مافیا، گاڈفادر، ڈان

(Mujahid Hussain, Karachi)

ہمارے ملک میں بہت سے مافیا بہت عرسے سے سرگرم ہیں اور عوام کے ساتھ انتہائی ظالمانہ نوعیت کا سلوک کیا جارہا ہے ہے ، ابلاغ عامہ میں اس کو تسلسل سے پیش بھی کیا جاتاہے لیکن اس کی پشت پناہی کرنے والے اس قدر مضبوط اور بااختیار ہیں کہ ان مافیا عناصر کو ملسل توانائی فراہم کرتے رہتے ہیں ۔ عوام چاہے کتنا ہی واویلہ کرلیں ، میڈیا کس قدر ہی ان کے پردے فاش کرلے مگر کوئی نہیں جن کی ان کے آگے چلتی ہو۔سیاسی میدان میں بھی مافیا موجود ہیں جن کے ساامنے کسی کا بس نہیں چلتا ، پاکستان کے مرکزی اور سنعتی شہر میں بھی ایک مافیا کا رذکرہ ہوتا رہا، لوگوں نے اش کو بہت سہا ، ملک بھر میں اس کو محسوس کیاگیا اور عالمی سطح پر بھی اس کی کارروائیوں کی بازگشت سنی گئی مگر کوئی اس کے سامنے آنے کو تیار تھا اور نہ رکاوٹ بننے کی کوشش کرسکتا تھا ، خیال تھا کہ یہی سب سے بڑا سیاسی سطح پر مافیا گروپ ہے جو سرگرم ہے البتہ 2008کے الیکشن میں ہم نے عوام کو ایک اور سیاسی مافیا گروپ سے نبض آزما ہوتے دیکھا جسے ایک دوسری بڑی سیاسی جماعت کا سہار ا اور تائید حاصل تھی لیکن پاناماکیس کی سماعت کے دوارن ہم پر انکشاف ہوا کہ یہ دوسری بڑی جماعت بھی دراصل ایکمافیا ہی ہے جس نے کراچی کے مافیاؤں کے ساتھ ساتھ سیاسی معاہدے کے تحت قومی سطح مافیا کی اس وجہ سے سپورٹ کی تھی تاکہ اگلے وقتوں میں اس کے ساتھ بھی مفاہمتی انداز میں سلوک روا رکھا جائے ۔ عوام اس سے باخبر تھے تاہم لاشعوری طور پر اس کے حق میں تھے ۔ مافیا کا لفظ بتدائی طور پر حفظ ِمراتب کے طور پر استعمال کیا گیا جبکہ فیصلہ آنے پر معلوم ہوا کہ اس ملک کے لوگوں کے سب ؓرے امین ہونے کے عیدار نہ تو سچے ہیں اور نہ ہی امانت دار بلکہ یہ تو اس مافیا کو چلانے والے گاڈ فاادر کا روپ دھارے ہوئے ہیں اور ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالے اپنے گھر کو بھرے چلے جارہے ہیں ، جناب صاحب عالم ہیں، بادشاہ سلامت ہیں ۔

کہا جاتا ہے کہ ملک میں سیاسی میدان میں مافیا کا تصور لانے والے آخری ڈکٹیٹر سے پہلے والے آمر جنرل ضیاء الحق تھے، انہوں نے کراچی کی سیاست میں بھونچال الانے کیلئے معتصب جماعت مہاجر قومی موومنٹ کو اپنی آغوش میں پرورش کیا جبکہ ملکی سطح پر مافیا بنانے کیلئے فی زمانہ سیاسی میدان ِ کارزار میں وقوع پزیر جماعت کے سربراہ کو رموز سیاست سکھائے ، مہاجروں نے ایسی تباہی مچائی کہ ان کی اپنی نسلیں بھی اس آگ کا ایندھن بنیں ، ملکی سایست میں آنے والی اور دوبار قوم معاملات پر اثر انداز ہونے والی جماعت نے وہ گل کھالئے کا ملک کی گندم ہی اس کا انتخابی نشان کھاگیا۔ 2008سے 2013 تک جمہوریت نے ایک بہترین انتقام بن کر عوام کے دل، دماغ یہاں تک کہ روح و جسم چھلنی کردئے ۔ 2013 میں جنگل کا بادشاہ ملک کا ایک بار پھر سے بادشاہ قرار پایا، جس نے کراچی کے مافیا کیؤے ساتھ ملکر کار اقتدار چلانے کی کوشش کی ، میثاق ِ جمہوریت کے تحت جمہوریت کے حسن کی بحالی کیلئے اقدامات کرنے کی سعی کی ۔2014میں جمہوریت دشمنوں نے اس حسن کی خرابی کا سامان کرنے کی کوشش کی لیکن دستیاب سازوسامان نے اس کا چہرہ مسخ ہونے سے بچالیا۔

کراچی کے مافیا چلانے والے گاڈ فادر خرابی ء صحت کے باعث اغیار جابیٹھے لیکن اپنی کم ظرفی کو کم نہ کیس بلکہ ڈان بن جانے کو ترجیح دی پھر ہوا مخالف چلی تو اپنے ہی غیر ہوگئے یہاں تک کہ جو اسیاپنی منزل ، اپنا رہبر اور اپنا جینا مرنا مرنا تصور کئے بیٹھے تھے ، اس سے منہ پھیر بیٹھے اور ایسی قطع تعلقی کا مظاہرہ کیا کہ غدار ِ قوم وطن جیسے القابات سے یا د کیا جانے لگا۔کراچی کے ڈان کی گرفت سے اندازہ ہوا کہ غالب درست کہہ گئے تھے کہ پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پہ ناحق ، حق پرستوں کے پروردہ کی یہ گرفت اس بات کا عندیہ ہے کہ ہر ایک پکڑ میں آسکتا ہے البتہ کوئی جلد یا بدیر، پکڑا جانا بہرکیف انجام ہوگا۔

مفاہمت کے شہنشاہ کی پارٹی کی حالت 2013میں عوام کی شعوری یا بے شعوری کیفیت کے باعث تاحال غیر ہے اور وہ کے NA-120کے نتائج سے اور واضح ہوچکی ہے ،برسراقتدار جماعت کے حالات بھی اس حلقے نے کافی حد تک واضح کردئے ہیں کہ اب یہاں بھی اور موجود ہے ۔

سپریم کورٹ نے نواز شیف کی نااہلی کا فیصلہ سنایا جس سے وہ پارٹی کے صدر ہونے سے بھی نااہل ہوئے ۔ یہ اخلاقی پستی کی جانب اشارہ تھا ، اچھے بھلے آدمی کی عزت کا جب جنازہ نکلتا ہے وہ سماجی سطح پر اپنے وقار کی بحالی کیلئے نئی راہوں کو سوچتا ہے ، نئی منصوبہ بندی کرتا ہے تاکہ اخلاقی بدحالی کا سد باب ہوسکے لیکن مافیا تو مافیا کی طرح سوچتا ہے ، گاڈفادر تو ون مین شو ہوتا ہے ، اسلام آباد سے جی ٹی روڈکا سفر یاد کیا جائے تو لاعلمی کا وہ مظاہر ہ کیا گیا کہ دنیا ہنس رہی ہے ، انصاف فراہم کرنے والوں کی تضحیک سے قوم درست رائے قائم کرنے سے قاصر ہے ، الجھنیں پیدا کردی گئیں یہی کمال فن ہے ، یہی جادو گری ہے جو مافیا کا کام ہے ، لوگ الجھے رہے اور ہم جام بھرتے رہیں۔

تاریخ بتاتی ہے کہ بنی اسرائیل میں اﷲ نے سب سے زیادہ نبی و، پیغمبر اور رسول بھیجے تاکہ ان کی اصلاح ہوسکے لیکن وہ ان نعمتوں ، رہنمائی اور ہدایت کو ماننے کو تیار نہ تھے ، ان کی تباہی کا موجب بھی ہیہ تھا کہ وہ سب سے زیادہ نافرمان اور انصاف کے اصولوں کے متصادم اقدام پر راضی تھے، ان کے یہاں اشرافیہ کیلئے الگ اور عام آدمی بالخصوص غریب کیلئے الگ قانون ، الگ طرح کے انساف کے پیمانے تھے۔میاں صاحب جب اقتدار سے نااہل ہوئے تو پارٹی صدارت سے بھی نایہل ہونا ان کا مقدر ٹہرا ،ن لیگ کے 2013کے انتخابی منشور کے مطابق بھی جو شخص اسمبلی کے ممبر ہونے کی اہلیت نہیں رکھتا ہو وہ پارٹی کی صدارت کا اہل بھی نہیں ہوسکتا، میاں صاحب تو عالم پناہ ہیں ، بادشاہ سلامت ہیں ، گاڈفادر ہیں ، وہ اس منصب کے بنا کیسے رہ سکتے ہیں ، انہوں نے بھی اپنی تباہی کا اولین سامان کرنے کیلئے لک کا آئین ہی بدلوالیا، نئی ترمیم نے انہیں گاڈفادر سے ڈان بنادیا ہے ،وہ اب نظریاتی ہوچکے ہیں ، گاڈ فادر سے بڑا رتبہ پالیا ہے ۔ ایک شخص کی خاطر ملک کے آئین میں تبدیلی سے واضح ہوگیا ہے کہ پالیمنٹ کی کوئی عزت کوئی توقیر نہیں رہی ، جنگل کا بادشاہ اب ہر جگہ کا بادشاہ ہے ۔

پاناما کیس کی سماعتوں کے دوران بالخصوص جے آئی ٹی کی کارروائی کے مقع پر کہا جارہا تھا کہ ملک میں جمہوریت کو خطرہ ہے ، نااہلی کے فیصلے کے بعد بھی یہی راگ آلاپا گیا ،میاں صاحب کے پارٹی صدر بن جانے کے بعد سے یقینی طور پر طے ہوگیا کہ ملک میں جمہوریت تو ہے ہی نہیں ، مورثی سیاست بام ِ عروج پر ہے ، بادشاہی نظام چل رہا ہے ، نو منتخب وزیراعظم پہلے معزول وزیراعظم سے پوجھتے ہیں پھر بولتے ہیں ، یعنی وزیراعظم بادشاہ سے احکامات لیکر زبان کھولنے کی جسارت کرتے ہیں، جمہوریت کہاں ہے ؟۔

آج ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سمجھ میں آتا ہے لیکن سمجھ سے بالاتر ہے ۔کراچی کے ڈان کی تباہی سے سیکھنے کی ضرورت ہے ، کوئی ہے جو نظام ِ ہستی چلا رہا ہے ، آج ڈھیل دی جارہی ہے کل اس رسی میں تنائر بھی آسکتاہے ، ہر عوج کو زوال ہے ، زوال کی وجہ ہمیشہ درباری ہی بنتے ہیں ۔ آج جودرباری میاں صاحب کو حصار میں لئے ہوئے ہیں کل یہی محصور کردینے کا سبب بنیں گے۔لاعلم رہنا موجودہ دور میں کج فہمی ہے ۔ ڈان کو سوچنا چاہئے کہ جو بلندی دیتاہے وہ انتہائی پستی میں بھی دکھیل سکتاہے ۔کیونکہ
ہر جابر وقت سمجھتاہے تند تھی اس کی تدبیر بہت
پھر وقت اسے سمجھتا ہے کند تھی تیری شمشیر بہت

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mujahid Hussain

Read More Articles by Mujahid Hussain: 60 Articles with 28251 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Oct, 2017 Views: 409

Comments

آپ کی رائے