تھا، جب بننے کے بعد پانچ ہی گھنٹے بمشکل گزرے ہونگے کہ ترمیم کی گئی، میں یہاں نواز کا کیا گلہ کروں؟؟ کیا کہوں وہ تو ہے ایک بےضمیر آدمی- اس آئین کا ریپ تو پہلے زندہ بھٹو نے ہی کیا تھا اس کے بعد جو بچی کھچی عزت تھی وہ ضیاء مشرف سمیت نواز اور زرداری نے ملکر مٹی میں ملادی-

کہتے ہیں کہ " انسان قانون نہیں توڑتا بلکہ خود اس کی مجبوریاں اس سے تڑوا دیتی ہے-" سچ کہتے ہیں کیونکہ جہاں ضرورت پڑتی ہے ترمیم کیا جاتا ہے- اس کے بعد آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کا گلا گھونٹنا باقی ہے وہ بھی خوشخبری جلدی مل جائیگی بس آپ لوگ صرف کافر کافر کھیلتے رہو یا پھر عمران خان جو آپ ہی کی جنگ لڑ رہا ہے اس کا کسی را یا مساد سے تعلق تلاش کرتے رہو، سراج الحق کو گالیاں دیتے پھرو یا پھر مولانا فضل الرحمان کیلئے کرپٹ اور چوروں کی دوستیاں اور ان کی چوریاں حلال کرنے کی فتوے اور تاویلیں ڈھونڈ کر لایا کرو...!!!

بس یہی ایک کام ہے جو ہمیں بطور قوم آتا ہے ورنہ اس سے آگے کچھ نہیں بس صرف الزام تراشیاں، ڈاکے چوری، زنا اور دوسری برائیاں...!!! کیونکہ ٹھیک کام لینے کیلئے اللّٰہ ہم جیسوں کو نہیں چنتا...!!!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: naseer ahmad

Read More Articles by naseer ahmad: 2 Articles with 417 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Sep, 2017 Views: 218

Comments

آپ کی رائے