یہ کسی دھوکے سے کم نہیں

(Sami Ullah Malik, )

امریکاکوافغانستان کی دلدل میں پھنسے ہوئے۱۶برس بیت چکے، ایسے میں مزید چارہزارفوجی بھیج کرتمام معاملات کودرست کرنے کاخواب دیکھنا سادہ لوحی کے سوا کچھ نہیں۔ ٹرمپ کی نئی حکمت عملی کامیابی کی بجائے اپنے پیشروبارک اوباما اور ان کے پیشروبش کی حکمت عملی کی طرح ناکام ہوگی۔ امریکی مسلح افواج کے سربراہان نے ٹرمپ کویقین دلایاہے کہ افغانستان میں محض مزیدچارہزارامریکی فوجی بھیجنے سے طالبان کو کنٹرول کرنااورملک کے تمام معاملات درست کرناممکن ہو جائے گا،یہ کسی دھوکے سے کم نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ افغان معاملات پرجہاں امریکااوراس کے لاکھوں اتحادی اپنی پوری طاقت سے قابونہ پاسکے وہاں اتنی کم تعداد میں کمک کیاکرلے گی۔ امریکا کوافغانستان میں سولہ سال گزارنے کےبعد یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ طالبان کو (جنگ کے میدان میں)شکست نہیں دی جاسکتی۔

افغانستان میں لڑائی ختم کرنااورحقیقی امن قائم کرنے کاواحدراستہ یہ ہے کہ فریقین اپنے اپنے مفادات کی ایک خاص حد تک قربانی دیکر ایک دوسرے کو قبول کرکے مذاکرات کی میز پر آئیں۔ اب سوال یہ ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میزپرکیسے لایاجائے؟اس حوالے سے قبائل اہم کرداراداکرسکتے ہیں۔افغان معاشرہ چونکہ قبائل پرمشتمل ہے،اس لیے قبائلی عمائدین طالبان کورام کرنے میں کلیدی کردارادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ قبائل کی مددسے کی جانے والی بات چیت کے نتیجے میں امریکااورطالبان کے درمیان دیرپامعاہدہ امن طے پاسکتا ہے ۔ القاعدہ کے بعددوسرے بہت سے گروپ ابھرے ہیں جوافغانستان میں خرابیاں بڑھارہے ہیں۔ ملک کامعاشی اورمعاشرتی ڈھانچاشدید ٹوٹ پھوٹ کاشکارہے۔ ایسے میں ملک کواستحکام سے ہم کنارکرنے کے حوالے سے طالبان سے بھی غیرمعمولی حدتک مدد لی جاسکتی ہے۔

ٹرمپ نے افغانستان کے حوالے سے جونئی پالیسی جاری کی ہے اس میں صرف ایک نکتہ میں معقولیت بھی ظاہرہوتی ہے کہ امریکاکوافغانستان میں قومی تعمیر نوکے کام کی ذمہ داری نہیں اٹھانی چاہیے اورافغان عوام کوکسی بھی حال میں ڈکٹیٹ نہیں کرناچاہیے کہ وہ کس طورزندگی بسرکریں اورقوم کی تعمیرنوکے حوالے سے ان کی ترجیحات کیاہونی چاہئیں۔امریکاکوقبائل کی مددسے غیرملکی گروپوں کی دہشتگردی کاقلع قمع کرنے پرتوجہ مرکوزکرنی چاہیے۔ طالبان کویہ واضح پیغام دیاجائے کہ اگروہ مذاکرات کی میزپرآنے کوتیارہوں اورمعاہدہ امن کیلئےرضامندی ظاہرکریں توانہیں بھی نئی حکمت عملی کے تحت امن قائم کرنے کے سیٹ اپ میں غیرمعمولی کردارسونپاجاسکتاہے۔

امریکاکواس وقت پاکستان یاکسی بھی اورعلاقائی ملک سے مخاصمت مول لینے کے بجائے اسٹریٹجک پارٹنرشپ قائم کرنے میں زیادہ دلچسپی لینی چاہیے ۔ خاص طورپرپاکستان سے ایک مرتبہ پھرحقیقی اسٹریٹجک پارٹنرشپ پروان چڑھانی ہوگی تاکہ دہشتگردی سے نمٹنے میں خاطرخواہ حد تک کامیابی ملے۔ امریکاکویہ بات بھی سمجھناہوگی کہ افغانستان کے معاملات درست کرنے کیلئے بھارت کاکردارپاکستان اورچین کواشتعال دلانے اورخسارہ کے سواکچھ نہیں اور یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کے مخصوص حالات اسے باہر دیکھنے کی زیادہ اجازت نہیں دیتےاوردوسری طرف یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ پاکستانی قیادت طالبان کے خلاف زیادہ نہیں جاسکتی کیونکہ جلدیابدیرطالبان افغان حکومتی سیٹ اپ کاحصہ ہوں گے۔اگروہ افغانستان میں دوبارہ حکومت بنانے میں کامیاب نہ ہوئے تب بھی حکومتی سیٹ اپ میں اہم حصہ بن کربہت سے معاملات میں غیرمعمولی حدتک اپنی بات منوائیں گے۔

امریکی ایوان صدر،محکمہ خارجہ اورپینٹاگون میں کوئی نہیں جواضافی فوجی تعینات کرنے کی صورت میں حیرت انگیز نتائج کے حصول کی یقین دہانی کرانے کوتیارہو۔اس وقت طالبان ملک کے تقریباًنصف رقبے پرمتصرّف ہیں۔اگر افغانستان سے باعزت اورپرسکون طورپرنکلنے کیلئےامریکاکوئی راستہ چاہتا ہے توطالبان کودشمن کی نظرسے نہیں بلکہ پارٹنر کی نظرسے دیکھناپڑے گا۔ اس کیلئے لازم ہے کہ ہرمعاملے کوطاقت کے ذریعے طے یاختم کرنے کی سوچ کوخیربادکہتے ہوئے مذاکرات کی میزپرآنے کاسوچاجائے۔ افغان مسئلے کاکوئی فوجی حل ممکن نہیں۔ امریکااس حقیقت کوجس قدرجلدسمجھ لے اسی قدراچھا ہے۔ سیاسی اعتبارسے بہترنتائج اورحالات اِسی صورت ابھرسکتے ہیں کہ طالبان سے گفت وشنید کی جائے اورمعاملات کو طاقت کے استعمال سے گریزکرتے ہوئے طے کرنے کی بھرپورکوشش کی جائے۔ اس معاملے میں قبائلی عمائدین کو پیچھے نہ رکھاجائے۔اس عمل میں ان کی بھرپور شرکت ہی معاملات کودرست کرسکتی ہے۔

پکتیا صوبے کے قبائلی سربراہ اجمل خان زازئی کاکہناتھاکہ امریکاجمہوریت اورانسانی حقوق کے حوالے سے اپنے نظریات پربہت زیادہ زوردیتاہے اور دوسری طرف طاقت کے استعمال پربھی بہت زیادہ زوردیتا رہاجس کے نتیجہ میں امریکی فوجی کارروائیاں افغانستان میں کبھی کامیابی سے ہم کنارنہیں ہوئیں۔ افغان سرزمین کے مسائل کاوہی حل قابل قبول ہوسکتاہے جوافغان قبائلی عمائدین اوردیگررہنما مل جل کرتیار کریں ۔اجمل خان زازئی نے اس نکتے پرزوردیاکہ افغانستان قبائلی ملک ہے،قبائل ہی اس ملک کاماضی،حال اور مستقبل ہیں،اگر حقیقی کامیابی درکارہے توقبائل کوالگ تھلگ نہ رکھاجائے۔ قبائلی عمائدین کی مدد سے طالبان کومذاکرات کی میزپرلاکرمعاملات کوطاقت کے استعمال سے دوررکھاجاسکتاہے۔ ماضی کی غلطیوں کے اعادے سے بچنے کیلئے ٹرمپ انتظامیہ کوافغانستان میں قبائل ہی کی مددسے طالبان کوامن عمل میں شریک کرکے معاملات کوپرامن رکھنے میں غیرمعمولی حد تک مدد لی جاسکتی ہے مگراس کیلئے امریکاکوکچھ خرچ بھی کرناپڑے گا۔محتاط اندازے کے مطابق کئی سال تک سالانہ۴۰تا۵۰کروڑڈالرخرچ کرناہوں گے۔ امریکانے اب تک افغانستان میں جوکچھ خرچ کیاہے اسے دیکھتے ہوئے یہ کوئی بڑی رقم نہیں۔

ایسی کسی بھی صورتحال میں طالبان کی قیادت میں داعش کے مکمل خاتمہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ طالبان اگرایک بارحکومتی سیٹ اپ کاحصہ بن جائیں تووہ لازمی طورپرملک کے حقیقی استحکام میں واقعی دلچسپی لیناشروع کریں گے اورتب وہ افغانستان کے امورمیں کسی بھی نوع کی مداخلت روکنے پر بھی خاطر خواہ توجہ دیں گے۔یہ بات یادرکھنے کی ہے کہ طالبان افغان باشندے ہیں،وہ اپنی زمین سے کسی بھی طوربے دخل نہیں کیے جاسکتے۔وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وقت ان کے ساتھ ہے۔ کوئی بھی بیرونی قوت افغانستان کوفتح کرنے میں کبھی کامیابی سے ہم کنارنہیں ہوئی۔ جب بھی افغانستان پرکسی بیرونی قوت نے حملہ کیاہے جلدیابدیراسے بوریابسترلپیٹ کرنکلناہی پڑاہے۔اگرامریکا چاہتاہے کہ افغان مسئلہ بہتراندازسے حل ہوتواسے قبائل کوساتھ ملاکر کام کرناہوگاتاکہ ملک میں استحکام ہواورامریکی افواج کیلئےوہاں سے باعزت طریقے سے نکلنے کی راہ ہموارہو۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 466 Articles with 148996 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Oct, 2017 Views: 369

Comments

آپ کی رائے